آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, استنبول میں اسرائیلی قونصلیٹ کے قریب فائرنگ: تین حملہ آور ہلاک، دو پولیس اہلکار زخمی

ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی قونصلیٹ کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، مقامی حکام کے مطابق اس واقعے میں ملوث تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق جب یہ واقعہ پیش آیا اُس وقت قونصلیٹ میں کوئی اسرائیلی سفارتکار موجود نہیں تھے۔

خلاصہ

  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘
  • اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینامن نتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کا سب سے بڑا پیٹروکیمیکل پلانٹ تباہ کر دیا ہے۔
  • ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی جنگ کے 'واضح اور حتمی' خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔
  • جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری، وقفے سے امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہو کر حملے کی ’مہلت‘ مل جائے گی: ایران
  • ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
  • اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر جواب تیار کر لیا: ایران
  • پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق

لائیو کوریج

  1. استنبول میں فائرنگ کے واقعے میں تین افراد ہلاک، دو پولیس اہلکار زخمی: وزیرِ داخلہ

    ترکی کے وزیرِ داخلہ مصطفیٰ چفتجی کا کہنا ہے کہ استنبول میں یاپی کریڈی پلازہ کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں نے مسلح تصادم کے بعد تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ترکی کے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’اس تصادم میں ہمارے دو پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ دہشتگردوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔‘

    ’یہ معلوم کرلیا گیا ہے کہ یہ افراد ازمیت سے استنبول ایک کرائے کی گاڑی میں پہنچے تھے اور ان میں سے ایک کا تعلق ایسی تنظیم سے ہے جو مذہب کا غلط استعمال کرتی ہے۔ ان میں دو بھائی بھی شامل تھے، جن میں سے ایک کا نشے کرنے کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔‘

    اس سے قبل ترکی کے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ استنبول میں اسرائیلی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

  2. استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ میں تین افراد ہلاک: ترک میڈیا

    ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق اس میں تین افراد ہلاک اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    ان ہلاکتوں کی سرکاری طور پر تاحال تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ تاہم ترکی کی وزارتِ انصاف نے قونصل خانے کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آنے کی تصدیق کر دی ہے۔

    خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق ترکی میں اس وقت انقرہ میں واقع اسرائیلی سفارتخانے اور استنبول میں واقع قونصل خانے میں کوئی سفارتکار موجود نہیں ہے۔

  3. ایران کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، عملہ محفوظ رہا: برطانوی میری ٹائم ادارہ

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (ایم ٹی او) کے مطابق ایران کے جزیرۂ کیش کے جنوب میں ایک کارگو جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    جزیرۂ کیش ایران کے جنوبی ساحل کے قریب ہرمزگان صوبے میں واقع ہے۔

    ایم ٹی او کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں جہاز کے ان حصوں کو نقصان پہنچا ہے جو ’پانی کی سطح سے اوپر‘ ہیں، جبکہ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے بعد جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا ہے۔

    حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

  4. 190 ملین پاؤنڈ کیس: عدالت کا عمران خان سے اُن کے وکیل کی ملاقات کروانے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت عدالت نے اڈیالہ جیل کے حکام کو حکم دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی عمران خان سے بدھ دو بجے ملاقات کروائی جائے۔

    تین ماہ سے زیادہ عرصے سے عمران خان سے نہ تو ان کی بہنوں کی اور نہ ہی ان کے وکلا کی ملاقات کروائی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفرارز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حد تک سزا معطلی سے متعلق اپیل پر فیصلہ سنانے کی استدعا پر ریمارکس دیے کہ اپیل پر دلائل دینا شروع کریں گے تو سات یوم میں فیصلہ کر دیں گے۔

    چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے ایک سو نوے ملین برطانوی پاؤنڈ میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔

    نیب سپیشل پراسیکیوٹر اور عمران خان کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ سلمان صفدر نے موقف اپنایا کہ 31 مارچ عدالت نے ایک آرڈر پاس کیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی متفرق درخواست کیا ہے؟ انھوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کی متفرق درخواست منظور کر لیتے ہیں، آپ جا کر اپنے موکل سے مل لیں۔

    عدالت نے حکم دیا کہ جیل حکام عمران خان سے سلمان صفدر کی ملاقات کرائیں۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ کل کتنے بجے ملاقات کرنا چاہییں گے؟ تو سلمان صفدر بولے کہ دو بجے کا وقت رکھ دیں عدالت نے سلمان صفدر کی عمران خان سے کل دو بجے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں سلمان صفدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملاقات کرلیں تو پھر ہر ہفتے دو دن کیلئے اپیل لگا دیں گئے۔

    جس پر سلمان صفدر نے موقف اپنایا کہ عدالت ابھی اپیل نہ لگائے جیل میں ملاقات کر لوں پھر عدالت کی معاونت کروں گا۔

    سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی حد تک سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی تو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے۔ آپ اپیل پر دلائل دینا شروع کریں گے تو سات یوم میں اپیل کا فیصلہ کردیں گے۔

    نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر نے سوموار کو سماعت مقرر کرنے کی استدعا کی، تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دیکھ لیں کل بھی اس طرح سننے کو ملا حالانکہ ہمیں نہیں پتہ ہوتا پیر کو کیا مصروفیت ہوگی مصروفیت دیکھ کرہم تاریخ رکھتے ہیں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

  5. سعودی عرب کے اہم ’کنگ فہد پل‘ کو پانچ گھنٹے کی عارضی بندش کے بعد کھول دیا گیا

    سعودی حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پر سعودی عرب اور بحرین کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ، ’کنگ فہد پل‘ کو عارضی طور پانچ گھنٹے کی بندش کے بعد اب دوبارہ کھل دیا گیا ہے۔

    کنگ فہد کراسنگ کی جنرل اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’احتیاطی اقدام کے تحت کنگ فہد پل پر گاڑیوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کی گئی تھی۔‘

    کنگ فہد پل تقریباً 25 کلومیٹر طویل ہے جو سعودی عرب کو بحرین سے ملاتا ہے۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک مقامی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے رات گئے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں میں الجبیل شہر کے ایک وسیع صنعتی علاقے میں واقع ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اس پُل کو بند کر دیا گیا تھا۔

    یہ حملہ اس کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا جب عسلویہ میں اسی نوعیت کی تنصیبات پر حملہ ہوا تھا۔

    ذرائع کے مطابق سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن کی تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور ’دھماکوں کی آوازیں بہت دور تک سُنی گئیں۔‘

    الجُبیل مشرقی سعودی عرب کا ایک بڑا صنعتی شہر ہے جہاں فولاد، پٹرول، پیٹروکیمیکل مصنوعات، لبریکنٹس اور کیمیائی کھاد تیار کی جاتی ہیں۔

  6. بریکنگ, اسرائیلی فوج کا ایران میں ایک اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملے کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران میں ایک تیسرے پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے۔

    فوج کے مطابق یہ حملہ پیر کے روز ایران کے جنوب مغربی شہر شیراز میں واقع ایک پلانٹ پر کیا گیا۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ یہ تنصیب بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا نائٹرک ایسڈ پیدا کرتی تھی۔

    اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ یہ تیسرا حملہ ہے، جس سے قبل پیر کے ہی روز دو دیگر پیٹروکیمیکل کمپلیکسز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں جنوبی ایران کے شہر عسلویہ میں واقع ساؤتھ پارس پیٹروکیمیکل پلانٹ اور صوبہ فارس میں مروَدشت پیٹروکیمیکل کمپلیکس شامل ہیں۔

  7. ایران پر 13ہزار سے زائد حملے اور 155 بحری جہاز تباہ کیے گئے: امریکہ کا دعویٰ

    جیسے ہی اسرائیل نے ایران میں مزید مقامات پر حملوں کی اطلاع دی ہے امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری سے جاری جنگ کے دوران اس نے ایران میں 13ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    سینٹرل کمانڈ نے اپنی فوجی کارروائی ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے 155 سے زائد ایرانی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا ہے۔

    سینٹرل کمانڈ کے مطابق نشانہ بنائے گئے اہداف میں پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹرز، فضائی دفاعی نظام، بیلسٹک میزائل کے ٹھکانے اور ایرانی بحری جہاز اور آبدوزیں شامل ہیں۔

    دوسری جانب امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک ایران میں 3,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 1,665 عام شہری شامل ہیں۔ ایرانی شہریوں پر اس کے اثرات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ جلد جاری کی جائے گی۔

  8. جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چُکی ہیں: ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چُکی ہیں۔‘

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایکس پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ’جنگ کو روکنے کے لیے نیک نیتی اور ثالثی کے تحت پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں ایک اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چُکی ہیں۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک ثالث کے طور پر کرداد ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ کے حوالے ہم نے ایک خبر آپ تک پہنچائی تھی کہ جس میں ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کو ’مستقل بنیادوں پر ختم کرنے‘ کے مقصد سے پاکستان کو امن تجاویز پیش کی ہیں۔

    ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو بدھ کی صبح تک جواب دینے کی مہلت دی تھی اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے بجلی گھروں اور پُلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

  9. ٹرمپ کے بیانات سے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی تصدیق ہوتی ہے: ایران کا اقوام متحدہ کو خط

    ایران کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے مُلک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی تصدیق ہوتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران کے مخالفین کو ہتھیار فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا، اُن کے اس بیان کں ایران کی جانب سے دسمبر کے احتجاج میں خارجی مداخلت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے خط میں لکھا کہ ’امریکی صدر کا یہ اعتراف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ نے ایران میں پرامن احتجاج کو تشدد، داخلی انتشار اور خونریزی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔‘

    اس خط میں ایران کی جانب سے مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’اس بنیاد پر، امریکہ کو دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے دوران ہونے والے احتجاج میں شہریوں اور غیر سرکاری و سرکاری اداروں کو پہنچنے والے تمام نقصان اور تکلیف کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں ہونے والے احتجاج کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ ایران کی جانب سے سرکاری طور پر حکومت مخالف مظاروں میں بتایا گیا کہ تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کی جانب سے کہا گیا کہ مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 7000 تھی اور اس حوالے سے مزید تحقیقیا جاری ہیں۔

  10. دھمکیاں، چاہے بیانات کی صورت میں ہوں یا عملی اقدامات کی شکل میں قابلِ مذمت ہیں: ریڈ کراس

    جنیوا کنونشنز کی نگران بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ دانستہ دھمکیاں، چاہے وہ بیانات کی صورت میں ہوں یا عملی اقدامات کی شکل میں، قابلِ مذمت ہیں۔ ادارے نے کہا کہ بغیر کسی حد کے لڑی جانے والی جنگیں ناقابلِ دفاع، غیر انسانی اور تباہ کن ہوتی ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں اور حتیٰ کہ ڈی سیلینیشن (پانی صاف کرنے) کے پلانٹس پر حملوں کی بار بار دھمکیاں دی گئی ہیں۔

    آئی سی آر سی کے مطابق زندگی کے لیے ضروری بنیادی تنصیبات، جیسے کہ پانی اور بجلی کی فراہمی کے نظام، کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا جنیوا کنونشنز کے تحت ممنوع ہے۔

  11. اردن اور قطر کی ایرانی ’حملوں‘ کی مذمت، ایک دوسرے کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار

    اردن کے نائب وزیرِ خارجہ ایمن الصفدی اور قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایران کی جانب سے دونوں ممالک اور دیگر برادر عرب ریاستوں پر ’حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔

    دونوں رہنماؤں کی جانب سے ایران کی ان کارروائیوں کے خلاف مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور انھیں دونوں مُمالک کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور ہمسائیوں کے حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی اور ریاستوں کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران خطے میں جاری خطرناک کشیدگی کے اثرات اور اسے ختم کرنے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو فعال بنانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

    دونوں رہنماؤں کے مطابق ’ایسے اصولوں کی بنیاد پر حل تلاش کیا جا سکے جو خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنائیں اور بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کا احترام برقرار رکھیں۔‘

  12. امریکی کانگریس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کی قرارداد پیش کرنے کی تیاری

    ایرانی نژاد امریکی رکنِ کانگریس یاسمین انصاری نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے یعنی امپیچمنٹ کے لیے بل پیش کر رہی ہیں۔

    اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے یاسمین انصاری نے کہا کہ ’جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے، کسی من مانی کرنے والے صدر یا اس کے قریبی حلقے کو نہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ پیٹ ہیگستھ کی لاپرواہی سے امریکی فوجی اہلکاروں کو خطرے میں ڈالنا اور بار بار جنگی جرائم کا ارتکاب، جن میں ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر بمباری اور شہری انفراسٹرکچر کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا شامل ہے، مواخذے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی ہیں۔‘

    ادھر اس خبر کو شائع کرنے والے ادارے ایکسیوس نے پیٹ ہیگستھ کی عوامی مقبولیت میں کمی کی بھی نشاندہی کی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کہ ’ پیٹ ہیگستھ، ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم ہدف بن کر ابھرے ہیں، خاص طور پر ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹن نوم اور اٹارنی جنرل پام بَنڈی کی برطرفیوں کے بعد۔

    سروے ظاہر کرتے ہیں کہ پیٹ ہیگستھ ٹرمپ کابینہ کے کم مقبول ترین اراکین میں شامل ہیں، جبکہ ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ان کی عوام میں مقبولیت میں مزید دباؤ ڈالا ہے۔

  13. اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا ہے کہ احکامات سات اپریل 2026 سے تاحکم ثانی نافذ العمل رہیں گے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پورے ہفتے کاروباری سرگرمیاں رات 8 بجے تک محدود رہیں گی، صرف میڈیکل سٹورز، ہسپتالوں اور لیبارٹریز کو اس بندش سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنز پر پابندی لاگو نہیں ہوگی، تندور، بیکری اور دودھ کی دکانوں کو بھی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ہوٹلز، ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس رات 10 بجے بند ہوں گے جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز پر پابندی عائد نہیں ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق شادی ہالز اور شادی تقریبات رات 10 بجے تک ختم کرنا لازمی ہوگا جبکہ گھروں، فارم ہاؤسز میں بھی شادی تقریبات رات 10 بجے ختم کرنا ہوں گی۔

  14. کیون نہ آبنائے ہرمز سے ٹول ایران کی بجائے امریکہ وصول کرے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے ٹول ایران کے بجائے جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ وصول کر سکتا ہے۔

    پیر کے روز صحافیوں کی جانب سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا وہ ایسے کسی معاہدے کو قبول کریں گے جس میں ایران کو جہازوں سے فیس یا ٹول وصول کرنے کی اجازت ہو، تو اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ٹول ہم کیوں نہ وصول کریں؟ میں یہ زیادہ پسند کروں گا کہ ٹول ہمیں ملے نہ کہ انھیں۔ ہمیں ٹول کیوں نہیں لینا چاہیے؟ ہم اس جنگ میں کامیاب ہوئے ہیں اس لیے ٹول بھی ہم ہی لیں گے۔‘

    تاہم بعد ازاں صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی شرائط میں آبنائے ہرمز کو کھولنا شامل ہونا چاہیے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمیں ایسا معاہدہ چاہیے جو میرے لیے قابل قبول ہو اور اس معاہدے کا ایک حصہ یہ ہوگا کہ ہمیں تیل کی آزادانہ ترسیل چاہیے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرے گا۔

  15. امریکی شرائط پر ایرانی ردعمل: عارضی جنگ بندی مسترد، ’تہران کی تجاویز پاکستان کے حوالے‘

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے پیر کے روز یہ خبر آئی کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کو ’مستقل بنیادوں پر ختم کرنے‘ کے مقصد سے پاکستان کو ایک امن تجاویز پیش کی ہیں۔

    ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو منگل تک جواب دینے کی مہلت دی تھی اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے بجلی گھروں اور پُلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    6 اپریل کو ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی تھی کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، تاہم انھوں نے کہا تھا کہ تہران نے امریکی ’15 نکاتی منصوبہ‘ مسترد کر دیا ہے۔

    ارنا کے مطابق ایران کے دس نکاتی جواب میں جنگ بندی کے خیال کو ’ماضی کے تجربات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مسترد کیا گیا اور اس کے بجائے ایران نے اپنی شرائط پر ایک پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق تہران کی جانب سے سامنے آنے والے مسودے میں میں کئی مطالبات شامل ہیں، جن میں علاقائی تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ پر معاہدہ، تعمیرِ نو اور پابندیوں کا خاتمے جیسی دیگر کئی باتیں شامل ہیں۔

  16. آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے تحفظ کے لیے قرارداد پر ووٹنگ آج ہوگی: اقوام متحدہ

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل آج یعنی منگل کے روز آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق ایک قرارداد پر ووٹنگ کرے گی۔

    واضح رہے کہ یہ عمل مستقل اراکین کے اعتراضات اور روس و چین کی جانب سے ویٹو کے امکان کے باعث کئی بار مؤخر کیا جا چکا ہے۔

    بحرین نے خلیجی ممالک کی حمایت سے دو ہفتے قبل اس قرارداد کے مسودے پر مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد کسی بھی ایسے ملک کو اقوامِ متحدہ کا اختیار دینا ہے جو اس اہم بحری گزرگاہ میں محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے طاقت کے استعمال کا خواہاں ہو، جہاں جنگ کے باعث خلل پیدا ہوا ہے۔

    قرارداد کے تازہ ترین متن میں جہازوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی ہے اور متعلقہ ممالک کو بحری آمد و رفت کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات کرنے سے متعلق اختیار دیے جانے کی بات کی گئی ہے، جس میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ساتھ لے جانا جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    قرارداد میں ایران سے فوری طور پر کسی بھی حملے یا جہاز رانی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ کونسل ایسے عناصر کے خلاف مزید اقدامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے جو اس اہم ترین آبی تجارتی گزرگاہ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    ووٹنگ نیویارک کے وقت کے مطابق صبح 11 بجے (گرین وچ کے مطابق سہ پہر 3 بجے) متوقع ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن کے اختتام سے چند گھنٹے قبل ہوگی۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی جانے والی ڈیڈ لائن یا مہلت میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر گزرگاہ نہ کھولی گئی تو وہ اسے مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔

  17. فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کر رہا ہے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    جیسا کے اب سے کُچھ لمحے قبل ہی ہم نے آپ تک یہ خبر پہنچائی تھی کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر نئے فضائی حملوں کا آغآز کر دیا گیا ہے۔

    اس کے بعد اب اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ دعوے بھی سامنے آرہے ہیں کہ اب سے کُچھ دیر قبل یعنی منگل کی صبح اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پلیٹ فارم پر کہا کہ ’کچھ دیر قبل اسرائیلی فوج نے ایران سے اسرائیلی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائلوں کا پتہ لگایا ہے۔ دفاعی نظام اس خطرے کو ناکام بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

  18. اسرائیلی فوج کا ایران پر نئے فضائی حملوں کے آغاز کا اعلان

    اسرائیلی دفاعی افواج نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے ایران پر فضائی حملوں کی ایک نئی ’لہر‘ کا آغاز کر دیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کی جانب سے یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ جب انھوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز ’کافی حد تک نہ قابلِ قبول‘ ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں مزید کہا کہ ’کچھ دیر قبل (یعنی سوموار اور منگل کی درمیانی شب) اسرائیلی فوج نے فضائی حملوں کی ایک لہر مکمل کی جس کا مقصد تہران اور ایران کے دیگر علاقوں میں ایرانی ’دہشت گرد نظام‘ کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا تھا۔‘

  19. تہران اور قریبی شہر کرج کے مختلف علاقوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سُنی گئیں: ایرانی میڈیا

    ایرانی خبر رساں اداروں ’مہر‘ اور ’فارس‘ کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب دارالحکومت تہران اور اس کے مغرب میں واقع شہر کرج کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    دونوں اداروں نے رپورٹ کیا کہ ’چند لمحے قبل تہران اور کرج کے بعض علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں‘، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع اب تک موصول ہوئی ہے۔

  20. کویت میں رات گئے ہونے والے ایرانی ڈرون حملے میں 15 امریکی زخمی

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ایک ڈرون حملے میں کویت کے علی السالم ایئر بیس پر 15 امریکی زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر افراد دوبارہ کام پر واپس آ چکے ہیں۔

    سی بی ایس کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 373 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 330 دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ گئے ہیں جبکہ پانچ اب بھی شدید زخمی حالت میں ہیں۔