ایران جنگ کے باعث انڈیا میں کنڈوم کی قلت اور قیمتیں بڑھنے کے خدشات کیوں زور پکڑ رہے ہیں؟

    • مصنف, عمران قریشی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ایران جنگ کی وجہ سے جہاں انڈیا میں تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تو وہیں مختلف اشیائے ضروریہ سمیت کنڈوم کی مارکیٹس کو فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

کنڈوم کی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس کی تیاری کے لیے درکار امونیا اور سلیکون تیل سمیت کنڈوم کی تیاری میں استعمال ہونے والے دیگر اشیا کی ترسیل میں خلل کی وجہ سے کنڈوم کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

انڈسٹری ذرائع کے مطابق انڈیا میں کنڈوم کی صنعت کی مجموعی مالیت 80 ارب روپے ہے اور اس صنعت سے وابستہ افراد اب یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ امونیا کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے جو سلیکون آئل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا موجب بنے گا۔

اس صنعت سے وابستہ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ جنگی صورتحال کے باعث کنڈوم کی صنعت کو کوئی مسئلہ ہو گا۔‘

تاہم اسے شعبے سے منسلک افراد کے مطابق خام مال کی قیمتوں کی وجہ سے کنڈوم کی قیمت میں اضافہ ہی اس سارے معاملے کا تشویشناک پہلو نہیں ہے۔

اس صنعت میں اس مسئلے کے مستقبل کے اثرات بشمول آبادی، صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور ایڈز کنٹرول پروگرام سے وابستہ افراد کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔

پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پونم متریجا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مانع حمل تک رسائی کے بڑے ذریعے کو مضبوط بنانا بہت ضروری ہے۔ اس لیے مارکیٹس میں کنڈوم کی کمی یا اُن کی قیمتوں میں اضافہ بھی حمل ٹھہرنے کے کیسز میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔‘

ایچ ایل ایل لائف کیئر لمیٹڈ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پیویسی فوائل، ایلومینیم فوائل، پولی کیمیکلز اور پیکیجنگ میٹریل جیسی اہم اشیا کی سپلائی میں رکاوٹ اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ لاجسٹکس میں رکاوٹوں کی وجہ سے آئندہ آنے والے دنوں میں کنڈوم کی پیداوار اور آرڈرز متاثر ہو سکتے ہیں۔‘

ایچ ایل ایل لائف کیئر ایک پبلک سیکٹر کمپنی ہے، جسے 60 سال قبل مرکزی حکومت نے ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام میں مدد کے لیے قائم کیا تھا۔

کیرالہ میں ربر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے اور حالیہ برسوں کے دوران ایچ ایل ایل نے سات مختلف مقامات پر ربر کی پراسسنگ کے اپنے یونٹس قائم کیے ہیں۔

اب یہ ملک میں خواتین کی صحت کو بہتر بنانے کے بنیادی مقصد کے ساتھ کنڈوم، ہسپتال کی مصنوعات اور ادویات تیار کرتا ہے۔

پبلک سیکٹر کی یہ کمپنی سالانہ تقریباً دو ارب کنڈوم تیار کرتی ہے، جو ملک میں کنڈوم کی کل پیداوار کا تقریباً 50 فیصد ہے۔

سنہ 2026-2025 کے دوران ایچ ایل ایل نے فیملی پلاننگ پروگرام اور نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے لیے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کے مفت کنڈوم فراہم کیے ہیں۔ یہ اپنی مصنوعات 87 ممالک کو برآمد کرتا ہے۔

کنڈوم کی قیمتیں کیوں بڑھ سکتی ہیں؟

اس صنعت سے وابستہ افراد نے بتایا کہ عالمی شپنگ کنٹینرز کی کمی کے باعث خام مال تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔ سمندر کے راستے تجارت کے اوقات اور ڈیلیوری کے ٹائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اُن کے بقول سمندری راستے ’کیپ آف گڈ ہوپ‘ کے ذریعے خام مال کی ترسیل میں 15 سے 20 دن لگ رہے ہیں۔ مشرق وسطی میں فضائی حدود کی پابندیوں کے باعث بھی کارگو کی گنجائش اور ترسیل کم ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تیار شدہ سامان کی کھیپ کا ایک بیک لاگ موجود ہے۔

صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’اس وقت خام مال کی سپلائی میں کمی کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ سب سے پہلے ان پٹ میٹریل کا معاملہ ہے۔ ان پٹ کی قیمت، پھر پروڈکٹ کی قیمت اور پھر تقسیم میں رکاوٹ۔ ظاہر ہے کہ اس کا اثر رسد پر پڑے گا۔‘

مہاراشٹرا کے مالیگاؤں میں کنڈوم بنانے والی کمپنی ’کیوپڈ لمیٹڈ‘ کو بھی اس نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔

’کیوپڈ لمیٹڈ‘ کی سینیئر جنرل مینیجر آر بابو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سلیکون آئل اور ایلومینیم فوائل کی قیمتیں قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ اس دوران لیٹیکس کی قیمتیں بھی عام طور پر بڑھ رہی ہیں۔ اس لیے کنڈوم کی پیداواری لاگت متاثر ہو سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم بڑھتی ہوئی قیمتوں کو دکانداروں تک منتقل نہیں کر سکتے، لہذا یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘

آر بابو نے کہا کہ ’ہم اپنی کل پیداوار کا 80 فیصد، خاص طور پر روس، جنوبی افریقہ، یورپ اور برازیل کو برآمد کرتے ہیں۔ ہمیں ان جگہوں تک سامان پہنچانے کے لیے جہاز رانی کے حصول میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔‘

کنڈوم کی صنعت پر اثرات کتنے سنگین ہیں؟

خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے میں کنڈوم کی قیمتوں میں اضافے یا ان کی پیداوار میں کمی پر تشویش پائی جاتی ہے۔

پونم متریجا کہتی ہیں کہ ’انڈیا کو مانع حمل طریقوں سے متعلق آگاہی دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے یا کنڈوم کی قلت ہوتی ہے تو پھر اس کے استعمال میں کمی آئے گی جس سے لامحالہ خاندانی منصوبہ بندی کے منصوبوں کو نقصان پہنچے گا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ نہ صرف اضافی حمل ٹھہرنے کے خطرات کو بڑھاتا ہے، بلکہ خواتین پر حمل کے غیر مساوی بوجھ کو بھی بڑھاتا ہے، جسے انڈیا گذشتہ کئی دہائیوں سے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

واضح رہے کہ انڈیا میں کنڈوم کا استعمال ’بہت کم‘ ہے اور حالیہ عرصے میں خاندانی منصوبہ بندی کے تحت اسے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

پونم کہتی ہیں کہ ’نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق فی الحال صرف نو فیصد شادی شدہ جوڑے کنڈوم کو خاندانی منصوبہ بندی کا اپنا بنیادی طریقہ سمجھتے ہیں۔ یہ کنڈوم کی اہمیت اور ان کی توسیع کی کافی گنجائش کو ظاہر کرتا ہے۔‘