لائیو, امریکہ کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز پر قبضہ ’مسلح بحری قزاقی‘ اور ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ ہے جس کا جواب دیا جائے گا: ایران

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے خلیج میں امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایران کے پرچم بردار کارگو جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اس امریکی کارروائی کو ’مسلح بحری قزاقی‘ اور ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے ’جلد جواب‘ دینے کا عندیہ دیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ’ناکہ بندی کی خلاف ورزی‘ پر 900 فٹ طویل ایرانی کارگو جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے قبضے میں لے لیا
  • آبنائے ہرمز میں ایرانی کارگو جہاز پر قبضہ ’مسلح بحری قزاقی‘ اور ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ ہے جس کا جلد جواب دیا جائے گا: ایران
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اُن کی ٹیم پیر کی شام اسلام آباد پہنچے گی
  • اسلام آباد میں مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات، ریڈ زون میں سرکاری و نجی دفاتر اور تعلیمی ادارے بند
  • ’غیر ضروری، حد سے زیادہ مطالبات اور موقف میں بار بار تبدیلی‘: ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کی رپورٹس ’درست نہیں‘
  • شہباز شریف کا مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ: ’پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا‘

لائیو کوریج

  1. ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوگا: پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر ابراہیم عزیزی, بی بی سی نیوز کی نامہ نگار برائے عالمی اُمور لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    BBC

    ’کبھی نہیں۔‘ ایک سینئر ایرانی رکنِ پارلیمان کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

    تہران میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر ابراہیم عزیزی کہتے ہیں کہ ’یہ ہمارا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا اختیار ایران طے کرے گا، بشمول اس بات کے کہ کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔‘

    ان کے مطابق یہ اختیار اب قانون کی شکل اختیار کرنے والا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کر رہے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 110 کی بنیاد پر ہے، جس میں ماحولیات، بحری سلامتی اور قومی سلامتی جیسے امور شامل ہیں اور مسلح افواج اس قانون پر عمل درآمد کریں گی۔‘ عزیزی اس وقت قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    جیسے جیسے اس اہم آبی راستے کی ممکنہ بندش سے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے معاشی مسائل پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ کوئی ایسا بحران نہیں جو ایک دن میں حل ہو جائے۔

    جنگ نے تہران کو وہ چیز فراہم کر دی ہے جسے وہ ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال بھی کر رہا ہے اور اس پر نظر بھی رکھے ہوئے ہے۔ عزیزی کے مطابق کہ آبنائے ہرمز انتہائی سٹریٹجک مسئلہ اور معاملہ ہے جسے ایران نے اس تنازع کے دوران ایک مؤثر دباؤ کے ذریعے میں تبدیل کر لیا ہے یعنی یہ ’دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے اثاثوں میں سے ایک‘ ہے۔

    BBC

    عزیزی اُن ایرانی سینئر فیصلہ سازوں کی سوچ کی بھی عکاسی کرتے ہیں جو اس جنگ کے نتیجے میں ابھرنے والے نئے نظام میں نمایاں ہو رہے ہیں، ایک ایسا نظام جو تیزی سے عسکری رنگ اختیار کر چکا ہے اور جس پر سخت گیر حلقوں، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ اسرائیلی حملوں میں اعلیٰ سطحی شخصیات کی ہلاکتوں کے بعد بڑھ گیا ہے۔

    تہران اب اپنی اس صلاحیت کو کہ وہ اہم بحری آمدورفت، خصوصاً تیل اور گیس لے جانے والے اہم ٹینکروں کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ ایران نہ صرف موجودہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو ایک دباؤ کے ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے بلکہ طویل المدتی اثر و رسوخ کے طور پر بھی۔

    تہران یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو محمد اسلامی وضاحت کرتے ہیں کہ ’جنگ کے بعد ایران کی پہلی ترجیح دشمن کو حملے سے باز رکھنے کی قوت کی بحالی ہے اور آبنائے ہرمز ایران کے بنیادی سٹریٹجک ہتھیاروں میں شامل ہے۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’تہران اس بات پر بات چیت کے لیے تیار ہے کہ دیگر ممالک ایران کے آبنائے ہرمز کے نئے فریم ورک سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہی رہے گا۔‘

    لیکن یہ وہ مستقبل ہے جسے ایران کے بعض پڑوسی پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں، جو پانچ ہفتوں کی جنگ کے دوران اپنے ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں پر شدید برہم ہیں۔ یہ جنگ اس وقت ایک نازک اور عارضی جنگ بندی کے تحت رکی ہوئی ہے۔

  2. امریکہ کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز پر قبضہ ’مسلح بحری قزاقی‘ اور ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ ہے جس کا جواب دیا جائے گا: ایران

    ،ویڈیو کیپشنامریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو فائرنگ سے قبل دی گئی وارننگ کے لمحات

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج میں امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران ایران کے پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک لیا گیا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’توسکا‘ نامی جہاز نے رکنے کی وارننگ پر عمل نہیں کیا جس کے بعد امریکی بحریہ نے اسے تحویل میں لے لیا۔

    ایران نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’مسلح بحری ڈکیتی‘ ہے اور اس کا جواب جلد دیا جائے گا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے بحری جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے بعد اس واقعے کی ویڈیو جاری کی جس میں ایک بحری جہاز کو ایرانی کارگو شپ کو روکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جاری کردہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کارگو جہاز کو پیغامات بھیجنے کے بعد اس کی سمت میں فائرنگ کی جا رہی ہے۔

    ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بحری جہاز پر فائرنگ اور اسے تحویل میں لینا ’جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی‘ ہے اور اس اقدام کا جواب جلد دیا جائے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکہ نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی کی بلکہ سمندری راہزنی کا ارتکاب بھی کیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی فورسز نے بحیرہ عمان میں ایران کے ایک تجارتی جہاز پر فائرنگ کی، اس کے نیویگیشن سسٹم کو ناکارہ بنایا اور اپنے مسلح میرینز کو جہاز پر اتار کر اسے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔‘

    ایران کی مسلح افواج نے اس کارروائی کو ’مسلح بحری ڈکیتی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔

  3. ’یہ ضروری نہیں کہ ایران مذاکرات میں شرکت نہ کرے‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی سرکاری میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تہران کے پاس فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    سرکاری ٹی وی نیوز چینل نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ ’نام نہاد بحری ناکہ بندی کا جاری رہنا، جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امریکہ کی دھمکی آمیز زبان‘ مذاکرات میں پیش رفت کو سست کر رہی ہے۔

    یہی دعویٰ آج دیگر ایرانی میڈیا اداروں کی رپورٹس میں بھی کیا جاتا رہا۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ ایران مذاکرات میں شرکت نہ کرے۔

    اب تک کسی نامزد ایرانی عہدیدار نے یہ تصدیق یا تردید نہیں کی کہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل ہوگا یا نہیں، حالانکہ ٹرمپ کے اس اعلان ل کو اب کئی گھنٹے گزر چکے ہیں جب انھوں نے ایک امریکی وفد ’جلد پاکستان پہنچنے‘ کا اعلان کیا تھا۔

  4. ایران کو مزید کارروائی کی دھمکی کے ساتھ ’سفارت کاری‘ کا تاثر دینا قول و فعل میں تضاد ہے: رضا امیر مقدم

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے امریکہ یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کی ’سفارتکاری‘ پر تنقید کی ہے۔

    سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ ’آپ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے رہیں، ناکہ بندیوں کو مزید سخت کریں، ایران کو مزید کارروائیوں کی دھمکیاں دیں، غیر لچکدار مطالبات پر قائم رہیں اور پھر بھی یہ تاثر دیں کہ آپ ’سفارت کاری‘ کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ یہ طرزِ عمل قول و فعل میں تضاد کے مترادف ہے۔

    ان کے مطابق ’جب تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، کشیدگی بڑھتی رہے گی۔‘

  5. امریکی صدر کا ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز روک کر تحویل میں لینے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم والے ایک کارگو جہاز کو روک کر اسے تحویل میں لے لیا ہے۔

    صدر کے بیان کے مطابق امریکی اہلکاروں نے جہاز کو وارننگ دی، پھر انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے روک دیا اور بعد میں اس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

    تاہم اس بیان پر ایران کی جانب سے تاحال رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والی ایرانی کارگو جہاز امریکی میرینز کی مکمل تحویل میں ہے۔

    ان کے مطابق توسکا نامی یہ جہاز خلیجِ عمان میں روکا گیا اور اسے انتباہ جاری کیا گیا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی عملے نے وارننگ پر توجہ نہیں دی لہٰذا ہماری نیوی کے جہاز نے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے وہیں روک دیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ جہاز امریکی محکمۂ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے ’کیونکہ اس کا پہلے بھی غیر قانونی سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے اور اب جہاز میں موجود اشیا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران نے تاحال اس واقعے کی تصدیق نہیں کی۔

  6. آبنائے ہرمز سے دو کروز جہاز گزر گئے: ٹریول کمپنی ٹوئی کا دعویٰ

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ٹریول کمپنی ٹوئی نے اپنے دو کروز جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر جانے کی تصدیق کی ہے۔

    اتوار کو اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک تازہ بیان میں کمپنی نے کہا کہ ’مائن شف فور اور مائن شف فائیو نے آبنائے ہرمز کو کامیابی سے عبور کر لیا ہے تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ سفر کب مکمل ہوا۔

    یہ واضح نہیں کہ اس دوران جہازوں پر مسافر موجود تھے یا نہیں۔ کمپنی کے مطابق دونوں جہاز اب بحیرۂ روم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ گزرگاہ متعلقہ حکام کی منظوری اور ہم آہنگی کے بعد مکمل کنٹرول اور سکیورٹی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے طے کی گئی۔‘

    ٹوئی نے اپنے کیپٹنز اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امھوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور احتیاط کے ساتھ محفوظ سفر ممکن بنایا۔

    جہازوں کے مقام شیئر کرنے پر انحصار کرنے والی میرین ٹریفک ٹریکر ویب سائٹس نے آج آبنائے ہرمز میں بہت کم نقل و حرکت دکھائی ہے جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ آبی راستہ بدستور بند ہے۔

  7. ایران کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی: نیتن یاہو

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جو نہ صرف چیلنجز سے بھرپور ہے بلکہ اہم نتائج کا حامل بھی ہے۔ ہم امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کی بڑی آمریت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے بہت اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا اور کسی بھی لمحے نئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔‘

  8. شہباز شریف کا مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ،’ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا‘

    Anadolu via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے اتوار کے روز ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا کہ ’پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘

    وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق تقریباً پینتالیس منٹ جاری رہنے والی اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے پر صدر پزشکیان اور ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

    اعلامیے کے مطابق صدر پزشکیان نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا امن کی کوششوں میں پاکستان کے مضبوط عزم پر شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید مستحکم ہوں گے۔

    یاد رہے کہ اس اعلامیے میں پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات کے متوقع دوسرے دور سے متعلق تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی ٹیم ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کل شام یعنی پیر کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ جائے گی۔

    دوسری جانب کچھ دیر قبل ایران کے سرکاری میڈیا ارنا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مزاکرات کے دوسرے دور سے متعلق خبریں درست نہیں۔‘

    اتوار کے روز وزیر اعظم ہاؤں کی جانب سے علامیے میں بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ یہ روابط خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کے عمل کے حق میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم نے اس ہفتے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی تعمیری بات چیت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

  9. گذشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ خبر درست نہیں‘ تاہم ایجنسی نے اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے یا فرد کا حوالہ نہیں دیا۔ ارنا کے مطابق امریکہ نے ’غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات‘ کیے ہیں، اپنے مؤقف کو بار بار تبدیل کیا ہے۔
    • امریکی ریاست لوویزیانا کے شہر شریوپورٹ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں آٹھ بچے ہلاک ہو گئے ہیں جن کی عمریں ایک سے 14 برس کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ پولیس کا شبہ ہے کہ یہ واقعہ ’گھریلو ناچاقی‘ کی وجہ سے پیش آیا۔ حکام کے مطابق ایک مسلح شخص نے 10 لوگوں پر فائرنگ کی تاہم پولیس نے فرار ہوتے حملہ آور کا پیچھا کیا اور اسے ہلاک کر ڈالا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ اخبار کو بتایا ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ معاہدے پر دستخط کے لیے خود بھی اسلام آباد جا سکتے ہیں۔
  10. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں ککو شامل کرتے ہیں۔

    اگر آپ 19 اپریل کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔