وہ 40 منٹ جب آرٹیمس دوم کے عملے کا زمین سے رابطہ ختم ہو جائے گا

NASA

،تصویر کا ذریعہNASA

    • مصنف, ریبیکا مورل، ایلیسن فرانسس، کیون چرچ
    • عہدہ, جانسن سپیس سینٹر
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

اس وقت زمین سے کوئی بھی انسان آرٹیمس دوم کے خلا بازوں سے زیادہ دور نہیں۔

لیکن جہاں زمین سے ان کا فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے، امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں موجود مشن کنٹرول سے ان کا رابطہ مسلسل برقرار رہا ہے اور ناسا کے اہلکاروں کے سکون بخش الفاظ خلائی جہاز کے عملے کے لیے گھر سے ایک تسلی بخش ربط جیسے ہیں۔

لیکن یہ ربط بھی ختم ہونے والا ہے۔

جب خلا باز پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی صبح چار بجے کے قریب چاند کے عقب سے گزریں گے، تو خلائی جہاز اور زمین کے درمیان رابطے کی وجہ بننے والے ریڈیو اور لیزر سگنلز چاند کے درمیان میں آنے کی وجہ سے بند ہو جائیں گے۔

یہ سلسلہ تقریباً 40 منٹ تک جاری رہے گا اور اس دوران چاروں خلا باز اپنے خیالات اور جذبات کے ساتھ، خلا کی تاریکی میں سفر کرتے ہوئے اکیلے ہوں گے۔ یہ تنہائی اور خاموشی کا ایک عمیق لمحہ ہو گا۔

آرٹیمس کے پائلٹ وکٹر گلوور نے ہمیں بتایا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ دنیا اس وقت کو ایک ساتھ جڑنے کے لیے استعمال کرے گی۔

انھوں نے مشن سے پہلے بی بی سی نیوز کو بتایا ’جب ہم چاند کے پیچھے ہوں گے، سب سے دور ہوں گے، تو اسے ایک موقع سمجھیں۔ آئیے دعا کریں، امید کریں، اپنے اچھے اور پرامید خیالات اور جذبات بھیجیں کہ ہم عملے سے دوبارہ رابطے میں آئیں۔‘

A picture of the Earth from space, which centres the planet against the dark background of space. It's a round blue planet. Clouds can be seen and a thin green aurora at the top.

،تصویر کا ذریعہNasa/Reid Wiseman

،تصویر کا کیپشنآرٹیمس دوم کی جانب سے لی گئی زمین کی نئی تصویر

50 سال سے زیادہ پہلے، اپالو کے خلا بازوں نے چاند پر اپنے مشن کے دوران سگنل ختم ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تنہائی کا بھی سامنا کیا۔

اور شاید اپالو 11 کے مائیکل کولنز سے زیادہ یہ محسوس کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

1969 میں، جب نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرن چاند کی سطح پر پہلے قدم اٹھا کر تاریخ رقم کر رہے تھے، کولنز کمانڈ ماڈیول میں اکیلے تھے جو چاند کے گرد مدار میں تھا۔

جب ان کا جہاز عقبی حصے کے پیچھے سے گزرا، تو چاند کی سطح پر موجود دونوں خلابازوں اور مشن کنٹرول کے ساتھ کولنز کا رابطہ 48 منٹ کے لیے کٹ گیا تھا۔

انھوں نے اس تجربے کو اپنی 1974 کی یادداشت ’کیریئنگ دی فائر‘ میں بیان کیا، اور کہا کہ انھوں نے خود کو ’واقعی تنہا‘ اور ’کسی بھی جانی پہچانی زندگی سے الگ تھلگ‘ محسوس کیا لیکن انھیں خوف یا تنہائی محسوس نہیں ہوئی۔

بعد میں دیے گئے انٹرویوز میں، انھوں نے ریڈیو سے رابطے میں تعطل کی وجہ سے پیدا ہونے والے سکون کی وضاحت کی، کہا کہ یہ مشن کنٹرول کی مسلسل درخواستوں سے وقفہ فراہم کرتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ادھر زمین پر موجود ان افراد کے لیے یہ تناؤ کا وقت ہوگا جن کا کام ہی خلائی جہاز سے رابطہ برقرار رکھنے کا ہے۔

انگلینڈ کے جنوب مغرب میں کارن ول کے گون ہلی ارتھ سٹیشن میں، ایک بہت بڑا اینٹینا اورین کیپسول سے سگنلز جمع کر رہا ہے۔ وہ اس کی پوزیشن پر نظر رکھ رہا ہے اور یہ معلومات ناسا ہیڈکوارٹر کو بھیج رہا ہے۔

گون ہلی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر میٹ کوسبی نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ پہلی بار ہے کہ ہم انسانوں والے خلائی جہاز کو ٹریک کر رہے ہیں۔‘

’جب یہ چاند کے عقب میں جائے گا تو ہم تھوڑے پریشان ہوں گے اور پھر جب ہم اسے دوبارہ دیکھیں گے تو بہت خوش ہوں گے، کیونکہ ہمیں معلوم ہو گا کہ وہ سب محفوظ ہیں۔‘

لیکن امید ہے کہ یہ مواصلات کا تعطل جلد ہی ماضی کی بات بن سکتی ہے۔ کوسبی بتاتے ہیں کہ یہ اس وقت ضروری ہو جائے گا جب ناسا اور دنیا بھر کے دیگر خلائی ادارے چاند پر اڈے بنانا شروع کریں گے اور دریافت کے پروگرامز میں اضافہ کریں گے۔

’چاند پر پائیدار موجودگی کے لیے آپ کو ہمہ وقت رابطے کی ضرورت ہے۔ آپ کو پورے 24 گھنٹے چاہییں، چاہے آپ عقبی جانب بھی ہوں کیونکہ وہ علاقہ بھی دریافت ہونا چاہے گا۔‘

Astronaut Michael Collins looks up towards a portal inside the Apollo 11 module

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشنمائیکل کولنز کا چاند کی سطح پر موجود دونوں خلابازوں اور مشن کنٹرول کے ساتھ رابطہ 48 منٹ کے لیے کٹ گیا تھا

یورپی خلائی ایجنسی کے مون لائٹ جیسے پروگرام چاند کے گرد مصنوعی سیاروں کا ایک نیٹ ورک بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں مسلسل اور قابل اعتماد مواصلاتی کوریج فراہم کی جا سکے۔

آرٹیمس دوم کے خلا بازوں کے لیے، زمین سے رابطے کے بغیر وقت گزارنا انھیں چاند پر اپنی تمام توجہ مرکوز کرنے کی اجازت دے گا۔

وہ بلیک آؤٹ کے دوران چاند کا مشاہدہ کریں گے، تصاویر لیں گے، چاند کی ارضیات کا مطالعہ کریں گے یا پھر بس اس کی شان و شوکت کو دیکھتے رہیں گے۔

جب وہ چاند کے سائے سے نکلیں گے اور وہ رابطہ دوبارہ جڑے گا، تو دنیا اجتماعی طور پر سکون کی سانس لے گی اور تاریخ ساز خلا باز اپنے حیرت انگیز تجربے زمین پر موجود افراد کے ساتھ بانٹ سکیں گے۔