’بہادری اور شجاعت‘ کا تمغہ مگر جنگی جرائم کا بھی الزام: افغان جنگ میں شریک آسٹریلوی فوجی کی کہانی

A front-on shot of Roberts-Smith looking pensively away from camera while wearing a suit and tie with strong background bokeh, as he walks along a street while arriving at the Federal Court in Sydney in May 2025.

،تصویر کا ذریعہSam Mooy/The Sydney Morning Herald via Getty Images

،تصویر کا کیپشنبین رابرٹس سمتھ کو افغانستان میں دوران تعیناتی زیر حراست افغان شہریوں کے قتل کے الزامات کا سامنا ہے
    • مصنف, ٹَیبی ولسن
    • عہدہ, سڈنی
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

آسٹریلیا کے سب سے زیادہ اعزاز یافتہ فوجی بین رابرٹس سمتھ نے گذشتہ ہفتے ان پر عائد کیے گئے قتل کے پانچ الزامات کے بعد اپنے پہلے بیان میں تمام الزامات کی عوامی سطح پر تردید کی ہے۔

وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والے رابرٹس سمتھ، جنھیں جمعے کے روز ضمانت پر رہا کیا گیا، نے کہا کہ انھیں افغانستان میں اپنی فوجی خدمات پر فخر ہے اور وہ اس مقدمے کو اپنے خلاف ان الزامات کو غلط ثابت کرنے کا موقع قرار دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں جانتا ہوں کہ یہ سفر مشکل ہو گا، لیکن میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی لڑائی سے پیچھے ہٹنا نہیں سیکھا۔‘

47 سالہ رابرٹس سمتھ پر الزام ہے کہ انھوں نے 2009 سے 2012 کے درمیان افغانستان میں غیر مسلح افغان قیدیوں کی ہلاکت میں کردار ادا کیا، یا تو خود انھیں ہلاک کیا یا اپنے ماتحتوں کو ایسا کرنے کا حکم دیا۔

آسٹریلیا کی سپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) رجمنٹ کے سابق کارپورل بین رابرٹس سمتھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگرچہ میں یہ ترجیح دیتا کہ یہ الزامات عائد نہ کیے جاتے، لیکن میں اس موقعے کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے استعمال کروں گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے افغانستان میں اپنی خدمات پر فخر ہے۔ وہاں قیام کے دوران میں نے ہمیشہ اپنی اقدار، اپنی تربیت اور قواعدِ کاروائی کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کیا۔‘

رابرٹس سمتھ نے اپنی گرفتاری کو ’سنسنی خیز‘ اور ’غیر ضروری تماشہ‘ قرار دیا اور صحافیوں کے سوالات لینے سے انکار کر دیا۔

بین رابرٹس سمتھ کو 7 اپریل کو سڈنی ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ انھیں جمعے کے روز ضمانت پر جیل سے رہائی ملی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس ’غیر معمولی‘ نوعیت کا ہے اور اگر ضمانت نہ دی جاتی تو ملزم کو مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ’ممکنہ طور پر کئی برس‘ حراست میں گزارنا پڑ سکتے تھے۔

رابرٹس سمتھ کے خلاف فوجداری مقدمہ 2023 میں ہونے والے ایک سول ہتکِ عزت کے مقدمے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں جج نے ’امکانات کے توازن‘ کی بنیاد پر قرار دیا تھا کہ قتل کے بعض الزامات میں ’بادی النظر میں سچائی‘ پائی جاتی ہے۔

یہ مقدمہ بین رابرٹس سمتھ نے نائن اخبارات کے خلاف دائر کیا تھا، جنھوں نے 2018 میں پہلی بار مبینہ بدسلوکی کے الزامات شائع کیے تھے۔ یہ ہائی پروفائل سماعت آسٹریلیا کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھی جب آسٹریلوی فوج پر مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کا عدالتی جائزہ لیا گیا۔

سابق فوجی افسر کا مؤقف تھا کہ مبینہ ہلاکتیں یا تو دورانِ جنگ ہوئیں یا پھر سرے سے ہوئیں ہی نہیں۔ تاہم گذشتہ برس وفاقی عدالت نے بھی ان کی طرف سے دائر کردہ اپیل مسترد کر دی تھی۔

اب رابرٹس سمتھ کو جنگی جرم کے تحت قتل، مشترکہ طور پر قتل کروانے اور قتل میں مدد، سہولت، مشورہ دینے یا اس کا بندوبست کرنے کے تین الزامات کا سامنا ہے۔