کیا روایتی طاقتوں کا زوال پاکستان جیسی ’درمیانی طاقتوں‘ کو عالمی منظرنامے پر آگے لا رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سلمیٰ خطاب
- عہدہ, بی بی سی عربی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی کئی ممالک فوری طور پر ثالثی کی کوششوں میں مگن ہوتے دکھائی دیے تاکہ یہ دونوں حریف طاقتیں کسی معاہدے تک پہنچ سکیں۔۔
اس تنازع میں شدت کے اثرات صرف خلیجی ممالک محدود نہیں ہیں بلکہ بین الاقوامی شپنگ اور سپلائی چینز متاثر ہونے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والا مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوا تھا اور اب دوسرے مذاکراتی دور کے حوالے سے خبریں سرگرم ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ اور بالمشافہ ملاقات نہ تو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہوئی اور نہ ہی عام روایات کے مطابق کسی یورپی ملک کے دارالحکومت میں۔ بلکہ یہ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئے، جہاں اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ثالثی کے ساتھ مصر اور ترکی کی بالواسطہ شمولیت بھی شامل تھی۔
اس تنازع میں ثالثی کی کوششیں خطے کے بحرانوں کو حل کرنے کے طریقۂ کار میں تبدیلی کو سامنے لانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اب بڑی جنگوں کی ثالثی میں بڑی طاقتوں کا کردار کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ ’درمیانی طاقتیں‘ کہلانے والے ممالک تنازعات کا حل پیش کرنے میں اہم کردار نبھاتے نظر آتے ہیں۔
درمیانی قوت

،تصویر کا ذریعہReuters
احمد قندیل الاہرام سینٹر فار پولیٹیکل اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز میں بین الاقوامی تعلقات کے یونٹ کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے ’درمیانی طاقتوں‘ کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ علاقائی ممالک ہیں جو اپنے جغرافیائی ماحول پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن اُن کے پاس امریکہ یا چین جیسی عالمی سطح کی رسائی نہیں ہوتی۔
مگر اس کے باوجود ایسے ممالک خطے میں نمایاں اثر رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واشنگٹن انسٹیٹیوٹ کے فیلو اور سابق امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ ڈیوڈ شینکر بھی ثالثی سے متعلق اس بدلتے ہوئے منظرنامے سے اتفاق کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’درمیانی طاقتیں اب مرکزی کردارادا کرنے میں نمایاں ہیں اور یہی امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں دیکھا گیا جب پاکستان، مصر اور ترکی ثالثی کی کوششوں میں پیش پیش دکھائی دیے۔
تو اخر یہ درمیانی طاقتیں اس نوعیت کی ثالثی میں کیوں نمایاں رہے؟ اس کی وجوہات کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احمد قندیل نے واضح کیا کہ ’یہ ممالک عام طور پر اپنے مفاد میں کام کرتے ہیں، کیونکہ بدامنی اور عدم استحکام کی قیمت بلآخر انھیں ہی چکانی پڑتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
احمد قندیل مزید کہتے ہیں کہ ’ثالثی کرنے والے ممالک امن کے نمائندوں کی طرح نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے سکیورٹی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ طاقتیں اپنے معاشی مفادات کو دیکھتی ہیں، جو اس صورت میں متاثر ہو سکتے ہیں اگر یہ عالمی تنازعات جاری رہیں یا اس حد تک بڑھ جائیں کہ ان (درمیانی طاقتوں) کے قومی اور علاقائی مفادات پر ضرب پڑے۔‘
ڈیوڈ شینکر نشاندہی کرتے ہیں کہ ’بعض ممالک وسیع تر علاقائی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ قطر، جو کئی برس تک اخوان المسلمون کی حمایت کے الزامات کے بعد اب خود کو کم متنازع دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
گذشتہ چند برسوں میں مذاکرات اور ثالثی کے منظرنامے میں کئی نئے کردار سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر 2020 میں دوحہ نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی جو ایک ایسے معاہدے پر ختم ہوئے جس نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی راہ ہموار کی۔
سنہ 2022 میں ترکی نے روس اور یوکرین کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی جس کے نتیجے میں بحیرۂ اسود کے ذریعے اناج کی برآمدات کے انتظامات سمیت چند اہم جزوی معاہدے سامنے آئے۔
سعودی عرب نے بھی روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی میں کردار ادا کیا اور سنہ 2023 میں جدہ میں مذاکرات کی میزبانی کی جن میں کئی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ جنگ کے خاتمے کے طریقوں پر بات کی جا سکے۔
ریاض نے کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر سفارتی کوششوں کے حصے کے طور پر دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی ثالثی میں بھی کردار ادا کیا۔
ثالثوں کی مضبوط پوزیشن
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ شینکر نے وضاحت کی کہ عالمی تنازعات میں ان ثالثوں کی پوزیشن مضبوط سمجھی جاتی ہے۔
ان کے مطابق ’پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد ہے، اور اس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جس کے سبب وہ پیغام رسانی کی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ ایک موزوں پوزیشن میں ہیں۔ چین یا روس کے لیے ان مذاکرات میں ثالثی کرنا ممکن نہیں تھا۔‘
قندیل کے مطابق بعض داخلی حالات بھی ثالثی کرنے والے ممالک کو مداخلت پر مجبور کرتے ہیں تاکہ ممکنہ اندرونی مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
ان کے مطابق ’مثال کے طور پر پاکستان میں شیعہ فرقے کے ماننے والے بڑی تعداد میں ہیں اور جنگ کا جاری رہنا
آگے چل کر پاکستان میں کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے اور اگر تنازع بڑھتا ہے تو نقل مکانی کرنے والوں کی پاکستان آمد کا بھی خدشہ موجود ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’جہاں تک مصر کا تعلق ہے، وہ اس تنازع کا فریق نہیں لیکن اسے اس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے، خاص طور پر اس وقت جب اسرائیل سے گیس کی فراہمی رک گئی اور جنگ سیاحت اور نہرِ سویز سے گزرنے والے جہازوں پر اثر اندازہوئی۔
انھوں نے دعویٰ کیا یہ جنگ مصر پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے دھمکی دی تھی کہ وہ مصر کو گیس کی فراہمی روک دے گا، جبکہ قاہرہ کے لیے اسرائیل گیس کے اہم سپلائرز میں سے ایک ہے۔
اپریل کے آغاز میں اسرائیلی وزارتِ توانائی کے اعلان کے مطابق اسرائیل نے جزوی طور پر مصر کو گیس کی فراہمی دوبارہ شروع کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روایتی طاقتوں کا زوال
سنہ 2015 میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے میں یورپی یونین نے مذاکرات تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا تھااور پھر اس کے نفاذ کی نگرانی سے لے کر ایران کی پابندیوں کی تعمیل یقینی بنانے تک اس کا کردار مزید بڑھ گیا تھا۔
تاہم موجودہ تنازع میں یورپی یونین کا کردار نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
واشنگٹن انسٹیٹیوٹ کے فیلو اور سابق امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ ڈیوڈ شینکر اس کمی کا تعلق امریکہ، نیٹو اور یورپی ممالک کے درمیان موجودہ ’پیچیدہ تعلقات‘ سے جوڑتے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’یورپ صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک اور تنازع نہیں چاہتا اور سمجھتا ہے کہ ایران تنازع سے دور رہنا بہتر ہے۔‘
امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت سے پیچیدہ ہو گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنا دوسرا دورِ صدارت سنبھالا۔
ابتدا میں اس کی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ تھی، کیونکہ ٹرمپ اس جنگ کو جلد ختم کرنا چاہتے ہیں اور یورپی ممالک پر مکمل طور پر امریکہ پر انحصار کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
یہ اختلاف ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد مزید بڑھ گیا کیونکہ یورپی ممالک اور برطانیہ نے اس جنگ میں فعال انداز میں حصہ لینے سے انکار کر دیا اور امریکہ کو خطے میں موجود اپنی فوجی اڈوں کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کیا۔
انھوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کے تحفظ کی کارروائیوں میں حصہ لینے سے بھی معذرت کی۔
’واشنگٹن اب قابلِ اعتماد پارٹنر نہیں رہا‘
دوسری جانب ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ کے مذاکرات کرنے کے طریقۂ کار نے خطے میں ایک غیر جانبدار فریق اور ثالث کے طور پر اس کی ساکھ کو کمزور کر دیا ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کی اسسٹنٹ پروفیسر سارہ پارکنسن کہتی ہیں کہ ’غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیل کے لیے امریکہ کی غیر مشروط حمایت اور موجودہ ایران کی صورتحال میں بھی یہی رویہ خطے میں اس کے ثالثی کردار کو ختم کر چکا ہے۔‘
پارکنسن موجودہ امریکی انتظامیہ کے سفارتی انداز پر تنقید کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’ٹرمپ انتظامیہ سفارتکاری کو اس کے اصل مفہوم سے خالی کر رہی ہے اور سفارت کاروں کی جگہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے کاروباری افراد کو لا رہی ہے جن کے پاس سفارتی مذاکرات کا تجربہ ناکافی ہے۔
وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ اور خلیجی ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے۔
ان کے مطابق ’خلیجی ممالک محسوس کرتے ہیں کہ انھیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھیں امریکہ کی جانب سے سکیورٹی کی ضمانتیں حاصل ہیں، لیکن پھر وہ خود کو جنگ کے بیچ میں پاتے ہیں۔‘
سارہ پارکنسن کے مطابق ان تمام عوامل نے خطے میں امریکہ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔‘

























