آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: کیا ماضی میں ایسے اقدامات کسی ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کرنے اور اس کی بندرگاہوں پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔
اس کارروائی نے ایک بار پھر جنگ اور فوجی تناؤ کے دوران دباؤ بڑھانے کے ایک قدیم ترین ہتھیار کی طرف اشارہ کیا: معیشت کو کمزور کرنے، تجارت کو محدود کرنے اور دوسرے فریق کو اپنا رویہ تبدیل کرنے، ہتھیار ڈالنے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے لیے سمندری راستوں کو بند کرنا۔
بحری ناکہ بندی صرف ایک فوجی اقدام نہیں ہے بلکہ اس کی قانونی، اقتصادی، انسانی اور سفارتی جہتیں بھی ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران اس حربے نے ممالک کی جنگی طاقت کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
تاہم غزہ اور یمن جیسے دیگر معاملات میں ناکہ بندیوں نے سیاسی تبدیلی کے بجائے انسانی بحرانوں اور قانونی تنازعات کو ہوا دی ہے۔
تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ یہ حربہ عام طور پر معاشی دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوتا ہے، لیکن شاذ و نادر ہی اپنے طور پر دیرپا سیاسی حل کی طرف لے جاتا ہے۔
پہلی عالمی جنگ میں جرمنی کی ناکہ بندی

،تصویر کا ذریعہHistorica Graphica Collection/Heritage Images/Getty Images
پہلی عالمی جنگ (1914-1919) کے دوران جرمنی کی بحری ناکہ بندی ’دور دراز سمندری حدود میں ناکہ بندی‘ کی ایک اہم مثال تھی۔ جرمنی کی بندرگاہوں کی براہ راست ناکہ بندی کرنے کے بجائے برطانیہ نے بحیرہ شمالی پر غلبہ حاصل کر کے تجارتی راستوں کو کنٹرول کیا اور جہازوں کی ٹریفک کی کڑی نگرانی کی۔
بحری جہازوں کا معائنہ کرکے اور غیر جانبدار ممالک پر دباؤ ڈال کر برطانوی رائل نیوی نے مؤثر طریقے سے عالمی منڈیوں تک جرمنی کی رسائی کو روک دیا۔
برطانیہ نے اپنی مکمل بحری برتری کا استعمال کرتے ہوئے آہستہ آہستہ نہ صرف خام مال اور فوجی اشیا بلکہ خوراک اور کھاد کو بھی ممنوعہ اشیا کی فہرست میں شامل کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرمنی ابتدائی طور پر غیرجانبدار ممالک کے ذریعے تجارت، ذخائر، ری سائیکلنگ مواد اور صنعتی متبادل کے ذریعے کچھ دباؤ کو کم کرنے میں کامیاب رہا، لیکن جیسے جیسے جنگ آگے بڑھی یہ طریقے کم موثر ہوتے گئے۔
جرمن درآمدات میں تیزی سے کمی آئی اور زرعی اور صنعتی اوزاروں کی کمی ملکی پیداوار میں کمی کا باعث بنی۔
ناکہ بندی کے سماجی اثرات شدید تھے۔ خوراک کی قلت 1916 کے بعد سے ایک بحران میں بدل گئی۔ غذائی قلت اور بیماری سے متاثرین کی تعداد کے اعدادوشمار مختلف ہیں، لیکن اس بات پر اتفاق ہے کہ ناکہ بندی نے جرمنی اور اس کے اتحادیوں کے درمیان تقسیم میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی ناکہ بندی

،تصویر کا ذریعہGalerie Bilderwelt/Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان، ایک جزیرہ نما ملک کے طور پر، جنوب مشرقی ایشیا میں اپنے زیر قبضہ علاقوں سے تیل، خام مال اور خوراک کی فراہمی کے لیے اور بحرالکاہل میں جنگی محاذوں پر فوج اور رسد کی نقل و حمل کے لیے سمندر پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا۔
اس وجہ سے سمندری راستوں میں خلل نے ملک کی فوجی اور اقتصادی طاقت کو براہ راست کمزور کیا اور اپنے آخری سالوں میں اس کے خلاف تباہ کن کام کیا۔
یہ ناکہ بندی (خاص طور پر 1943 اور 1945 کے درمیان) صرف جنگی جہازوں تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ امریکی آبدوزوں نے جاپانی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا اور پھر آپریشن اسٹرویشن کے دوران بارودی سرنگیں بچھا دیں، جس سے ملک کی اہم سمندری گزرگاہیں تباہ ہو گئیں۔
جنگ کے بعد کے جائزوں کے مطابق تجارتی بیڑے کی تباہی نے جاپان کی جنگی معیشت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
جاپان جغرافیائی طور پر انتہائی کمزور تھا اور جرمنی کے برعکس ناکہ بندی کو نظرانداز کرنے کے لیے کوئی موثر زمینی راستہ نہیں تھا، جس کی وجہ سے یہ ناکہ بندی ملک کے لیے مزید جان لیوا تھی۔
کامیابی کے لحاظ سے جاپان کی ناکہ بندی کو بہت فیصلہ کن اور موثر سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ ملک کا ہتھیار ڈالنا متعدد عوامل کے امتزاج کا نتیجہ تھا، جس میں وسیع بمباری، سوویت حملے اور بالآخر ایٹم بم سے حملہ، سمندری راستوں کا کٹ جانا اور تجارتی بیڑے کی تباہی نے جاپان کی جنگی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو ہلا دیا۔
1962 کے میزائل بحران میں کیوبا کا بحری محاصرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیوبا میزائل بحران ایک مختلف مثال ہے، کیونکہ واشنگٹن نے جان بوجھ کر لفظ ’ناکہ بندی‘ سے گریز کیا اور اسے ’سمندری قرنطینہ‘ کہا۔
کینیڈی انتظامیہ اس بات سے آگاہ تھی کہ بین الاقوامی قانون میں ناکہ بندی کی اصطلاح جنگ کی مانند ہے اور وہ امریکہ کو مزید مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ سوویت فوجی سازوسامان کو کیوبا میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے امریکی ریاستوں کی تنظیم کی حمایت پر انحصار کرتے ہوئے، بحری ناکہ بندی کی گئی۔
اس امریکی کارروائی کا مقصد فیڈل کاسترو کی حکومت کا تختہ الٹنا یا کیوبا کی معیشت کو تباہ کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک زیادہ محدود اور درست مقصد کو حاصل کرنا تھا: سوویت میزائلوں کی مزید تعیناتی کو روکنا اور ماسکو کے ساتھ سیاسی سودے بازی کا موقع فراہم کرنا۔
یہ ناکہ بندی، جو کہ سرد جنگ کے جوہری تناؤ کے عروج پر ایک ماہ سے بھی کم عرصے تک جاری رہی، جو اقتصادی سے بڑی حد تک سیاسی نوعیت کی تھی۔
کیوبا میں امریکی بحری افواج کی تعیناتی کے ساتھ سوویت بحری جہازوں کو فوجی تصادم کو روکنے یا خطرے میں ڈالنے کے انتخاب کا مؤثر طریقے سے سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے کچھ نے راستہ بدل دیا یا اپنا راستہ چھوڑ دیا۔
یہ بحری دباؤ، خفیہ پیغامات اور فوجی دھمکیوں کے تبادلے کے ساتھ بالآخر ایک معاہدے پر ختم ہوا، جس کے نتیجے میں کیوبا سے سوویت میزائلوں کا انخلا اور ترکی سے امریکی میزائلوں کو خفیہ طور پر ہٹا دیا گیا۔
اگر کامیابی کا پیمانہ بیان کردہ ہدف کا حصول ہے تو کیوبا کی ناکہ بندی کو ایک بہت ہی موثر اقدام قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ امریکہ مکمل جنگ میں داخل ہوئے بغیر سوویت ہتھیاروں کی مزید تعیناتی کو روکنے میں کامیاب رہا، جبکہ ساتھ ہی ساتھ مذاکرات اور سمجھوتے کا راستہ بھی کھلا رکھا۔
عراق کے خلاف اقوام متحدہ کی سمندری پابندیاں

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
1990 میں کویت پر قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 661 پاس کر کے عراق کے خلاف وسیع پابندیاں عائد کیں اور اس کے فوراً بعد قرارداد 665 پاس کر کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پابندیوں کو سمندر میں لاگو کریں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں اور اسے محدود کریں۔
یہ سمندری پابندیاں (1990-2003) عملی طور پر اقتصادی دباؤ ڈالنے اور پابندیوں کے نظام کی تکمیل کا ایک ذریعہ بن گئیں، جس کا مقصد عراق کو کویت سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا تھا۔
سمندری راستوں کے کنٹرول نے 1990 کے بعد عراق کی تیل کی برآمدات کو کم کرنے اور ملک کو معاشی طور پر الگ تھلگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سابق یوگوسلاویہ پر سمندری پابندیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
1990 کی دہائی کی بلقان جنگوں کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وفاقی جمہوریہ یوگوسلاویہ کے خلاف پابندیاں عائد کیں اور خطے میں ہتھیاروں کی منتقلی پر پابندیاں عائد کیں، جو کہ نیٹو اور مغربی یورپی یونین کی مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے سمندر میں نافذ کی گئیں۔
بحیرہ ایڈریاٹک (1992–1996) میں اس آپریشن کا مقصد پابندیوں کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بحری جہازوں کی نگرانی، معائنہ اور اگر ضروری ہو تو روکنا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ہزاروں جہازوں کا معائنہ کیا گیا اور سینکڑوں کو روکا گیا یا ان کا رخ موڑ دیا گیا، جو ان پابندیوں کے نسبتاً مستقل اور کثیرالجہتی نفاذ کی نشاندہی کرتا ہے۔
سلامتی کونسل کی قراردادوں کی منظوری نے ان پابندیوں کو اضافی سیاسی جواز فراہم کیا تھا۔
اس کے علاوہ ایڈریاٹک کے جغرافیہ اور محدود سمندر تک رسائی کے راستوں نے نگرانی کو آسان بنا دیا۔
تاہم صرف ان پابندیوں نے جنگ کو نہیں روکا۔ بوسنیا میں جنگ اور اس کے بعد کے بحرانوں کو صرف بحری پابندیوں سے حل نہیں کیا گیا تھا اور سیاسی معاہدے اور جنگ کے خاتمے کے لیے زمینی، فضائی اور سفارتی دباؤ کے امتزاج کی ضرورت تھی۔
سابق یوگوسلاویہ کے خلاف بحری پابندیوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے حوالے سے ایک نمونہ کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے، اگرچہ جرمنی اور جاپان کے پیمانے پر نہیں۔
اس اقدام نے پابندیوں کو مزید سنگین بنا دیا اور ان کی خلاف ورزی کی قیمت میں اضافہ کیا۔ اس تجربے نے ظاہر کیا کہ جب بین الاقوامی اتفاق رائے، ایک واضح ہدف اور قابل کنٹرول جغرافیہ موجود ہو تو یہ آلہ کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔
غزہ کی ناکہ بندی

،تصویر کا ذریعہMajdi Fathi/NurPhoto via Getty Images
غزہ کی ناکہ بندی (2007 سے) گذشتہ کئی مثالوں سے اس لیے مختلف ہے کہ یہ خالصتاً بحری اقدام نہیں ہے، بلکہ کراسنگ کو بند کرنے، سامان اور لوگوں کے داخلے اور اخراج کو کنٹرول کرنے، ماہی گیری پر پابندی، ایندھن اور بجلی کو کنٹرول کرنے اور برآمدات کو محدود کرنے کے وسیع تر نظام کا حصہ ہے۔
اسرائیل نے حفاظتی بنیادوں پر اور ہتھیاروں کے داخلے کو روکنے کے لیے ناکہ بندی کا جواز پیش کیا، لیکن بین الاقوامی اداروں نے برسوں سے متنبہ کیا ہے کہ اس کا اصل مقصد معیشت کو مفلوج کرنا اور شہریوں کی مشکلات کو بڑھانا ہے۔
قانونی نقطہ نظر سے غزہ کی ناکہ بندی دور حاضر کے سب سے زیادہ متنازع اقدامات میں سے ایک ہے۔
2010 میں بحری ناکہ بندی توڑنے کے لیے ’فریڈم فلوٹیلا‘ غزہ تک لے جانے سمیت کئی علامتی کوششیں کی گئیں، لیکن اسرائیل نے ان بحری جہازوں کو روک دیا اور انھیں غزہ پہنچنے کی اجازت نہیں دی۔
عملی طور پر غزہ کی ناکہ بندی اسرائیل اور فلسطینی مسلح گروپوں کے درمیان متواتر جھڑپوں کے تسلسل کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
دوسرے لفظوں میں اس پالیسی نے سکیورٹی کے مسئلے کو حل نہیں کیا، بلکہ اس نے ایک خستہ حال معیشت، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا اور غزہ میں انسانی امداد پر برا اثر ڈالا۔
اگر کامیابی کا پیمانہ صرف ’تسلط برقرار‘ رکھنا ہے تو غزہ کی ناکہ بندی برقرار رہی ہے، لیکن اس نے دیرپا تحفظ فراہم کرنے، تشدد کو روکنے یا سیاسی استحکام پیدا کرنے کے معاملے میں بہت کم کام کیا ہے۔
دوسرے لفظوں میں پالیسی دباؤ برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے لیکن بحران کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سعودی قیادت میں یمن کی ناکہ بندی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن جنگ میں سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے سمندری اور فضائی حدود کو کنٹرول کرتے ہوئے حوثیوں کے لیے ہتھیاروں کو ترسیل کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔
بڑی بندرگاہوں بالخصوص حدیدہ اور سلیف کو سخت نگرانی، معائنہ اور وقتاً فوقتاً پابندیوں کا سامنا رہا۔
اگرچہ ناکہ بندی کا سرکاری مقصد (2015 سے) ہتھیاروں کے داخلے کو روکنا تھا، کیونکہ یمن کا انحصار درآمد شدہ خوراک، ایندھن اور ادویات پر ہے، لیکن جلد ہی ان پابندیوں نے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ بین الاقوامی تنظیموں نے بار بار قحط، ایندھن کی قلت اور صحت کی خدمات میں خلل پڑنے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
یمن کے پاس پہلے سے ہی کمی کو پورا کرنے کی محدود صلاحیت تھی، اس لیے ایندھن یا گندم کی آمد میں کوئی تاخیر ہسپتالوں کی بندش، پانی میں خلل اور قیمتوں میں تیزی سے اضافے کا باعث بنی۔
سعودی عرب کی قیادت میں بننے والا اتحاد حوثیوں کے لیے رسد اور اسلحے کی درآمد کی لاگت میں اضافہ کرنے اور ایک طرح کا مستقل دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہا، لیکن یہ فیصلہ کن فتح یا دوسرے فریق کے خاتمے میں ناکام رہا۔
اس کے بجائے اس نے ایک بہت بڑا انسانی بحران پیدا کیا، جس نے اپنی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کروائی اور سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اتحاد کو سفارتی پیچیدگیوں میں ڈال دیا۔

























