’بانس کھا کر کیسے جیتے ہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہPaul Sutherland
سائنس دانوں نے بڑے بڑے پانڈوں کے صرف بانس کھا کر زندہ رہنے کے پیچھے اہم وجہ معلوم کر لی ہے۔
تحقیق کاروں کو پتہ چلا ہے کہ پانڈے بانس کی چھوٹی ٹہنیوں اور پتوں پر اس لیے گزارہ کر لیتے ہیں کہ وہ انتہائی کم مقدار میں توانائی صرف کرتے ہیں۔
ایک بالغ پانڈہ اپنی جسامت کے دیگر جانوروں کے مقابلے میں تقریباً اڑتیس فیصد کیلوریز خرچ کرتا ہے۔
سائنس دانوں کو معلوم ہوا ہے کہ اس ریچھ کی سست روی کا تعلق تھائی روڈ ہارمونز کی کم سطح سے جڑا ہوا ہے۔
سائنس دانوں کو طویل عرصے سے اس بات میں گہری دلچسپی تھی کہ کالے اور سفید رنگ کا یہ ممالیہ جانور بانس جیسی مشکل سے ہضم ہونے والی خوراک پر کیسے جیتا ہے گو کہ اس کے معدے میں ہر قسم کی غذا کھانے والے جانوروں کے بکٹیریا آج بھی پائے جاتے ہیں۔ پانڈے ایسے ہے جانوروں کی ارتقائی شکل ہے۔
تاہم نئی تحقیق اس راز پر روشنی ڈالتی ہے۔
تحقیق کاروں نے پانچ زیرِ نگرانی اور تین جنگل میں رہنے والے پانڈوں میں روزانہ کی بنیاد پر توانائی کے استعمال اور خرچ کو دیکھا۔
انھوں نے دیکھا کہ پانڈے اپنے ہم جسم دیگر ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں 38 فیصد توانائی صرف کرتے ہیں۔ ریچھ کی شکل کا سست رو آسٹریلوی جانور پانڈوں کے مقابلے میں 69 فیصد توانائی استعمال کرتا ہے اور اتنی توانائی کا استعمال اس کی جسامت کے دیگر جانوروں میں عام ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پانڈوں کے سست اطوار کا براہِ راست موازنہ جنوبی امریکہ کے تین پنجوں والے کاہل ممالیوں سے ہے جن میں توانائی کا استعمال پانڈوں کی طرح بہت کم ہے۔
جب تحقیق کاروں نے پانڈوں کی حرکت کی رفتار کی پیمائش کی تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ صرف 49 فیصد وقت میں متحرک ہوتے ہیں۔ جب یہ پانڈے حرکت کرتے ہیں تو ان کی اوسط رفتار ایک گھنٹے میں بیس میٹر سے بھی کم ہے۔
پروفیسر جان سپیکمین ایبرڈین یونیورسٹی اور چائنیز اکیڈمی آف سائنسز میں پانڈوں پر کی جانے والی اس تحقیق کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پانڈے جسمانی حرکت پر بہت کم توانائی خرچ کرتے ہیں چنانچہ ان میں بہت سی توانائی بچ جاتی ہے۔ لیکن ان کے میٹا بولزم کی رفتار کم ہونے کی وجہ صرف ان میں حرکت کی کمی ہی نہیں بلکہ ایک متحرک پانڈے کے میٹا بولزم کی رفتار مکمل طور پر ساکن انسان کی نسبت بھی کم ہے۔ ‘
پروفیسر جان کے مطابق ’ہمیں پتہ چلا ہے کہ پانڈوں میں میٹابولزم کی سست رفتار کا تعلق تھائی رائڈ ہارمونز کی انتہائی کم سطح سے بھی ہے۔اور یہ تھائی رائڈ ہارمونز کی اس جنیاتی تبدیلی سے متعلق ہے جو صرف پانڈوں میں ہی پائی جاتی ہے۔‘
قید میں رکھے گئے پانڈے متحرک پانڈوں سے بھی کم حرکت کرتے ہیں۔ جتنی دیر ان پر تحقیق کی گئی اس میں ان پانڈوں نے اپنی پیٹھ صرف ایک تہائی مرتبہ اٹھائی۔
تحقیق کاروں نے یہ بھی دریافت کیا کہ پانڈوں کا دماغ، جگر اور گردے دیگر ریچھوں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق چین کے جنگلوں میں تقریباً 1800 پانڈے باقی ہیں۔ یہ تحقیقات سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔





















