آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پیٹرول 137.23 جبکہ ڈیزل 184.49 روپے مہنگا: ’مشکلات میں گِھرے پاکستانیوں کے لیے یہ محض بڑا اضافہ نہیں، بقا کی جدوجہد پر ضرب ہے‘
وفاقی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا جواز پیش کرتے ہوئے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔
جمعرات کی شب وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پریس کانفرنس میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184 روپے 49 پیسے اضافے کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتیں جمعرات کی شب 12 بجے سے نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 458 روپے 41 پیسے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 520 روپے 35 پیسے ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے وفاقی حکومت نے گذشتہ ایک ماہ کے عرصے کے دوران دوسری مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل چار مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
اس طرح گذشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 77 فیصد (یعنی 192.23 روپے) جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 87 فیصد (239.49 روپے) اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی فراہمی بڑی حد تک بدستور بند ہے جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ شب قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے ایران تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا حکومت کے پاس ’وسائل محدود ہیں اور فی الحال جنگ کے اختتام کی کوئی صورتحال نظر نہیں آ رہی۔‘
وزیر پیٹرولیم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل بنیادی طور پر آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے اور جن ممالک کے پاس اس کے سٹر یٹیجک ذخائر موجود ہیں وہاں بھی توانائی ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سبسڈی کا اعلان
پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس محدود وسائل ہیں اور ہم (رعایت دینے کے لیے) ایک حد تک ہی جا سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں تمام تر فیصلے ملک کی قیادت کی رضامندی سے کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر انھوں نے ’کمزور طبقوں‘ کے لیے سبسڈی کا اعلان بھی کیا، جو کہ کچھ یوں ہے:
- اگلے تین ماہ تک ہر مہینے 20 لیٹر پیٹرول پر موٹرسائیکل سواروں کو 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی
- انٹرسٹی (یعنی شہروں کے درمیان) پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی
- مسافر بسوں کو زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی
- ٹرک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو فیول پر 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی
- ریلوے کے لیے حکومت سبسڈی دے گی تاکہ کرایوں پر قابو پایا جا سکے
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ان معاملات کا ہر ہفتے جائزہ لیا جائے گا اور فیصلے کیے جائیں گے۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بعض صارفین یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز پاکستانی ٹینکرز کے کُھلے رہنے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ کیوں کیا گیا، بعض صارفین اسے حکومت کی ’ناقص حکمت عملی‘ قرار دیا جبکہ کئی نے ایران جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی اس حوالے سے مجبوری پر بات کی۔
پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا، مگر عام عوام پر مکمل بوجھ ڈالنے کے بجائے اسے ٹارگیٹڈ سبسڈی کے ذریعے متوازن کیا گیا اور یہ شہباز شریف حکومت کی بہترین حکمت عملی ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں جنھوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود ایک ماہ تک اس کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں ہونے دیا جو ذمہ دار قیادت، مؤثر حکمتِ عملی اور بہترین فِسکل مینجمنٹ کی واضح مثال ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جیسے جیسے عالمی حالات بہتر ہوں گے، اسی عزم اور حکمت کے ساتھ مزید ریلیف بھی فراہم کیا جائے گا۔‘
عبدالباسط نامی صارف نے لکھا کہ ’افسوس ہے کہ آپ کو قیمتیں بڑھانا بھی کارنامہ لگتا ہے، ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے کے پیچھے چھپ کر عوام کی زندگی اجیرن کرنے کا نام خدمت نہیں ہے۔‘
ارفع فیروز نامی صارف نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت پاکستان کے پاس ایک سمارٹ حکمتِ عملی کا فقدان ہے اور وہ پیٹرولیم بحران کو صحیح طریقے سے سنبھالنے میں ناکام رہی ہے۔‘
سیدہ لیلیٰ جعفری نامی صارف نے لکھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو پاکستان کے لیے کُھلا رکھا ہے تو پھر پٹرول کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ کیا کوئی اس کی وضاحت کر سکتا ہے؟
وجاہت کاظمی نامی صارف نے لکھا کہ کچھ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ جب پاکستانی ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہے تو حکومت پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کر رہی ہے؟
اُن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے سے پاکستان کو تیل کی قیمتوں میں کوئی رعایت نہیں ملتی، پاکستان کو بین الاقوامی قیمتوں پر ہی خام تیل خریدنا پڑتا ہے، جو گذشتہ ایک ماہ کے دوران بہت مہنگا ہو چکا ہے۔
ریاض علی طوری نامی صارف نے لکھا کہ ’پہلے ہی مشکلات میں گھرے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے یہ محض ایک اور اضافہ نہیں ہے، بلکہ اُن کے جینے کی جدوجہد پر ایک تباہ کن ضرب ہے۔‘
دوسری جانب حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بہترین مینجمنٹ کے ذریعے تیل کی قیمتوں پر ریلیف دیتی رہی ہے اور نقصان برادشت کرتی رہی ہے تاکہ عوام کے لیے آسانی ہو۔
پاکستان میں حکومت نے گذشتہ دو ہفتوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں پہلے ہفتے تقریباً 69 ارب اور دوسرے ہفتے تقریباً 56 ارب روپے کا ریلیف دیا تھا۔
آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہوئے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا اخراجات کو کم رکھے اور پیٹرول پر سبسڈی نہ دے تاکہ مالیاتی خسارے میں اضافہ نہ ہو۔
گذشتہ ہفتے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا تھا کہ ’حکومت نے مختلف اقدامات بشمول کفایت شعاری، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی کے لیے ریموٹ یا گھروں سے کام کرنے جیسے فیصلوں کا اعلان کیا اور اس بچت سے عوام کو ریلیف دیا گیا۔‘
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے جبکہ پاکستان نے رواں مالی سال کے بجٹ اہداف میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کے مطابق رکھی تھی۔
کیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں صرف پاکستان میں بڑھ رہی ہیں؟
آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے سبب صرف پاکستان ہی متاثر نہیں ہو رہا، بلکہ دنیا کے متعدد ممالک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے، بلکہ وہاں پیٹرولیم مصنوعات کی بچت کے لیے متعدد اقدامات بھی لیے گئے ہیں۔
چین: سرکاری خبر ساں ادارے چائنا ڈیلی کے مطابق ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے تقریباً دو ہفتوں بعد بیجنگ نے پیٹرول کی فی ٹن قیمت میں 695 یوان اور ڈیزل کی فی ٹن قیمت میں 670 یوان کا اضافہ کیا تھا۔
آسٹریلیا: مشرق وسطی میں تنازع کے سبب آسٹریلیا میں بھی پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا تھا۔ ملک میں 22 مارچ کو فی لیٹر پیٹرول کی قیمت بڑھ کر دو اعشاریہ 38 آسٹریلین ڈالر ہو گئی تھی، جو اس سے قبل دو اعشاریہ 09 آسٹریلین ڈالر تھی۔
مصر: دیگر ممالک کی طرح مصر بھی مشرق وسطی میں جاری جنگ سے متاثر ہوا ہے۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم کے مطابق جنوری کے مقابلے میں ان کا پیٹرول بل مارچ میں دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ کر ڈھائی ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔
فلپائن: جنوبی مشرقی ایشیا کا ملک اپنی ضرورت کا 98 فیصد تیل خلیجی خطے سے منگواتا ہے اور اس تنازع کے سبب ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔
سری لنکا: دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ 'گلوبل پیٹرول پرائسز' کے مطابق 30 مارچ تک ملک میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 455 سری لنکن روپے تک پہنچ گئی تھی، جو ایک مہینے پہلے 340 سری لنکن روپے تھی۔