’پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے‘: جنگ بندی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں پر اسرائیل سے اُٹھتی آوازیں

نیتن یاہو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

جہاں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ جاری ہے وہیں پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان اپنی ثالثی میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی دوران امریکہ اور اسرائیل کے تہران سمیت ایران کے دیگر شہروں پر اب بھی حملے جاری ہیں۔

پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر اسرائیل سے بھی آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ کچھ روز سے ایک اسرائیلی ایلچی کی طرف سے انڈین میڈیا کو دیا گیا ایک انٹرویو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے، جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں لگتا کہ پاکستان اپنی ثالثی کی کوششوں میں کامیاب ہو سکے گا۔

مگر اس انٹرویو کے بعض جعلی کلپس بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئے ہیں، جس میں انھیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اسرائیل انڈیا کے لیے دفاعی سامان میں چار گنا اضافہ کرنے جا رہا ہے۔ تاہم اپنے حقیقی انٹرویو میں انھوں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔

خیال رہے کہ انڈین میڈیا کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں نئی دلی میں اسرائیلی سفیر رووین آزر کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسے ملک پر بھروسہ کرنے نہیں جا رہے، جس کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات ہی موجود نہیں۔ ہمیں اعتماد ہے تو اپنے فیصلے پر اور امریکی صدر کے فیصلے پر۔‘

فلور حسن ناہوم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناسرائیل کی تجارتی امور کی ایلچی فلور حسن ناہوم ایران جنگ پر نیتن یاہو کی حمایت کرتی ہیں

’انڈیا پاکستان سے بہتر ثالث ہو سکتا ہے‘

انڈیا کے خبر رساں ادارے اے این آئی کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیل کی وزارت خارجہ میں تجارتی امور کی ایلچی فلور حسن ناہوم سے پوچھا گیا تھا کہ پاکستان کے ثالثی کے کردار کو اسرائیل کس طرح دیکھتا ہے کیونکہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

ان کا جواب تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ پاکستانی کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ خود کو کسی طرح اہم ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ وہ خود جہادی دہشت گردی کی دنیا میں ایک بڑا مسئلہ ہیں۔‘

’لیکن وہ کوشش کر سکتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ زیادہ کامیاب ہوں گے۔ میرا اندازہ ہے کہ وہ صرف اس معاملے میں خود کو بیچ میں لانا چاہتے ہیں جو اس وقت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز ہے۔‘

اسرائیل، پاکستان

،تصویر کا ذریعہX

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’انڈیا اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے۔ آپ کے وزیر اعظم (مودی) جنگ شروع ہونے سے کچھ روز قبل یہیں تھے۔‘

’انڈیا سبھی کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو انڈیا پاکستان سے بہتر ثالث ہو سکتا ہے۔‘

انٹرویو کے جعلی کلپس پر اسرائیلی نمائندہ کا تبصرہ

تاہم اس انٹرویو کے جعلی کلپس بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک کلپ میں انھیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’اسرائیل کو اس وقت صرف ایک شخص پر غصہ ہے اور وہ ہیں پاکستانی فوجی سربراہ عاصم منیر۔‘

اس تحریف شدہ کلپ میں وہ کہتی ہیں کہ عاصم منیر ’امریکی صدر کو اسرائیل سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ وہ عرب ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ ایرانی دہشتگرد نظام پر حملے نہ کریں۔۔۔ اسی وجہ سے اسرائیل انڈیا کے لیے فوجی سامان میں چار گنا اضافہ کر رہا ہے۔‘

اس پر فلور حسن ناہوم نے تبصرہ کیا کہ انٹرویو کے اس جعلی کلپ میں انھیں ’پاکستانی لہجہ دیا گیا، اسی سے پتا لگ جانا چاہیے تھا۔‘

اسرائیلی سفیر

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں اسرائیلی سفیر کے مطابق ’ہم ایسے ملک پر بھروسہ کرنے نہیں جا رہے جس کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات ہی موجود نہیں‘

پاکستان کے ثالثی کے کردار پر اسرائیل میں کیا بات ہو رہی ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے دوران اسرائیل میں مختلف آرا کا اظہار کیا گیا ہے۔

جیسے اسرائیلی سفیر نے انڈین چینل نیوز ایکس لائیو کو دیے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ہم اس امکان کو مسترد نہیں کر سکتے کہ پاکستان کی مدد سے امریکہ ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے۔‘

ادھر مشرق وسطیٰ کے امور کے تجزیہ کار زوی بریل نے اخبار ہارٹز کے لیے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ایران جنگ بندی کی کوششوں کے دوران چار ممالک (یعنی مصر، ترکی، سعودی عرب اور پاکستان) نیا علاقائی اتحاد قائم کر رہے ہیں۔

انھوں نے اتوار کو چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا حوالہ دیا جس کی میزبانی اسلام آباد نے کی تھی۔

زوی بریل نے لکھا تھا کہ اگر معاہدہ ہو گیا تو ’یہ ممالک اپنے آپ کو ضامن بنانے کی پیشکش کر سکتے ہیں۔‘

’لیکن اگر وہ لڑائی کے خاتمے میں کامیاب نہیں بھی ہوتے تو ان ممالک کا ایک اور مقصد ہے۔ وہ فوجی تعاون کا فریم ورک بنانا چاہتے ہیں۔‘

اسرائیلی تجزیہ کار نے مزید لکھا ہے کہ اسرائیل ’کئی برسوں سے عرب نیٹو کا خواب دیکھ رہا تھا۔۔۔ لیکن ایران کے ساتھ جنگ نے اس کے امکانات انتہائی کم کر دیے ہیں۔‘

ادھر اسرائیلی اخبار وائے نیٹ نیوز کے لیے ایک کالم میں مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار امین ایوب لکھتے ہیں کہ ’پاکستان خود کو غیر جانبدار سہولت کار ظاہر کرتا ہے۔۔۔ لیکن یہ قیام امن کی بجائے تہران کو تحفظ فراہم کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔‘

انھوں نے ایران کی جانب سے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دیے جانے کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور تہران کے تعلقات ’لین دین پر مبنی ہیں۔‘

دی یروشلم پوسٹ کے لیے شائع ہونے والے کالم میں تجزیہ کار ایلی پودہ کی رائے ہے کہ مشرق وسطیٰ میں نئے اتحاد قائم ہو رہے ہیں، جن پر اسرائیل کو تشویش ہونی چاہیے۔

ہیبریو یونیورسٹی میں اسلامی اور مشرق وسطیٰ کے امور سے منسلک پروفیسر کا کہنا ہے کہ ’اصل خدشہ خطے میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی تنہائی کا ہے۔ اگرچہ غزہ کی جنگ کے باوجود برقرار رہنے والے امن اور سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدوں کو فی الحال کوئی فوری خطرہ نہیں، لیکن اسرائیل کے علاقائی ممالک، خصوصاً مصر اور اردن، کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات اس امکان کو بھی متاثر کریں گے کہ جنگ کے بعد خطے کے مزید ممالک، بالخصوص سعودی عرب، کے ساتھ سفارتی بحالی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘