آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران جنگ، بیلسٹک میزائل حملے اور ترکی کی حکمت عملی جس کے پیچھے اسرائیلی اثرورسوخ بڑھنے کا خدشہ بھی چھپا ہے
- مصنف, ازرا چیلن
- عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے آغاز سے ہی ترکی نے ایک محتاط رویہ اپنا رکھا ہے۔ ترک حکام نے براہ راست امریکہ یا تہران کو موردالزام ٹھہرائے بغیر تنازع سے جڑے خدشات سے خبردار کیا ہے۔
28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پہلے بیان میں ترک وزارت خارجہ نے تمام پارٹیوں سے کہا کہ ’فوری حملے بند کریں‘ اور ثالثی کی پیشکش کی۔ انقرہ کی جانب سے اب تک یہی پوزیشن برقرار رکھی گئی ہے۔
یکم اپریل کو ترک صدر اردوان نے کہا تھا کہ ’ہماری ترجیح یہ ہے کہ ملک بچا رہے۔ ہم ترکی کو اس آگ سے باہر رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘
سرکاری بیانات اور میڈیا رپورٹس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ انقرہ اسی موقف پر قائم رہے گا اور اگر جنگ جاری رہتی ہے تو اس کے اثرات سے دور رہنے کی کوشش کرے گا۔
انقرہ کا موقف کیا ہے؟
ترک حکام نے ثالثی اور ساتھ ہی ساتھ ملک کو جنگ سے باہر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جب جنگ کے بعد چوتھی بار ایران کی جانب سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کیا گیا تو ترک وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ ’تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔‘
25 مارچ کو اردوان نے کہا کہ ’ہم اس جال میں نہیں پھنسیں گے جس میں کچھ ہمیں پھنسانا چاہتے ہیں۔ ہم اس صورت حال کو احتیاط، دور اندیشی اور اطمینان سے حل کریں گے اور بھائی چارے اور ہمسائیگی کے اصولوں پر کاربند رہیں گے۔‘
ایک اور خطاب میں اردوان نے کہا کہ ’ترکی اپنی پرامن خارجہ پالیسی برقرار رکھے گا۔‘ انقرہ نے ایرانی اور امریکی دونوں سے ہی رابطے رکھے ہیں لیکن ’امن سفارت کاری‘ کے بارے میں، جیسا کہ حکومتی حمایت یافتہ میڈیا کہہ رہا ہے، حکام نے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے 28 مارچ کو کہا تھا کہ ان کا ملک بات چیت جاری رکھے گا تاکہ جنگ کو جلد از جلد ختم کروایا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترک حکومت کے قریب سمجھے جانے والے ممتاز کالم نگار عبدالقادر سلوی نے حریت اخبار میں 30 مارچ کو لکھا کہ ’ترکی نے مشرق وسطیٰ میں ایران اور خلیجی ریاستوں کے بیچ ایک بڑی جنگ کو روکا ہے۔‘ ایران کے حملوں کے بعد انھوں نے خلیجی ریاستوں سے کہا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کریں۔
ترکی کے کیا مفادات داؤ پر لگے ہیں؟
ترکی کی احتیاط کا تعلق اس کے سکیورٹی خدشات کے ساتھ ساتھ ایران اور امریکہ دونوں سے ہی تعلقات قائم رکھنے کی ضرورت سے ہے۔
ترکی اور ایران کی طویل سرحد ملتی ہے اور ترک میڈیا نے سوال کیا ہے کہ جنگ کی وجہ سے کیا تارکین وطن کی بڑی تعداد ترکی کا رخ کر سکتی ہے۔ اب تک یہ تعداد بہت زیادہ بڑی نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے خطے میں اسرائیل کا اثرورسوخ بڑھ سکتا ہے اور ان کے مطابق اس کی وجہ سے اسرائیل ترکی کے ساتھ تنازع شروع کر سکتا ہے۔
اردوان نے ہمیشہ اسرائیل کو تنازع کی مرکزی وجہ قرار دیا ہے اور امریکہ پر براہ راست تنقید سے گریز کیا ہے۔ یکم اپریل کو اردوان نے کہا کہ اسرائیلی حکومت اس غیر قانونی جنگ کی ذمہ دار ہے اور یہ جنگ نیتن یاہو کی سیاسی زندگی بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
ترک حکومت کے قریب سمجھے جانے والے تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل نے ہی امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹا ہے تاہم حالیہ دنوں میں ترک میڈیا میں صدر ٹرمپ پر ہونے والی تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔
انقرہ اور واشنگٹن کے تعلقات بھی تناؤ کا شکار ہیں۔ اردوان اور ٹرمپ کے گرمجوش تعلق کے باوجود ترکی امریکہ کی جانب سے روسی ایس 400 دفاعی سسٹم کی خریداری پر عائد پابندی ہٹوانے کی کوشش کر رہا ہے اور ایف 35 لڑاکا طیارہ خریدنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔
یہ پابندیاں امریکہ کی جانب سے اس لیے لگائی گئی ہیں تاکہ روس سے دفاعی سامان کی خریداری نہ کی جا سکے۔
ترک تجزیہ کار اور عوام کیا کہتے ہیں؟
ترکی میں زیادہ تر تجزیہ کاروں نے حکومت کی پالیسی کی حمایت کی ہے۔ صحافی مراد یتکن نے 29 مارچ کو کہا تھا کہ اردوان حکومت حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دونوں اطراف سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہے اور تنازع سے خود کو الگ رکھے ہوئے ہے۔
انھوں نے اس سے قبل اپنی ویب سائٹ پر ایک تحریر میں لکھا تھا کہ ’ترکی کا مفاد ملک کی بقا میں ہے ناکہ اس تنازع میں شرکت کرنا۔‘
کالم نگار نبی میس نے یکم اپریل کو لکھا کہ ’ترکی کو سٹریٹجک خود مختاری اور سفارت کاری کی جگہ قائم رکھنا ہے۔‘
قدامت پسند اخبار کرار کے کالم نگار منصور اکگن نے لکھا کہ ’خطے کے اندر اور باہر اتحادیوں کا ہونا ترکی کی سکیورٹی کے لیے اہم ہے اور ملک کو ٹرمپ انتظامیہ سمیت مصر اور پاکستان کے ساتھ ساتھ چین اور روس سے بھی تعلقات قائم رکھنے ہوں گے۔‘
ترکی میں عوامی رائے بھی حکومت کی محتاط حکمت عملی کے حق میں ہے۔ میٹروپول نامی ریسرچ فرم کے سربراہ عزیر سنچار نے 28 مارچ کو لکھا کہ 68 فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ ترکی کو نیوٹرل رہنا چاہیے۔
اسی پول میں 22 عشاریہ چھ فیصد لوگوں کی رائے تھی کہ ترکی کو ایران کی حمایت کرنی چاہیے جبکہ ایک عشاریہ دو فیصد کا ماننا تھا کہ ترکی کو امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دینا چاہیے۔