’بُلٹ پروف جیکٹ گینگ‘: اسلام آباد میں کاروباری شخصیت عامر اعوان کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث گروہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کاروباری شخصیت عامر اعوان کے قتل کے سلسلے میں گرفتار ملزمان کی اڈیالہ جیل میں شناخت پریڈ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
وفاقی پولیس کا دعویٰ ہے کہ وقوعہ کی شب عامر اعوان کے فارم ہاؤس میں موجود اُن کے ملازمین نے، جن سے مسلح افراد نے اسلحہ چھین کر یرغمال بنایا تھا، حراست میں لیے گئے مبینہ ڈاکوؤں کو شناخت کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ 30 مارچ کو رات تقریباً ڈھائی بجے بُلٹ پروف جیکٹس پہنے نامعلوم ملزمان نے عامر اعوان کو اُن کے فارم ہاؤس میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ عامر اعوان کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر قتل کیا گیا تھا۔
اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانچ اسلحے سے لیس نامعلوم افراد عامر اعوان کے گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ ملزمان نے اس موقع پر بُلٹ پروف جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں۔
اس قتل کا مقدمہ شہزاد ٹاؤن تھانے میں عامر اعوان کی بیوہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ پیش آنے کے اگلے ہی روز اسلام آباد کی انسپیکٹر جنرل (آئی جی) ناصر رضوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں اس قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس واردات میں ’منصور خان گروپ‘ ملوث ہے، جسے ’بُلٹ پروف گینگ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اسلام آباد میں جرائم پیشہ افراد کے اِس گروپ کا نام سُنا گیا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق اُن کے لیے یہ نام نیا نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منصور خان گروپ کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہIslamabad Police
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
طلال چوہدری نے منگل کی شام میڈیا کو بتایا تھا کہ یہ ایک بین الصوبائی جرائم پیشہ گروہ ہے، جو کہ خیبرپختونخوا میں بھی ایسی ہی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔
بی بی سی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ گروہ کب منظر عام پر آیا اور ماضی میں کن کن بڑی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس کے ایک افسر نے تصدیق کی کہ منصور خان گروہ پہلی مرتبہ سنہ 2019 میں اُس وقت نظروں میں آیا تھا جب شب قدر کے علاقے میں ایک تاجر کے گھر ڈکیتی کے دوران دو افراد قتل ہوئے۔
خیبر پختونخوا پولیس کے محکمہ انویسٹگیشن کے اہلکار نصر اللہ خان کے مطابق ڈکیتی کی یہ وارات تھانہ شب قدر کے علاقے میں ہوئی تھی، جس میں ایک مقامی تاجر کو مزاحمت پر مبینہ طور پر اس گینگ کے کارندوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش کے دوران پولیس نے چند مشکوک افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں سے دو لوگ منصور گینگ کا حصہ تھے۔
نصر اللہ کے مطابق قتل اور ڈکیتی کے اس مقدمے کی تفتیش کے دوران حراست میں لیے گئے افراد اور پولیس کے ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ اس جرائم پیشہ گروہ کی بنیاد عبداللہ منصور نامی ایک افغان باشندے نے سنہ 2019 میں اُس وقت رکھی تھی جب لڑائی جھگڑے سے متعلق ایک مقدمے میں وہ دو برس قید کی سزا کاٹ کر جیل سے رہا ہوا تھا۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ انویسٹگیشن کے افسر کا دعویٰ ہے کہ شب قدر میں پیش آنے والے واقعے کے دوران پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ اس گروپ کے اراکین میں زیادہ تر افغان باشندے شامل ہیں اور بعد میں اس میں دیگر جرائم پیشہ عناصر نے بھی شمولیت اختیار کی۔
اُن کے مطابق منصور خان گروہ کے حوالے سے تفتیش میں اب تک جو باتیں سامنے آئیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ امیر کاروباری افراد کو نشانہ بناتا ہے اور ہدف کی مکمل طور پر ریکی کی جاتی ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق اس گینگ کے ارکان خیبر پختونخوا کے علاوہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی وارداتیں کرتے رہے ہیں اور ماضی میں اس گروہ کا نام سامنے آتا رہا ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس کے اہلکار کے مطابق ’پولیس کو اپنے مخبروں سے جو اطلاعات موصول ہوتی تھیں ان کے مطابق ایک وقت میں منصور خان گینگ کے ارکان کی تعداد 25 سے زیادہ ہو گئی تھی اور اس گینگ کا ہر گروپ کم از کم چار ارکان پر مشتمل ہوتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب ان سے پوچھا گیا کہ منصور گروپ ’بلٹ پروف گروپ‘ کے نام سے کب مشہور ہوا، تو پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ’دو سال پہلے لوئر دیر میں ایک ورادات ہوئی تھی جس میں یہ بات سامنے ائی تھی کہ واردات کے دوران ملزمان نے بلٹ پروف جیکٹس بھی پہنی ہوئی تھی۔‘
’جب اس مقدمے میں ملزمان کو گرفتار کیا گیا تو انھوں نے بھی اس بات کا انکشاف کیا کہ ان کا تعلق منصور خان گروپ سے تھا۔‘
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں بھی کاروباری شخصیت عامر اعوان کے گھر میں داخل ہونے والے کچھ افراد کو بُلٹ پروف جیکٹس پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ علی ناصر رضوی نے بھی منگل کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ اس گروہ کے ارکان اس لیے بلٹ پروف جیکٹس پہنتے تھے کیونکہ انھیں خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ واردات کے دوران کہیں ان پر جوابی فائرنگ نہ کر دی جائے۔
عامر اعوان کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے عامر اعوان کے قتل میں ملوث پانچ ملزمان کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر گرفتار کیا ہے، جن میں دو افغان باشندے بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ملزمان میں سے ایک سے عامر اعوان کے فارم ہاؤس کے سکیورٹی گارڈ سے چھینا گیا موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق قتل کے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے 17 ٹیمیں تشکیل دی گئیں تھیں جبکہ قتل کے اس مقدمے میں مجموعی طور پر 93 افراد سے تفتیش کی گئی اور 31 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
عامر اعوان کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان شناخت پریڈ کے بعد اب پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے ایس پی انویسٹگیشن عمثان بٹ کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں نہ صرف مقتول کی بیوہ کا بیان مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے بلکہ مقتول کے گھریلو ملازمین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ایس ایس پی انوسٹیگیشن نے عامر اعوان کے قتل کے واقعہ میں دیگر افراد کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔
قتل کی اس واردات کے بعد یہ سوال بھی اُٹھ رہا تھا کہ ڈکیتیی کی نیت سے فارم ہاؤس میں داخل ہونے والے ملزمان سکیورٹی گارڈ کے موبائل فون کے علاوہ دیگر سامان کیوں لے کر نہیں گئے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے آئی جی علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ چونکہ مقتول کے سکیورٹی گارڈز نے فائرنگ کر دی تھی اس لیے ملزمان جلد بازی میں فرار ہوئے۔
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
تھانہ شہزاد ٹاون میں مقتول عامر اعوان کی بیوہ کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ وہ 30 مارچ کی رات کو اپنے کمرے میں سو رہے تھیں کہ رات ڈھائی بجے کے قریب ان کی آنکھ شور شرابے سے کھل گئی اور انھوں نے دیکھا کہ تین افراد ان کے شوہر کے ساتھ ہاتھا پائی کر رہے تھے جبکہ دو افراد کھڑکی کے باہر موجود تھے۔
انھوں نے کہا کہ اسی دوران ملزمان نے فائر کیا جو کہ عامر اعوان کے پیٹ میں لگا، جس کے بعد وہ زمین پر گر پڑے۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ فائرنگ کے بعد ملزمان جائے حادثہ سے فرار ہو گئے اور اس کے بعد ان کے سکیورٹی گارڈ وہاں پر آئے اور انھوں نے بتایا کہ ملزمان جاتے ہوئے ان سے گن اور موبائل فون چھین کر لے گئے ہیں۔
اس مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملزمان کے فرار ہونے کے بعد گھر کے ملازمین اور سکیورٹی گارڈ وہاں پر آ گئے اور بتایا کہ ڈاکو فرار ہوتے وقت ان میں سے دو افراد کو کمرے میں بند کر گئے تھے۔



























