آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, نتن یاہو کا ایران جنگ کے خاتمے کی ٹائم لائن دینے سے انکار: ’صدر ٹرمپ چاہیں گے کہ جنگ کے اخراجات عرب ممالک ادا کریں،‘ وائٹ ہاؤس

اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے وقت کے بارے میں کوئی ’معین وقت‘ مقرر نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی حالیہ پریس بریفنگ کے دوران اس بات کا اشارہ دیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عرب ممالک سے امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

خلاصہ

  • اسرائیلی دفاعی افواج نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ چار اسرائیلی فوجی لبنان میں ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
  • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ دو ایسے واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں اقوام متحدہ کے اہلکار ’ہلاک ہوئے۔‘
  • کویت کا کہنا ہے کہ ایران نے دبئی کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز اس کے ایک بڑے خام تیل کے ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے
  • پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایرانی ادارے فارس نیوز کے مطابق ایران میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے آبنائے ہرمز میں گزرنے والی ٹریفک پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
  • ٹرمپ نے ایران میں واقع جزیرے خارگ پر قبضے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایرانی تیل حاصل کر سکتے ہیں

لائیو کوریج

  1. اتحادیوں کی جانب سے روس کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کو کم کرنے کا پیغام ملا ہے: زیلنسکی

    یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کو کہا کہ یوکرائن کے کچھ اتحادیوں نے کئیو کو ’اشارے‘ بھیجے ہیں کہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے پیشِ نظر روس کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کو محدود کیا جائے۔

    واٹس ایپ کے ذریعے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ ’یوکرائن ان اشاروں پر عمل کرنے کو تیار ہے اگر روس کی جانب سے بھی اسی طرح کی حکمتِ عملی اپنانے کا بیان سامنے آتا ہے تو۔

    زیلنسکی نے مزید کہا کہ ’حال ہی میں خاص طور پر اس شدید عالمی توانائی کے بحران کے بعد ہمیں کچھ شراکت داروں کی طرف سے پہلے ہی اشارے موصول ہوئے ہیں کہ روس کے تیل اور توانائی کے شعبے پر ہمارے ردعمل کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔‘

    امریکہ اسرائیل جنگ نے ایران کے خلاف بین الاقوامی تیل، گیس اور ریفائن شدہ مصنوعات کی فراہمی کو کم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تاریخی طور پر توانائی کی فراہمی میں بدترین بحران کے دوران قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔

  2. جنوبی لبنان میں ایک کارروائی کے دوران چار اسرائیلی فوجی ہلاک

    اسرائیلی دفاعی افواج نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ چار اسرائیلی فوجی لبنان میں ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بیان آئی ڈی ایف کی جانب سے ٹیلیگرام پر شائع کیا گیا۔

    بیان کے مطابق 22 سالہ کیپٹن نوم مادمونی، سٹاف سارجنٹ 21 سالہ بن کوہن اور سٹاف سارجنٹ 22 سالہ میکسم اینٹس جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی انتظامیہ کے مطابق دو افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے ایک فوجی کو ’شدید زخمی حالت جبکہ دوسرے کو قدرِ کم زخم آئے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے مزید کہا کہ اسی واقعے میں ایک اور فوجی اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں تاہم تصدیق کا عمل جاری ہے۔

  3. دھماکوں کی اطلاعات کے بعد تہران کے کچھ علاقوں میں بجلی بحال

    ایرانی میڈیا کے مطابق منگل کی صبح تہران کے کچھ حصوں میں دھماکوں کے بعد بجلی منقطع ہو گئی تھی۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بتایا کہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے، جو ایک سب سٹیشن پر گرنے والے شراپنیلزکے باعث متاثر ہوئی تھی۔

    یہ اطلاع ایسے وقت میں آئی ہے جب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

  4. لبنان پر اسرائیلی حملوں کی چند تازہ تصاویر

    گزشتہ شب اسرائیل نے جنوبی لبنان پر نئے حملے کیے جس سے ہنوئیہ کے گاؤں اور بیروت میں عمارتیں متاثر اور تباہ ہو گئیں۔

    لبنان سے موصول ہونے والی چند تازہ تصاویر

  5. ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کی اطلاعات ہیں: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی شناخت کر لی ہے اور فضائی دفاع کے نظام فی الحال ’خطرے کو ناکام بنانے‘ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    عوام کو خبردار کر دیا گیا ہے اور انھیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ’محفوظ مقامات‘ پر منتقل ہو جائیں اور مزید اطلاع تک وہیں رہیں۔

  6. اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی لبنان میں ہلاکت کا جائزہ لیا جا رہا ہے: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ دو ایسے واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں اقوام متحدہ کے اہلکار ’ہلاک ہوئے۔‘

    یہ بیان اس کے بعد آیا ہے کہ اقوام متحدہ نے بتایا کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے تین امن اہلکار ملک کے جنوب میں ہلاک ہو گئے۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ان واقعات کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حالات کی وضاحت کی جا سکے اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ حزب اللہ کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہوئے یا آئی ڈی ایف کی کارروائی کی وجہ سے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ واقعات ایسے علاقوں میں پیش آئے ہیں کہ جہاں اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے یہ فرض نہیں کیا جانا چاہیے کہ جن واقعات میں اقوامِ متحدہ کے اہلکار متاثر ہوئے وہ آئی ڈی ایف کی وجہ سے ہوئے۔‘

  7. کویت کی دبئی میں لنگر انداز خام تیل سے بھرے بحری جہاز پر ایرانی حملے کی تصدیق

    کویت کا کہنا ہے کہ ایران نے دبئی کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز اس کے ایک بڑے خام تیل کے ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔

    کویت پٹرولیم کارپوریشن نے اس واقعے کو ’ایران کا ایک وحشیانہ فضائی حملہ‘ قرار دیا اور بتایا کہ جہاز کو کچھ نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ٹینکر ’السلْمی‘ حملے کے وقت مکمل طور پر تیل سے بھرا ہوا تھا، جس کے باعث حملے کے فوراً بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

    دبئی حکام نے کہا کہ حملہ ایک ڈرون کے ذریعے کیا گیا اور چند گھنٹوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ عملے کے تمام 24 افراد اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

    ابتدائی طور پر کویت نے حملے کے بعد ممکنہ تیل کے اخراج سے خبردار کیا تھا، تاہم برطانیہ کے میری ٹائم مانیٹر کے مطابق ’ماحولیاتی اثرات کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔‘

    رائٹرز کے مطابق لائیڈز اور ٹینکر ٹریکرز کے ڈیٹا کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’السلْمی‘ میں کویت اور سعودی عرب سے دو ملین بیرل تیل لدا ہوا تھا۔ لائیڈز کے مطابق اس کی منزل چین کا شہر چنگ ڈاؤ تھی۔

    تاہم کویت نیوز ایجنسی کے مطابق کویتی فوج نے اس کا فضائی دفاعی نظام ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں‘ کا جواب دے رہا ہے۔

    کویت کے مطابق ایرانی فضائی حملے کا نشانہ بننے والے اس بڑے آئل ٹینکر میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

  8. ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس لگانے کا فیصلہ: فارس نیوز

    پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایرانی ادارے فارس نیوز کے مطابق ایران میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے آبنائے ہرمز میں گزرنے والی ٹریفک پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

    فارس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کمیشن کے ایک رکن نے اس منصوبے کی منظوری کی تصدیق کی ہے جس کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے سے بھی روکا جائے گا۔

    مزید کہا گیا ہے کہ ان منصوبوں کے تحت وہ دیگر ممالک بھی پابندی کا سامنا کریں گے جنھوں نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں میں حصہ لیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئے ٹول نظام کا اعلان ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایران اسے عمان کے ساتھ تعاون میں نافذ کرے گا۔

    دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل عام طور پر اس اہم بحری گزرگاہ سے ہوتی ہے جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔

    تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد سے بحری معلومات فراہم کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق اس آبی گُزر گاہ سے آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد کمی آ چکی ہے۔

  9. صدر ٹرمپ چاہیں گے کہ جنگ کے اخراجات عرب ممالک ادا کریں: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کی حالیہ پریس بریفنگ کے دوران ایسا اشارہ دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عرب ممالک سے امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ سے پیر کے روز پریس بریفنگ کے دوران یہ سوال کیا گیا کہ ’کیا عرب ممالک کو جنگ کے اخراجات ادا کرنے چاہئیں جیسا کہ سنہ 1990 کی خلیجی جنگ کے دوران امریکہ کے اتحادیوں نے واشنگٹن کی مداخلت کے لیے مالی معاونت کی تھی۔‘

    لیویٹ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے لیے صدر انھیں کہنے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس معاملے میں ان سے آگے نہیں بڑھوں گی، لیکن یقیناً یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کے بارے میں مُجھے علم ہے کہ اُن (امریکی صدر) کے ذہن میں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ اس بارے میں ان کی طرف سے مزید سنیں گے۔‘

    ساتھ ہی امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایرانی حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔

    کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اب تک ایران میں 11000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔

    لیویٹ نے مزید یہ بھی کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی اُن کی پہلی ترجیح ہے۔‘

  10. اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو نکالا جائے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو نکالا جائے۔‘

    ایکس پر ایک پوسٹ میں عراقچی نے کہا کہ ایران سعودی عرب کا ’احترام‘ کرتا ہے اور اسے ایک ’برادر ملک‘ سمجھتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کی کارروائیاں ’دشمن کے خلاف ہیں جو نہ عربوں کا احترام کرتے ہیں اور نہ ایرانیوں کا۔‘

    عراقچی نے اپنے اس بیان کے ساتھ ایک تصویر بھی پوسٹ کی جو بظاہر ایک تباہ شدہ طیارے کی ہے جس پر امریکی فضائیہ کے نشانات موجود ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ ’بس دیکھو ہم نے ان کے فضائی کمانڈ کے ساتھ کیا کیا۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ابھی تک اس واقعے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بی بی سی نے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

  11. امریکہ کے ساتھ ہمارے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے: ایرانی حکام کی پھر تردید

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل نیٹ ورک پر ایک پیغام پوسٹ کیا اور لکھا کہ ’ان اکتیس دنوں میں ہم نے امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔‘

    انھوں نے وضاحت کی کہ ’امریکہ کی طرف سے تجاویز کے کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی گئی ہے، جو پاکستان سمیت کچھ ثالثوں کے ذریعے ہمیں پہنچائی گئی ہیں۔‘

    یہ پیغام وائٹ ہاؤس کے ترجمان اور ان سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بات کے بعد جاری کیا گیا۔

    بقائی نے لکھا کہ ’ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ اب ایسی صورت حال میں جب امریکی فوجی جارحیت اور جارحیت شدت کے ساتھ جاری ہے، ہم ایرانی قوم کے دفاع کے لیے اپنی تمام تر کوششیں اور توانائیاں وقف کر رہے ہیں۔۔۔ ہم نے سابقہ ​​تجربات کو اپنے گوشت اور خون کے ساتھ محسوس کیا ہے، اور ہم سفارت کاری کی دھوکہ دہی کو نہیں بھولیں گے جو دو سال سے بھی کم عرصے میں کی گئی۔‘

    یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے آج کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اچھی طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں اور جاری ہیں۔

    لیویٹ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے حکام جن کے ساتھ امریکہ بات کر رہا ہے وہ پچھلے لیڈروں کے مقابلے میں ’پردے کے پیچھے زیادہ معقول‘ لگتے ہیں۔

  12. لبنانی دیہات کے رہائشیوں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کا حکم

    اسرائیلی دفاعی افواج نے بقا وادی کے علاقے میں کئی لبنانی دیہات کے لوگوں کے لیے نئے انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    ان دیہات میں زالایا، لبیا، یحمور، سحمَر، قَلایا اور دلافی شامل ہیں۔

    اپڈیٹ میں، آئی ڈی ایف کے ترجمان اویخائے ادرعی نے کہا کہ رہائشیوں کو فوراً قَرعون قصبے کے شمال کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جنوب کی طرف کسی بھی قسم کی نقل و حرکت ’آپ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔‘

  13. بلوچستان: تشدد کے واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ضلع جھل مگسی میں ایک پولیس تھانے پر کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے حملے کو ناکام بنادیا گیا۔

    کوئٹہ میں پیر کی شب ایگل فورس سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بتایا کہ کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ایگل فورس سے تعلق رکھنے والے اہلکار معمول کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا ان اہلکاروں نے تین مشکوک افراد کو تلاشی کے لیے روکنے کی کوشش کی جس پر اُن افراد نے ایگل فورس کے اہلکاروں پر فائر کھول دیا جس میں دو اہلکار مارے گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    ادھر سندھ سے متصل بلوچستان کے ضلع کچھی میں مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے کوٹھڑہ کے علاقے میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی رحمت اللہ شاہ فون پر بتایا کہ یہ حملہ علی الصبح 6 بجے کے قریب کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے تھانے پر قبضے کی کوشش کی لیکن پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک راہگیر بچہ ہلاک ہو گیا جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے ڈیڑھ گھنٹے سے دو گھنٹے تک ان کا مقابلہ جس کے بعد سیکورٹی فورسز کے اہلکار ان کی مدد کے لیے پہنچے جس پر حملہ آور پسپا ہوکر چلے گئے۔

    درایں اثناء ضلع کے ایک پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ جب مسلح افراد پسپائی کے بعد چلے گئے تو پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کا پیچھا کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس دوران فرار ہونے والے مسلح افراد کے دوسرے ساتھیوں نے پیچھا کرنے والے اہلکاروں پر گھات لگاکر حملہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار مارا گیا جبکہ تین زخمی ہوگئے۔ حملے میں سکیورٹی فورسز کی دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    اس واقعے کے حوالے سے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ جھل مگسی میں کوٹھڑا کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے مسلح افراد کے حملے کو ناکام بنادیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جوابی کاروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ملک کے خلاف بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے ان عناصر کے گذشتہ شب کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔

    درایں اثناء بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی صدارت میں پیر کے روز کوئٹہ میں امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ۔ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق بلوچستان میں قیام امن کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔

  14. امریکہ ایران میں ’کام ختم کرنے کے لیے پرعزم‘ ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے الجزیرہ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز ’کسی نہ کسی طرح‘ کھل جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ اب بھی اپنے جنگی مقاصد پر مرکوز ہے، جنہیں وہ ’مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    ان مقاصد میں ڈرون صلاحیتوں کو تباہ کرنا، ساتھ ہی ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کرنا شامل ہے۔

    انھوں نے نیوز چینل کو بتایا کہ ’اب امریکہ اس کام کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے‘۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کام ابھی کرنا ضروری تھا‘ کیونکہ اگر ایران مزید ہتھیار بنا لیتا تو مستقبل میں یہ زیادہ خطرناک ہو سکتا تھا۔

  15. امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کا خلاصہ

    امریکی وائٹ ہاؤں کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایرانی حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔

    کیرولین لیویٹ نے کہا:

    فوجی کارروائی پر:

    • امریکہ اب تک 11,000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور بحریہ کو ’تباہ‘ کر دیا ہے
    • لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہے

    امن مذاکرات پر:

    • لیویٹ نے زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اچھی طرح جاری ہیں اور ابھی بھی چل رہے ہیں
    • انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران اس ’موقعے‘ کو مسترد کرتا ہے تو فوج تیار ہے کہ ٹرمپ کو ’ہر آپشن‘ فراہم کیا جائے گا تاکہ ایران کو ’سنگین قیمت‘ چکانی پڑے
    • انھوں نے کہا کہ جن ایرانیوں سے امریکہ بات کر رہا ہے وہ پسِ پردہ پچھلے رہنماؤں کے مقابلے میں ’زیادہ معقول‘ نظر آتے ہیں
    • ایک طرف ایرانی حکام مسلسل کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے، لیویٹ نے اصرار کیا کہ ایاس ہو رہا ہے اور ’امریکی عوام اتنے سمجھدار ہیں کہ دہشت گرد حکومت کے الفاظ پر یقین نہ کریں‘۔
  16. امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے، توانائی ڈھانچے پر حملے 10 دن کے لیے ’مؤخر‘ کیے: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ

    امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران میں امریکی آپریشن ’کامیابی سے جاری‘ ہے۔

    بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’اب تک 11,000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ’زیادہ دباؤ ڈالنے کی صلاحیت‘ ملی ہے اور ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتیں مفلوج ہو گئی ہیں۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ ’ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے تقریباً 90 فیصد کم ہو گئے ہیں۔ امریکی کارروائی نے ایران کی بحریہ کو بھی ’تباہ‘ کر دیا ہے، جس میں 150 سے زیادہ جہاز تباہ کیے گئے، جن میں ان کے سب سے بڑے جہازوں کا 92 فیصد شامل ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے ’مؤخر‘ کر دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرے۔‘

    لیویٹ نے مزید کہا کہ اگر ایران اس موقع کو رد کرتا ہے تو امریکی فوج ’تیار ہے‘۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ’ہر ممکنہ آپشن‘ اختیار کررے گا اور ’ایرانی حکومت سنگین قیمت ادا کرے گی۔‘

    لیویٹ نے ان رپورٹس پر بات کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی حکام امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق، ایرانی حکومت کی ’عوامی دکھاوا‘ اور میڈیا کی ’غلط رپورٹنگ‘ کے باوجود، امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’نجی سطح پر ہونے والی بات چیت عوامی سطح پر دکھائی جانے والی صورتحال سے مختلف ہوتی ہے۔‘

  17. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج دن میں آگے بڑھنے سے قبل گزشتہ روزکی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ امریکہ ’زیادہ معقول‘ ایرانی حکومت سے بات کر رہا ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ انتظامیہ کو اس ’امکان‘ کے لیے تیار رہنا ہوگا کہ مذاکرات ناکام بھی ہو سکتے ہیں۔ امریکی ٹیلی وژن چینل اے بی سی کے پروگرام گڈ مارننگ امریکہ سے گفتگو میں روبیو نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ ایران میں بات کر کس سے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ان کے نام بتا دیے گئے تو شاید ایران میں دوسرے گروہوں سے انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔‘
    • اسرائیل کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے اب تک اسرائیل میں چھ ہزار سے زیادہ افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق 121 مریض اب بھی زیر علاج ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک جبکہ 16 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
    • ترکی نے دعویٰ کیا کہ نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ایک بیلسٹک میزائل کو ’غیر مؤثر‘ بنا دیا ہے جو ترک فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔ ایکس پر جاری بیان میں ترک وزارت دفاع نے کہا: ’اس بات کا تعین ہوا کہ میزائل ایران سے داغا گیا تھا۔‘ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک یہ چوتھی بار ہے جب ترکی نے میزائل روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    • امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے خلیجی ممالک پر معاشی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی کے پیش نظر اردن نے سرکاری عمارات میں ایئر کنڈیشنر کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ اردن کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک کے وزیر اعظم جعفر حسن نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا جس کے تحت سرکاری گاڑیوں کا استعمال بھی محدود کیا جا رہا ہے اور دو ماہ تک سرکاری وفود اور کمیٹیوں کے بین الاقوامی دوروں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔
  18. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔