لائیو, کویت کی 20 لاکھ بیرل خام تیل سے لدے اپنے جہاز پر حملے کی تصدیق: ’امریکی سیکریٹری دفاع کے بروکر نے جنگ سے قبل دفاعی کمپنیوں میں ’سرمایہ کاری‘ کی کوشش نہیں کی،‘ پینٹاگون
دبئی کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد جس آئل ٹینکر کو آگ لگی اُس سے سمندر میں تیل کا رساؤ نہیں ہوا اور اس پر لگی آگ پر بھی قابو پا لیا گیا ہے۔ دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان نے فنانشل ٹائمز میں شائع رپورٹ کی سختی سے تردید کی کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے ’بروکر‘ نے ایران کی جنگ سے چند ہفتے قبل فوجی کمپنیوں یا دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں میں ’بڑی سرمایہ کاری‘ کرنے کی کوشش کی۔
خلاصہ
اسرائیلی دفاعی افواج نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ چار اسرائیلی فوجی لبنان میں ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ دو ایسے واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں اقوام متحدہ کے اہلکار ’ہلاک ہوئے۔‘
کویت کا کہنا ہے کہ ایران نے دبئی کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز اس کے ایک بڑے خام تیل کے ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے
پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایرانی ادارے فارس نیوز کے مطابق ایران میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے آبنائے ہرمز میں گزرنے والی ٹریفک پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
ٹرمپ نے ایران میں واقع جزیرے خارگ پر قبضے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایرانی تیل حاصل کر سکتے ہیں
لائیو کوریج
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے خطے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیل
،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے
بعد سے خطے میں ہلاکتوں کی تعداد
مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ایران: امریکہ
میں قائم تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس اِن ایران کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک تین ہزار 492 افراد ہلاک ہو
چکے ہیں۔ ان میں کم از کم 236 بچوں سمیت 1574 عام شہری شامل ہیں۔
اسرائیل: اسرائیل
کی ایمبولینس سروس ماگن ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک
میزائل حملوں سے 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق نو اسرائیلی
فوجی لبنان میں ہلاک ہوئے ہیں۔
لبنان: لبنان کی
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک 124 بچوں سمیت 1247 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
خلیج: اب تک خلیجی خطے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے
ہیں، جن میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار یا غیر ملکی کارکن شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے 11، کویت نے سات جبکہ عمان، سعودی عرب اور بحرین نے دو،
دو ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔
دبئی میں نشانہ بننے والے آئل ٹینکر کو آگ لگنے سے نقصان
،تصویر کا ذریعہReuters
دبئی میں لنگر انداز ایک آئل ٹینکر
پر مبینہ حملے کے بعد اب اس کی تصاویر سامنے آ گئی ہیں۔
کویتی پرچم بردار آئل ٹینکر السامی 20 لاکھ
بیرل تیل لے کر چین کی جانب جا رہا تھا جب حملے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
دبئی
میڈیا آفس کے مطابق کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی تیل کا اخراج
ہوا۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حملے جاری، متعدد افراد زخمی
خلیجی ممالک میں رات بھر ہونے والے
حملوں کے بعد متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا آفس کے مطابق دبئی میں حملے
روکے جانے کے نتیجے میں جنوبی حصے کے رہائشی مکانات پر ملبہ گرا، جس سے چار
ایشیائی افراد زخمی ہوئے۔
اس سے پہلے صبح دھماکے رپورٹ کیے گئے
اور لوگوں کو پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔
جنرل
ڈائریکٹوریٹ آف سعودی سول ڈیفنس کے مطابق، سعودی عرب کے علاقے الخرج میں ڈرون کے
ٹکڑے گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد گاڑیوں اور تین گھروں کو نقصان پہنچا۔
ٹرمپ کے بیانات تیل کی قیمتوں کو کیسے اوپر نیچے کر رہے ہیں؟, جیما کریئو، ٹومی لیمبیئانڈ اور نیٹلی شرمین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے ایک ماہ بعد
بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کس بنیاد پر جنگ سے متعلق فیصلے کر رہے
ہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ اُن کی نظر تیل کی منڈی پر ضرور ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد ابتدائی دنوں میں امریکی صدر کے
ایک بیان یا سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑی تبدیلی آتی تھی کیونکہ سرمایہ
کار اُن کی سوشل میڈیا پوسٹس سے اس بات کے اشارے تلاش کرتے تھے کہ آیا مستقبل قریب
میں تنازع بڑھ سکتا ہے یا ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں سرمایہ کاروں نے اُن
کے بیانات کی ساکھ پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کرنا شروع کر دیے ہیں۔
28 فروری
(ایران پر حملے کا دن) سے پہلے تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔ نو مارچ کو
یہ قیمت 119.50 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی اور منگل (آج) کے روز یہ 113 ڈالر سے کچھ کم ہے۔
گذشتہ ایک ماہ کے دوران ٹرمپ اور تیل کی عالمی منڈی
کے درمیان کئی مواقع پر ردعمل دیکھنے کو ملا:
9
مارچ: ٹرمپ نے امید دلائی کہ جنگ طویل نہیں
ہو گی، چنانچہ ان کے اس بیان کے بعد تیل کی قیمت90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا
13-16
مارچ: ٹرمپ کے ایران سے متعلق متعلق بیانات کا کوئی فوری اثر نہیں ہوا
20
مارچ: ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اشارہ دیا کہ
جنگ اختتام کے قریب ہے
23
مارچ: ٹرمپ کے مثبت دعووں کے چند منٹ بعد ہی
تیل کی قیمت 13 فیصد گر گئی
25-27
مارچ: امن مذاکرات مشکوک ہونے پر تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر انرجی کی قیمتیں وسیع تر جغرافیائی اور معاشی خطرات کی علامت بن گئی ہیں۔ کوئلٹر شیویٹ کے انویسٹمنٹ مینیجر جوناتھن ریمونڈ کہتے ہیں کہ جب ٹرمپ کی زبان جارحانہ ہوتی ہے تو قیمتیں بڑھتی ہیں اور جب وہ نرم لہجہ اختیار کرتے ہیں تو قیمتیں کم ہو جاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار حقیقی غیر یقینی صورتحال کو قیمت میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’مارکیٹ بظاہر غیر مستحکم یا الجھی ہوئی لگتی ہے، لیکن اصل میں وہ حقیقی وقت میں خطرات کو سنبھال رہی ہے، اور تیل اس کے مرکز میں ہے۔‘
بہنسن گروپ کے برائن سزیٹل کے مطابق بعض اوقات ٹرمپ کے بیانات پالیسی کے بجائے تیل کی قیمتوں کو متاثر کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ’جیسا کہ کہا جاتا ہے، جنگ کا پہلا شکار سچائی ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ مذاکرات کے بارے میں مثبت یا منفی بیانات زیادہ تر تیل کی قیمت کو اوپر نیچے کرنے کے لیے ہیں۔‘
جمعرات کو، جب امریکی سٹاک مارکیٹ نے ایران جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی گراوٹ دیکھی، تو ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’بہت اچھے‘ جا رہے ہیں اور انھوں نے ایران کی توانائی کے ڈھانچے پر حملے چھ اپریل تک مؤخر کر دیے ہیں۔ لیکن اس اعلان کے باوجود تیل کی قیمت پھر بھی بڑھتی رہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریبو بینک کی جین فولی کے مطابق جنگ کے طوالت کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کا ردعمل ’زیادہ محتاط‘ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ٹرمپ کی یقین دہانیوں اور ایران کی خاموشی کے درمیان ’بڑا خلا‘ موجود ہے۔ ’بہت سے سرمایہ کار تنازع کے جلد خاتمے کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں اور مارکیٹ اور سرمایہ کار بدستور پریشان ہے۔‘
اے جے بیل کے رس مولڈ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ ٹرمپ کے اس رویے کی عادی ہو گئی ہے کہ وہ سیاسی یا معاشی دباؤ کے وقت اکثر اپنی حکمتِ عملی بدل لیتے ہیں۔ ’اب شکوک و شبہات، بلکہ کھلی بدگمانی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔‘
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے: سابق امریکی نیول کمانڈر
سابق امریکی نیول کمانڈر ٹام شارپ کا کہنا ہے کہ وہ
نہیں سمجھتے کہ آبنائے ہرمز، جو دنیا کے سب سے مصروف آبی گُزر گاہ ہے کو طاقت کے
ذریعے کھولا جا سکتا ہے جیسا کہ امریکہ دھمکی دے رہا ہے۔
شارپ نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ’ٹوڈے‘ سے
بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب تک ایران ان کشتیوں پر حملے بند کرنے پر رضامند نہیں
ہوتا جو اس راستے سے گزر رہی ہیں، طاقت استعمال کرنا ’ممکنہ طور پر کامیاب‘ ثابت نہیں
ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے پاس اس صورتحال کا
کنٹرول ہے یہ بات واضح ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ آگے بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے
اور یہ ان کے مفاد میں نہیں کہ وہ اسے سے پیچھے ہٹ جائیں۔‘
شارپ نے یہ بھی کہا کہ سب کچھ ایران پر منحصر ہے کہ
وہ اگلے چند ہفتوں یا مہینوں میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کی زیر صدارت ’جنگ کے معاشی اثرات‘ پر ہنگامی اجلاس آج ہوگا
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر آج مشرقِ وسطیٰ کی
جنگ کے معاشی اثرات پر غور کے حوالے سے کوبرا اجلاس کی صدارت کریں۔
وزیرِاعظم نے پیر کے روز کہا کہ اس اجلاس میں ’اس
بات کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے گی کہ جو کچھ بھی ضروری ہے وہ اپنی جگہ موجود
ہو اور ہر چیز کی مناسب نگرانی اور جانچ پڑتال ہو۔‘
یہ اجلاس اس ملاقات کے بعد ہو رہا ہے جس میں انھوں
نے گزشتہ روز ڈاؤننگ سٹریٹ میں توانائی، شپنگ اور بینکاری کے شعبوں کے سربراہان سے
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی جاری ناکہ بندی پر بات چیت کی۔
سٹارمر نے کاروباری رہنماؤں سے کہا کہ جنگ کے اثرات
سے نمٹنے کے لیے یہ ایک ’مشترکہ کوشش‘ ہونی چاہیے، کیونکہ حکومت ’اکیلے یہ کام
نہیں کر سکتی۔‘
کوبرا ایک ایسا فورم ہے جہاں سینئر برطانوی وزراء
اور حکام دارالحکومت میں جمع ہو کر کسی بحران کے دوران ہنگامی اقدامات اور فیصلے
کرتے ہیں۔
صحافیوں کو اس اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں ہوتی،
تاہم جیسے ہی اس اجلاس کے حوالے سے معلامات میسر ہوں گی بی بی سی اپنے سامعین اور
قارعین تک انھیں لے کر آئے گا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامدادی کارکن 31 مارچ 2026 کو اسرائیل کے شہر پتاح تکوا میں ایک ایرانی میزائل حملے کے باعث تباہ ہونے والی گاڑیوں اور عمارتوں کے قریب امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنتہران میں امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد تباہ شدہ عمارت کے مناظر
دبئی میں نشانہ بننے والا کویتی آئل ٹینکر 20 لاکھ بیرل تیل چین لے جا رہا تھا, جوشوا چیتھم، بی بی سی ویریفائی
میری ٹائم انٹیلیجنس کمپنی وینگارڈ کے مطابق رات کے
دوران کویت کے پرچم بردار ٹینکر ’السلمی‘ کو متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک
’نامعلوم پروجیکٹائل‘ نے نشانہ بنایا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ جہاز میں لگی آگ پر قابو پا
لیا گیا ہے، تمام عملہ محفوظ ہے اور جہاز سے تیل کے رساؤ کی بھی اطلاعات نہیں ہیں۔
دبئی حکام نے بھی ان تفصیلات کی تصدیق کی ہے تاہم
روایت کے مطابق انھوں نے جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا۔
سنہ2011 میں تیار ہونے والا ’السلمی‘ سرکاری ملکیت والی کویت آئل ٹینکر کمپنی
کی ملکیت میں ہے۔ اس حوالے سے کمپنی سے رابطہ بھی کیا گیا ہے۔
ایک اور میری ٹائم انٹیلیجنس فرم ’ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ
کام‘ کے مطابق جہاز پر تقریباً 12 لاکھ بیرل سعودی خام تیل اور آٹھ لاکھ بیرل
کویتی خام تیل موجود ہے اور گزشتہ ماہ اس پر یہ تیل لادا گیا تھا۔
میرین ٹریفک کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق یہ ٹینکر چین
کے شہر چنگ ڈاؤ کی جانب جا رہا تھا جس وقت اس پر حملہ ہوا۔
،تصویر کا ذریعہMarineTraffic
اسرائیلی فوج کا لبنان کے علاقے بقاع میں کئی دیہات خالی کرنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج نے آج صبح جنوبی لبنان کے اُن دیہات
کے رہائشیوں کو ایک نیا انتباہ جاری کیا جو دریائے الزہرانی کے جنوب میں واقع ہیں
اور انھیں دریا کے شمالی علاقوں کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج کے ترجمان آویخائے ادرعی
مارچ کے وسط میں بھی اسی نوعیت کے انتباہ جاری کر چکے ہیں۔
دریائے لیتانی اور الزہرانی کے درمیان علاقوں کو
خالی کرنے کے حکم کے بعد، میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک جنوبی لبنان کے کم از کم 10
فیصد رقبے کو خالی کرنے کے لیے کہا جا چکا ہے۔
اسرائیلی فوج نے رات کے وقت بقاع الغربی کے مزید چھ
دیہات زلایا، لبایا، یحمر، سحمر، قلایا اور دلافی کو خالی کرنے کی وارنگ بھی جاری کی،
جس کے باعث ان دیہات کے مکین بارش میں رات کے وقت نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, دبئی میں دھماکوں کی آوازیں، شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی کی دبئی میں موجود نامہ نگار لورنا گورڈن
کے مطابق گزشتہ چند منٹوں میں دبئی میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ دبئی میں حکام کا کہنا ہے کہ ان
کا فضائی دفاعی نظام اس وقت میزائل حملوں کا جواب دے رہا ہے۔
نامہ نگار لورنا گورڈن نے کہا کہ حملے کے آغاز پر
ہمیں اور دبئی میں موجود تمام افراد کو فونز پر سرکاری الرٹس موصول ہوئے، جن میں
ہدایت دی گئی کہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور وہیں رہیں۔
یہ الرٹس جو دیگر خلیجی ممالک میں بھی بھیجے جاتے
ہیں عموماً دن کے مقابلے میں رات کے وقت زیادہ آتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے حکام
کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا جاتا ہے۔
بریکنگ, متحدہ عرب امارات پر ایران کے حملے جاری ہیں: وزارتِ دفاع
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اس وقت متحدہ عرب امارات پر میزائلوں اور ڈرونز کے
ذریعے حملے کر رہا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں
سنائی دینے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل بیلسٹک، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو
روکنے یعنی انٹرسیپٹ کرنے کے حوالے سے کی جانے والی کارروائیوں کی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے متعلق گزشتہ شب سے اب تک کی وہ چار اہم باتیں جو جاننا ضروری ہیں
،تصویر کا ذریعہReuters
جنگ کب ختم ہوگی؟
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ
ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ ’یقیناً نصف مرحلے سے آگے‘ بڑھ چکی ہے، تاہم بعد
میں انھوں نے وضاحت کی کہ یہ وقت کے بجائے کارروائیوں کے لحاظ سے ہے۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اس جنگ میں ایران کے
پاسدارانِ انقلاب کے ’ہزاروں‘ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور ان کا ملک اور امریکہ ’ایرانی
اسلحے کی صنعت کے خاتمے کے قریب‘ ہیں یعنی وہ اب اس کے ساتھ ایران کے جوہری
پروگرام کو بھی ختم کرنے کے قریب ہیں۔
خطے بھر میں حملے جاری
اسرائیلی فوج کے مطابق تہران پر حملوں کی ایک نئی
لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے، اسرائیلی انتظامیہ کا یہ بیان ایران کی جانب سے
اسرائیل پر میزائل داغے جانے کی اطلاعات کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب خلیجی مُمالک میں بھی ایران کے حملے
جاری ہیں، جن میں دبئی بھی شامل ہے جہاں حکام کے مطابق ایرانی ڈرون حملے کے بعد
ایک آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی تھی جسی پر طویل کوشش کے بعد قابو پا لیا گیا۔
آبنائے ہرمز
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی ایک پارلیمانی
کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے کی
منظوری دے دی ہے۔منصوبے کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں سمیت وہ
ممالک بھی اس راستے سے نہیں گزر سکیں گے جنھوں نے ایران کے خلاف پابندیوں میں حصہ
لیا۔
ٹرمپ کا مؤقف
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے
معاونین کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی مہم ختم کرنے کے لیے تیار ہیں، چاہے
آبنائے ہرمز بند ہی کیوں نہ رہے۔اس پر وائٹ ہاؤس نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
کے بیان کا حوالہ دیا جن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو ’کسی نہ کسی طرح دوبارہ
کھول دیا جائے گا۔‘
ایرانی میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
،ویڈیو کیپشنایرانی میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کے آغاز کے بعد سے خلیجی ممالک ایران کی جانب سے اپنے ملک میں موجود امریکی اہداف پر داغے جانے والے میزائل اور ڈرون روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ دفاعی نظام کیسے کام کرتا ہے، جانیے اس ویڈیو میں
اسرائیل کا تہران پر نئے حملے شروع کرنے کا اعلان
اسرائیلی دفاعی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک
حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ایران کے دارالحکومت تہران میں حملوں کی
ایک نئی لہر کا آغاز کر دیا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق ان حملوں کا ہدف ’ایران
کی دہشت گرد حکومت اور نظام کو نشانہ بنانا ہے۔‘
آبنائے ہرمز کو زیادہ دیر بند نہیں رکھا جا سکتا اور اسے کسی نہ کسی طرح کھلوا ہی لیا جائے گا: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی
مہم ختم کرنے کے لیے تیار ہیں چاہے آبنائے ہرمز زیادہ وقت کے لیے بند ہی کیوں نہ
رہے۔
اب وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو
روبیو کے الجزیرہ کو دیے جانے والے ایک بیان پر ردِ عمل سامنے آیا ہے کہ جس میں روبینو
نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’کسی نہ کسی طرح دوبارہ کھول ہی دیا جائے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ جب امریکہ اپنے مقاصد حاصل کر
لے گا اور اگر ایران اب بھی آبنائے ہرمز کو بند رکھتا ہے ’تو اسے حقیقی نتائج کا
سامنا کرنا پڑے گا، نہ صرف امریکہ کی طرف سے بلکہ خطے کے دیگر ممالک اور دنیا کی
جانب سے بھی۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے
ایک رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو بتایا
ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی مہم ختم کرنے کے لیے تیار ہیں چاہے آبنائے ہرمز بند
ہی کیوں نہ رہے۔
رپورٹ میں انتظامیہ کے اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے
یہ بھی کہا گیا کہ صدر اور ان کے معاونین نے اندازہ لگایا کہ اس اہم بحری گزرگاہ
کو زبردستی کھولنے کی کوشش جنگ کو ان کے طے شدہ چار سے چھ ہفتے کے شیڈول سے آگے
بڑھا دے گی۔
اس کے بجائے وہ موجودہ لڑائی کو ختم کرنے پر غور کر
رہے ہیں جس میں ایران کی نیوی اور میزائل ذخائر کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ایران
پر سفارتی دباؤ جاری رکھیں گے تاکہ تجارتی سرگرمیوں کا دوبارہ سے آغاز ہو سکے۔
ہیگسیٹھ کے بروکر نے جنگ سے قبل ’بڑی سرمایہ کاری‘ کی کوشش نہیں کی: پینٹاگون کی تردید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پینٹاگون کے ایک ترجمان نے فنانشل ٹائمز میں شائع
رپورٹ کی سختی سے تردید کی کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے ’بروکر‘ نے ایران کی
جنگ سے چند ہفتے قبل فوجی کمپنیوں یا دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں میں ’بڑی
سرمایہ کاری‘ کرنے کی کوشش کی۔
پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنل نے کہا کہ ’نہ ہی
سیکریٹری ہیگسیٹھ اور نہ ہی ان کے کسی نمائندے نے بلیک راک سے کسی ایسی سرمایہ
کاری کے بارے میں رابطہ کیا۔‘
شان پارنل نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ
ایک اور بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ الزام ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے۔‘
انھوں نے اپنی اسی پوسٹ میں فوری طور پر دعووں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ پیر کو شائع ہوئی تھی کہ جس
میں نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیا گیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی وزیر
دفاع پیٹ ہیگسیٹھ جنگی حالات اور ماحول میں ایک مرکزی شخصیت رہے ہیں اور ایران پر
حملے کی حمایت میں اکثر پریس بریفنگ کی قیادت کرتے رہے ہیں۔
کویت کے آئل ٹینکر پر حملے کے بعد بندرگاہ پر تیل کا رساؤ نہیں ہوا: دبئی حکام
دبئی کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایرانی
ڈرون حملے کے بعد جس آئل ٹینکر کو آگ لگی اُس سے تیل سمندر میں تیل کا رساؤ نہیں ہوا۔
جیسا کہ ہم نے آپ تک اس سے پہلے یہ خبر پہنچائی تھی
کہ تیل بردار بحری جہاز ’السلْمی‘ میں دو ملین بیرل تیل بھرا ہوا تھا اور یہ چین
کی جانب جا رہا تھا کہ جب اسے ایران کی جانب سے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جس
کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
دبئی میڈیا آفس نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ امدادی
کارروائیوں کے دوران ٹینکر پر لگی آگ پر قابو پا لیا گیا اور اس جہاز سے نہ تو تیل
کا رساؤ ہوا اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا۔
اتحادیوں کی جانب سے روس کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کو کم کرنے کا پیغام ملا ہے: زیلنسکی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کو کہا کہ
یوکرائن کے کچھ اتحادیوں نے کئیو کو ’اشارے‘ بھیجے ہیں کہ عالمی توانائی کی قیمتوں
میں تیزی سے اضافے کے پیشِ نظر روس کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کو محدود کیا جائے۔
واٹس ایپ کے ذریعے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے
زیلنسکی نے کہا کہ ’یوکرائن ان اشاروں پر عمل کرنے کو تیار ہے اگر روس کی جانب سے
بھی اسی طرح کی حکمتِ عملی اپنانے کا بیان سامنے آتا ہے تو۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ ’حال ہی میں خاص طور پر اس
شدید عالمی توانائی کے بحران کے بعد ہمیں کچھ شراکت داروں کی طرف سے پہلے ہی اشارے
موصول ہوئے ہیں کہ روس کے تیل اور توانائی کے شعبے پر ہمارے ردعمل کو کس طرح کم
کیا جا سکتا ہے۔‘
امریکہ اسرائیل جنگ نے ایران کے خلاف بین الاقوامی
تیل، گیس اور ریفائن شدہ مصنوعات کی فراہمی کو کم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں
تاریخی طور پر توانائی کی فراہمی میں بدترین بحران کے دوران قیمتیں تیزی سے بڑھ
گئی ہیں۔
جنوبی لبنان میں ایک کارروائی کے دوران چار اسرائیلی فوجی ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی دفاعی افواج نے پیر کے روز جاری ایک بیان
میں کہا ہے کہ چار اسرائیلی فوجی لبنان میں ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بیان
آئی ڈی ایف کی جانب سے ٹیلیگرام پر شائع کیا گیا۔
بیان کے مطابق 22 سالہ کیپٹن نوم مادمونی، سٹاف
سارجنٹ 21 سالہ بن کوہن اور سٹاف سارجنٹ 22 سالہ میکسم اینٹس جنوبی لبنان میں
لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی انتظامیہ کے مطابق دو افراد کو ہسپتال
منتقل کیا گیا جن میں سے ایک فوجی کو ’شدید زخمی حالت جبکہ دوسرے کو قدرِ کم زخم
آئے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے مزید کہا کہ اسی واقعے میں
ایک اور فوجی اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں تاہم تصدیق کا عمل جاری ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دھماکوں کی اطلاعات کے بعد تہران کے کچھ علاقوں میں بجلی بحال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی میڈیا کے مطابق منگل کی صبح تہران کے کچھ
حصوں میں دھماکوں کے بعد بجلی منقطع ہو گئی تھی۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بتایا کہ زیادہ تر
علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے، جو ایک سب سٹیشن پر گرنے والے شراپنیلزکے باعث متاثر
ہوئی تھی۔
یہ اطلاع ایسے وقت میں آئی ہے جب خبر رساں ادارے اے
ایف پی کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں
سنی گئیں۔
لبنان پر اسرائیلی حملوں کی چند تازہ تصاویر
گزشتہ شب اسرائیل نے جنوبی لبنان پر نئے حملے کیے
جس سے ہنوئیہ کے گاؤں اور بیروت میں عمارتیں متاثر اور تباہ ہو گئیں۔