’منظور گیند پھینک‘: جب پاکستانی ہاکی ٹیم کی ’ڈبل اٹیک حکمت عملی سیکھ کر‘ ارجنٹینا فٹبال کا عالمی چیمپیئن بنا

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

سنہ 1978 میں جب پاکستان کی ہاکی ٹیم، اصلاح الدین صدیقی کی قیادت میں چوتھا ورلڈ کپ کھیلنے ارجنٹینا پہنچی تو وہاں کم ہی لوگوں نے پاکستان کا نام سُن رکھا تھا۔

مگر کسے خبر تھی کہ لاطینی امریکا کا یہ ملک نہ صرف ایک انجان ملک کے کھلاڑیوں کا گرویدہ ہو جائے گا بلکہ اُن ہی کی جارحانہ حکمتِ عملی سے متاثر ہو کر ڈھائی ماہ بعد پہلی بار فٹ بال ورلڈ کپ بھی جیت جائے گا۔

’ٹی آر ٹی‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں صحافی خالد حسین کے مطابق یہ وہ دور تھا جب یورپی طرزِ ہاکی— جو منظم دفاع، سیٹ پیسز اور پینلٹی کارنرز پر انحصار کرتا تھا— ایشیائی انداز پر غالب آنے لگا تھا۔ ایشیا کی روایتی طاقت انڈیا کی ٹیم زوال کا شکار تھی، اس لیے ایشیائی طرز کی ہاکی کی اصل نمائندگی پاکستان کے پاس تھی۔

’لیکن بہترین کھلاڑیوں کے باوجود پاکستان کچھ عرصے سے عالمی اعزازات سے محروم تھا۔ 1971 میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد وہ کوئی بڑا ٹائٹل نہیں جیت سکے تھے۔ 1972 اولمپک گیمز میں دوسرا، 1973 ورلڈ کپ میں چوتھا، 1975 ورلڈ کپ میں دوسرا، اور 1976 اولمپک گیمز میں تیسرا مقام حاصل کیا تھا۔‘

ارجنٹینا میں اجنبی

اپنے سنہری دور کو پھر سے پانے کو تیار پاکستان کی ٹیم 48 گھنٹے کے سفر کے بعدارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس اُتری تو وہاں کے لوگوں کے لیے اجنبی تھی۔

اسی ٹیم میں ’فلائنگ ہارس‘ پکارے جانے والے سمیع اللہ خان نے بہاولپور سے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہاں کے لوگوں نے پاکستان کا نام تک نہیں سُنا تھا۔‘

’وہ سمجھتے تھے کہ ہم شاید انڈیا ہی کا کوئی حصہ ہیں جو اس ٹورنامنٹ میں الگ حیثیت سے کھیل رہے ہیں۔ مگر پہلے ہی میچ میں ہم نے آئرلینڈ کو 9-0 سے شکست دی تو انھیں کھیل سے حقیقی لطف آیا اور وہ پاکستان کے بارے میں مزید جاننے کے خواہشمند ہو گئے۔‘

بیونس آئرس جانے والی پاکستانی ٹیم کے مینیجر 1960 روم اولمپک گیمز اور 1962 کے جکارتا ایشین گیمز کے گولڈ میڈلسٹ عبد الوحید خان تھے۔ ان کے دور میں پاکستان نے ورلڈ کپ، ایشیئن گیمز اور چیمپئنز ٹرافی تینوں بڑے اعزازات جیتے۔

انھوں نے ابتدائی میچ سے قبل صحافیوں سے کہا تھا کہ ’میں جرمنی اور ہالینڈ (نیدرلینڈز) جیسی کسی یورپی ٹیم کو پنالٹی کارنرز کے ذریعے ہاکی کا حُسن برباد کر کے عالمی ٹائٹل جیتنے نہیں دوں گا۔‘

کپتان اصلاح الدین کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ جیتنے ہی کے لیے گئی تھی۔

انھوں نے کراچی سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمیں معلوم تھا کہ اصل حریف مغربی جرمنی اور ہالینڈ ہیں۔ ہم اپنی طاقت، یعنی فیلڈ اٹیک، پر کھیلنا چاہتے تھے اور ساتھ ہی اُن کے شارٹ کارنر ہتھیار کو ناکارہ بنانا تھا۔‘

مشکلات کچھ اور بھی تھیں لیکن وہ بھی حل ہو گئیں۔ اسی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے نائب کپتان شہناز شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ارجنٹینا میں سب سے بڑا مسئلہ دیسی خوراک کا تھا، آلو، گوشت اور سالن اور دالیں وغیرہ۔‘

’لیکن پاکستانی سفارتخانے کی ایک خاتون اہلکار نے اس کا بندوبست کیا جو ہمارے لیے اطمینان اور توانائی کا باعث بنا۔‘

’بک اپ پاکستان‘ کے نعرے

پاکستان ابتدا ہی میں فیورٹ ہو گیا تھا۔

اصلاح الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہماری پریکٹس دیکھ کر ہی صحافیوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ ورلڈ کپ پاکستان جیتے گا۔ یہ بات حوصلہ افزا بھی تھی اور دباؤ کا باعث بھی۔‘

لیکن ان کے مطابق ’نہ پاکستانی تماشائی تھے نہ ہی انڈین، سفارتی اہلکاروں کے خاندانوں کے سوا۔ ہمیں لگا کہ شاید ہمیں کوئی سپورٹ نہیں ملے گی، مگر جیسے ہی ہم پہلے میچ کے لیے میدان میں اُترے، پورے سٹیڈیم سے آواز گونجی: ’بک اپ پاکستان!‘ یہ ہمارے لیے حیران کن تھا۔‘

پاکستان نے آئرلینڈ کو نو۔صفر، اٹلی کو سات۔صفر، ہالینڈ کو تین۔ایک، ملائیشیا کو تین۔صفر اور سپین کو دو۔ایک سے ہرایا۔ پاکستان کا آخری پول میچ میزبان ٹیم ارجنٹینا کے خلاف تھا۔

اصلاح الدین کا کہنا تھا: ’ہم نے پہلا، دوسرا اور تیسرا میچ بڑے مارجن سے جیتا، اور ہر بار یہی نعرہ بلند ہوتا رہا۔ یوں لگنے لگا جیسے ہم ارجنٹینا کی اپنی ٹیم بن گئے ہوں۔ مگر جب میزبان ارجنٹینا کے خلاف میچ آیا تو فضا بدل گئی اور آواز آئی: ’بک اپ ارجنٹینا! جو فطری بھی تھا۔‘

’مگر جب ہم نے وقفے کے بعد تیسرا گول کیا تو اچانک پورا مجمع پھر’بک اپ پاکستان‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ یہ لمحہ ہمارے لیے غیر معمولی تھا۔ دیارِ غیر میں، اپنی ٹیم کے خلاف، لوگ ہمیں سراہ رہے تھے۔ اور پھر اس میچ میں جو پاکستان نے سات صفر سے جیتا، اور بعد میں ٹورنامنٹ کے آخر تک ’بک اپ پاکستان‘ ہوتا رہا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’آج بھی میں ارجنٹینا کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں؛ عظیم لوگ، ان میں حقیقی سپورٹنگ سپرٹ تھی۔‘

پاکستان ٹیم کی ’ڈبل اٹیک‘ حکمت عملی

اسی ورلڈ کپ میں آٹھ گولوں کے ساتھ پاکستان کے ٹاپ سکورر سینٹر فارورڈ شہناز شیخ کے مطابق پاکستان نے مینیجر عبد الوحید خان کی ترتیب دی گئی ایک نئی حکمتِ عملی اپنائی تھی جس میں مکمل زور حملے پر تھا۔

انھوں نے سیالکوٹ سے بی بی سی کو بتایا :’ہمیں یقین تھا کہ بہترین دفاع، حملہ ہی ہوتا ہے۔‘

’وحید خان کے ساتھ کوچنگ ٹیم بڑی مضبوط تھی۔ تقریباً ایک سال تک وہ ٹیم کے ساتھ رہے۔ ٹیم کی تیاری بھرپور انداز میں تھی۔ اس زمانے میں پاکستان میں لوکل ٹورنامنٹ کافی ہوتے تھے جس میں میچ ٹیمپرامنٹ کو اُبھارنے میں کافی مدد ملتی تھی۔ ٹریننگ کا دورانیہ چھ سے آٹھ ہفتے ہوتا تھا جس سے کھلاڑیوں میں ہم آہنگی پیدا ہوتی تھی، جو کہ جیت کا پیش خیمہ بنی۔‘

’ہماری ڈبل اٹیک حکمتِ عملی یہ تھی کہ لہروں میں حملہ کیا جائے۔ ہم سات کھلاڑی، پانچ فارورڈ اور دو ہاف، اکٹھے حملہ کرتے تھے۔ ہم دائیں جانب سے وار کرتے، اگر وہاں دفاع مضبوط ہوتا تو فوراً بائیں طرف منتقل ہو جاتے۔ اور اسی طرح اس کا الٹ بھی کیا جاتا تھا۔ اس سے مخالف ٹیم بکھر جاتی اور جوابی حملوں کے امکانات بھی کم ہو جاتے۔‘

شہناز شیخ نے پاکستان کے لیے 1969 سے 1979 تک تقریباً دس سال میں ورلڈ کپ میں دو گولڈ میڈل اور ایک سلور میڈل، اولمپکس میں سلور اور برونز میڈل اور ایشین گیمز میں تین اور چیمپئنز ٹرافی میں گولڈ میڈل جیتے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہماری گیم اٹیک پر مبنی تھی، جس میں وِنگز کے ذریعے حملہ کیا جاتا اور مڈفیلڈ میں مختصر پاسز کے ذریعے مسلسل حرکت رکھتے ہوئے حریف کے ہاف تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی تھی۔‘

یہ حکمتِ عملی ارجنٹینا کے فٹ بال ہیڈ کوچ اور مینیجر سیزر لوئیس مینوٹی کی توجہ کا مرکز بھی بنی جو اپنی ٹیم کو اسی سال اپنے ہی ملک میں جون میں ہونے والے فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے تیار کررہے تھے۔

’مینوٹی ہم سے ملے اور وحید بھائی سے تفصیلی گفتگو کی‘

اصلاح الدین کا کہنا تھا کہ ’ایک دن مینوٹی، جو غالباً پرائیویٹ جیٹ پر آئے تھے، ہم سے ملے اور وحید بھائی سے تفصیلی گفتگو کی۔ انھیں عملی مظاہرہ بھی دکھایا گیا۔ وہ خاص طور پر اس بات میں دلچسپی رکھتے تھے کہ ہم اتنے زیادہ گول کیسے کر لیتے ہیں اور کم گول کیسے کھاتے ہیں۔‘

’ہم نے انھیں بتایا کہ ہم لوگ اٹیکنگ ہاکی کھیلتے ہیں اور اس کی فارمیشن ہے 5-3-2-1، پانچ فارورڈ، تین ہاف، دو فل بیک، ایک گول کیپر۔ تاکہ ہم بھرپور اٹیک کریں۔ دوسری ٹیم اس وقت تک ہمارے خلاف گول کرنے کا نہیں سوچے گی جب تک کہ اس کے اوپر پریشر ریلیز نہیں ہوتا۔‘

ان کے مطابق عبد الوحید نے مینوٹی کو اپنی ڈبل اٹیک حکمتِ عملی اور وِنگرز کے استعمال کے بارے میں تفصیل سے سمجھایا، خاص طور پر جب درمیانی راستے سے حریف کی دفاعی لائن کو عبور کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ ’وہ واضح طور پر بہت متاثر ہوئے، انھوں نے پاکستان کے کئی میچز اور ٹریننگ سیشنز دیکھے اور نوٹس بھی لیے۔‘

اس ورلڈ کپ میں پاکستان نے 35 گول کیے، جو اس وقت کسی بھی ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ تھے (یہ ریکارڈ انھوں نے 1982 میں خود ہی توڑا)۔ ان کے خلاف صرف چار گول ہوئے۔ ان کا گول فرق +31 آج بھی ہاکی ورلڈ کپ کی تاریخ میں بہترین ہے۔ پاکستان نے تمام میچ جیتے، کوئی برابر بھی نہیں رہا۔

اصلاح الدین نے بتایا کہ ’ہم نے پول میں ہالینڈ کو ہرایا تھا اور اتفاق سے فائنل بھی ان ہی کے خلاف آیا، مگر اصل امتحان سیمی فائنل تھا جہاں مغربی جرمنی کا سامنا ہوا، وہی مغربی جرمنی جس نے ایک دن پہلے انڈیا کو سات گول کیے تھے۔‘

’ہم ساری رات بے چین رہے، مگر یقین تھا کہ اللہ مدد کرے گا۔ میچ انتہائی سخت رہا؛ مقررہ وقت اور اضافی وقت بھی بغیر گول کے گزر گیا۔ پھر اچانک ایک موقع ملا، میں نے رائٹ آؤٹ کے طور پر انسائیڈ رائٹ منظور جونیئر سے’منظور پھینک گیند‘ چِلا کر سینٹر لائن کے پیچھے سے گیند لی، چار کھلاڑیوں کو چکمہ دیا اور فلائنگ کک مارتے گول کیپر سے بچتے ہوئے گیند اس کے اوپر سے جال میں ڈال دی۔‘

’آخری لمحات کا یہ گول فیصلہ کن ثابت ہوا؛ ہم جیت گئے، سجدہ کیا اور پوری ٹیم خوشی میں ایک دوسرے پر گر پڑی۔‘

19 مارچ سے دو اپریل تک 14 ٹیموں کے مابین جاری رہنے والے اس ورلڈ کپ کا فائنل ہالینڈ کے خلاف تھا۔

عبدالوحید خان نے اپنی کتاب ’ہاکی، ہو ٹو بی اے ورلڈ چیمپیئن‘ میں لکھا ہے کہ ’ڈچ ہاکی ٹیم کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے ہم نے ان کے بہترین سکورر پال لِٹجینز کی ایک فلم بنوائی، جس میں وہ پنالٹی کارنر پر شاٹ لے رہے تھے۔‘

’اس فلم نے ہمیں یہ نشان دہی کرنے میں مدد دی کہ سٹرائیکر اور ڈیش کرنے والے ڈیفینڈر کے درمیان ٹائمنگ میں ایک خامی موجود ہے، تقریباً 0.5 سیکنڈ کا فرق تھا۔ پال لِٹجینز کا شاٹ شروع سے آخر تک 1.5 سیکنڈ میں مکمل ہوتا تھا، جبکہ پاکستانی ڈیفینڈر اصلاح الدین کا ڈیش 2 سیکنڈ سے کچھ کم وقت لیتا تھا۔ اس فرق کو جاننے کے بعد ہم نے اسے اصلاح الدین کی زیادہ تیز ڈیش کے ذریعے مؤثر انداز میں کاؤنٹر کیا۔‘

اصلاح الدین نے بتایا: ’ہم ابتدا ہی میں گول کھا گئے، پھر اختر رسول نے برابر کیا، مگر ہالینڈ نے دوبارہ برتری لے لی۔‘

وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’کراؤڈ، جو ہمیں سپورٹ کر رہا تھا، خاموش سا ہو گیا۔ میں نے کھلاڑیوں کو جمع کیا اور کہا: ’اگر وہ تین منٹ میں گول کر سکتے ہیں تو ہم 32 منٹ میں کیوں نہیں؟‘ اس حوصلے کے ساتھ ہم نے برابری بھی کر لی۔‘

’جب سکور 2-2 تھا تو ہمیں ایک پنالٹی کارنر ملا۔ اس سے پہلے ہم آٹھ پنالٹی کارنرز حاصل کر چکے تھے مگر ایک بھی گول میں تبدیل نہیں کر سکے تھے۔ سمجھداری کا تقاضا یہی تھا کہ ایک اور موقع اپنے تجربہ کار کھلاڑی منور الزمان کو دیا جاتا۔‘

’مگر نہ جانے میرے ذہن میں کیا آیا، میں نے اس کے بجائے فل بیک منظور سینیئر کے ہاتھ کا فریکچر ہونے کے باعث ٹیم میں شامل ہونے والے متبادل کھلاڑی احسان اللہ سے کہا کہ وہ کارنر لیں۔‘

اصلاح الدین نے بتایا: ’میں نے انھیں (احسان اللہ) ہدایت دی کہ درمیانی ہٹ ماریں گول کیپر پر، ری باؤنڈ پر ہم گول کر لیں گے۔ انھوں نے درمیانی ہٹ لگائی جو سامنے سے دوڑتے آتے کھلاڑی کی ہاکی سے لگی اور سیدھی جال میں جا گھسی۔ یہ گول ہماری فتح کا نشان قرار پایا۔ یوں اللہ نے ہمیں عزت دی، اور واقعی احسان نے ٹیم پر احسان کر دیا تھا۔‘

’یہ اللہ کی مدد تھی۔ جیت کے بعد میں نے وہیں سجدہ کیا۔‘

تین ہزار ڈالر فی کھلاڑی انعام

سمیع اللہ، جنھوں نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں اپنی بے مثال رفتار کے ساتھ عالمی ہاکی پر غلبہ حاصل کیا، کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے لیے یہ ایک یادگار ٹورنامنٹ تھا۔ ٹورنامنٹ کے اختتام پر میئر نے بھی پاکستانی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایسی ٹیم نہیں دیکھی، ایک ناقابلِ شکست ٹیم، صاف اور شاندار کھیل، جسے پورے ٹورنامنٹ میں ایک بھی کارڈ نہیں ملا۔‘

سمیع اللہ نے سنہ 1976 کے اولمپکس میں کانسی اور سنہ 1978 اور سنہ 1982 کے ورلڈ کپ اور کئی ایشیئن گیمز میں سونے کے تمغے جیتے۔ انھوں نے سنہ 1982 کے ایشیئن گیمز میں پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے انڈیا کے خلاف 7-1 کی شاندار فتح میں تین گول بھی کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سربراہ ایئر مارشل نور خان تھے۔ ٹیم کے مینیجر عبدالوحید خان اور کوچ سید اختر حسین تھے۔‘

’ہم پُرامید تھے کہ یہ ورلڈ کپ جیتیں گے، اور ٹیم کا کمبینیشن بھی شاندار تھا، فارورڈ لائن میں اصلاح الدین، منظور جونیئر، رشید جونیئر، شہناز شیخ اور حنیف خان، جبکہ آؤٹ سائیڈ لیفٹ پر میں خود تھا۔ اس کے علاوہ احسان اللہ، منور الزمان، سینٹر ہاف اختر رسول اور گول کیپر سلیم شیروانی شامل تھے۔ سلیکشن بہترین تھی، ماحول سازگار دیا گیا اور کیمپ میں مکمل سہولیات فراہم کی گئیں۔‘

سمیع اللہ کے مطابق ’ایئر مارشل نور خان نے اعلان کیا تھا کہ ورلڈ کپ جیتنے پر ہر کھلاڑی کو تین ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا، جو بعد میں نیویارک سے منگوا کر واقعی دیا گیا۔‘

مہنگائی کے اعداد و شمار کے مطابق 1978 کے 3,000 ڈالرآج (2026) میں تقریباً 15,000ڈالر کے برابر بنتے ہیں یعنی لگ بھگ 42 لاکھ روپے۔

انڈیا، جو دفاعی چیمپیئن تھا، سیمی فائنل تک نہ پہنچ سکا اور بالآخر چھٹے نمبر پر رہا۔ میزبان ملک ارجنٹینا آٹھویں نمبر پر رہا۔

ارجنٹینا فٹ بال ٹیم کی ورلڈ کپ فتح اور پاکستان کو خراجِ تحسین

لیکن ارجنٹینا کی فٹ بال ٹیم مینوٹی کے توسط سے پاکستان کی ڈبل اٹیک کی حکمتِ عملی، ان کا سات رکنی حملہ، دونوں اطراف سے حریف کے گول پر یلغار سیکھ چکی تھی۔

جون میں ان کی ٹیم نے ہالینڈ ہی کو ہرا کر ایک شاندار فتح حاصل کی اور ماریو کیمپس نے گولڈن بوٹ جیتا۔

مینوٹی اور ان کی ٹیم ارجنٹینا کے قومی ہیرو بن گئے۔ مگر مینوٹی نے یہ نہیں بھلایا کہ پاکستان نے ان کی ٹیم کی کس طرح مدد کی تھی۔

اصلاح الدین، شہناز شیخ اور سمیع اللہ تینوں کے مطابق ’ارجنٹینا کی فتح کے چند دن بعد عبد الوحید خان کو مینوٹی کی جانب سے ایک ٹیلی گرام موصول ہوا جس میں انھوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کی حکمتِ عملی نے ان کے کھلاڑیوں کو فیفا ورلڈ کپ جتوانے میں مدد دی۔‘

اصلاح الدین بعد میں مینیجر، کوچ اور سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ انھوں نے سنہ 1978 میں پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے ’گرینڈ سلیم‘ بھی حاصل کیا، جس میں ورلڈ کپ، ایشیئن گیمز اور چیمپیئنز ٹرافی تینوں جیتے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل ٹیلی وژن پر کراچی میں دیکھا۔

’جب ارجنٹینا کی فٹ بال ٹیم جیتی تو کوچ نے لائیو کہا کہ انھوں نے پاکستان کے تمام میچز دیکھے تھے، ان سے سیکھا تھا، حتیٰ کہ ان کے مینیجر سے بات بھی ہوتی رہی۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے وہی جارحانہ انداز اور پیٹرن اپنی فٹبال ٹیم میں اپنایا اور اسی حکمتِ عملی نے انھیں فتح دلا دی۔‘

شہناز شیخ کے مطابق اس کے بعد سے ارجنٹینا نے مڈفیلڈ میں شارٹ پاسز اور بال ریٹینشن پر زیادہ توجہ دینا شروع کی۔ آج بھی ارجنٹینا کی ٹیم مڈفیلڈ میں شارٹ پاسز اور صبر کے ساتھ گیپ تلاش کر کے اٹیک کرتی ہے، جو اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔