چین کا مُردوں کی باقیات دفنانے کے بجائے کثیر منزلہ رہائشی عمارتوں میں محفوظ رکھنے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان

    • مصنف, ایلا کِپلنگ
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

چینی حکومت ایک نیا قانون متعارف کروانے جا رہی ہے جس کے تحت شہری اپنے پیاروں کی باقیات (راکھ یا استھیاں) خالی اپارٹمنٹس (عمارتوں) میں نہیں رکھ سکیں گے۔

یاد رہے کہ چین میں قبرستان میں تدفین کی جگہ خریدنا ایک انتہائی مہنگا عمل ہے اور اسی لیے کئی چینی شہری اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرنے اور ان کی میتوں کو نذر آتش کرنے کے بعد اُن کی راکھ یا استھی عمارتوں میں موجود خالی فلیٹس میں رکھ دیتے ہیں۔

وہ عمارتیں جہاں باقیات رکھی جاتی ہیں انھیں ’بون ایش اپارٹمنٹس‘ کہا جاتا ہے۔

نیا قانون اس عمل کا خاتمہ کرے گا جو اس وقت چین میں تیزی سے عام ہو رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک بھر میں قبرستانوں میں جگہ کم پڑ رہی ہے جس کے باعث تدفین کے اخراجات حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

چین میں جائیداد کی کم ہوتی قیمتوں کے باعث بہت سے افراد کے لیے خالی اپارٹمنٹ خرید کر اُس میں اپنے عزیزوں کی راکھ یا باقیات رکھنا، جنازے اور تدفین پر اٹھنے والے مہنگے اخراجات ادا کرنے سے کہیں سستا ثابت ہوتا ہے۔

نئے قانون کے تحت رہائشی املاک (عمارتوں) کا ’راکھ رکھنے کی جگہ‘ کے طور پر استعمال کرنا ممنوع ہو گا، اور قبرستانوں یا تدفین کے لیے مختص جگہوں کے علاوہ کہیں بھی باقیات دفنانے پر پابندی عائد کی جائے گی۔

بون ایش اپارٹمنٹس وہ خالی رہائشی یونٹس ہوتے ہیں جنھیں مرنے والوں کے لواحقین ایک طرح کے مذہبی یا یادگاری ہال میں تبدیل کر دیتے ہیں، اور اس مقام پر مرحومین کی راکھ رکھی جاتی ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق ایسے اپارٹمنٹس کی نشاندہی اکثر کھڑکیوں اور دروازوں پر موجود بند پردوں یا سیل کی گئی کھڑکیوں سے ہو جاتی ہے۔

چین میں رہائشی پراپرٹی کی قیمتیں گذشتہ برسوں کے دوران واضح طور پر کم ہوئی ہیں۔

اندازوں کے مطابق سنہ 2021 کے مقابلے میں سنہ 2025 میں پراپرٹیز کی قیمت میں 40 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور شہری پراپرٹی کی انھی کم قیمتوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

دوسری جانب قبرستانوں میں جگہ محدود ہے اور وہاں تدفین کے لیے صرف عارضی لیز دی جاتی ہے جس کی تجدید ہر 20 سال بعد فیس کی ادائیگی کے ذریعے ہوتی ہے۔

بیجنگ کے چانگ پِنگ تیان شو قبرستان میں تدفین کے لیے مختص کم قیمت پلاٹس کی قیمتیں 10 ہزار یوان (لگ بھگ ساڑھے چار لاکھ پاکستانی روپے) سے شروع ہو کر دو لاکھ یوان (تقریباً81 لاکھ روپے) تک جاتی ہیں۔

جبکہ ایک معیاری قبر، جس کے سرہانے کتبہ نصب ہو سکے، کی قیمت تقریباً ڈیڑھ لاکھ یوان (تقریباً 61 لاکھ پاکستانی روپے) سے شروع ہوتی ہے اور تین لاکھ یوان (تقریباً ایک کروڑ 21 لاکھ سے زائد) تک جاتی ہے۔

جبکہ اس کے علاوہ جنازے کی تقریب پر اٹھنے والے اخراجات بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ برطانوی انشورنس کمپنی 'سن لائف' کے مطابق سنہ 2020 میں چین میں ایک جنازے کی اوسط لاگت ملک کی سالانہ اوسط تنخواہ کے تقریباً نصف کے برابر تھی (یعنی چھ ماہ کی تنخواہ)۔

تاہم اس قانون پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے قبرستان میں دستیاب پلاٹس کی بلند قیمتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر نئے قانون پر عمل درآمد کیسے ہو گا؟

ویبو پر ایک صارف نے لکھا: کہ ’اگر قبرستان میں دستیاب تدفین کے پلاٹس سستے ہوتے تو کون اس طریقے کا سہارا لیتا؟ (یعنی اپنے پیاروں کی باقیات کو اپارٹمنٹس میں رکھتا)۔‘

ایک اور صارف نے سوال کیا کہ 'حکام کیسے جانچیں گے کہ کوئی اپارٹمنٹ صرف راکھ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور ایسے معاملات سے نمٹا کیسے جائے گا؟

یہ پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہی دن بعد چین میں چنگ مِنگ فیسٹیول، جسے ٹومب سویپنگ ڈے بھی کہا جاتا ہے، منایا جائے گا۔

اس موقع پر لوگ اپنے مرحوم عزیزوں کی قبروں کی صفائی کرتے ہیں اور روایتی نذرانے پیش کرتے ہیں۔

منگل کے روز چین کی سٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن اور وزارتِ شہری امور نے فیونرل انڈسٹری کے لیے بھی نئے اور سخت قواعد کا اعلان کیا۔ یہ اعلان جنازوں پر بڑھتی ہوئی لاگت کے حوالے سے عوامی تشویش کے بعد سامنے آیا ہے۔

حکام نے کہا کہ وہ دھوکے بازی اور قیمتوں میں عدم شفافیت کے خلاف سخت اقدامات کریں گے تاکہ ’عوام پر جنازوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔‘