گاڑی میں ٹوائلٹ سیٹ: کیا چینی کمپنی کار میں بیت الخلا نصب کرنے جا رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اوسمنڈ چیا
- عہدہ, بزنس رپورٹر
- مطالعے کا وقت: 3 منٹ
چینی کار ساز کمپنی سیریس کو ایک ایسے نظام کا پیٹنٹ مل گیا ہے جسے وہ ’ان وہیکل ٹوائلٹ‘ یعنی گاڑی کے اندر نصب بیت الخلا کہتی ہے، جو سفر کے دوران استعمال کے لیے مسافر کی سیٹ کے نیچے سے باہر نکل آتا ہے۔
10 اپریل کو چین کے انٹلیکچوئل پراپرٹی اتھارٹی میں جمع کروائی گئی پیٹنٹ درخواست کے مطابق یہ فیچر طویل سفر، کیمپنگ یا گاڑی میں قیام کی صورت میں صارفین کی بیت الخلا کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں قائم کمپنی سیریس نے تاحال ایسی کسی گاڑی کا اعلان نہیں کیا، جس میں یہ ٹوائلٹ شامل ہو اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اسے مستقبل میں کسی ماڈل کا حصہ بنایا جائے گا یا نہیں۔
چین میں الیکٹرک گاڑیاں تیزی سے غیر معمولی فیچرز جیسے بلٹ اِن مساج سیٹس، کراوکی سسٹمز اور منی فریجز کے ساتھ سخت مسابقتی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پیٹنٹ کے مطابق یہ ٹوائلٹ مسافر کی سیٹ کے نیچے سے بٹن دبانے یا وائس کمانڈ کے ذریعے باہر آ سکے گا۔ اس میں ایک پنکھا اور ایگزاسٹ پائپ بھی شامل ہوگا جو بدبو کو گاڑی سے باہر خارج کرے گا۔
فضلہ ایک ٹینک میں جمع ہوگا جسے دستی طور پر خالی کرنا ہوگا۔ اس میں ایک ہیٹنگ سسٹم بھی شامل ہے جو پیشاب کو بخارات میں تبدیل اور دیگر فضلے کو خشک کرے گا۔
استعمال نہ ہونے کی صورت میں یہ ٹوائلٹ سیٹ کے نیچے چھپا رہے گا تاکہ گاڑی کے اندر جگہ کا مؤثر استعمال ممکن ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہA filing on the China National Intellectual Property Administration
گاڑی کے اندر بیت الخلا (ان وہیکل ٹوائلٹس) نسبتاً نایاب ہیں اور عموماً یہ طویل فاصلے کی کوچ بسوں میں دیکھے جاتے ہیں، تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ کاروں میں ان کے بارے میں کسی نے نہ سنا ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیلام گھر سوذبیز کے مطابق 1950 کی دہائی میں رولز رائس سلور وریتھ کے ایک خصوصی ورژن میں مبینہ طور پر ایک اندرونی ٹیلی ویژن سیٹ اور مسافر سیٹ کے نیچے بیت الخلا بھی شامل تھا۔
سیریس اپنے ذیلی برانڈ آیتو کے ساتھ مل کر الیکٹرک سپورٹ یوٹیلٹی وہیکلز (ایس یو ویز) بنانے کے لیے جانی جاتی ہے۔ یہ بڑی گاڑیاں ہوتی ہیں جو زمین سے اونچی اور زیادہ سامان رکھنے کی گنجائش رکھتی ہیں۔
کمپنی کی زیادہ تر گاڑیاں مین لینڈ چین میں فروخت ہوتی ہیں، تاہم سیریس نے یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک بھی اپنے کاروبار کو وسعت دی ہے۔
درجنوں مسابقتی برانڈز کے باعث چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ حد سے زیادہ بھر چکی ہے، جس سے قیمتوں کی جنگ شروع ہو گئی ہے اور کمپنیوں کے منافع پر اثر پڑا ہے۔
سیریس ان چند چینی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنیوں میں شامل ہے جو منافع میں ہیں، ان میں عالمی سطح پر معروف بی وائی ڈی بھی شامل ہے۔
تاہم متعدد تجزیہ کار خبردار کر چکے ہیں کہ چینی الیکٹرک گاڑیوں کی بڑی تعداد کے لیے مارکیٹ میں بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
























