’میں نے حاملہ ہونے کی کوشش میں کچّے انڈے سے بال دھوئے‘: خواتین کی صحت اور انٹرنیٹ پر موجود گمراہ کن معلومات

    • مصنف, ہیلن رچرڈسن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

باربورا گرے کو حاملہ ہونے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ انھوں نے آن لائن ایک پوسٹ دیکھی اور کچّے انڈے سے اپنے بال دھو لیے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پہلی بار میں نے سوشل میڈیا پر موجود معلومات کو اپنی کمزوری کے احساس کے ساتھ اپنایا ۔ یہ صحت مند رویہ نہیں تھا۔‘

’جو چیز بالکل معصوم انداز میں شروع ہوئی تھی یعنی ترکیبیں دیکھنا، وہ اس حد تک جا پہنچی کہ میں شیمپو سے لے کر برتن دھونے کے لیے استعمال ہونے والی چیزوں تک ہر بات پر پریشان رہنے لگی تھی۔‘

جنوبی ٹینیسائڈ سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ خاتون نے اب ’شی تھرائیوز‘ کے نام سے ایک آن لائن پلیٹ فارم شروع کیا ہے جس کا مقصد خواتین کی صحت سے متعلق غلط تصورات کو رد کرنا ہے۔

یہ پلیٹ نہ صرف فارم ذہنی صحت، ماہواری اور حمل سے متعلق مسائل پر روشنی ڈالتا ہے، بلکہ شمال مشرقی انگلینڈ کی خواتین کو ان کی صحت سے متعلق درست اور شواہد پر مبنی معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک ’محفوظ جگہ‘ فراہم کرتا ہے۔

باربورا امید کرتی ہیں کہ شی تھرائیوز ’خواتین کے صحت پر بات کرنے کے انداز کو تبدیل کر دے گا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ انھیں 2024 میں ہیلتھ ایکویٹی نارتھ کی جانب سے جاری کی گئی ویمن آف دی نارتھ رپورٹ پڑھنے کے بعد تبدیلی لانے کا حوصلہ ملا۔

اس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ برطانیہ کے شمالی علاقوں میں رہنے والی خواتین کے زیادہ وقت تک کام کرنے کے امکانات ہوتے ہیں، وہ زیادہ صحت کے مسائل کا سامنا کرتی ہیں اور انھیں دوسرے علاقوں کی خواتین کے مقابلے میں گھریلو تشدد کا شکار ہونے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

باربورا، جو صحت کے شعبے میں کام کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ وہ ’جانتی تھیں کہ کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس ان تمام سوالات کے جوابات ہیں۔‘

شی تھرائیوز کو نارتھ ایسٹ اور نارتھ کمبریا این ایچ ایس انٹیگریٹڈ کیئر بورڈ، دی ناردرن ہیلتھ سائنس الائنس اور این ایچ ایس کے متعدد ٹرسٹس کی حمایت حاصل ہے۔

اسے اس خطے میں کام کرنے والے انفرادی طبی ماہرین کی بھی حمایت حاصل ہے، جو اس بات پر تشویش رکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر خواتین کو کس قسم کے مواد سے متاثر کیا جا رہا ہے۔

جنوبی ٹائنسائیڈ اور سنڈر لینڈ این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں کمیونٹی گائناکولوجی اور جنسی و تولیدی صحت کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر کیتھرین گلمور کہتی ہیں کہ وہ ’اکثر اوقات‘ ایسے مریض دیکھتی ہیں جنھوں نے غلط معلومات دیکھی ہوتی ہے۔

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ ’اس وقت خواتین کے لیے صحت کی سہولیات تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ وقت کی کمی ہے۔ تو پھر سوشل میڈیا ان کے لیے معلومات کے حصول کی بہترین جگہ بن جاتا ہے، ہے نا؟‘

اسی سبب انھیں اکثر غلط معلومات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر گلمور کے مطابق ’آپ واضح طور پر اُن مریضوں میں فرق محسوس کر سکتے ہیں جو اچھی طرح باخبر ہوتے ہیں اور اُن خواتین میں جنھوں نے خوف پھیلانے والی بہت سی کہانیاں دیکھی ہوتی ہیں۔ یہ واقعی تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔‘

ملک کے شمال مشرقی علاقے میں خواتین شی تھرائیوز کا خیرمقدم کرتی ہیں۔

جنوبی ٹینیسائڈ سے تعلق رکھنے والی کیٹ سکاٹ کہتی ہیں کہ ’جب میں خود ان سب حالات سے گزر رہی تھیں تو اس طرح کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ باربورا جو کچھ کر رہی ہیں وہ مستقبل میں میری بیٹی اور میرے پوتے پوتیوں کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔‘

سارہ میک ایون بھی اس پلیٹ فارم کی حمایت کرتی ہوئی نظرآتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’خواتین واقعی بہت محنت کرتی ہیں، اپنے خاندانوں کی پرورش کرتی ہیں اور فل ٹائم کام بھی کرتی ہیں، تو یہ (شی تھرائیوز) اس بات کو اُجاگر کر رہا ہے کہ ہمیں اپنی ذات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔‘

اسی خطے سے تعلق رکھنے والی الیسن کوئین کہتی ہیں کہ ’بہت سارے دوست آن لائن کچھ معلومات پڑھ کر پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایسے میں یہ پلیٹ فارم مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔‘