امریکہ اپنے فوجی افسر کو ایران سے نکالنے میں کیسے کامیاب ہوا؟

    • مصنف, گیبریلا پومرائے
    • مصنف, گریس الائزا گُڈوِن
    • مصنف, غنچہ حبیب زادہ
    • مصنف, کرس پارٹریج
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکہ نے اس ایف–15 جنگی طیارے کے لاپتہ اہلکار کو بازیاب کر لیا ہے جسے جمعے کے روز ایران کے جنوبی حصے میں مار گرایا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے اپنی تاریخ کی ’سب سے جرات مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیوں میں سے ایک‘ انجام دی ہے۔ ان کے مطابق اہلکار اب ’محفوظ اور خیریت سے‘ ہے۔

طیارے میں دو اہلکار سوار تھے اور دونوں نے ایجیکٹ کیا تھا۔ ان میں سے ایک کو پہلے ہی امریکی فورسز نے نکال لیا تھا، جبکہ دوسرا اہلکار کئی گھنٹے تک لاپتہ رہا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ ان کے فضائی دفاع نے نشانہ بنایا تھا۔

ریسکیو مشن کی تفصیلات بتدریج سامنے آ رہی ہیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ کارروائی کس طرح آگے بڑھی۔

ایئرمین کو کیسے ریسکیو کیا گیا؟

امریکہ اور ایران اس وقت دوڑ میں تھے کہ کون پہلے اس امریکی اہلکار تک پہنچتا ہے جو ایف–15 طیارہ گرنے کے بعد ایران کے جنوبی پہاڑی علاقے میں لاپتہ ہو گیا تھا۔

ریسکیو مشن کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن اس سے واقف ایک ذریعے نے اسے جنوبی ایران میں ایک بہت بڑا اور پیچیدہ جنگی ریسکیو آپریشن قرار دیا۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ کارروائی کے دوران امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی، اور امکان ہے کہ اہلکار طیارے سے نکلتے وقت زخمی ہوا تھا۔

ایسے حالات میں کسی پائلٹ کو نکالنا امریکی فوج کے لیے سب سے مشکل اور بہت ہی کم وقت والے مشن ہوتے ہیں، جنھیں ’کومبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو‘ یا سی ایس اے آر کہا جاتا ہے۔

یہ کارروائیاں عام طور پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کی جاتی ہیں جو دشمن کے علاقے میں نیچی پرواز کرتے ہیں، جبکہ دیگر طیارے علاقے کی نگرانی اور حملوں کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ کرنل ’ایران کے خطرناک پہاڑوں میں دشمن کے علاقے کے اندر‘ چھپے ہوئے تھے اور ایرانی فورسز ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ ان کے قریب آ رہی تھیں۔

امریکی حکام نے بتایا کہ اہلکار نے 24 گھنٹے سے زیادہ وقت پہاڑوں میں تنہا گزارا اور صرف ایک ہینڈگن کے ساتھ اپنی حفاظت کرتا رہا۔

امریکی حکام مسلسل اس کی لوکیشن کی نگرانی کر رہے تھے۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق سی آئی اے نے اس مشن میں اہم کردار ادا کیا۔ ایجنسی نے ایئرمین کو ایک پہاڑی دراڑ میں ٹریس کیا اور اس کی درست لوکیشن پینٹاگون کو فراہم کی۔

ایجنسی نے ایران کے اندر ایک دھوکے پر مبنی مہم بھی چلائی، جس میں یہ تاثر پھیلایا گیا کہ اہلکار پہلے ہی مل چکا ہے اور ایران سے نکالا جا رہا ہے، تاکہ ایرانی فورسز غلط سمت میں لگ جائیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے اس مشن کے لیے درجنوں طیارے ایران میں بھیجے اور دعویٰ کیا کہ کارروائی میں کوئی امریکی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ گمشدہ اہلکار کی تلاش کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی ڈرون مار گرایا، جو صوبہ اصفہان میں گرا۔

ایران نے پہلے کہا تھا کہ وہ امریکی اہلکار کو زندہ پکڑنا چاہتا ہے اور اس کی تلاش میں مدد دینے والوں کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں پائلٹوں کی پہلی ترجیح زندہ رہنا اور گرفتاری سے بچنا ہوتی ہے۔

وہ تربیت یافتہ ہوتے ہیں کہ اگر جسمانی طور پر قابل ہوں تو ایجیکشن کے مقام سے فوراً دور ہو جائیں، چھپ جائیں، اور مقامی ماحول سے پانی یا خوراک حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

طیارہ کب اور کہاں مار گرایا گیا؟

ایرانی سرکاری میڈیا نے جمعے کے روز دعویٰ کیا کہ ملک کی فورسز نے جنوبی ایران کے اوپر ایک امریکی جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔

طیارہ کہاں گرا، اس کی درست جگہ کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ایرانی میڈیا میں دو ممکنہ صوبوں کا ذکر کیا گیا ہے: کہگیلویہ و بویر احمد اور خوزستان۔

امریکی جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے وقت اس میں دو اہلکار سوار تھے۔ ان میں سے پائلٹ کو ایک علیحدہ کارروائی میں پہلے ہی نکال لیا گیا تھا۔ اس ریسکیو مشن میں شامل ایک A‑10 وار تھاگ طیارہ خلیج کے اوپر نشانہ بنا، تاہم اس کا پائلٹ ایجیکٹ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایف–15 ای کے پائلٹ کو لے جانے والا ایک ہیلی کاپٹر بھی چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ کی زد میں آیا، جس سے عملے کے کچھ افراد زخمی ہوئے، لیکن ہیلی کاپٹر محفوظ لینڈنگ میں کامیاب رہا۔

پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے خانہ بدوش قبائل نے امریکی ریسکیو مشن میں شامل دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔

بی بی سی ویریفائی نے جمعے کی ایک ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں تین مسلح افراد کم از کم دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایرانی فوجی قیادت نے دونوں امریکی طیاروں کو مار گرانے کا سہرا اپنے نئے فضائی دفاعی نظام کو دیا ہے، جیسا کہ سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے رپورٹ کیا ہے۔

کہگیلویہ و بویر احمد ایران کا جنوب مغربی اور پہاڑی صوبہ ہے۔ اس کی آبادی سات لاکھ تک ہے۔ اس خطے میں خانہ بدوش قبائل بھی رہتے ہیں، جو دور دراز پہاڑی علاقوں میں اپنے مویشیوں اور خیموں کی حفاظت کے لیے عام طور پر بندوقیں رکھتے ہیں۔

خوزستان ایران کا ایک اہم صنعتی اور تیل پیدا کرنے والا صوبہ ہے۔

یہاں 47 لاکھ سے زائد آبادی رہتی ہے، جس میں عرب، فارسی بان اور دیگر نسلی گروہ شامل ہیں۔ یہ صوبہ ملک کی معیشت میں مرکزی کردار رکھتا ہے۔

طیارے کے مشن کے بارے میں ہمیں کیا معلوم ہے؟

ایف-15 ای ایک ایسا جنگی طیارہ ہے جو فضا سے فضا اور فضا سے زمین دونوں طرح کے مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کے تناظر میں یہ طیارے غالباً دفاعی کردار میں استعمال ہو رہے ہیں یعنی ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے۔

اپنے زمینی حملوں کے کردار میں یہ طیارہ لیزر اور جی پی ایس سے گائیڈڈ ہتھیاروں سمیت مختلف قسم کے بم گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس طیارے میں دو اہلکار ہوتے ہیں: پائلٹ اور ویپن سسٹمز آفیسر، جسے عام طور پر وِزو کہا جاتا ہے جو اہداف کا انتخاب اور ہتھیاروں کی پروگرامنگ کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔

یہ دو رکنی نظام اس لیے اہم ہے کہ خطرناک یا مصروف فضائی ماحول میں کام کی تقسیم سے طیارے کی کارکردگی بہتر رہتی ہے، خاص طور پر جب پائلٹ کو دشمن کے حملوں سے بچتے ہوئے پرواز کرنی ہو۔

یہ واضح نہیں کہ امریکی طیارہ کس وجہ سے مار گرایا گیا، لیکن اگر اسے ایران نے نشانہ بنایا ہے تو سب سے زیادہ امکان سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (ایس اے ایم) کا ہے۔