آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی اڈوں کی موجودگی کے باوجود ایران کا رویہ عمان کے لیے ’نرم‘ کیوں ہے؟
- مصنف, عمنیہ النگار
- عہدہ, مشرق وسطیٰ کے ماہر، بی بی سی مانیٹرنگ
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
بدھ کو جنوبی افریقہ میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’صرف ایران اور عمان ہی آبنائے ہرمز کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔‘
اسی پیغام کو شیئر کرتے ہوئے انڈیا میں ایرانی سفارتخانے نے لکھا کہ ’ہمارے انڈین دوست محفوظ ہاتھوں میں ہیں، فکر نہ کریں۔‘
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے بیشتر رکن ممالک نے ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے بعد سے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے لیکن عمان نے ایسا نہیں کیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے ثالث کا کردار ادا کرنے والے اس ملک نے جنگ کے دوران بھی اپنی غیر جانبداری برقرار رکھی ہے۔
جب کہ GCC کے دیگر رکن ممالک نے ایران کے خلاف جارحانہ اور دھمکی آمیز موقف اپنایا، عمان ’سب سے دوستی، کسی سے دشمنی نہیں‘ کی خارجہ پالیسی پر کاربند رہا۔
اس موقف کی وجہ سے عمان امریکہ اسرائیل مہم پر تنقید کرنے والا جی سی سی ملک بن گیا جس نے اسے ایک غیر قانونی جنگ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
عمان GCC کا واحد ملک تھا جس نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
اسی وجہ سے، عمان خلیجی خطے میں ایران کے ساتھ جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے آخری قابل اعتماد سفارتی رابطہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنگ پر عمان کا کیا موقف تھا؟
عمان، جو امریکہ ایران مذاکرات میں ایک اہم ثالث تھا، کو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے ایک دھچکا لگا تھا۔
حملے سے ایک روز قبل عمان کے وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا تھا کہ امن معاہدہ ممکن ہے۔
عمان کے وزیر خارجہ نے اس حملے کے بعد مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک بار پھر فعال اور سنجیدہ بات چیت کو نقصان پہنچا ہے۔‘
عمان نے تنازع کے پہلے دن سے ہی یہ موقف برقرار رکھا ہوا ہے۔ اپنے خلیجی پڑوسیوں کے برعکس، جنھوں نے ایران کے حملوں کی مذمت کی، عمان نے امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید کی۔
اپنی سرزمین اور تنصیبات پر حملوں کے باوجود عمان کا موقف نہیں بدلا۔ اس نے انتہائی محتاط زبان میں حملوں کی مذمت کی اور ایران کا نام لینے یا الزام لگانے سے بھی گریز کیا۔
عمان امریکہ اور اسرائیل کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟
عمان اس جنگ کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔ عمان کے وزیر خارجہ نے 18 مارچ کو دی اکانومسٹ میں ایک مضمون میں کہا تھا کہ ’سپر پاور اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھو چکی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کے دوستوں کو اسے اس غیر قانونی جنگ سے نکلنے میں مدد کرنی چاہیے کیونکہ اس نے ایران کو جوابی کارروائی کی ایک وجہ دی ہے۔‘
عمان کا یہ موقف دوسرے خلیجی ممالک سے بالکل مختلف ہے۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے برعکس عمان نے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم نہیں کیے ہیں تاہم دونوں کے درمیان رابطہ برقرار رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 2018 میں مسقط کا دورہ بھی کیا تھا۔ یہ 1996 کے بعد اس سطح کا پہلا دورہ تھا۔
بعض مبصرین نے ابتدا میں عمان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا امکان ظاہر کیا تھا لیکن عمان کا کہنا ہے کہ ایسا اقدام آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد ہی ممکن ہے۔
عمان کی سٹریٹجک اور اقتصادی پوزیشن
عمان میں امریکہ کے تین فوجی اڈے ہیں: مسیرہ جزیرہ ایئر بیس، رافو تھمریت ایئر بیس، اور دوقم پورٹ۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ ثالث کے طور پر اپنے اہم کردار کے باوجود عمان ایران کے جوابی حملوں سے بچ نہیں سکا۔
عمان پر پہلا حملہ یکم مارچ کو ہوا جب دو ڈرونز نے تجارتی بندرگاہ دوقم کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم ایک غیر ملکی کارکن کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ سلالہ بندرگاہ پر تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس کے باوجود، جنگ شروع ہونے کے بعد سے عمان سب سے کم نشانہ بننے والا ملک رہا ہے، جب کہ اس کے جی سی سی کے پڑوسی، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
دیگر خلیجی ممالک کے برعکس عمان کی سٹاک مارکیٹ میں بھی کمی نہیں ہوئی بلکہ اس کا مرکزی انڈیکس، MSM 30، پچھلے ایک مہینے میں 11.77 فیصد بڑھ گیا۔
آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باوجود عمان کا جغرافیائی محل وقوع فائدہ مند رہا ہے۔ دنیا کے تیل اور ایل این جی کی 20 فیصد سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ بحر ہند تک براہ راست رسائی اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی عمان کی معیشت کو سہارا دیا ہے۔
عمان ایران تعلقات کا مستقبل
اپنے بہت سے خلیجی پڑوسیوں کے برعکس، عمان نے ایران کے ساتھ بات چیت کے راستے کھلے رکھے۔ عمان کو طویل عرصے سے ایران اور اس کے خلیجی حریفوں بالخصوص سعودی عرب کے درمیان فطری ثالث سمجھا جاتا ہے۔
یہ خارجہ پالیسی، جو جی سی سی کی رکنیت اور ایران کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھتی ہے، جاری رہنے کا امکان ہے۔
عمان نے مستقل طور پر ایک آزاد موقف اختیار کیا ہے، جس کی مثال یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد میں شامل نہ ہونے کے فیصلے سے ملتی ہے۔
عمان واحد GCC ملک تھا جس نے مجتبی خامنہ ای کو ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دی تھی۔