بیوی کے مبینہ قاتل اور چار سال سے مفرور انڈین فوج کے سابق کپتان جو گیس سلینڈر بھروانے کے سبب پکڑے گئے

بیوی کے قتل میں ملزم اور چار سال سے مفرور انڈین فوج کے سابق کیپٹن جو سلینڈر بھروانے پر پکڑے گئے

،تصویر کا ذریعہPunjab Police

    • مصنف, نوجوت کور
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انڈین پنجاب کے شہر فاضلکہ کی پولیس نے فوج کے سابق کپتان سندیپ تومر کو گرفتار کر لیا ہے، جو اپنی بیوی کے قتل کے مقدمے میں تقریباً چار سال سے مفرور تھے۔

پولیس کے مطابق وہ ایل پی جی سلینڈر بھروانے اور مالی لین دین کے دوران اپنی اصلی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور پی اے این کارڈ استعمال کر رہے تھے۔ پولیس نے اسی سراغ کی مدد سے ان تک رسائی حاصل کی۔

یہ معلومات فاضلکہ کے ایس ایس پی گرمیت سنگھ نے بی بی سی پنجابی سے گفتگو کے دوران فراہم کی ہے۔

ایس ایس پی گُرمیت سنگھ کے مطابق سابق کیپٹن سندیپ تومر کے خلاف 2013 میں آئی پی سی کی دفعہ 304 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر اپنی بیوی کے ساتھ بدسلوکی، جہیز کے مطالبے اور ان کی موت کا سبب بننے جیسے الزامات تھے۔ یہ مقدمہ ان کے سسر کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق سندیپ تومر نے اپنی بیوی شویتا سنگھ کو قتل کیا اور اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ بعد ازاں پولیس کی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل تھا۔ واقعے کے روز ہی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سندیپ تومر اس مقدمے میں تقریباً پانچ سال جیل میں رہے۔ تاہم 2019 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا۔

بیوی کے قتل میں ملزم اور چار سال سے مفرور انڈین فوج کے سابق کیپٹن جو سلینڈر بھروانے پر پکڑے گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

2022 میں عدالت نے دوبارہ انھیں سرینڈر کرنے کا حکم دیا مگر انھوں نے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیش ہونے سے انکار کیا اور 2022 سے مفرور تھے۔

پولیس حکام کے مطابق ان کی تلاش جاری رہی اور آخرکار 28 مارچ کو فاضلکہ پولیس نے مدھیہ پردیش پولیس کی مدد سے انھیں گرفتار کیا۔

ملزم کو مدھیہ پردیش کے ضلع پندھرنا سے حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس نے سابق کپتان کا سراغ کیسے لگایا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سندیپ تومر کا تعلق اتر پردیش کے شہر کانپور سے ہے۔ واقعے کے وقت وہ پنجاب کے شہر ابوہَر میں 12 بہار رجمنٹ میں کیپٹن کے طور پر تعینات تھے۔ ان کی بیوی بھی اتر پردیش کی رہائشی تھیں۔

ایف آئی آر کے مطابق دونوں کی شادی فروری 2013 میں ہوئی تھی اور شویتا سنگھ کی موت 8 جولائی 2013 کو ہوئی۔

مرنے والی خاتون کے والد کے مطابق شادی کے کچھ عرصے بعد ہی سندیپ تومر اور ان کے گھر والے جہیز کے لیے شویتا کو پریشان کرنے لگے تھے اور یہ بات انھوں نے اپنی والدہ کو بھی بتائی تھی۔

8 جولائی کو انھیں بیٹی کی موت کی اطلاع ملی جس کے بعد انھوں نے داماد سندیپ تومر کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔

ایس ایس پی کے مطابق پہلے تو ملزم نے اپنی بیوی کی موت کو خودکشی قرار دیا لیکن تفتیش میں ثابت ہوا کہ یہ قتل ہی تھا۔

2014 میں مقامی عدالت نے سندیپ تومر کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے بعد انھیں فیروزپور جیل بھیج دیا گیا اور فوج نے بھی انھیں برخاست کر دیا۔

تقریباً پانچ سال سزائے قید کاٹنے کے بعد انھوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جس کے بعد 2019 میں انھیں ضمانت پر رہائی ملی۔

تاہم 2022 کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ اس پر عمل کرنے کے بجائے وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے اور فرار ہو گئے۔

2024 میں شکایت کنندہ نے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ عدالت کے حکم پر ایس پی فاضلکہ کی سربراہی میں تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے سندیپ تومر کی تلاش جاری رکھی۔

بیوی کے قتل میں ملزم اور چار سال سے مفرور انڈین فوج کے سابق کیپٹن جو سلینڈر بھروانے پر پکڑے گئے

،تصویر کا ذریعہfb/fazilka police

ایس ایس پی فاضلکہ کے مطابق ضمانت پر رہائی کے بعد سندیپ تومر نے اپنی شناخت تبدیل کر لی تھی اور ملک کے مختلف حصوں میں کام کر رہے تھے۔ گرفتاری کے وقت وہ دوسری شادی بھی کر چکے تھے۔

چار سال کے دوران انھوں نے اپنا حلیہ اور پتا دونوں بدلے اور پنجاب کے بعد اڑیسہ، بنگلورو اور مدھیہ پردیش میں رہائش اختیار کرتے رہے۔

ایس ایس پی کے مطابق ’کچھ دن پہلے ان کے بینک سٹیٹمنٹ سے پتا چلا کہ وہ ایک گیس ایجنسی سے ایل پی جی سلینڈر بھرواتے ہیں۔

’جب گیس ایجنسی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موجودہ پتا دستیاب ہوا۔‘

یہ معلومات مقامی پولیس کے ساتھ شیئر کی گئیں اور وہاں سے سندیپ تومر کو فوراً گرفتار کر لیا گیا۔

بعد ازاں فاضلکہ پولیس کی ایک ٹیم انھیں پنجاب لے آئی جہاں مقامی عدالت نے انھیں ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔