ایران جنگ سے متعلق چینی سفارتکاری: خلیجی ممالک پر حملوں کی مخالفت بھی اور آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے طاقت کا استعمال بھی مسترد

آبنائے ہرمز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ایسے وقت میں جب بحرین اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) میں شامل دیگر ممالک اقوام متحدہ کے ذریعے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے اقدامات پر زور دے رہے ہیں، چین ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایک جانب اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں چین نے جہاز رانی کے لیے انتہائی اہم اس گزر گاہ کو کھلوانے کے لیے طاقت کے ممکنہ استعمال کی مخالفت کی ہے دوسری جانب یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کی حمایت نہیں کرتا۔

جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کے ساتھ چین کی عوامی سفارتی سرگرمیاں خلیجی ممالک کے مقابلے میں کم رہی ہیں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین تہران کی حمایت کر کے عرب ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو نقصان نہیں پہنچائے گا، خاص طور پر اس لیے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے معاشی تعلقات ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔

آبنائے ہرمز میں طاقت کے استعمال پر چین کا مؤقف کیا ہے؟

اس وقت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت بحرین کے پاس ہے۔ بحرین کوشش کر رہا ہے کہ ایک قرار داد کے ذریعے رکن ممالک کو اجازت دی جائے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ’تمام ضروری ذرائع‘ استعمال کر سکیں۔ چین نے ان کوششوں کی مخالفت کی ہے۔

بحرین کی جانب سے پیش کی گئی اس قرار داد کی حمایت خلیجی عرب ریاستوں اور امریکہ نے بھی کی، تاہم نیم سرکاری خبر رساں ادارے گونچا کے مطابق چین، روس اور فرانس نے قرار داد میں کسی بھی ایسے الفاظ کی مخالفت کی ہے جو طاقت کے استعمال کی اجازت دیتے ہوں۔

سرکاری روزنامہ قوم پرست اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کانگ نے قرارداد کی مخالفت اس بنیاد پر کی کہ یہ طاقت کے غیر قانونی اور ناجائز استعمال کو جائز قرار دے گی اور صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دے گی۔

دو مارچ کو بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیر خارجہ وانگ ژی نے اُن پانچ نکاتی اقدامات کا حوالہ دیا جو چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر تجویز کیے ہیں۔ ان میں آبنائے ہرمز کی سلامتی کو یقینی بنانے اور جہازوں کی معمول کی آمد و رفت بحال کرنے کی بات کی گئی تھی۔

وانگ ژی نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اقدامات کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا: ’جنگی نوعیت کے غیر قانونی اقدامات کی توثیق کر کے حالات بگاڑنے کے بجائے لڑائی روک کر مذاکرات بحال کیے جائیں۔‘

ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے بارے میں بیجنگ نے کیا کہا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بیجنگ نے ایران کی جانب سے خلیجی عرب ممالک پر کیے گئے حملوں سے واضح طور پر اختلاف کا اظہار کیا ہے۔ گونچا کے مطابق اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے دو اپریل کے اجلاس میں چین کے مندوب فو کانگ نے کہا کہ چین ’جی سی سی ممالک پر ایران کے حملوں کی تائید نہیں کرتا۔‘

یہ دوسری مرتبہ تھا کہ بیجنگ نے ایران کے اقدامات سے اختلاف ظاہر کیا۔ اس سے قبل 11 مارچ کو جی سی سی ممالک اور اردن کی جانب سے بحرین نے قرار داد کا مسودہ پیش کیا جس میں ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔ چین نے اس پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

چین کے مندوب نے کہا تھا کہ اگرچہ چین خلیجی عرب ممالک کے اہم تحفظات کو پوری طرح سمجھتا ہے، تاہم قرار داد کا یہ مسودہ ’تنازع کی بنیادی وجوہات اور مجموعی صورتحال کی متوازن انداز میں عکاسی نہیں کرتا۔‘

دو اپریل کو اپنے تازہ بیان میں فو کانگ نے کہا کہ جنگ کی ’ابتدا‘ امریکہ اور اسرائیل نے کی۔ اسے اقوام متحدہ کے منشور کی ’واضح خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے فوجی کارروائیاں ختم کرنا ہی ’بنیادی حل‘ ہے۔

چین کو جی سی سی ممالک کا ’اچھا دوست اور شراکت دار‘ قرار دیتے ہوئے فو کانگ نے مزید کہا کہ جی سی سی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا ’مکمل احترام‘ کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بیجنگ ’معصوم شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کرتا ہے‘ اور بحری جہازوں کی گزر گاہ ’متاثر نہیں ہونی چاہیے۔‘

ایران جنگ پر چین کی سیاسی و سفارتی رسائی کی نوعیت کیا ہے؟

ایران کے ساتھ اپنی تازہ سفارتی رسائی کے بارے میں چین گریزاں نظر آتا ہے۔

دو اپریل کو چین کی وزارت خارجہ نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ کیا پاکستان کے ساتھ مشترکہ اقدامات کے حوالے سے ایران سے رابطہ کیا گیا ہے یا نہیں۔ وزارت نے صرف یہ کہا کہ ’یہ عوامی سطح پر کیے جانے والے اقدامات ہیں‘ اور ’تمام فریق اس سے آگاہ ہیں۔‘

بی بی سی مانیٹرنگ کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران کے ساتھ چین کی عوامی سفارتی سرگرمیاں خلیجی ممالک کے مقابلے میں کم، جب کہ پاکستان، مصر، کویت اور قطر کے ساتھ ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے برابر رہی ہیں۔

ایک گراف جس میں چین کے دیگر ممالک سے رابطوں کی تعداد بتائی گئی ہے

وزیر خارجہ وانگ ژی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے دو بار ٹیلی فون پر بات کی، پہلے دو اور پھر 24 مارچ کو۔ جبکہ چین کے مشرق وسطیٰ امور کے خصوصی نمائندے ژائی جون 20 مارچ کو بیجنگ میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی سے ملے۔

24 مارچ کو عراقچی کے ساتھ فون کال کے دوران وانگ ژی ایران کی حمایت میں زیادہ پر جوش نہ تھے۔ تمام فریقوں کو ’امن کے موقع سے فائدہ اٹھانے‘ کا مشورہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بات چیت ہمیشہ لڑائی سے بہتر ہوتی ہے‘ اور ’یہی ایران اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے۔‘

اس کے مقابلے پر، دو مارچ کی فون کال میں وانگ ژی نے خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے تہران کی حمایت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ چین ایران کے ساتھ ’روایتی دوستی‘ کی قدر کرتا ہے۔

معاشی اور سیاسی طور پر چین کیا سوچ رہا ہے؟

امریکہ میں مقیم چینی تجزیہ کار ڈینگ یوون کا کہنا ہے کہ چین ایران کی حمایت کی قیمت پر مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار نہیں کرے گا بلکہ خلیج کی سلامتی، توانائی، بحری جہازوں کی گزر گاہوں، عرب ممالک کے ساتھ تعلقات اور اپنے معاشی دباؤ جیسے عوامل کو مد نظر رکھے گا۔

تائیوان کے سرکاری خبر رساں ادارے سینٹرل نیوز ایجنسی نے تین اپریل کو ڈینگ یوون کا تبصرہ شائع کیا۔ ڈینگ نے ژائی جون (چین کے مشرق وسطیٰ امور کے خصوصی نمائندے) کے 23 مارچ کے مؤقف کے حوالے سے کہا کہ ’ان لوگوں کی مدد کی جائے گی جو معقول ہوں نہ کہ ان کی جو قریبی ہوں۔‘ ڈینگ کی تشریح کے مطابق بیجنگ اپنے قریبی اتحادی تہران سے فاصلہ اختیار کر رہا ہے۔

ایک گراف جس میں چین کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کا حجم دکھایا گیا ہے

ڈینگ نے یہ بھی بتایا کہ سنہ 2024 میں چین اور جی سی سی ممالک کے درمیان تجارتی حجم 288 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ 2007 کے بعد سے ایران میں چین کی مجموعی سرمایہ کاری پانچ ارب ڈالر سے بھی کم رہی ہے۔

تاہم، ہانگ کانگ کے نجی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے چین کی اس حکمت عملی کو مثبت قرار دیا جس کے تحت وہ جنگ سے دور رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کے ساتھ قریبی تعلقات چین کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں زیادہ چینی سامان آبنائے ہرمز سے گزر سکتا ہے، جبکہ ایک طویل جنگ امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں الجھائے رکھے گی اور واشنگٹن کی توجہ تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین سے ہٹ جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے ’واشنگٹن پر عالمی اعتماد کو کمزور کیا ہے اور اس کا فائدہ چین کو ہوا ہے۔‘ تجزیہ کاروں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ ’جبر کے بجائے قائل کرنے‘ کی چین کی پالیسی اس کا اثر و رسوخ مزید بڑھائے گی۔