جرمن شہریوں کو بیرون ملک جانے کے لیے فوج کی اجازت کیوں درکار ہو گی؟

جرمنی

،تصویر کا ذریعہTOBIAS KOCH

،تصویر کا کیپشنموجودہ چانسلر فریڈرچ مرز نے جرمن فوج کو یورپ کی سب سے مضبوط روایتی فوج بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے
    • مصنف, جیسیکا رانسلے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

جرمنی کی شہریت رکھنے والے ایسے مرد حضرات جن کی عمر 17 سے 45 سال کے درمیان ہے اب ملک سے باہر فوج کی اجازت کے بغیر شاید نہ جانے پائیں۔

واضح رہے کہ جرمنی میں حال ہی میں ایک نیا قانون متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت رضاکارانہ فوجی سروس کرنا ہو گی۔ اور اسی وجہ سے اگر کوئی مرد زیادہ عرصہ کے لیے بیرون ملک جانے کا خواہشمند ہو گا تو اسے پہلے فوج سے اجازت لینا ہو گی۔

’ملٹری سروس ماڈرانائزیشن‘ ایکٹ یکم جنوری سے نافذ العمل ہے جس کا مقصد روس کی جانب سے خطرات کے مدنظر ملک کی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔

بی بی سی کو دیے جانے والے ایک بیان میں وزارت دفاع کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ 17 سے زیادہ عمر کے مرد اگر تین ماہ سے زیادہ عرصہ کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں تو انھیں پہلے اجازت حاصل کرنا ہو گی۔

موجودہ قانون کے تحت یہ اجازت عام حالات میں ملنے کی توقع ہے۔ یہ واضح نہیں کہ اگر کوئی اجازت لیے بغیر بیرون ملک روانہ ہو جائے تو کیا ہو گا۔

اب تک اس نئے قانون کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں لیکن جمعے کے دن جرمنی کے ایک اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا۔

جرمنی کی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد ’ایک قابل اعتماد اور معنی خیز عسکری رجسٹریشن نظام یقینی بنانا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ایمرجنسی صورت حال میں ہمیں علم ہونا چاہیے کہ کون زیادہ عرصہ کے لیے ملک سے باہر ہے۔‘

اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں نوجوانوں کے لیے اس کے اثرات کافی زیادہ ہو سکتے ہیں۔

جرمنی

،تصویر کا ذریعہEPA

اس قانون کی بنیاد جرمنی کے ا1956 کے بھرتی ایکٹ میں موجود ہے جو کئی بار تبدیل ہوا۔ آخری بار اسے گزشتہ سال دسمبر میں تبدیل کیا گیا۔ اس سے پہلے بیرون ملک قیام کی صورت میں اجازت کی ضرورت صرف اس وقت ہوتی تھی جب ملک ہنگامی حالات سے دوچار ہوا کرتا تھا۔

وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسی ہی شرط سرد جنگ کے دوران بھی موجود تھی۔ جرمنی کا نیا قانون اس مقصد کے لیے ہے کہ اس کے تحت 2035 تک حاضر سروس فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے بڑھا کر دو لاکھ 60 ہزار تک لے جائی جائے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دسمبر میں جرمنی کی پارلیمان نے رضاکارانہ فوجی سروس متعارف کروانے پر ووٹ دیا تھا جس کے تحت جنوری سے 18 سال کی عمر کے ہر نوجوان کو ایک سوال نامہ بھجوایا جائے گا کہ آیا وہ فوج میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں۔

اس قانون کے تحت ایسے نوجوانوں کو جولائی سنہ 2027 تک جسمانی ٹیسٹ بھی کروانا ہو گا جو یہ طے کرے گا کہ جنگ کی صورت میں وہ فوجی سروس کرنے کے اہل ہیں یا نہیں۔ خواتین بھی رضاکارانہ طور پر فوج میں شامل ہو سکتی ہیں لیکن جرمنی کے آئین کے تحت انھیں مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ اگرچہ موجودہ قانون رضاکارانہ سروس کے حوالے سے بنایا گیا ہے تاہم سکیورٹی صورت حال مخدوش ہونے یا بہت کم رضاکاروں کی صورت میں لازمی فوجی سروس کی کوئی قسم متعارف کروائی جا سکتی ہے۔

جرمنی میں اس قانون کو متعارف کرواتے ہی بہت سے نوجوانوں نے اس تبدیلی کے خلاف احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے منتظمین میں شامل ایک شخص نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ’ہم اپنی زندگی کا نصف سال بیرک میں بند ہو کر، اطاعات، ڈرل اور قتل کرنے کی تربیت لینے میں ضائع نہیں کرنا چاہتے۔‘

دیگر یورپی ممالک کی طرح جرمنی نے ا1990 کی دہائی میں اپنی افواج میں کمی کر لی تھی۔ سرد جنگ کے دوران جرمنی کی فوج تقریبا پانچ لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔

2011 میں جرمنی میں اس وقت کی چانسلر اینجلا مرکل نے لازمی فوجی سروس ختم کر دی تھی۔

موجودہ چانسلر فریڈرچ مرز نے جرمن فوج کو یورپ کی سب سے مضبوط روایتی فوج بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جو ان کی حکومت کے مطابق یورپ کی موجودہ خطرناک صورت حال کا ردعمل ہے۔