اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس
میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت عدالت نے اڈیالہ جیل کے حکام کو حکم دیا ہے کہ
سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی عمران خان سے بدھ دو بجے ملاقات کروائی جائے۔
تین ماہ سے زیادہ عرصے سے عمران خان سے نہ تو ان کی
بہنوں کی اور نہ ہی ان کے وکلا کی ملاقات کروائی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفرارز ڈوگر کی سربراہی
میں دو رکنی بینچ نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حد تک سزا معطلی سے متعلق اپیل
پر فیصلہ سنانے کی استدعا پر ریمارکس دیے کہ اپیل پر دلائل دینا شروع کریں گے تو سات
یوم میں فیصلہ کر دیں گے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ
نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے ایک سو نوے ملین برطانوی پاؤنڈ میں سزا کے
خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔
نیب سپیشل پراسیکیوٹر اور عمران خان کے وکیل سلمان صفدر
عدالت میں پیش ہوئے۔ سلمان صفدر نے موقف اپنایا کہ 31 مارچ عدالت نے ایک آرڈر پاس کیا
تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی متفرق درخواست کیا ہے؟ انھوں نے کہا کہ عمران
خان سے ملاقات کی متفرق درخواست منظور کر لیتے ہیں، آپ جا کر اپنے موکل سے مل لیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ جیل حکام عمران خان سے سلمان صفدر
کی ملاقات کرائیں۔
عدالت نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ کل
کتنے بجے ملاقات کرنا چاہییں گے؟ تو سلمان صفدر بولے کہ دو بجے کا وقت رکھ دیں عدالت
نے سلمان صفدر کی عمران خان سے کل دو بجے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں سلمان صفدر
کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملاقات کرلیں تو پھر ہر ہفتے دو دن کیلئے اپیل لگا دیں
گئے۔
جس پر سلمان صفدر نے موقف اپنایا کہ عدالت ابھی اپیل
نہ لگائے جیل میں ملاقات کر لوں پھر عدالت کی معاونت کروں گا۔
سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی حد تک سزا معطلی کی درخواستوں
پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی تو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے۔ آپ اپیل پر دلائل
دینا شروع کریں گے تو سات یوم میں اپیل کا فیصلہ کردیں گے۔
نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر نے سوموار کو سماعت مقرر کرنے
کی استدعا کی، تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دیکھ لیں کل بھی اس طرح سننے کو ملا حالانکہ
ہمیں نہیں پتہ ہوتا پیر کو کیا مصروفیت ہوگی مصروفیت دیکھ کرہم تاریخ رکھتے ہیں عدالت
نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔