لائیو, اسرائیل نے ایران کا سب سے بڑا پیٹروکیمیکل پلانٹ تباہ کر دیا: نتن یاہو کا دعویٰ

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینامن نتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کا سب سے بڑا پیٹروکیمیکل پلانٹ تباہ کر دیا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘

خلاصہ

  • جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری، وقفے سے امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہو کر حملے کی ’مہلت‘ مل جائے گی: ایران
  • ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
  • ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ایران کی اہم پیٹروکیمیکل تنصیب پر اسرائیل کا حملہ
  • اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر جواب تیار کر لیا: ایران
  • پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق

لائیو کوریج

  1. قطری وزیر اعطم کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی مذمت

    قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ فون کال کے دوران کسی بھی فریق کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے اس گفتگو میں جاری کشیدگی اور اس کے خطے پر پڑنے والے اثرات پر تبادلۂ خیال کیا۔

    فون کال کے دوران، قطری وزیر اعظم نے مبینہ طور پر قطر اور دیگر پڑوسی ممالک پر ایرانی حملوں پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا، خصوصاً ان ممالک پر جو ’جنگ سے خود کو الگ رکھے ہوئے ہیں۔‘

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، ’انھوں اس بات پر بھی زور دیا کہ شہری انفراسٹرکچر اور عوامی وسائل کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے‘ اور انھوں نے ہر حالت اور ہر فریق کی جانب سے ایسے رویے کی مذمت کی۔

  2. اسرائیل نے ایران کا سب سے بڑا پیٹروکیمیکل پلانٹ تباہ کر دیا: نتن یاہو کا دعویٰ

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینامن نتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کا سب سے بڑا پیٹروکیمیکل پلانٹ تباہ کر دیا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے، ’ہم منظم انداز میں آئی آر جی سی (پاسدارانِ انقلاب) کی مالی مشین کو ختم کر رہے ہیں۔‘

    ایک علیحدہ بیان میں اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے دو سب سے بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکسز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایران کی پیٹروکیمیکل برآمدات کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ ناکارہ ہو گیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق اسالوئے میں واقع ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا، جہاں مبینہ طور پر ’ایرانی حکومت کی میزائل انڈسٹری کے لیے ضروری پرزہ جات‘ تیار کیے جاتے تھے۔

    اس سے قبل اپنی بریفنگ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ ان کی اتوار کے روز نتن یاہو سے بات ہوئی تھی۔

  3. اگر جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ’ایران کے ہر پل کو تباہ کر دیا جائے گا‘: ٹرمپ

    ایک رپورٹر نے ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر کی گئی پوسٹ کے بارے میں سوال کیا، جس میں انھوں نے ایرانیوں کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

    صدر نے کہا کہ انھیں ان ناقدین کی کوئی پروا نہیں جو اس پوسٹ کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت پر سوال اٹھا رہے ہیں، اور کہا کہ ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے امریکہ کو کئی سالوں تک لوٹا جاتا رہا۔

    انھوں نے کل شام ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اپنے وعدے کو دہرایا اور کہا کہ وہ آدھی رات تک ملک کے پل تباہ کر دیں گے۔انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آدھی رات کس ٹائم زون کے مطابق ہوگی، تاہم اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر کی گئی ایک پوسٹ میں صدر نے کہا تھا کہ پلوں اور بجلی گھروں پر حملے امریکی وقت کے مطابق منگل کی شام 8 بجے شروع ہوں گے۔

    انھوں نے کہا، ’کل رات بارہ بجے تک ایران کا ہر پل تباہ کر دیا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد ایران اپنے ملک کی دوبارہ تعمیر صرف امریکہ کی مدد سے ہی کر سکے گا۔

    انھوں نے کہا، ’ممکن ہے ہم ان کے ملک کی تعمیرِ نو میں بھی شامل ہوں‘، اور مزید کہا کہ ایسی صورت میں امریکہ یہ پسند کرے گا کہ اہم انفراسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچے۔

    ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو پر اس تنازع میں شامل نہ ہونے پر تنقید کی اور آسٹریلیا اور جاپان جیسے دیگر ممالک کا بھی نام لیا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے کچھ ممالک نے مدد کی ہے۔

    ڈیڑھ گھنٹے بعد یہ نیوز کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔

  4. ٹرمپ کی ایران کو ’پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے‘ کی دھمکی

    امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے دی گئی 10 دن کی مہلت آج ختم ہونی تھی، لیکن انھوں نے ایسٹر کے موقعے پر ’اچھا انسان بننے‘ کے لیے اسے کل تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ جب کل کی مہلت ختم ہو جائے گی تو ’ان کے پاس کوئی پُل نہیں ہوں گے، ان کے پاس کوئی بجلی گھر نہیں ہوں گے۔ پتھر کا زمانہ، ہاں‘۔

    انھوں نے یہ بات ایران کو ’پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے‘ کی اپنی سابقہ دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت مذاکرات میں امریکہ کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایرانی حکام آپس میں بات چیت نہیں کر پا رہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ نیٹو ممالک سے بہت مایوس ہیں کیونکہ اتحادیوں نے ایران سے متعلق مشن میں شامل ہونے کی ان کی درخواست مسترد کر دی۔

    انھوں نے کہا کہ وہ سب سے زیادہ برطانیہ سے مایوس ہیں۔

    اس کے بعد ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر غور کریں گے اگر تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ وہ ترجیح دیں گے کہ امریکہ خود جہازوں سے ٹول وصول کرے، اور کہا ’ہم جیتنے والے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا، ’ہم جیت چکے ہیں۔ وہ عسکری طور پر شکست کھا چکے ہیں۔۔۔ ہمارے پاس ایک منصوبہ ہے جس کے تحت ہم ٹول وصول کریں گے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ان کی 48 گھنٹے کی مہلت پوری کرنے کے لیے جو منگل کی شام 8 بجے ختم ہونی ہے ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جو ’مجھے قابل قبول ہو‘، اور مزید کہا کہ ’اس معاہدے کا ایک حصہ یہ ہوگا کہ ہم تیل کی آزادانہ نقل و حرکت چاہتے ہیں۔‘

  5. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی جنگ کے ’واضح اور حتمی‘ خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔
    • ایران نے کہا ہے کہ جنگ بندی امریکہ اور اسرائیل کو صرف ’تھوڑی سی مہلت دے گی تاکہ وہ دوبارہ منظم ہو کر نئے جرائم کر سکیں۔ اس سے قبل ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی تجویز پر 10 نکاتی جواب جمع کرایا تھا، جس میں مجوزہ جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری ہے۔
    • اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے سالانہ بچوں کے ایسٹر ایونٹ میں خطاب کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی نئی قیادت، جنگ کے آغاز سے اب تک مارے جانے والے پچھلے رہنماؤں کے مقابلے میں کافی کم شدت پسند ہے۔
    • یورپی کونسل کے صدر کا کہنا ہے کہ شہری اہداف پر حملے غیر قانونی ہیں، اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔ انتونیو کوسٹا نے آج صبح ایکس پر لکھا ’شہری انفراسٹرکچر، خصوصاً توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔‘
    • متحدہ عرب امارات نے خبردار کیا ہے کہ ایسی جنگ بندی جو خطے کے بنیادی مسائل خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور ’وہ میزائل اور ڈرون جو اب بھی ہم اور دیگر ممالک پر برس رہے ہیں‘ کو حل نہ کرے، وہ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
    • تیل کی قیمتیں آج صبح کے 110 ڈالر فی بیرل کی سطح سے نیچے آ گئی ہیں۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کی اجازت نہیں دیتا تو امریکہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کر دے گا۔