جنگ بندی میں لبنان کی شمولیت پر ’غلط فہمی‘ کا تنازع کیا ہے؟

    • مصنف, عمیر محمود
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ دو ہفتوں کے لیے بند کرنے کے اعلان کو ابھی 24 گھنٹوں سے کچھ وقت ہی اوپر گزرا ہے، لیکن اس امن معاہدے میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں۔

محاورے کی زبان میں کہا جائے تو ابھی معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی کہ یہ خدشات اور سوالات کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اور اس کی وجہ وہ معاملہ ہے جسے امریکہ نے ’غلط فہمی‘ قرار دیا ہے۔

جب پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر پوسٹ کیا، اس میں یہ بات شامل تھی کہ ’لبنان سمیت‘ ہر جگہ فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ ایران، امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے ہر جگہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، بشمول لبنان۔ یہ جنگ بندی فوراً نافذالعمل ہو گی۔‘

شہباز شریف کی یہ پوسٹ پاکستانی وقت کے مطابق آٹھ اپریل کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر شیئر کی گئی۔

اس پوسٹ سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں کہا تھا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر میں دو ہفتوں کی مدت کے لیے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کرتا ہوں۔‘

اس کے بعد ایران کی وزارت خارجہ سے بھی ایک بیان جاری ہوا، جسے امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اپنے ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اگر ایران پر حملے روک دیے گئے تو ہماری طاقت ور مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔‘

لیکن ان اعلانات کے بعد بمشکل چند ہی گھنٹے گزرے ہوں گے جب اسرائیلی وزیر اعظم کے سرکاری ایکس ہینڈل سے ایک بیان جاری کیا گیا، اس میں کہا گیا تھا: ’دو ہفتے کی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔‘

تاہم ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کے بعد پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے جب اس بات کا اعلان کیا کہ جنگ بندی معاہدے میں ’لبنان بھی‘ شامل ہے، اس وقت امریکہ کی جانب سے اس کی تردید یا وضاحت نہیں کی گئی۔ بلکہ مذاکرات کے عمل کو مزید آگے بڑھانے کے لیے یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ’اسلام آباد مذاکرات‘ میں امریکہ کی نمائندگی کریں گے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہو رہے ہیں اور اسی مناسبت سے وزیر اعظم شہباز شریف نے انھیں ’اسلام آباد مذکرات‘ کا نام دیا ہے۔

’ہماری انگلی اب بھی بندوق کے ٹریگر پر ہے‘

پھر ایران کی جانب سے بھی تصدیق کر دی گئی کہ وہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ میں شرکت کرے گا۔

بدھ کے روز ہی پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کی گفتگو تقریباً 45 منٹ سے زائد جاری رہی جو ’خوشگوار اور دوستانہ‘ تھی۔

صورتحال مثبت سمت میں بڑھتی دکھائی دیتی تھی، لیکن پھر کل ہی کے روز اسرائیل کی جانب سے لبنان کو بھاری بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ روز ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 182 افراد کی جان گئی اور 800 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

ایک اور بیان میں لبنانی سول ڈیفنس ایجنسی کے حوالے سے کہا گیا کہ 254 افراد ہلاک اور 1165 زخمی ہوئے اور ان اعداد و شمار کی تصدیق ادارے کی جانب سے بی بی سی کو بھی کی گئی۔

اس جنگ کے دو فریق امریکہ اور ایران، کشیدگی کم کرنے کے راستے پر آگے بڑھتے نظر آ رہے تھے، لیکن اسرائیل کے حملوں سے معاہدے کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘

ایکس پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا: ’ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی شرائط واضح اور دوٹوک ہیں، امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ دونوں راستے ایک ساتھ اختیار نہیں کیے جا سکتے۔‘

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’دنیا لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں کو دیکھ رہی ہے۔ اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے بھی بیان آیا، جس میں کہا گیا: ’اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران کے خلاف تنازع دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

ان کے الفاظ تھے: ’ہماری انگلی اب بھی بندوق کے ٹریگر پر ہے۔‘

’نیتن یاہو شاید وہ واحد شخص ہیں جو مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کا خیر مقدم نہیں کرتے‘

فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے لبنان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’یہ حملے حال ہی میں طے پانے والی جنگ بندی کے تسلسل کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔‘

اسرائیلی اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کے مضمون میں لکھا گیا: ’نیتن یاہو شاید وہ واحد شخص ہیں جو مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کا خیر مقدم نہیں کرتے۔‘

امریکی رکن کانگریس ڈان بئیر نے ایکس پر پوسٹ کیا: امریکہ کو فوری طور پر اسرائیل پر یہ بات واضح کرنی چاہیے کہ لبنان میں جنگ بندی کے بغیر یہ معاہدہ نہ تو قابلِ عمل ہے اور نہ ہی مؤثر ہو سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور بیروت کے وسطی علاقوں پر بمباری امن کی طرف جانے کا راستہ نہیں ہے۔

امریکی رکن کانگریس سارہ جیکبس کی ایکس پوسٹ میں کہا گیا: ’اسرائیل نے لبنان میں صرف 10 منٹ کے دوران کم از کم 254 افراد کو ہلاک کیا اور ایک ہزار سے زائد کو زخمی کر دیا، جو اس جنگ کا اب تک کا سب سے ہلاکت خیز دن بن گیا ہے۔‘

سارہ جیکبس نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ نیتن یاہو کو جنگ بندی میں لبنان کو شامل کرنے کا کہیں، ’دونوں رہنماؤں کو اس جنگ کا مستقل طور پر خاتمہ کرنا چاہیے۔‘

امریکی صدر ٹرمپ نے جس ٹروتھ سوشل پوسٹ میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، اسی پوسٹ میں انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ انھیں ایران کی جانب سے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔

ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ اس 10 نکاتی فریم ورک میں لبنان میں جنگ بندی کی شق بھی شامل تھی اور ’اس وعدے کا حوالہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی (ایکس پر پوسٹ میں) دیا تھا۔‘

محمد باقر قالیباف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک ڈرون ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوا جو جنگ بندی کے لیے ہوئے معاہدے کی شق کی خلاف ورزی ہے اور ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق سے بھی انکار کیا جا رہا ہے ’جو فریم ورک کی شق نمبر چھ میں شامل تھا۔‘

ایرانی سپیکر نے کہا کہ مذاکرات کے باضابطہ آغاز سے پہلے ہی وہ ’قابل عمل بنیاد‘ پامال کر دی گئی ہے جس پر مذاکرات ہونے تھے۔

آج صبح پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کی جانب سے ایکس پر پوسٹ میں کہا گیا کہ ’وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔‘

تاہم بعد میں یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی۔

ڈیلیٹ کی گئی پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد آنے والا وفد ’ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی ایجنڈے کی بنیاد پر مذاکرات میں حصہ لے گا۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف کی ایکس پوسٹ میں واضح طور پر درج کیا گیا تھا کہ ’لبنان سمیت‘ ہر جگہ جنگ بند کی جائے گی اور امریکہ کی جانب سے اس بات کا انکار بھی نہیں کیا گیا تھا، لیکن پھر واشنگٹن سے آنے والے بیانات اسرائیلی مؤقف کی ہی توثیق کرنے لگے۔

’ہم نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا‘

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جنگ بندی میں لبنان کے شامل کیے جانے کو ’ایران کی غلط فہمی‘ قرار دے دیا۔ میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’اس معاملے نے ایک غلط فہمی سے جنم لیا ہے۔ ایرانی سمجھ رہے تھے کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے جبکہ ایسا نہیں تھا۔‘

میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا: ’ہم نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ ہم نے یہ اشارہ تک نہیں دیا کہ ایسا ہو گا۔ ہم نے جو کہا تھا وہ یہ تھا کہ جنگ بندی کا مرکز ایران ہو گا اور امریکہ کے اتحادی، یعنی اسرائیل اور خلیجی عرب ریاستیں، اس کا حصہ ہوں گی۔‘

امریکی نائب صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیل نے در حقیقت ’لبنان میں کسی حد تک خود پر ضبط کرنے کی پیش کش کی ہے۔ کیونکہ وہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے مذاکرات کامیاب ہوں۔‘

جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کا لبنان سے کوئی تعلق نہیں اور امریکہ نے کبھی نہیں کہا کہ لبنان جنگ بندی کا حصہ تھا، اس کے باوجود اگر ایران لبنان کی خاطر مذاکرات سبوتاژ کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہو گا۔

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک احمقانہ فیصلہ ہوگا، مگر یہ ان ہی کا انتخاب ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بھی ایک صحافی کے سوال کے جواب میں یہی کہا کہ ’جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔‘

’وہ جھوٹ بول رہے ہیں‘

جبکہ پاکستان کا اب بھی یہی مؤقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان شامل تھا۔

امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو میں یہی بات کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے دیا گیا بیان درست اور مستند تھا۔

کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے سینیئر ایڈیٹر مائیکل ینگ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی ایکس پوسٹ سے پہلے امریکہ نے اس بیان کو دیکھ لیا تھا اور ممکن ہے کہ اسے خود امریکہ نے ہی تیار کیا ہو (اگرچہ ہم یہ بات یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے)۔

اپنی ایکس پوسٹ میں مائیکل ینگ نے لکھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جنگ بندی میں لبنان کی شمولیت کا واضح طور پر ذکر کیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے لبنان میں جنگ جاری رکھ کر ایران کو ایک جال میں پھنسانے کا موقع دیکھا اور بعد ازاں صدر ٹرمپ نے غلط طور پر یہ دعویٰ کیا کہ لبنان جنگ بندی میں شامل نہیں تھا۔

امریکی صحافی اور مصنف سیتھ ایبرامسن نے جے ڈی وینس کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’نہیں، وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ جنگ بندی کا معاہدہ پاکستان نے تیار کیا تھا اور پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اس میں لبنان شامل تھا۔‘

سیتھ ایبرامسن نے کہا کہ ایک بار پھر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے جنگی جرائم اور قانون شکنی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔