آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈین ریاست کیرالہ میں تقسیم کے بعد بننے والی ’قائد ملت‘ کی مسلم لیگ کا ’قائد اعظم‘ کی مسلم لیگ سے کیا تعلق ہے؟
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
انڈیا کی جنوبی ساحلی ریاست کیرالہ میں نو اپریل سنہ 2026 کو 140 اسمبلی نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
گذشتہ 10 برسوں سے یہاں بائيں بازو کی جماعت سی پی ایم کے اتحاد لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کی حکومت ہے جب کہ اسی دوران کانگریس کی قیادت والا اتحاد یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) حزب اختلاف میں رہا ہے۔
جنوبی انڈیا کی اس ریاست کی خاص بات یہ ہے کہ مسلم اکثریتی جماعت انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل)، سی پی آئی (ایم) اور کانگریس کے بعد تیسری سب سے اہم جماعت ہے اور گذشتہ کئی دہائیوں سے وہ حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔
گذشتہ سال سنہ 2025 میں مقامی سطح کے میونسپل انتخابات میں اس جماعت نے ریکارڈ کامیابی حاصل کی اور مالابار کے علاقے یا اپنے گڑھ ملاپورم ضلعے سے باہر بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے 3200 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلی بار اس نے ریاست کے تمام 14 اضلاع میں کسی نہ کسی سطح پر کامیابی حاصل کی ہے۔
موجودہ اسمبلی انتخابات میں اس جماعت نے 27 نشستوں پر اپنے امیداوار کھڑے کیے ہیں جبکہ اس سے قبل اس نے 25 نشستوں میں سے 15 پر کامیابی حاصل کی تھی۔ آج تک کی اس کی سب سے بڑی کامیابی سنہ 2011 کے اسمبلی انتخابات میں سامنے آئی تھی جب اس نے 20 نشستیں حاصل کی تھیں۔
تاریخی پس منظر
اگرچہ اس پارٹی کی انڈیا میں داغ بیل تقسیم ہند اور آزادی کے بعد پڑی لیکن اس کی جڑیں آزادی سے قبل مسلمانوں کی نمائندگی کا دم بھرنے والی آل انڈیا مسلم لیگ میں پیوست ہیں جس نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک علیحدہ ملک کے طور پر پاکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انڈین یونین مسلم لیگ کا قیام 10 مارچ سنہ 1948 کو مدراس (اب چنئی) میں عمل میں آیا۔ اس وقت تک کیرالہ علیحدہ ریاست نہیں تھی اور اس کے تین حصے تھے جنھیں تراونکور، مالابار اور کوچی کے طور پر جانا جاتا تھا اور یہ سب علاقے مدراس پریزیڈنسی کے تحت آتے تھے۔
بنیادی طور پر کیرالہ میں اپنا زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والی اس سیاسی جماعت نے تمل ناڈو، مغربی بنگال اور ملک کے دیگر حصوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے ریاست کے سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ذریعہ کیرالہ میں ریاستی پارٹی کے طور پر تسلیم شدہ آئی یو ایم ایل اتحادی سیاست میں ایک مستقل کھلاڑی رہا ہے، خاص طور پر انڈین نیشنل کانگریس کے زیر قیادت یو ڈی ایف کے ایک اہم جزو کے طور پر۔
خیال رہے کہ اس ریاست میں اگرچہ مرکز میں حکمراں جماعت بی جے پی کے ووٹوں کی شرح مسلم ليگ سے زیادہ لیکن وہ ابھی تک صرف ایک بار اسمبلی انتخابات اور ایک بار پارلیمانی انتخاب میں کامیابی حاصل کر پائی ہے۔
جناح کی مسلم لیگ سے کتنی مختلف
تقسیم ہند کے بعد انڈیا میں آل انڈیا مسلم لیگ عملی طور پر تحلیل ہو گئی۔ تاہم، جنوبی ہند میں مسلم رہنماؤں کے ایک حصے نے، خاص طور پر اس وقت کی مدراس پریذیڈنسی میں، ایک سیکولر، جمہوری انڈیا کے فریم ورک کے اندر مسلمانوں کے مفادات کی نمائندگی کے لیے ایک سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی گئی۔
ملیالم زبان کے اہم روزنامے مادھیامم کے نیوز ایڈیٹر ایم فیروز خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تقسیم ہند کے نتیجے میں شمالی ہند کے مقابلے جنوبی ہند سے پاکستان کے لیے ہجرت نہ ہونے کے برابر ہوئی۔ چنانچہ جنوبی ہند میں رہ جانے والے مسلم رہنماؤں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انڈیا ایک حقیقت ہے اور پھر انھوں نے جنوبی ہند کے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کی آواز کے طور پر انڈین یونین مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ بنیادی طور پر جناح کی مسلم لیگ سے یکسر مختلف ہے، اس کا سیکولر کریکٹر ہے اور یہ سیاسی کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات بھی انجام دے رہی ہے۔‘
کیرالہ کے اہم شہر کوچی میں وکیل اور آئی یو ایم ایل کے قانونی مشیر ایڈووکیٹ رفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تقسیم کے بعد انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے جنوبی ہند میں سرگرم مسلم لیگ کے رہنماؤں کو کانگریس میں شمولیت کی دعوت دی۔ لیکن اس وقت کے سب سے اہم رہنما ایم محمد اسماعیل کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کے بجائے ان کے ساتھ اتحاد قائم کرنے پر زور دیتے رہے۔‘
’اگرچہ وہ دہلی کی قیادت کو اس کے لیے راضی نہ کر سکے لیکن مقامی طور پر انھوں نے کانگریس کے ساتھ ایک قسم کی مطابقت ضرور پیدا کی۔‘
رفیق کے مطابق دوسری جانب محمد علی جناح نے انھیں پاکستان آنے کی دعوت دی اور انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک کا خدشہ ظاہر کیا جس کے جواب میں قائد ملت نے کہا کہ ’جب تک آپ پاکستان میں اقلیت کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھیں گے اس وقت تک انڈیا میں مسلمانوں کے لیے کسی قسم کے خدشے کی بات نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق جہاں محمد علی جناح کو ’قائد اعظم‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے وہیں انڈین یونین مسلم ليگ کے رہنما ایم محمد اسماعیل کو ’قائد مل‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جنوبی ہند یعنی مدراس پریزیڈنسی میں ایم محمد اسماعیل، قائد اعظم کا دایاں ہاتھ تصور کیے جاتے تھے اور انھوں نے وہاں سے مسلم ليگ کو آزادی سے قبل 29 میں سے 29 سیٹوں پر کامیابی دلائی تھی لیکن انھوں نے انڈیا سے ہجرت کرنا مناسب نہ سمجھا۔
آئی یو ایم ایل نے اپنی پیشرو جماعت مسلم ليگ کے برعکس انڈین یونین کی خودمختاری کو قبول کیا اور مسلم کمیونٹی کے حقوق، تعلیم اور سماجی و اقتصادی ترقی کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آئینی فریم ورک کے اندر کام کرنے کا عہد کیا۔
مسلمانوں کو باوقار شناخت
آئی یو ایم ایل کی خواتین ونگ کی سابق جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ نوربینہ رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'انڈین یونین مسلم لیگ کا قیام مسلمان اور دیگر اقلیتوں کو باوقار شناخت دلوانے کے تحت عمل میں آیا اور ہماری پارٹی دوسری ریاستوں کے مقابلے کیرالہ میں اسے بہت حد تک حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔'
خیال رہے کہ ابھی کوئی ایک ہفتے قبل ہی انھوں نے پارٹی کی خواتین ليگ (ونیتھا ليگ) میں جنرل سیکریٹری کے عہدے سے اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ وہ اس سے قبل گذشتہ اسمبلی انتخابات میں 25 سال بعد آئی یو ایم ایل کی پہلی خاتون امیدوار تھیں۔
رواں انتخابات میں پارٹی نے دو خواتین امیدوار کو میدان میں اتارا ہے جس پر ہمیشہ خواتین کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
نوربینہ رشید نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں جب آئی یو ایم ایل کی شاخ قائم کی گئی تو وہ اس کی جنرل سیکریٹری بنیں لیکن باضابطہ طور پر ونیتھا ليگ کے نام سے اس کا قیام سنہ 2012 میں عمل میں آیا۔
نظریہ اور مقاصد
آئی یو ایم ایل کی ویب سائٹ کے مطابق ان کے مقاصد میں مسلم مفادات کی نمائندگی کرتے ہوئے انڈیا کے سیکولر جمہوری نظام کے اندر کام کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ پارٹی کا مسلمانوں کے لیے تعلیم، روزگار، اور سماجی بہبود پر زور ہے۔
حکمرانی میں اقلیتوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے دیگر سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی یقین دہانی بھی اہمیت کی حامل ہے۔
ملکی سیاست سے زیادہ کیرالہ کے سماجی و سیاسی تناظر سے متعلقہ مسائل پر توجہ مرکوز کرنا، جیسے ساحلی ترقی، اقلیتی حقوق، اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو اہمیت دی گئی ہے۔
آئی یو ایم ایل نے شدت پسندانہ بیان بازی سے گریز کرتے ہوئے اقلیتوں کے لیے آئینی تحفظات کی وکالت کی ہے اور مسلسل خود کو ایک معتدل سیاسی قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔
’سیکولر تشخص‘
فیروز خان نے اس بابت بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اگرچہ پارٹی کے نام میں ’مسلم‘ لفظ ہے اور یہ بنیادی طور پر ایک کمیونٹی پر مبنی تنظیم ہے، لیکن سیکولر معاشرہ اسے فرقہ وارانہ جماعت کے طور پر نہیں دیکھتا۔
’اس کی وجہ یہ ہے کہ فرقہ پرست تنظیموں کے برعکس، یہ نفرت انگیز تقاریر میں ملوث نہیں ہے اور نہ ہی دوسرے مذاہب یا برادریوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دیتی ہے۔ مزید برآں، مسلم لیگ پناککڈ خاندان کی قیادت میں (جو اس کے روحانی سرپرست کے طور پر کام کرتے ہیں) مسلم نوجوانوں کو انتہا پسندانہ نظریات کی طرف بڑھنے سے روکنے میں کامیاب رہی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پارٹی کا بنیادی ہدف کمیونٹی کو سیاسی، سماجی، اور تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کام کرنا ہے۔ نتیجتاً، مختلف اصلاحاتی تحریکوں کے ساتھ ساتھ، لیگ نے کیرالہ میں مسلم کمیونٹی کو بہت سے شعبوں میں پسماندگی کے باوجود آگے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘
ایڈووکیٹ رفیق نے کہا کہ بابری مسجد کے انہدام کے وقت پورے ملک میں غم و غصہ پایا جاتا تھا لیکن کیرالہ کی لیڈرشپ مسلمانوں کو کسی بھی قسم کے اشتعال سے باز رکھنے میں کامیاب رہی۔
لیکن نوربینہ رشید کا کہنا ہے کہ اب ملک میں سیاست بدل رہی ہے اور اس کا اثر کیرالہ میں بھی نظر آ رہا ہے۔ ان کے اور دوسرے مبصرین کے مطابق یہاں کی سیاست کبھی مذہبی منافرت اور فرقہ واریت پر مرکوز نہیں رہی لیکن اب اس کا سایہ یہاں بھی منڈلا رہا ہے۔
بدلتا منظر نامہ
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق کوزیکوڈ ضلعے کے پیرمبرا انتخابی حلقے کے امیدواروں ٹی پی راماکرشنن (ایل ڈی ایف) اور فاطمہ طاہلیہ (یو ڈی ایف) کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری کیا گيا ہے کیونکہ ان پر انتخابی مہم کے دوران فرقہ وارانہ حربے کے استعمال کا الزام لگایا گيا ہے۔
پارٹی کا ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہے، جس میں مسلم یوتھ لیگ اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن جیسی منسلک تنظیمیں ہیں، جو نوجوان نسلوں کے درمیان حمایت کو متحرک کرنے میں مدد کرتی ہیں۔
پارٹی کا پرچم سبز ہے جس پر بائیں جانب اوپر کو چاند اور تارے بنے ہیں جبکہ اس کا انتخابی نشان سیڑھی یعنی لکڑی کا زینہ ہے جو ان کے مطابق ترقی کی منازل طے کرنے کی علامت ہے۔
مسلم یوتھ ليگ کے جنرل سیکریٹری شیبو میران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آئی یو ایم ایل نے مسلمانوں سے تعلیمی پسنماندگی کو دور کیا اس لیے وہ زیادہ مقبول ہوئی اور اس بار ہم مزید بہتر کرنے کی امید کر رہے ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آئی یو ایم ایل نے ملک گیر سطح پر کام شروع کیا تھا لیکن بابری مسجد کے خلاف تحریک کے دوران یہ شمالی انڈیا میں مسلم مخالف سیاست کا شکار ہو گئی اور آج یہ نوبت آ گئی ہے کہ کوئی سیکولر پارٹی بھی مسلم مسائل کو اٹھانے سے گریزاں ہے۔
انھوں نے آسام کے وزیر اعلی کے ’مسلمانوں کو تنگ کرنے کے غیر آئینی‘ بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شمال میں اب مسلمانوں کو شناخت کا مسئلہ درپیش ہے لیکن ہم لوگ جنوبی انڈیا اور بطور خاص کیرالہ کی طرح کام کرکے سیکولر جماعتوں کے ساتھ با وقار بنیاد پر اتحاد قائم کریں گے۔
شیبو میران نے کہا کہ ’آئی یو ایم ایل کا وژن قائد ملت اور بابا صاحب امیڈکر کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر اپنے اہداف حاصل کرنا ہے۔‘
خیال رہے کہ بابا صاحب امیڈکر کو آزادی سے قبل بننے والی قانون ساز اسمبلی میں لانے کا سہرا مسلم ليگ کے سر جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کیرالہ میں مسلم اور پسماندہ ہندو ذات ایک دوسرے کے مفادات کو مشترک سمجھتے ہیں۔
انھوں نے آئی یو ایم ایل کی جانب سے پہلے وزیر تعلیم شیش محمد کویا کا بیان نقل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کا یہ عہد ہے کہ دوسری برادری کے حصے کا بال برابر بھی مسلمانوں کے لیے حرام ہے ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کے حق پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنا بھی ان کے لیے ناممکن ہے۔