آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا واقعی تناؤ آپ کی جلد کو متاثر کر سکتا ہے؟
کیا آپ کو گھر بدلنے کے بعد اچانک مہاسے نکل آئے؟ یا بریک اپ کے دوران ایگزیما اچانک بڑھ گیا؟ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔
(خیال رہے ایگزیما ایک طبی حالت ہے جس میں جلد پر سوجن، خارش، سرخی، خشک پن اور کبھی کبھی چھالے یا چھلکنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں)
یہ بات طویل عرصے سے تسلیم کی جاتی رہی ہے کہ تناؤ ہماری جلد پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لیکن پچھلے چند دہائیوں میں تحقیق نے دماغ اور جلد کے اس تعلق کو گہرائی سے سمجھا ہے، جس سے تناؤ اور جلد کی بیماریوں کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تناؤ جلد پر کئی منفی اثرات ڈال سکتا ہے، جیسے مہاسوں کا بڑھ جانا، جلد کا خشک اور حساس ہونا، انفیکشن کے خطرے میں اضافہ اور ایگزیما، سورائسس جیسی بیماریوں کی شدت میں اضاف شامل ہے۔
لندن میں مقیم سائیکوڈرمیٹولوجسٹ ڈاکٹر عالیہ احمد کہتی ہیں، ’آپ کی جلد جسمانی اور جذباتی دونوں طرح کے تناؤ سے متاثر ہوتی ہے۔‘
سائیکوڈرمٹولوجی ایک نیا ابھرتا ہوا شعبہ ہے جو دماغ اور جلد کو ایک ساتھ دیکھتا ہے۔
ڈاکٹر عالیہ نہ صرف اپنے مریضوں کی جسمانی علامات بلکہ ان کی ذہنی حالت کا بھی جائزہ لیتی ہیں۔ وہ ایسے سوالات پوچھتی ہیں جیسے: موڈ، وہ کتنی بار فکر مند یا رونا محسوس کرتے ہیں، نیند کے انداز اور خوراک اور ورزش کے متعلق وغیرہ۔
ڈاکٹر احمد کہتی ہیں ’جلد کے ماہرین اکثر جاسوسوں کی طرح محسوس کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسم کا سب سے بڑا عضو ہونے کی وجہ سے جلد کی حالت انسان کی مجموعی صحت کا اچھا اشارہ دے سکتی ہے۔
تناؤ جلد کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
دماغ اور جلد دونوں ابتدائی جنینی مراحل میں ایک ہی قسم کی خلیات سے تیار ہوتے ہیں، اسی لیے یہ دونوں گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔
جب ہم تناؤ محسوس کرتے ہیں، تو دماغ ایک سلسلہ شروع کرتا ہے جس سے کورٹیسول اور ایڈرینالین جیسے ہارمون خون میں خارج ہوتے ہیں۔
چھوٹی مقدار میں یہ ’فائٹ اور فلائٹ‘ کا ردعمل پیدا کرتے ہیں جو ہمیں زیادہ چوکس اور فعال بناتا ہے۔ لیکن جب یہ زیادہ ہو جاتے ہیں، تو یہ ہارمون سوزش بڑھاتے ہیں، جس سے سوزشی جلدی بیماریوں کی شدت بڑھ جاتی ہے۔
یہ ہارمون جلد کی بیرونی حفاظتی تہہ کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً نمی جلد سے باہر نکل جاتی ہے اور پولن، خوشبو وغیرہ جیسے محرکات اندر داخل ہو جاتے ہیں، جس سے جلد خشک اور حساس ہو جاتی ہے۔
ساتھ ہی، تناؤ جلد میں اینٹی مائیکروبیل پیپٹائیڈز یعنی وہ چھوٹے ذرّات جو بیکٹیریا اور وائرس کو مارنے کا کام کرتے ہیں، کی پیداوار کو کم کر دیتا ہے، جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کچھ مطالعات میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ تناؤ مہاسوں کو بڑھا سکتا ہے کیونکہ یہ جلد کا تیل یعنی سیبم زیادہ پیدا کرتا ہے، جو مسام کو بند کر دیتا ہے۔
ڈاکٹر احمد کہتی ہیں کہ تناؤ نیند خراب کر دیتا ہے، اور جب اچھی نیند نہیں آتی تو جلد اپنی مرمت اور تحفظ کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔
نقصان دہ سائیکل
تناؤ جلد کے خلیات کو ہسٹامین جیسے کیمیائی مادے خارج کرنے پر اُکساتا ہے، جس سے خارش ہوتی ہے۔
ڈاکٹر احمد کہتی ہیں، ’خارش ہوتی ہے، آپ کھجلاتے ہیں، جلد مزید خراب ہوتی ہے، پھر اور زیادہ خارش ہوتی ہے۔ پھر آپ خود سے پریشان ہو جاتے ہیں کہ میں کھجلا کیوں نہیں روک پا رہا۔ اس سے تناؤ بڑھتا ہے، جو پھر خارش کو اور بڑھا دیتا ہے۔‘
جلد کے مسائل خود بھی تناؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایگزیما میں خارش کی وجہ سے نیند نہیں آتی، لوگ تبصرے کرتے ہیں، آپ اداس ہو جاتے ہیں اور تناؤ بڑھنے سے مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے، اور یہی چکر چلتا رہتا ہے۔
لیکن کیا تناؤ کم کرنے سے فائدہ ہوتا ہے؟
یل یونیورسٹی کی پروفیسر راجیتا سنہا کہتی ہیں، ’تناؤ اس وقت نقصان دہ ہو جاتا ہے جب ہمیں لگنے لگے کہ ہم اسے قابو نہیں کر سکتے۔‘
ایسی صورتحال میں سر درد، معدے کے مسائل، بھولنا، چڑچڑاپن یا نیند نہ آنا جیسے علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
وہ مشورہ دیتی ہیں کہ مدد لیں اور زیادہ ورزش کریں۔ باقاعدہ ورزش کورٹیسول کی سطح کو نارمل رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ سخت ورزش تناؤ کے دوران کورٹیسول میں اضافے کو بھی قابو میں رکھ سکتی ہے۔
پروفیسر سنہا مائنڈفلنس میڈیٹیشن کی بھی تجویز دیتی ہیں۔
باقاعدہ مشق سے دماغ کا پری فرنٹل کارٹیکس مضبوط ہوتا ہے، جو سوچ سمجھ اور فیصلے کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔
کچھ مطالعات میں مائنڈفلنس تھراپی سے سورائسِس جیسے امراض میں جلد کی حالت اور زندگی کے معیار دونوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
کیا آپ واقعی تناؤ کا شکار ہیں؟
ڈاکٹر احمد اپنے مریضوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ مختلف طریقے آزمائیں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ ان کے لیے کون سا سب سے مؤثر ہے۔
یہ طریقے مثلاً سونے سے پہلے بستر پر آرام دہ ورزش، فعال لوگوں کے لیے واکنگ میڈیٹیشن، یا زیادہ سوچنے والے افراد کے لیے گراؤنڈنگ تکنیک ہو سکتے ہیں۔
لیکن وہ خبردار کرتی ہیں کہ اصل میں آرام کرنا اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔
ڈاکٹر احمد کہتی ہیں، ’میری کلینک میں بہت سے ہائی پرفارمنس لوگ آتے ہیں، چاہے دفتر کا کام ہو یا گھر پر بچوں یا بزرگ والدین کی دیکھ بھال۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ یہ لوگ جِم جاتے ہیں یا روز واک کرتے ہیں، لیکن جب میں پوچھتی ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان سرگرمیوں کے دوران بھی اپنے کام کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر احمد کہتی ہیں، ’ان سرگرمیوں کے دوران آپ کا دماغ بھی آرام کرے، یہ ضروری ہے۔‘
ڈاکٹر احمد آگے کہتی ہیں کہ تناؤ کم کرنے کے ساتھ ساتھ جلد کو ’چھوٹی چھوٹی ہر چیز‘ کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے صحیح سکِن کیئر، ضروری ادویات، اچھا کھانا، اچھی نیند، اور صحت مند طرزِ زندگی۔
اسے طویل عرصے تک جاری رکھنا ضروری ہے، تب ہی جلد میں مسلسل بہتری آتی ہے۔ پھر آپ خود ہی سمجھنے لگتے ہیں کہ آپ کی جلد کے مسائل کے اصل محرکات کیا ہیں۔
سائیکوڈرمیٹولوجی کا مجموعی نقطہ نظر صرف جلد ہی نہیں، بلکہ دماغ کو بھی بہتر بناتا ہے۔
ڈاکٹر احمد بتاتی ہیں، ’میں نہ صرف اپنے مریضوں کی جلد میں بہتری دیکھتی ہوں، بلکہ وہ خود بھی بتاتے ہیں کہ ان کا دماغ بھی زیادہ پرسکون اور خوش محسوس کر رہا ہے۔‘