آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, اسرائیل کی جنوبی بیروت کے مکینوں کو انخلا کی ہدایت، لبنانی وزیرِ اعظم کی شہباز شریف سے گفتگو میں ’حملے رکوانے میں تعاون کی درخواست‘

اسرائیل نے لبنانی دارالحکومت بیروت کے کئی جنوبی مضافاتی علاقوں کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق وہ حزب اللہ کے 'فوجی انفراسٹرکچر' کے خلاف مزید حملوں کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان کے دفتر کے مطابق لبنانی وزیرِ اعظم نے شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطے میں لبنان میں حملے بند کروانے کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے۔

خلاصہ

  • ایرانی صدر کا اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
  • اسلام آباد مذاکرات کے لیے شہر میں سکیورٹی انتظامات اور تیاریوں کا سلسلہ جاری
  • برطانیہ کا لبنان کو بھی جنگ بندی میں شامل کرنے کا مطالبہ، وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی متحدہ عرب امارات آمد
  • اگر 'حتمی معاہدے' کی پوری طرح تعمیل نہیں ہوئی تو 'شوٹنگ' دوبارہ شروع ہو جائے گی: ٹرمپ کی ایران کو دھمکی
  • لبنان میں جنگ بندی کا وعدہ کبھی امریکہ کی طرف سے نہیں کیا گیا: جے ڈی وینس
  • مذاکرات کی بنیاد بننے والی تجاویز کی خلاف ورزی کے بعد بات چیت یا جنگ بندی غیرمعقول ہے: باقر قالیباف

لائیو کوریج

  1. لبنانی وزیر کا لبنان کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کا مطالبہ

    لبنان کی سماجی اُمور کی وزیر نے کہا ہے جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے لبنان کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔

    بی بی سی سے گفتگو میں سماجی اُمور کی وزیر حنین سید کا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ لبنان کو جنگ بندی کی شرائط میں شامل کیا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہیے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ بیروت میں بدھ کو اسرائیلی حملے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں تھیں اور اس معاملے پر سلامتی کونسل سے رُجوع کیا جائے گا۔

  2. دُشمن جو اہداف جنگ میں حاصل نہیں کر سکا، اب وہ مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے: ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ کا بیان

    ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو محدود کرنے پر رضامند نہیں ہو گا۔

    رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے 40 روز مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اسلامی کا کہنا تھا کہ ’ایران افزودگی کے پروگرام کو محدود کرنے کے دُشمنوں کے دعوے اور مطالبات محض خواہشات ہیں جو قبر میں اُن کے ساتھ جائیں گی، ہمیں کوئی قانون یا شخص اس نہیں روک سکتا۔‘

    محمد اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ ’دُشمن‘ مذاکرات کے ذریعے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ جنگ میں حاصل نہیں کر سکے۔

  3. شہباز شریف اور لبنان کے وزیرِ اعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

    وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق شہباز شریف نے لبنان کے خلاف اسرائیل کی جاری جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے اور اسی جذبے کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی امن کی کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے، لبنان کے وزیر اعظم نے لبنان اور اس کے عوام کو نشانہ بنانے والے حملوں کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان سے تعاون طلب کیا۔

  4. اسرائیل کی بیروت کے جنوبی علاقوں کے مکینوں کو انخلا کی ہدایت

    اسرائیل نے لبنانی دارالحکومت بیروت کے کئی جنوبی مضافاتی علاقوں کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق وہ حزب اللہ کے ’فوجی انفراسٹرکچر‘ کے خلاف مزید حملوں کا ارادہ رکھتی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے رہائشیوں سے کہا کہ اسرائیل آپ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس لیے آپ کو فوری طور پر وہاں سے نکل جانا چاہیے۔

    جن علاقوں میں لوگوں کو نکلنے کا کہا گیا ہے کہ ان میں حریت حریک، غوبیری، اللیلاکی، حدث، بورج البراجنہ، تحویت الغدیر، شیعہ اور الجنہ شامل ہیں۔

  5. وزیر اعظم شہباز شریف کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، اسلام آباد مذاکرات کی تیاریوں پر مشاورت

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے جس میں پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور تمام فریقوں کی طرف سے امن اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    قیادت نے تمام فریقین کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تعریف کی اور پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقوں کو سہولت فراہم کرنے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

  6. جنگ بندی کے بعد صرف نو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں

    اس بارے میں غیر یقینی برقرار ہے کہ آیا ایرانی حکومت بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گی یا نہیں۔

    بی بی سی ویریفائی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے بحری جہازوں کی محدود نقل و حرکت کی نگرانی کر رہا ہے۔

    میرین ٹریفک پر جہازوں سے باخبر رہنے والے ڈیٹا کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ منگل کی رات جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے کم از کم نو بحری جہاز جن میں دو آئل اور کیمیکل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔

    ملٹی نیشنل جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ سے پہلے ہر روز اوسطاً 138 بحری جہاز یہاں سے گزرتے تھے۔ لیکن تنازع کی وجہ سے یہاں ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے اور لگ بھگ 800 بحری جہاز خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

  7. لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر مذاکرات کے لیے پُرامید, جیمز لینڈیل، بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی بظاہر غیر یقینی صورتحال کا شکار دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس کے دائرۂ کار سے متعلق دونوں فریقوں کے درمیان نمایاں اختلافات موجود ہیں۔

    تاہم لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ انھیں پورا یقین ہے کہ دونوں ممالک کے وفود اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں موجود ہوں گے جہاں لڑائی میں دو ہفتوں کے وقفے کو پائیدار انتظام میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق خلاف ورزیوں کے باوجود جنگ بندی ’معقول حد تک برقرار‘ ہے۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے جس کی امریکہ نے تردید کی ہے اور جہاں فی الحال اسرائیلی حملے جاری ہیں۔

    پاکستانی ہائی کمشنر نے تسلیم کیا کہ دونوں فریقوں کے موقف میں اب بھی ’خاصا فاصلہ‘ ہے۔ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ آیا ہفتے کو ہونے والے مذاکرات میں وفود آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کریں گے یا نہیں۔

    اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات میں پیش رفت کے حوالے سے پُراعتماد اور پُرامید ہیں کیونکہ تمام فریقوں میں کسی حل تک پہنچنے کی خواہش موجود ہے۔

  8. ’ایران کے ہاتھ بھی ٹریگر پر رہیں گے،‘ ایرانی صدر کا اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

    ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے لبنان پر اسرائیل کے حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ممکنہ معاہدے کے عزم کی کمی کا ’خطرناک اشارہ‘ ہے۔

    ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل فوج نے کہا تھا کہ اس نے لبنان پر 100 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیل وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل ’جہاں بھی ضروری ہوا‘ حملے جاری رکھے گا۔

    ایکس پر اپنے بیان میں ایرانی صدرمسعود پیزشکیان کا کہنا ہے کہ حملوں کا تسلسل مذاکرات کو ’بے معنی‘ بنا دے گا اور خبردار کیا ہے کہ ایران کے ہاتھ ’ٹریگر‘ پر رہیں گے۔

  9. جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی بھاری قیمت ہو سکتی ہے، اسے فوری طور پر روکا جائے: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کا انتباہ

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور اسلام آباد مذاکرات کے لیے نامزد کردہ ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’لبنان سمیت ایران کا حمایت یافتہ پورا مزاحمتی محور جنگ بندی معاہدے میں شامل ہے۔‘

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی معاہدے کے دوران ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجاویز کا پہلا نکتہ ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے عوامی سطح پر دو ٹوک انداز میں لبنان کے معاملے کو اُجاگر کیا، لہذا اس معاملے پر کسی عذر یا پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ’جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی بھاری قیمت ہے اور اس کا سخت ردعمل ہو سکتا ہے۔ لہذا اس آگ کو بھڑکنے سے فوری طور پر روکا جائے۔‘

  10. فرانسیسی صدر کا شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ، اسلام آباد مذاکرات کے لیے فریقین کو بات چیت کی میز پر لانے پر مبارکباد

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں اسلام آباد مذاکرات سمیت دیگر اُمور پر بات چیت ہوئی ہے۔

    وزیر اعظم پاکستان کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق میکخوان نے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کروانے پر شہباز شریف کو مبارکباد دی۔

    بیان کے مطابق فرانسیسی صدر نے سنیچر کو امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کا بھی خیر مقدم کیا۔

    شہباز شریف نے فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

    بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری جارحیت پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہاں فوری طور پر تشدد اور ہلاکتوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، تاکہ پورے خطے میں امن بحال ہو سکے۔

  11. اسلام آباد مذاکرات کے لیے شہر میں سکیورٹی انتظامات اور تیاریوں کا سلسلہ جاری

    سنیچر کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شیڈول امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے شہر میں تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر بند کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ مختلف مقامات پر تزئین و آرائش بھی جاری ہے۔ شہر کے مختلف مقامات پر ناکے بھی لگائے گئے ہیں جبکہ پاکستانی فوج کے اہلکاروں کا گشت بھی جاری ہے۔

  12. ایران جنگ کے بعد سات ہزار 451 افراد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا: اسرائیلی وزارتِ صحت

    اسرائیلی وزات صحت کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے لے کر اب تک ہسپتالوں میں سات ہزار 451 افراد کو داخل کیا گیا۔

    اسرائیلی وزارتِ صحت کے مطابق ان افراد میں عام شہری اور فوجی اہلکار شامل ہیں۔

    وزارت کے مطابق ان میں سے 118 افراد اب بھی ہسپتالوں میں ہیں، جن میں دو کی حالت نازک، 13 کی تشویشناک اور 25 کو درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں۔

    وزارت نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ افراد کیسے زخمی ہوئے، کیونکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل کے ٹکڑے یا ڈرون حملوں سے نہیں بلکہ بعض صورتوں میں پناہ گاہوں تک پہنچنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ کی وجہ سے زخمی ہوئے۔

  13. ’وہ وقت قریب ہے جب امریکہ، اسرائیل سے لبنان میں کارروائیاں روکنے کا کہہ سکتا ہے‘, پال ایڈمز

    بدھ کو لبنان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں حیران کن نہیں تھیں۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے لے کر امریکی قیادت یہ اصرار کرتی رہی ہے کہ لبنان کبھی بھی جنگ بندی معاہدے میں شامل نہیں تھا۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جنگ بندی سے متعلق اپنے بیان میں لبنان کے شامل ہونے کا بھی ذکر کیا تھا اور ایران نے اسی کا حوالہ دیتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

    لیکن سب جانتے ہیں کہ لبنان میں جاری لڑائی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور خطے کو دوبارہ جنگ میں جھونکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    لہذا ایسا وقت جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خوش نہ ہوں، ایک لمحہ آنے کا امکان ہے کہ جب واشنگٹن اسرائیل کو مزید کارروائیاں کرنے سے روکے۔

    اسرائیل نے تسلیم کیا ہے کہ لبنان میں اس کی مہم کا دورانیہ کم ہو سکتا ہے، اس لیے بدھ کو اس نے اپنے حملوں کی رفتار بڑھائی، کیونکہ فی الحال اس کے پاس امریکی سفارتی حمایت موجود ہے۔

  14. برطانیہ کا لبنان کو بھی جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کا مطالبہ، وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی متحدہ عرب امارات آمد

    برطانوی وزیرِ خارجہ ایویت کوپر نے کہا ہے کہ لبنان کو بھی فوری طور پر دو ہفتے کے جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملوں پر اُنھیں بہت تشویش ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ لبنان کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنا اسرائیل کی سکیورٹی اور خطے کی وسیع تر سکیورٹی کے لیے بہتر ہو گا۔

    دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر مشرق وسطی کے معاملات اور ایران جنگ سے متعلق بات چیت کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں۔

    ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری حملوں کی وجہ سے دو ہفتے کے جنگ بندی معاہدے پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔

    اس سے قبل برطانوی وزیرِ اعظم نے سعودی ولی عہد محمد سلمان سے جدہ میں ملاقات کی تھی اور اب اُن کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات متوقع ہے۔

  15. حزب اللہ کے خلاف ’جہاں بھی ضروری ہوا‘ کارروائی کریں گے: اسرائیلی وزیرِ اعظم کی دھمکی

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے ’جہاں بھی ضروری ہوا‘ حزب اللہ کے خلاف حملے جاری رکھے گا۔

    اسرائیل کا موقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان میں شامل نہیں ہے، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیل کے مسلسل حملے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔

    نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’ہمارا پیغام واضح ہے کہ جو بھی اسرائیلی شہریوں کے خلاف کارروائی کرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اپنے شمالی علاقوں میں سکیورٹی مکمل طور پر بحال نہیں کر لیتے، ہم حزب اللہ کو جہاں بھی ضروری ہوا نشانہ بنائیں گے۔

    نیتن یاہو کا یہ بیان اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے بھتیجے اور علی یوسف حرشی کی ہلاکت کے اعلان کے بعد آیا ہے۔

  16. مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب اور ایران کے مابین پہلا رابطہ

    سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی ہے۔

    بیان کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاکہ خطے میں سلامتی اور استحکام واپس آ سکے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 28 فروری کو مشرق وسطی میں جنگ شروع ہونے کے بعد فریقین کے مابین یہ پہلا رابطہ ہے۔

  17. بدھ کو اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 203 افراد ہلاک ہوئے: لبنانی وزارتِ صحت

    لبنان کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ بدھ کو ملک بھر میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجہ میں 203 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ایران نے لبنان پر اسرائیلی بمباری کو امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

  18. پاکستان، فرانس، برطانیہ، اقوامِ متحدہ کی لبنان اسرائیلی حملوں کی مذمت، سپین کا اسرائیل پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام

    پاکستان، برطانیہ، فرانس اور اقوامِ متحدہ نے بدھ کے روز اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان لبنان کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔

    بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی ان خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے فوری بین الاقوامی کارروائی کی جائے۔

    برطانیہ کی سیکرٹری خارجہ یوویٹ کوپر نے ایک بار پھر لبنان کو ایران، امریکہ جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کا اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو ’سراسر غلط‘ قرار دیا ہے۔

    ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے کوپر نے بدھ کے روز لبنان کے خلاف اسرائیل کے حملوں کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی نقل مکانی اور انسانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔

    کوپر کا کہنا ہے کہ حملوں کی شدت میں اضافہ، ’سراسر غلط ہے… ہم چاہتے ہیں کہ جنگ بندی میں لبنان کو بھی فوری طور پر شامل کیا جائے۔‘

    فرانس کے وزیر خارجہ جان نول باہوٹ کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے ’ناقابل قبول‘ ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے اس لیے بھی زیادہ ناقابل قبول ہیں کیونکہ اس نے امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ روز ہونے والی عارضی جنگ بندی کو نقصان پہنچایا۔

    سپین نے اسرائیل پر ’جنگ بندی‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ کا الزام لگایا ہے۔ سپین کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ تہران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی جانب سے آٹھ اپریل کو لبنان بھر میں بڑے پیمانے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں فوجی سرگرمیاں ’جنگ بندی اور خطے میں پائیدار اور جامع امن کی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

    اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ بدھ کے روز لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملے امریکہ، ایران جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں۔

  19. اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات، ریڈ زون کا کنٹرول فوج کے حوالے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی سیز فائر کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل دس اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے۔

    ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے دونوں ملکوں کے وفود اور سکیورٹی عملہ پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکراتی وفد کی سربراہی ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جبکہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد سینچر کے روز مذاکرات میں حصہ لے گا۔

    اس موقع پر اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے دو دن کی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    اس مذاکراتی عمل میں حصہ لینے والے افراد کو ریڈ زون میں واقع ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھرایا جا رہا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون کی حدود پھیلا کر زیرو پوائنٹ سے لیکر فیصل مسجد تک کے علاقے کو اس میں شامل کر لیا ہے۔

    ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاوس، ایوان صدر، پرائم منسٹر ہاوس کے علاوہ ڈپلومیٹک انکلیو بھی واقع ہے جہاں مختلف ملکوں کے سفارت خانے موجود ہیں۔

    وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ریڈ زون کا سکیورٹی کنٹرول فوج کے پاس ہوگا جبکہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی وہاں پر تعینات ہوں گے۔

    سکیورٹی کے نقطہ نظر سے ریڈ زون میں صرف سرکاری گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہے جبکہ ریڈ زون میں واقع وفاقی وزارتوں میں کام کرنے والے افراد کو کہا گیا ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران اپنے گھروں سے ہی ڈیوٹی کریں۔

    جڑواں شہروں میں تعطیل کی وجہ سے سکول اور کالجز بند ہیں جبکہ سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں مقدمات کی سماعت نہیں ہو گی۔

    اسلام آباد کے لیے خصوصی ٹریفک پلان بھی ترتیب دے دیا گیا ہے جس کے مطابق شہر میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی وے اور سرینگر ہائی وے کو اس وقت کچھ دیر کے لیے بند کر دیا جائے گا جب غیر ملکی وفود ایئر پورٹ سے ہوٹل کی طرف جائیں گے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے آج راولپنڈی میں کیا جانے والے احتجاجی جلسہ کو منسوخ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاجی جلسے کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے مطابق پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کے ایک جگہ اکھٹا ہونے پر پابندی ہے۔

    اس مذاکراتی عمل کی کوریج کے لیے انٹرنیشنل میڈیا نمائندے بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

    پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایکسٹرنل ونگ کے مطابق مختلف ممالک سے پچاس سے زیادہ صحافیوں نے ویزے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ مذاکراتی عمل کی کوریج کے حوالے سے کنوینشن سینٹر یا پاک چائنہ سینٹر میں انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔

  20. ایرانی مذاکراتی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کریں گے: نائب وزیر خارجہ

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکی مذاکراتی وفد کی قیادت کریں گے اور ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔

    اس سے قبل پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بتایا تھا کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔

    بی بی سی ٹوڈے پروگرام کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ رات پاکستان کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سنجیدہ ہے کیونکہ یہ ’ہمارے قومی مفاد میں ہے۔‘

    امریکہ کو جنگ اور سیز فائر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا، ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

    سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو انتخاب کرنا ہوگا کہ وہ جنگ چاہتا ہے یا امن۔

    بی بی سی ٹوڈے پروگرام کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بیک وقت یہ دونوں چیزیں نہیں کر سکتا۔

    سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے امریکہ اور ایران جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایران مشرق وسطی میں ہر ایک سے اس معاہدے کی پاسداری کرنے کو کہ رہا ہے... ’اور ہمیں توقع ہے کہ امریکہ بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنے کو کہے گا۔‘

    ایک سوال کے جواب میں کہ آیا اسرائیل کے حملے جاری رہنے کی صورت میں ایران مذاکرات سے دستبردار ہو جائے گا، ان کا کہنا تھا: ’اس وقت ہماری توجہ پورے مشرق وسطیٰ کی بہتری پر ہے۔‘

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ بدھ کے روز لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملے امریکہ، ایران جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں۔