’آپریشن ابھی بند نہیں ہوا‘: پہلگام حملے کی برسی سے قبل انڈین وزیر دفاع کی دھمکی اور خواجہ آصف کا جواب

راج ناتھ سنگھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے انڈین ہم منصب راج ناتھ سنگھ پر الزام لگایا ہے کہ وہ پہلگام واقعے کے ایک سال بعد اپنے سیاسی مفادات کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی کہ ’آپریشن (سندور) ابھی بند نہیں ہوا۔۔۔ پاکستان کی طرف سے کسی قسم کی ناپاک حرکت ہوئی تو ہماری فوج اس کا منھ توڑ جواب دے گی جو وہ کبھی بھول نہیں پائیں گے۔‘

اس پر خواجہ آصف نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان امن اور علاقائی استحکام چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔

گذشتہ روز انڈین نیوی چیف ایڈمرل دنیش کمار تریپاٹھی نے کہا تھا کہ گذشتہ سال مئی کے دوران انڈین بحریہ سمندر کے ذریعے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے سے 'چند منٹ دور تھی جب انھوں نے جنگ بندی کی درخواست کی۔'

راج ناتھ سنگھ کا بیان اور خواجہ آصف کا ردعمل

جمعرات کو ترووانتاپورم میں ’سینک سمان سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے کسی قسم کی ’ناپاک حرکت‘ کی کوشش کی تو انڈین مسلح افواج اس کا ’منھ توڑ جواب دے گی۔‘

انھوں نے گذشتہ سال اپریل میں کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر حملے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’آپریشن ابھی بند نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آپریشن سندور کے دوران افواج نے صرف 22 منٹ میں پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا اور یہ انڈین فوج کی تاریخ میں دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی کارروائی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ 2014 میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد انڈیا کا دہشت گردی سے نمٹنے کا رویہ تبدیل ہوا۔ ’گذشتہ 11 برسوں میں وزیرِاعظم مودی نے قومی سلامتی کو مضبوط کیا ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے حوالے سے اپنا رویہ اور ردِعمل تبدیل کیا۔ دنیا نے یہ تبدیلی آپریشن سندور کے دوران دیکھی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

انڈین وزیرِ دفاع نے کہا کہ پہلگام حملے میں 26 شہریوں کی ہلاکت کے ذریعے انڈیا کے ’سماجی تانے بانے اور اتحاد پر حملہ کیا گیا تھا۔‘

راج ناتھ سنگھ نے کانگریس جماعت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ 10 سال کے دوران اس کا شدت پسندی کے خلاف جواب صرف ڈوزیئر جمع کرانے تک محدود تھا۔

’آج کا انڈیا دہشت گردی کے بارے میں زیرو ٹالرنس رکھتا ہے۔ ہم انڈیا کے اندر یا سرحد پار کہیں بھی کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔‘

پاکستانی وزیر دفاع نے ایکس پر اس کا جواب دیا ہے۔ وہ راج ناتھ سنگھ کے ایکس اکاؤنٹ کو ٹیگ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی ’اشتعال انگیز بیان بازی طاقت کی علامت نہیں بلکہ اُس واضح تزویراتی بے چینی کا اظہار ہے جو پہلگام میں رچائے گئے فالس فلیگ آپریشن کی برسی قریب آتے ہی نمایاں ہو رہی ہے۔‘

’یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو بین الاقوامی جانچ پڑتال کے سامنے ٹک نہیں سکا اور اس نے نئی دہلی کے خود ساختہ بحران سازی پر انحصار کو بے نقاب کر دیا۔‘

پہلگام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خواجہ آصف نے کہا کہ ’ایسی دھمکی آمیز تقاریر کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ایک پیشگی رجحان کا حصہ ہیں۔ اندرونی کمزوریوں کو بیرونی خطرات سے جوڑنے کی کوشش اور سیاسی مفاد کے تحت بے بنیاد الزامات کا سہارا لے کر حالات کو بگاڑنے کی کوشش ہے۔‘

پاکستانی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج کا آپریشن ’معرکۂ حق آج بھی ہماری یادداشت میں تازہ ہے۔ اگلی بار ہمارا ردِعمل مزید مضبوط، زیادہ فیصلہ کن اور کہیں زیادہ بھرپور ہوگا۔‘

’کوئی ابہام نہ رہے۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا پُرعزم حامی ہے لیکن اپنی خودمختاری کے دفاع کے معاملے میں اس کا عزم کامل، تیاری مکمل، اور ردِعمل تیز، سوچا سمجھا اور فیصلہ کن ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں راج ناتھ سنگھ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش محض خام خیالی ہے اور اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔‘

’انڈیا کے لیے زیادہ بہتر یہی ہوگا کہ وہ اپنے اس بڑھتے ہوئے تزویراتی اور سفارتی اضطراب کا سامنا کرے جو اس کے اندرونی ماحول میں واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔‘

پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہونے سے قبل انڈیا اور پاکستان میں بیان بازی

انڈین نیوی چیف نے بدھ کو ایک تقریب کے دوران کہا کہ ’یہ اب کوئی چھپی ہوئی بات نہیں رہی کہ ہم سمندر سے پاکستان پر حملہ کرنے سے محض چند منٹ دور تھے جب انھوں نے کارروائیاں روکنے کی درخواست کی تھی۔‘

پیر کو پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے اے پی نے ایک سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے دعویٰ کیا کہ ’بے گناہ پاکستانی بالخصوص کشمیری جو غلطی سے بارڈر پار کر گئے ہیں انھیں انڈین سکیورٹی فورسز اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے لیے زبردستی استعمال کرے گی۔‘

اے پی پی کی خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ پہلگام واقعے کے ایک سال بعد ’فالس فلیگ آپریشن کی سازش‘ رچائی جا رہی ہے۔

اس دوران سوشل میڈیا پر بعض پاکستانی صارفین خبردار کرتے نظر آئے کہ انڈیا میں 'فالس فلیگ آپریشن' کی تیاری چل رہی ہے۔ جبکہ انڈیا کے بعض مقامی ذرائع ابلاغ نے ایسی اطلاعات شائع کی ہیں کہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔