لائیو, مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب اور ایران کا پہلا رابطہ، پاکستان سمیت مختلف ممالک کی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مذمت

سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی ہے۔ بیان کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاکہ خطے میں سلامتی اور استحکام واپس آ سکے۔ دوسری جانب پاکستان، برطانیہ، فرانس اور اقوامِ متحدہ نے بدھ کے روز اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

خلاصہ

  • اگر 'حتمی معاہدے' کی پوری طرح تعمیل نہیں ہوئی تو 'شوٹنگ' دوبارہ شروع ہو جائے گی: ٹرمپ کی ایران کو دھمکی
  • لبنان میں جنگ بندی کا وعدہ کبھی امریکہ کی طرف سے نہیں کیا گیا: جے ڈی وینس
  • مذاکرات کی بنیاد بننے والی تجاویز کی خلاف ورزی کے بعد بات چیت یا جنگ بندی غیرمعقول ہے: باقر قالیباف
  • لبنان میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 180 سے تجاوز کر گئی
  • لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رہے گی، معاہدے ایران کے ساتھ ہوا ہے: نتن یاہو
  • امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: عباس عراقچی

لائیو کوریج

  1. برطانیہ کا لبنان کو بھی جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کا مطالبہ، وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی متحدہ عرب امارات آمد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPA

    برطانوی وزیرِ خارجہ ایویت کوپر نے کہا ہے کہ لبنان کو بھی فوری طور پر دو ہفتے کے جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملوں پر اُنھیں بہت تشویش ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ لبنان کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنا اسرائیل کی سکیورٹی اور خطے کی وسیع تر سکیورٹی کے لیے بہتر ہو گا۔

    دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر مشرق وسطی کے معاملات اور ایران جنگ سے متعلق بات چیت کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں۔

    ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری حملوں کی وجہ سے دو ہفتے کے جنگ بندی معاہدے پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔

    اس سے قبل برطانوی وزیرِ اعظم نے سعودی ولی عہد محمد سلمان سے جدہ میں ملاقات کی تھی اور اب اُن کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات متوقع ہے۔

  2. حزب اللہ کے خلاف ’جہاں بھی ضروری ہوا‘ کارروائی کریں گے: اسرائیلی وزیرِ اعظم کی دھمکی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے ’جہاں بھی ضروری ہوا‘ حزب اللہ کے خلاف حملے جاری رکھے گا۔

    اسرائیل کا موقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان میں شامل نہیں ہے، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیل کے مسلسل حملے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔

    نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’ہمارا پیغام واضح ہے کہ جو بھی اسرائیلی شہریوں کے خلاف کارروائی کرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اپنے شمالی علاقوں میں سکیورٹی مکمل طور پر بحال نہیں کر لیتے، ہم حزب اللہ کو جہاں بھی ضروری ہوا نشانہ بنائیں گے۔

    نیتن یاہو کا یہ بیان اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے بھتیجے اور علی یوسف حرشی کی ہلاکت کے اعلان کے بعد آیا ہے۔

  3. مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب اور ایران کے مابین پہلا رابطہ

    سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی ہے۔

    بیان کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاکہ خطے میں سلامتی اور استحکام واپس آ سکے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 28 فروری کو مشرق وسطی میں جنگ شروع ہونے کے بعد فریقین کے مابین یہ پہلا رابطہ ہے۔

  4. بدھ کو اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 203 افراد ہلاک ہوئے: لبنانی وزارتِ صحت

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ بدھ کو ملک بھر میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجہ میں 203 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ایران نے لبنان پر اسرائیلی بمباری کو امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

  5. پاکستان، فرانس، برطانیہ، اقوامِ متحدہ کی لبنان اسرائیلی حملوں کی مذمت، سپین کا اسرائیل پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان، برطانیہ، فرانس اور اقوامِ متحدہ نے بدھ کے روز اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان لبنان کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔

    بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی ان خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے فوری بین الاقوامی کارروائی کی جائے۔

    برطانیہ کی سیکرٹری خارجہ یوویٹ کوپر نے ایک بار پھر لبنان کو ایران، امریکہ جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کا اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو ’سراسر غلط‘ قرار دیا ہے۔

    ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے کوپر نے بدھ کے روز لبنان کے خلاف اسرائیل کے حملوں کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی نقل مکانی اور انسانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔

    کوپر کا کہنا ہے کہ حملوں کی شدت میں اضافہ، ’سراسر غلط ہے… ہم چاہتے ہیں کہ جنگ بندی میں لبنان کو بھی فوری طور پر شامل کیا جائے۔‘

    فرانس کے وزیر خارجہ جان نول باہوٹ کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے ’ناقابل قبول‘ ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے اس لیے بھی زیادہ ناقابل قبول ہیں کیونکہ اس نے امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ روز ہونے والی عارضی جنگ بندی کو نقصان پہنچایا۔

    سپین نے اسرائیل پر ’جنگ بندی‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ کا الزام لگایا ہے۔ سپین کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ تہران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی جانب سے آٹھ اپریل کو لبنان بھر میں بڑے پیمانے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں فوجی سرگرمیاں ’جنگ بندی اور خطے میں پائیدار اور جامع امن کی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

    اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ بدھ کے روز لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملے امریکہ، ایران جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں۔

  6. اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات، ریڈ زون کا کنٹرول فوج کے حوالے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی سیز فائر کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل دس اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے۔

    ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے دونوں ملکوں کے وفود اور سکیورٹی عملہ پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکراتی وفد کی سربراہی ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جبکہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد سینچر کے روز مذاکرات میں حصہ لے گا۔

    اس موقع پر اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے دو دن کی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    اس مذاکراتی عمل میں حصہ لینے والے افراد کو ریڈ زون میں واقع ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھرایا جا رہا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون کی حدود پھیلا کر زیرو پوائنٹ سے لیکر فیصل مسجد تک کے علاقے کو اس میں شامل کر لیا ہے۔

    ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاوس، ایوان صدر، پرائم منسٹر ہاوس کے علاوہ ڈپلومیٹک انکلیو بھی واقع ہے جہاں مختلف ملکوں کے سفارت خانے موجود ہیں۔

    وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ریڈ زون کا سکیورٹی کنٹرول فوج کے پاس ہوگا جبکہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی وہاں پر تعینات ہوں گے۔

    سکیورٹی کے نقطہ نظر سے ریڈ زون میں صرف سرکاری گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہے جبکہ ریڈ زون میں واقع وفاقی وزارتوں میں کام کرنے والے افراد کو کہا گیا ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران اپنے گھروں سے ہی ڈیوٹی کریں۔

    جڑواں شہروں میں تعطیل کی وجہ سے سکول اور کالجز بند ہیں جبکہ سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں مقدمات کی سماعت نہیں ہو گی۔

    اسلام آباد کے لیے خصوصی ٹریفک پلان بھی ترتیب دے دیا گیا ہے جس کے مطابق شہر میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی وے اور سرینگر ہائی وے کو اس وقت کچھ دیر کے لیے بند کر دیا جائے گا جب غیر ملکی وفود ایئر پورٹ سے ہوٹل کی طرف جائیں گے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے آج راولپنڈی میں کیا جانے والے احتجاجی جلسہ کو منسوخ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاجی جلسے کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے مطابق پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کے ایک جگہ اکھٹا ہونے پر پابندی ہے۔

    اس مذاکراتی عمل کی کوریج کے لیے انٹرنیشنل میڈیا نمائندے بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

    پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایکسٹرنل ونگ کے مطابق مختلف ممالک سے پچاس سے زیادہ صحافیوں نے ویزے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ مذاکراتی عمل کی کوریج کے حوالے سے کنوینشن سینٹر یا پاک چائنہ سینٹر میں انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

  7. ایرانی مذاکراتی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کریں گے: نائب وزیر خارجہ

    ایرانی مذاکراتی وفد کی سربراہی ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایرانی مذاکراتی وفد کی سربراہی ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکی مذاکراتی وفد کی قیادت کریں گے اور ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔

    اس سے قبل پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بتایا تھا کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔

    بی بی سی ٹوڈے پروگرام کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ رات پاکستان کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سنجیدہ ہے کیونکہ یہ ’ہمارے قومی مفاد میں ہے۔‘

    امریکہ کو جنگ اور سیز فائر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا، ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

    سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو انتخاب کرنا ہوگا کہ وہ جنگ چاہتا ہے یا امن۔

    بی بی سی ٹوڈے پروگرام کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بیک وقت یہ دونوں چیزیں نہیں کر سکتا۔

    سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے امریکہ اور ایران جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایران مشرق وسطی میں ہر ایک سے اس معاہدے کی پاسداری کرنے کو کہ رہا ہے... ’اور ہمیں توقع ہے کہ امریکہ بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنے کو کہے گا۔‘

    ایک سوال کے جواب میں کہ آیا اسرائیل کے حملے جاری رہنے کی صورت میں ایران مذاکرات سے دستبردار ہو جائے گا، ان کا کہنا تھا: ’اس وقت ہماری توجہ پورے مشرق وسطیٰ کی بہتری پر ہے۔‘

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ بدھ کے روز لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملے امریکہ، ایران جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں۔

  8. ایرانی وفد مذاکرات کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچے گا، ایرانی سفیر کی تصدیق

    ایرانی سفیر

    ،تصویر کا ذریعہِIranAmbPak

    پاکستان میں ایران کے سفیر نے تصدیق کی کہ تحفظات کے باوجود ایرانی وفد مذاکرات کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔

    جمعرات کے روز ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے ایران میں مذاکرات کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

    رضا امیری کا کہنا تاہم اس کے باوجود وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی وفد ایران کی جانب سے تجویز کردہ 10 نکاتی ایجنڈے پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔

    ایرانی سفیر کی جانب سے جاری بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس وفد میں کون کون شامل ہو گا۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہِIranAmbPak

    بعد ازاں انھوں نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی۔ تاحال ان کی جانب سے اس بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل گذشتہ رات وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بدھ کے روز وائٹ ہاوس میں پریس کانفرنس کے دوران کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کی اسلام آباد پہنچنے والی ٹیم میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔‘

  9. لبنان میں فوجی سرگرمیاں ’جنگ بندی اور امن کی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں‘: اقوامِ متحدہ

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی جانب سے آٹھ اپریل کو لبنان بھر میں بڑے پیمانے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ’تمام فریقین سے فوری طور پر کارروائیاں بند کرنے کی اپیل کی ہے۔‘

    سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ’سینکڑوں شہری بشمول بچے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، اور ساتھ ہی شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے‘۔

    انھوں نے ان حملوں میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں فوجی سرگرمیاں ’جنگ بندی اور خطے میں پائیدار اور جامع امن کی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا کہ ’تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہو سکتا۔‘

  10. اگر ’حتمی معاہدے‘ کی پوری طرح تعمیل نہیں ہوئی تو ’شوٹنگ‘ دوبارہ شروع ہو جائے گی: ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہCQ-Roll Call, Inc via Getty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ’حتمی معاہدے‘ کی پوری طرح تعمیل نہیں ہوئی تو ’شوٹنگ‘ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جب تک ایک حقیقی اور حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا تب تک پہلے سے تباہ شدہ دشمن کے خاتمے کے لیے ضروری تمام امریکی بحری اور ہوائی جہاز، اور فوجی عملہ اضافی گولہ بارود، ہتھیار، اور اس کے لیے درکار ہر چیز کے ساتھ ایران کے آس پاس موجود رہیں گے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر کسی بھی وجہ سے معاہدہ نہیں ہوتا ہے، جس کے امکانات بہت کم ہیں، تو ایسی صورت میں دوبارہ ’شوٹنگ شروع ہو جائے گی‘ جو پہلے سے کہیں بڑے پیمانے پر ہو گی۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس بات پر بہت پہلے اتفاق ہو چکا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی اور آبنائے ہرمز محفوظ آمدورفت کے لیے کھولا جائے گا۔

  11. آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے کیسے بچا جائے، پاسدارانِ انقلاب نے نقشہ جاری کر دیا

    ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہIslamic Revolutionary Guard Corps

    ایران کے سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا ارادہ رکھنے والے بحری جہازوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ’بحری حفاظت کے اصولوں پر عمل کریں اور سمندری بارودی سرنگوں سے محفوظ رہنے کے لیے متبادل راستے اختیار کریں۔‘

    پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں متبادل راستوں کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نقشہ بھی جاری کیا ہے۔

    نقشے کے مطابق بحیرہ عمان سے داخل ہونے والے بحری جہاز لاراک جزیرے کے شمال کی طرف جا سکیں گے اور پھر وہاں سے خلیج فارس کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکیں گے۔

    دوسری سمت جانے والے بحری جہاز خلیج فارس سے نکلتے ہوئے جزیرہ لاراک کے جنوب سے گزر کر بحیرہ عمان کی طرف جا سکتے ہیں۔

  12. اسلام آباد میں امریکہ، ایران جنگ بندی مذاکرات: ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند، شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کا حکم

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے غیر ملکی وفود کی اسلام آباد آمد کے باعث ٹریفک پولیس کی جانب سے شہر میں مختلف اوقات میں ڈائیورشن پلان ترتیب دیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل متبادل راستے استعمال کریں:

    • جی ٹی روڈ پشاور سے راولپنڈی آنے والے افراد فیصل موڑ، چکری، چک بیلی روڈ اور روات روڈ استعمال کریں
    • جی ٹی روڈ لاہور سے پشاور جانے والے شہری روات، چک بیلی روڈ، چکری، ٹیکسلا موٹروے استعمال کر سکتے ہیں
    • جی فائیو، ایف سکس اور جی سکس مارگلہ روڈ سے راولپنڈی جانے والے شہری 9th ایوینیو استعمال کریں
    • فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ جانے والی ٹریفک 9th ایوینیو کی طرف موڑ دی جائے گی
    • بھارہ کہو سے راولپنڈی جانے والے افراد کو کورنگ روڈ، بنی گالہ، لہتراڑ روڈ اور جی ٹی روڈ استعمال کرنے کا مشورہ
    • راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے شہری صدر روڈ سے 9th ایوینیو استعمال کریں
    • زیرو پوائنٹ فیصل ایونیو سے کورال چوک تک ایکسپریس وے دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند ہو گی
    • کرنل شیر خان روڈ سے فیصل ایونیو آنے والے شہری 9th ایوینیو سگنل سے سٹیڈیم روڈ استعمال کریں
    • پشاور سے لاہور جانے والے شہری براستہ ٹیکسلا موٹروے اور ترنول پھاٹک سے فتح جنگ موٹروے استعمال کر سکتے ہیں
    • لاہور جی ٹی روڈ سے اسلام آباد اور راولپنڈی جانے والی ہیوی ٹریفک چک بیلی روڈ سے چکری موٹروے استعمال کریں
    • نو اور دس اپریل کو اسلام آباد میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہوگا۔
    • ریڈ زون کے تمام راستے مکمل طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوں گے
  13. حزب اللہ کے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے، ’اسرائیلی امریکی جارحیت‘ بند ہونے تک کارروائیاں جاری رکھنے کی دھمکی

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل پر راکٹ فائر کیے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

    حزب اللہ نے لبنان کے خلاف ’اسرائیلی امریکی جارحیت‘ بند ہونے تک حملے جاری رکھنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

    بدھ کے روز اسرائیل نے اس تنازعے کے دوران لبنان پر اب تک کی شدید ترین بمباری کی جس میں کم از کم 182 افراد ہلاک ہو گئے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان اس بات پر اختلاف برقرار ہے کہ آیا لبنان جنگ بندی میں شامل ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ لبنان میں جنگ بندی 10 نکاتی تجاویز کا حصہ ہے تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کبھی لبنان میں جنگ بندی کا وعدہ نہیں کیا۔

  14. ٹرمپ کا جے ڈی وینس کی قیادت میں مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ: وائٹ ہاؤس

    ٹرمپ، جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد، پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بدھ کے روز وائٹ ہاوس میں پریس کانفرنس کے دوران کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کی اسلام آباد پہنچنے والی ٹیم میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ یہ مذاکرات مقامی وقت کے مطابق سنیچر کی صبح شروع ہوں گے اور مزید کہا کہ ’ہم ان بالمشافہ ملاقاتوں کے منتظر ہیں۔‘

    کیرولین لیویٹ کا مزید کہنا تھا کہ جے ڈی وینس اس مذاکراتی وفد کی قیادت کریں گے۔

  15. ایرانی صدر کی جنوبی ایران میں آئل ریفائنری پر حملے کی مذمت

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنوبی ایران میں واقع لاوان آئل ریفائنری پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    ارنا کے مطابق اس واقعے کو جنگ بندی کی ’متعدد خلاف ورزیوں‘ میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔‘

  16. جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے: فرانسیسی صدر

    فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے کہا ہے کہ ’امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

    انھوں ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’میں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کی اور دونوں رہنماؤں کے جنگ بندی پر رضامندی کے فیصلے کو بہترین قرار دیا ہے اور یہ امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، مکمل طور پر نافذ کی جائے گی۔‘

    فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ ’اس پیش رفت سے جامع مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی جو ایک طویل المدتی امن معاہدے تک لے جا سکتی ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’فرانس مشرقِ وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔‘

    میکخواں کے مطابق انھوں نے اس معاملے پر قطر، متحدہ عرب امارات، لبنان اور عراق کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل بدھ کے روز میکخواں نے دو فرانسیسی شہریوں سے ملاقات کی جو ایران میں تین سال سے زائد حراست کے بعد رہا ہوئے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے اور اسرائیل نے بدھ کے روز بھی لبنان کے دارالحکومت بیروت کو نشانہ بنایا اور ان حملوں میں 180 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

    لبنان کے وزیرِ اعظم نے اسرائیلی فضائی حملوں کی بڑی لہر کے بعد ’لبنان کے تمام دوست ممالک‘ سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کو ’تمام دستیاب ذرائع سے‘رکوانے میں مدد کریں۔

  17. لبنان میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 180 سے تجاوز کر گئی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق لبنان میں بدھ کو ہونے والے اسرائیلی فوج کے حملوں میں 180 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت، جنوبی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوں میں اب تک کے سب سے شدید حملے کیے ہیں۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے شور ہونے کے بعد سے اب تک بدھ کے روز حملوں میں سب سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    نیشنل نیوز ایجنسی نے وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا کہ 182 افراد ہلاک اور 890 زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک اور بیان میں لبنانی سول ڈیفنس ایجنسی کے حوالے سے کہا گیا کہ 254 افراد ہلاک اور 1165 زخمی ہوئے اور ان اعداد و شمار کی تصدیق ادارے کی جانب سے بی بی سی کو بھی کی گئی۔

    بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے ’بدھ کے روز لبنان کے گنجان آباد علاقوں میں ہونے والی تباہ کن حملوں اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں اور نقصان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔‘

    انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ’بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔‘

  18. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران اور امریکہ پاکستان کی درخواست پر دو ہفتے کے لیے مشروط جنگ بندی پر راضی ہوغءے
    • وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ٹیم میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔
    • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ معاہدہ ایران کے ساتھ ہوا ہے، لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
    • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘
    • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ نے لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے کا کبھی وعدہ نہیں کیا، لیکن شاید ایرانی ایسا ہی سوچ رہے ہوں۔
    • ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل 10 نکاتی تجاویز کی تین اہم شقوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے جن میں لبنان میں جنگ بندی نہ کرنے اور ایران کے یورینیم کی افزودگی کے حق سے انکار کے علاوہ ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی شامل ہیں۔
    • ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔
  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔