ریڈ زون میں سرکاری و نجی دفاتر اور تعلیمی ادارے بند: اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے ممکنہ دور کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اگرچہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ٹیم اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کیا جا چکا تاہم ایران کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
امریکی صدر کے بیان کے بعد پاکستان میں ممکنہ مذاکرات کی تیاریاں ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں آمد و رفت محدود ہے جبکہ آج (20 اپریل) اس علاقے میں واقع تمام نجی و سرکاری دفاتر اور سکول بند ہیں۔
ایران کا سرکاری میڈیا تو مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق رپورٹس کو یکسر ہی مسترد کر رہا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تہران کے پاس فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ خبر درست نہیں‘ تاہم ایجنسی نے اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے یا فرد کا حوالہ نہیں دیا۔
جبکہ سرکاری ٹی وی چینل نے بھی نامعلوم حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ’نام نہاد بحری ناکہ بندی کا جاری رہنا، جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امریکہ کی دھمکی آمیز زبان‘ مذاکرات میں پیش رفت کو سست کر رہی ہے۔
کون کون پاکستان آ رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
گذشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں لکھا: ’میرے نمائندے اسلام آباد جا رہے ہیں، وہ کل شام وہاں ہوں گے، مذاکرات کے لیے۔‘
اخبار نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاہم بی بی سی اُردو کے روحان احمد کو وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جائیں گے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ایران کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور میں بھی یہی شخصیات پاکستان آئی تھیں۔
اس سے قبل ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ معاہدے پر دستخط کے لیے خود بھی اسلام آباد جا سکتے ہیں۔
نیو یارک پوسٹ کی طرف سے پاکستان جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ ’شاید میں بعد میں کسی اور تاریخ کو چلا جاؤں۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کل کیا ہوتا ہے۔‘
دوسری جانب ایران نے تاحال نہ تو مذاکرات کے اس دوسرے دور میں شرکت سے متعلق کوئی باضابطہ مؤقف دیا ہے اور نہ ہی کسی ممکنہ مذاکراتی وفد کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے گذشتہ روز ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ وزیر اعظم آفس نے اس گفتگو کا جو اعلامیہ جاری کیا، اس میں یہ تو درج ہے کہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا لیکن پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات کے متوقع دوسرے دور سے متعلق کوئی بھی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
کشیدگی بڑھاتے بیانات اور اقدامات

،تصویر کا ذریعہCentcom via Reuters
اس صورتحال کے بیچ ایسے اقدامات بھی ہوئے اور ایسے بیانات بھی آئے جن سے امریکہ اور ایران میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز میں گذشتہ رات ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو معمولی نقصان پہنچا کر اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’توسکا‘ نامی جہاز نے امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی اور رکنے کی وارننگ پر عمل نہیں کیا جس کے بعد امریکی بحریہ نے ’جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے وہیں روک دیا۔‘
ایران نے اس کارروائی کو ’مسلح بحری قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے جلد جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر آبنائے ہرمز میں فائرنگ کرنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ یہ ’ہماری جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘ دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران کی جانب سے جمعہ کی شام آبنائے ہرمز کو کھولنے اور پھر دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
اسی پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ڈیل قبول نہ کی تو ایران کے تمام پاور پلانٹس کو تباہ کر دیں گے۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ہم ایران کو ایک مناسب اور معقول ڈیل کی پیشکش کر رہے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اسے قبول کر لیں گے کیونکہ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کے ہر پاور پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا۔‘
ٹرمپ نے لکھا: ’نو مور مسٹر نائس گائے‘ یعنی اب اچھا آدمی بننے کا وقت ختم ہو چکا۔
ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ اگر ایران نے ان کی ڈیل قبول نہ کی تو وہ ایران کے ساتھ وہ کریں گے جو گذشتہ 47 برس میں امریکہ کے سابق صدور کو کر دینا چاہیے تھا۔
پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے امریکہ یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کی ’سفارت کاری‘ پر تنقید کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں رضا امیری مقدم نے لکھا: ’آپ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے رہیں، ناکہ بندیوں کو مزید سخت کریں، ایران کو مزید کارروائیوں کی دھمکیاں دیں، غیر لچکدار مطالبات پر قائم رہیں اور پھر بھی یہ تاثر دیں کہ آپ ’سفارت کاری‘ کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے لکھا کہ یہ طرز عمل قول و فعل میں تضاد کے مترادف ہے۔ سفیر کے مطابق ’جب تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، کشیدگی بڑھتی رہے گی۔‘
ایک بیان اسرائیل کی جانب سے بھی آیا، جو ماحول میں پہلے سے موجود تلخی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جو نہ صرف چیلنجز سے بھرپور ہے بلکہ اہم نتائج کا حامل بھی ہے۔ ہم امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کی بڑی آمریت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے بہت اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا اور کسی بھی لمحے نئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔‘
اسلام آباد میں تیاریاں

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
اگرچہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور کے وقت کے بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا گیا مگر پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں تیاریاں جاری ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار روحان احمد کے مطابق کسی بڑی شخصیت کے دورے سے پہلے آ کر پیشگی انتظامات کرنے والی امریکہ کی ایڈوانس ٹیم گذشتہ روز پاکستان پہنچ بھی چکی ہے۔
شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر مؤثر چیکنگ کے لیے خصوصی چیکنگ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ریڈ زون کی سکیورٹی بدستور فوج کے حوالے ہے جبکہ رات گئے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ریڈ زون میں واقع تمام سرکاری، غیر سرکاری دفاتر اور سکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھر سے کام کرنے کا انتظام کریں۔
نامہ نگار شہزاد ملک اور صحافی احتشام شامی کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع سے بھی لگ بھگ چھ ہزار افسران اور اہلکاروں پر مشتمل نفری کو راولپنڈی، اسلام آباد طلب کیا گیا ہے، جن میں ایلیٹ فورس کے 200 سنائپرز بھی شامل ہیں۔
اتوار کو اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل ’میریٹ‘ کی انتظامیہ نے اپنے مہمانوں کو اسی روز دوپہر تین بجے تک ہوٹل خالی کرنے کی ہدایت کی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کرنے والے سرینا ہوٹل کی انتظامیہ نے بھی آئندہ چند روز کے لیے ریزرویشن بند کر رکھی ہیں۔
دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام کے ڈپٹی کمشنرز نے اتوار سے پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ تا حکم ثانی معطل رہنے کا حکم دیا۔
























