مشرف طیارہ ہائی جیکنگ کیس: جب نواز شریف کو پی آئی اے طیارے کے اغوا کے جرم میں دو بار عمر قید کی سزا سنائی گئی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
- مصنف, وقارمصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- مطالعے کا وقت: 16 منٹ
چھ اپریل 2000 کو کراچی میں ایک عدالت نے نواز شریف، جنھیں 12 اکتوبر1999 کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹایا گیا تھا، کو ایک کمرشل طیارے کے اغوا کے جرم میں دو بار عمر قید کی سزا سنائی اور ان کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے سری لنکا سے آتے اس طیارے میں سوار 198 افراد میں اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف بھی تھے جنھوں نے نوازشریف کی معزولی اور گرفتاری کے بعد اقتدار سنبھالا اور ان پر طیارہ اغوا کا مقدمہ قائم کیا۔ لیکن یہ مقدمہ واقعے کے لگ بھگ ایک ماہ بعد درج ہوا۔
امریکی اخبارنیویارک ٹائمز کے نمائندے بیری بیئراک کی خبر کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج رحمت حسین جعفری نے چھ دیگر شریک ملزمان ( نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیراعلی شہباز شریف، پرنسپل سیکرٹری محمد سعید مہدی، مشیر برائے سندھ غوث علی شاہ، پی آئی اے کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی، احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمان اور سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس رانا مقبول احمد) کو بری کردیا۔
یاد رہے کہ سنہ 1997 میں نواز شریف ہی کے دور میں یہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
’انھی ملزمان کے ساتھ کھڑے نواز شریف نے فیصلے پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن عدالت میں خاموشی کو ان کی بیٹی مریم نواز کی چیخ نے توڑا۔
’خدا کا خوف کریں!‘، وہ پکاریں۔
’ان کی والدہ کلثوم نواز نے، ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے، انھیں اور دیگر روتے ہوئے رشتہ داروں کو خاموش کروانے کی کوشش کی۔‘
بیئراک کے مطابق نوازشریف کو اس کے بعد تیزی سے وہاں سے لے جایا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ان کے اہلِ خانہ اور حامی، جن میں سے بہت سے قرآنِ مجید تھامے ہوئے تھے، ان کے پیچھے دوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے ’نواز شریف زندہ باد!‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔‘
استغاثہ اور دفاع
استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نواز شریف نے اس طیارے کو اترنے سے روکنے کی کوشش کی حالانکہ اس میں ایندھن کم ہو رہا تھا۔
جنرل مشرف نے بعد میں اپنی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ میں بھی نوازشریف پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے طیارے میں موجود افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔
دفاع کے وکلا نے دلیل دی کہ بالآخر طیارے کو ایندھن بھرنے کی اجازت دے دی گئی تھی اور کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر اس حالت میں اترنے کی کوشش کرتا جب رن وے کی لائٹس بند تھیں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں قریب کھڑی تھیں تو وہ یقینی طور پر حادثے کا شکار ہو جاتا۔
جج نے دفاع کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ پرواز کے سب سے نازک مرحلے میں جب ایندھن کم تھا اس وقت طیارہ جنرل مشرف کے کنٹرول میں تھا۔
بیئراک نے لکھا کہ واقعے کے روز سہ پہر میں وزیرِ اعظم نواز شریف نے سری لنکا کے دورے پر موجود جنرل پرویز مشرف کو برطرف کر دیا تھا اور ان کی جگہ جنرل ضیاءالدین بٹ کو مقرر چیف آف آرمی سٹاف تعینات کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
’جب فوج کے ایک حصے نے نئے تعینات ہونے والے جنرل کو کمان سنبھالنے کی اجازت نہ دی تو انھوں نے مدد کے لیے نواز شریف سے رجوع کیا۔ اس کے بعد وزیرِاعظم نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ امین اللہ چودھری کو حکم دیا کہ پی کے 805، وہ پرواز جس میں مشرف وطن واپس آ رہے تھے، کا رخ کراچی کی بجائے ملک سے باہر موڑ دیا جائے۔‘
جج نے نوازشریف کو بیک وقت عمر قید کی دو سزائیں دیں، ایک اغوا کے الزام میں اور دوسری دہشت گردی کے الزام پر۔ پاکستان میں عمر قید کو 25 سال تصور کیا جاتا ہے اگرچہ اچھے رویے کی بنیاد پر قبل از وقت رہائی کا امکان موجود ہوتا ہے۔
157 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جج نے لکھا کہ یہ اغوا ’اچانک اور جذبات کے زیرِ اثر‘ کیا گیا جب نوازشریف کو معلوم ہوا کہ ’چند فوجی اہل کاروں کی وجہ سے ان کا اختیار کمزور ہو چکا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بریت پانے والے پی آئی اے کے اس وقت کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ رحمت حسین جعفری فیصلہ گھر سے لکھ کر لائے تھے جسے صبح نو بجے سنایا جانا تھا۔
’لیکن پورا دن ان پر دباؤ ڈالا گیا اور شام کو چھ بجے جا کر فیصلہ سنایا گیا۔‘
شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ ’جعفری صاحب دلیر جج تھے۔ انھوں نے کسی کو بھی سزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پھر پورا دن تقریباً نو گھنٹے تک مختلف افسران نے جب ان پر دباؤ ڈالا تو پھر شاید وہ میاں صاحب کو سزا دینے پر تیار ہوئے جن کو سزا دینا اس وقت کے فوجی حکمران کی ضرورت تھی۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ ’فیصلے کے وہ صفحے جہاں میاں صاحب کو سزا دی گئی بعد میں ٹائپ کیے اور لگائے گئے۔ تعزیراتِ پاکستان میں طیارہ ہائی جیکنگ کی سزا موت ہے لیکن انھوں نے سزائے موت نہیں دی اور انھوں نے وجوہات بھی بتائیں کہ کیوں عمر قید دی جا رہی ہے۔‘
’فیصلہ یقیناً غلط تھا لیکن وہ دباؤ کے تحت آیا۔‘
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا: ’پی آئی اے کے چیئرمین کے طور پر اصل الزام مجھ پر تھا کہ جہاز کو ڈائیورٹ کیا (رُخ موڑا) ہے، ہائی جیک کیا ہے۔ جب آپ مرکزی ملزم کو بری کر رہے ہیں تو آپ کس طرح کسی سے شریک ملزم کو سزا دے سکتے ہیں؟ انھوں نے شریک ملزم، میاں صاحب، پر دباؤ کے تحت فیصلہ لکھ تو دیا لیکن وہ اتنا کمزور تھا کہ وہ کسی بھی عدالت میں کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔
’بعد میں اسی فیصلے کی بنیاد پر اپیل میں میاں صاحب کو بری کیا گیا۔‘
سرکاری گواہ
نواز شریف کے وکلا نے کہا کہ امین اللہ چودھری کی گواہی کو حد سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ ایک وقت میں چودھری خود بھی ملزم تھے لیکن سرکاری گواہ بن کر رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
بیئراک نے لکھا کہ جب چودھری ملزم تھے تو انھوں نے اپنے وکیل کے ذریعے شکایت کی تھی کہ وہ اس قدر شدید ذہنی دباؤ میں ہیں کہ خودکشی پر غور کر رہے ہیں۔ کچھ عرصے بعد وہ استغاثہ کے گواہ بن گئے اور انھوں نے بیان دیا کہ نوازشریف نے انھیں ذاتی طور پر تین مرتبہ فون کر کے طیارے کا رخ تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔
ایک وکیلِ صفائی منظور احمد ملک نے کہا: ’انھوں (چودھری) نے اپنی آزادی کسی اور کی گردن کے بدلے خریدی ہے۔‘
تاہم اپنی کتاب ’ہائی جیکنگ فرام دی گراؤنڈ: دی بِزار (عجیب ) سٹوری آف پی کے 805‘ میں امین اللہ چودھری نے بتایا ہے کہ سول ایوی ایشن آرڈیننس کے تحت وزیرِ اعظم کو کسی بھی کمرشل پرواز کا راستہ تبدیل کرنے اور ڈائریکٹر جنرل کو کسی بھی ہوائی اڈے کو بند کرنے کا اختیار تھا۔
’جب پی کے 805 کے پائلٹ نے ٹاور کو بتایا کہ طیارے میں ایندھن کم ہو رہا ہے، تو اسے نواب شاہ میں اترنے کی اجازت دے دی گئی۔ تاہم اس سے پہلے کہ وہ ایسا کر پاتا، فوج نے قائداعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور پر قبضہ کر لیا اور پی کے 805 کو کراچی واپس آنے کا حکم دیا۔‘
’اس کے باوجود، اب طیارے کے کاک پٹ میں موجود مشرف مزید اڑان میں رہے اور مزید 38 منٹ تک فضا میں موجود رہے، یہاں تک کہ انھیں یقین ہو گیا کہ فوج نے نواز شریف کو اقتدار سے ہٹا دیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
نومبر 1999 کو پہلی بار نواز شریف کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ انھوں نے اپنے خلاف عائد الزامات — سازشِ قتل، اغوا اور طیارہ ہائی جیکنگ — کی سختی سے تردید کی۔
انھوں نے عدالت میں کہا، ’میں نے ہائی جیکنگ کی سازش نہیں کی۔‘
’ہائی جیکنگ بندوق کے زور پر کی جاتی ہے۔ اس معاملے میں پوری جمہوری حکومت کو ہائی جیک کیا گیا ہے۔‘
بری ہونے والے بیوروکریٹ سعید مہدی اپنی کتاب ’دی آئی وٹنیس‘ میں لکھتے ہیں کہ ’وزیرِاعظم کے علم میں پہلے ہی تھا کہ سری لنکا کے دورے پر جانے سے قبل جنرل مشرف نے ٹرپل ون بریگیڈ کا ایک بڑا دستہ وزیرِ اعظم ہاؤس کے قریب تعینات کر دیا تھا اور یہاں سکیورٹی اور پروٹوکول ڈیوٹی پر مامور فوجی عملے کو بھی تبدیل کر دیا تھا۔‘
’نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین سے ملاقات کی اور ان کے کندھوں پر بیج لگایا، بالکل اسی طرح جیسے ایک سال پہلے انھوں نے پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کرتے وقت اپنے ملٹری سیکرٹری سے سٹار لے کر لگایا تھا۔‘
’مجھے حیرت نہیں ہوئی جب مجھے معلوم ہوا کہ جنرل ضیاء الدین کے تقرر کی نشریاتی ویڈیو شام 5.00 بجے اعلان کے بعد ٹی وی پر نہیں دکھائی جا رہی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ فوج نے پی ٹی وی کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، اور میں نے اندازہ لگا لیا کہ ان کا اگلا ہدف وزیرِ اعظم ہاؤس ہوگا۔‘
سعید مہدی کے مطابق ’نواز شریف نے اس کے بعد امن و امان قائم رکھنے کے لیے ہدایت دی کہ مشرف کے طیارے کا رخ مسقط کی طرف موڑ دیا جائے۔ اس سے پائلٹ کے لیے ایک حقیقی مسئلہ پیدا ہو گیا کیونکہ طیارے میں ایندھن کم تھا، یا پھر جیسا کہ پائلٹ نے مشرف کے زیرِ اثر ظاہر کیا۔ تاہم بعد میں سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل امین اللہ چودھری نے اس بات سے انکار کیا کہ ایندھن کی کوئی حقیقی کمی تھی۔‘
مہدی کے مطابق کچھ بحث کے بعد ’جب یہ بات نواز شریف کو سمجھائی گئی تو انھوں نے اجازت دے دی کہ طیارہ کراچی میں اتر سکتا ہے۔ جب طیارے کو اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق کراچی میں اترنے کی اجازت دے دی گئی تو اسے ہائی جیکنگ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟‘
’میری 45 دن کی قید تنہائی کے دوران مجھ پر دباؤ ڈالا گیا کہ میں نواز شریف کے خلاف سرکاری گواہ بن جاؤں، جس سے میں نے صاف انکار کر دیا۔ میں نے کہا کہ میرا ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘
’لانڈھی جیل میں بھی یہی صورتحال رہی۔ میرا نام بھی 30 نومبر 1999 کو درج کی گئی نظرِ ثانی شدہ ایف آئی آر میں شامل کیا گیا، جبکہ 10 نومبر 1999 کو درج کی گئی پہلی ایف آئی آر میں میرا نام موجود نہیں تھا۔ غالباً وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا میں نواز شریف کے خلاف گواہ بنتا ہوں یا نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
شاہد خاقان عباسی کے مطابق مقدمے میں کوئی حقیقت، کوئی سچائی نہیں تھی۔
’مشرف صاحب نے اپنی بغاوت، وزیراعظم کے احکامات ماننے سے انکار اور اپنے اقتدار کو جواز دینے کے لیے بنایا تھا۔
’میرا کوئی وکیل نہیں تھا۔ مجھے پتا تھا کہ میری بات دوسرے ملزمان، خاص طور پر میاں صاحب کے خلاف استعمال ہوگی۔ اس لیے میں نے اپنی کوئی صفائی پیش نہیں کی۔‘
’جہاز کو کبھی خطرہ نہیں تھا‘
اوون بینیٹ جونز نے اپنی کتاب ’پاکستان: دی آئی آف دی سٹورم‘ میں لکھا ہے کہ سرکاری استغاثہ کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ کراچی کے رن وے پر فائر انجنوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیرِ اعظم نے طاقت کے ذریعے طیارے پر کنٹرول حاصل کیا۔
تاہم نواز شریف کے وکلا نے کہا کہ اگر کوئی ہائی جیکنگ کا مرتکب تھا تو وہ خود جنرل مشرف تھے، کیونکہ انھوں نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
جونز لکھتے ہیں کہ خود مشرف کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے پرواز کے دوران فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ادا کیا، اگرچہ انھوں نے طاقت استعمال نہیں کی — جو ہائی جیکنگ ثابت کرنے کے لیے ضروری عنصر ہے۔ تاہم وہ عدالت جس نے نواز شریف کا مقدمہ سنا، اس نے بلیک باکس کی ریکارڈنگ کبھی سنی ہی نہیں۔
یہ واضح نہیں کہ جہاز کے بلیک باکس کے ساتھ اصل میں کیا ہوا مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس میں ایسا مواد موجود تھا جو جنرل مشرف کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتا تھا، اور وہ مواد کبھی عوام کے سامنے نہیں آیا۔
شاہد خاقان عباسی، جو بعد میں وزیر اعظم بھی رہے، کہتے ہیں کہ پروز کی لاگ بُک پائلٹ خود فلائٹ کے بعد بھرتا ہے۔ ان کے مطابق اس میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی ہوئی تھی کہ جہاز کو کبھی خطرہ ہوا۔
’بلکہ الٹا پائلٹ نے کاک پٹ وائس ریکارڈر، جو کاک پٹ کے اندر ہونے والی بات چیت ریکارڈ کرتا ہے کو ایریز کر (اڑا) دیا تھا۔ حالانکہ جب بھی جہاز میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو سب سے پہلے پائلٹ اس ریکارڈنگ کو محفوظ کرتا ہے تاکہ وہ اس کے حق میں استعمال ہو سکے۔‘
جونز کے مطابق یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ سب سے پہلے طیارے کا رخ موڑنے کا حکم نواز شریف نے دیا تھا جو کم از کم ایک غیر اخلاقی فیصلہ تھا۔
’جب طیارہ شام سات بج کر 47 منٹ پر اترا تو مشرف کے مطابق اس میں صرف 7 منٹ کا ایندھن باقی تھا۔ فلائٹ لاگ کے مطابق 1,200 کلوگرام ایندھن باقی تھا، جو اگر طیارہ بلندی پر جا رہا ہوتا تو تقریباً 5 منٹ اور اگر سیدھا اڑ رہا ہوتا تو 10 سے 15 منٹ کے لیے کافی ہوتا۔ اس وقت تک بغاوت تقریباً مکمل ہو چکی تھی۔
’رات 10 نج کر 15 منٹ پر پی ٹی وی نے دوبارہ نشریات شروع کیں اور نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
’جنرل مشرف نے اگلے روز صبح دو بج کر 50 منٹ پر خطاب کیا: ’میں سری لنکا کے سرکاری دورے پر تھا۔ واپسی پر پی آئی اے کی کمرشل پرواز کو کراچی میں اترنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اسے پاکستان سے باہر بھیجنے کا حکم دیا گیا۔ ایندھن کی شدید کمی کے باعث تمام مسافروں کی جانیں خطرے میں تھیں۔ لیکن اس کے باوجود اللہ کا شکر ہے کہ فوج کی بروقت کارروائی سے اس مذموم منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا۔‘
’میرے عزیز ہم وطنو، پس منظر بیان کرنے کے بعد میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ مسلح افواج نے مزید عدم استحکام کو روکنے کے لیے آخری حل کے طور پر قدم اٹھایا ہے۔‘
’یوں پاکستان میں فوجی حکمرانی کا ایک اور دور شروع ہو گیا۔‘
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے تقریباً چھ ہفتے تک انھیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس دوران کافی تفتیش کی گئی۔
’میں نے ان کو پہلے ہی دن لکھ کے دیا کہ جہاز کی تمام ذمہ داری میری ہے اور جو بھی ہدایات اس دن پی آئی اے نے جاری کیں، میں نے کیں۔ اگر کوئی غلط ہدایات ہیں تو آپ مجھے بتا دیں۔‘
’دباؤ تھا کہ یہ بیان دیں کہ آپ کو میاں صاحب نے فون کیا تھا اور کہا تھا کہ جہاز کو کہیں اور بھیج دیں توہم سب نے انکار کر دیا۔ دو ہی افراد تھے جن کی اُن کو ضرورت تھی ایک میں اور دوسرے غوث علی شاہ صاحب۔ ہم نے اس وقت دباؤ قبول نہیں کیا۔‘
’بدقسمتی سے امین اللہ چودھری صاحب اپروور (وعدہ معاف گواہ) بن گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے، ان کو شاید اس بات کا احساس نہیں تھا کہ ان کی بات سے کتنے افراد کو پھانسی ہو سکتی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
عباسی نے بتایا کہ شروع میں تو ہم سارے مختلف مقامات پر تھے۔ ’اس کے بعد جب عدالت میں پیش کیا گیا تو لانڈھی جیل منتقل کر دیا گیا۔‘
’لانڈھی جیل کے اندر دو چھوٹی جیلیں تھیں جن میں دس دس چکیاں یعنی سیلز تھے۔ بہت سخت پہرہ تھا۔ 36 دن انھوں نے دروازہ نہیں کھولا حالانکہ جیل میں سزائے موت کے قیدیوں کو بھی دن میں ایک بار باہر چلنے پھرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ وہاں کوشش تھی کہ ہمارے حوصلے پست کیے جائیں۔‘
’ایف آئی آرتقریباً سات آٹھ صفحے کی انگریزی میں ٹائپ شدہ تھی۔ کیس کے پہلے ہی دن جب جج صاحب نے درخواست دہندہ کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حالات خود دیکھے تھے تو انھوں نے کہا نہیں میں نے یہ سنے تھے تو جج صاحب نے ایف آئی آر اٹھا کر باہر پھینک دی تھی۔‘
نیا قانون پچھلی تاریخوں سے لاگو
ہیومن رائٹس واچ کی 2001 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دسمبر 1999 میں فوجی حکومت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے اغوا اور سازش کو ان جرائم کی فہرست میں شامل کیا جو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے دائرۂ اختیار میں آتے تھے۔
’بعد ازاں یہ دفعات ماضی سے نافذ کرتے ہوئے نواز شریف پر لاگو کی گئیں۔ ایک اور ترمیم کے ذریعے حکومت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اس جج کو تبدیل کر سکے جو اصل میں اس مقدمے کی سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا اور جو نواز شریف کا مقرر کردہ تھا۔‘
دباؤ اور وکیل کا قتل
’جنوری میں نئے جج (شبیر احمد) نے کھلے عام شکایت کی کہ ان کی عدالت میں خفیہ اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔
بیئراک نے لکھا کہ جج نے اس کے بعد اس مقدمے کو دوبارہ اسی نچلی عدالت کے جج کے پاس بھیج دیا جنھوں نے صرف ایک ماہ پہلے اسے ان کے پاس منتقل کیا تھا۔
عباسی نے بی بی سی کو بتایا: ’سماعت کے دوران میں نے کھڑے ہو کر جج صاحب سے کہا کہ یہ انٹیلی جنس کا افسر ہم پر دباؤ ڈال رہا ہے تو اس پر انھوں نے کہا کہ میں کیس نہیں سنوں گا، یہ عدالت کی توہین کر رہے ہیں۔ تو وہ کیس پھر وہاں سے دوبارہ رحمت حسین جعفری صاحب کے پاس آ گیا۔‘
’مارچ میں، جب مقدمے میں حتمی دلائل پیش ہونے میں صرف چند دن باقی تھے تو نواز شریف کے وکیل اقبال رعد اور ان کے دو ساتھیوں کو ان کے دفتر میں قتل کر دیا گیا۔
روری مکارتھی نے گارڈین اخبار میں اپنی رپورٹ میں لکھا کہ رعد کے ایک اور سینیئر ساتھی اعجازبٹالوی، جنھوں نے فروری میں جج کے خلاف احتجاجاً دفاعی ٹیم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، نے کہا کہ مقدمے کے دوران وکلا کا تعاقب کیا جا رہا تھا۔
’دو ہفتے قبل رعد، جو سندھ کے سابق ایڈووکیٹ جنرل تھے، کے دفتر سے ایک فیکس مشین اور ٹیلی فون بھی چوری ہوئے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بریت تو ہو گئی لیکن۔۔۔۔
شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ ’سزا تو ہمیں نہیں ملی لیکن ہمیں پتا تھا کہ ہمیں جیل سے چھوڑا بھی نہیں جائے گا۔
’وہاں سے واپس لانڈھی جیل تقریباً ایک گھنٹے کا سفر تھا۔ میں میاں صاحب کے ساتھ ایک بکتر بند گاڑی میں تھا۔ میاں صاحب کو کچھ پریشانی ضرور تھی لیکن انھوں نے بہت ہمت کے ساتھ اس ناانصافی کو قبول کیا۔
’جب ہم جیل واپس پہنچے تو وہاں پر کچھ افسران نے کہا کہ ہمیں ہتھکڑی لگائی جائے۔ جیل کے افسران نے ہتھکڑی لگانے سے انکار کر دیا، بالآخر ایک انٹیلی جنس افسر نے ہم سب کو ہتھکڑی لگائی اور جیل کے اندر لے گئے۔ وہ ایک طرح سے ذلیل کرنا چاہتے تھے۔ جیل کے اندر کبھی ہتھکڑی نہیں لگائی جاتی۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت سے سزا کے ایک ماہ بعد نواز شریف کو اٹک قلعہ منتقل کر دیا گیا تاکہ ہیلی کاپٹر کی خریداری کے سلسلے میں اثاثے چھپانے اور ٹیکس چوری کے الزامات پر مقدمہ چلایا جا سکے۔ 22 جولائی کو انھیں اس مقدمے میں بھی مجرم قرار دے کر 14 سال قید اور دو کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
عباسی بتاتے ہیں کہ مختلف دیگر الزامات لگا کر ہمارے خلاف مزید کیسز بنا دیے گئے اور اس کے تقریباً ایک، سوا ایک سال کے بعد جا کے ہمیں جیل سے رہائی ملی۔
نواز شریف کی دو عمر قید کی سزاؤں کے خلاف اپیل پر منقسم فیصلے میں سندھ ہائی کورٹ نے ہائی جیکنگ کی سزا برقرار رکھی، لیکن دہشت گردی کے الزام میں دی گئی قید کو ختم کر دیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے ریاست کی اس اپیل کو بھی مسترد کر دیا جس میں معزول وزیرِ اعظم کو ہائی جیکنگ اور دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سزا معافی اور جلاوطنی
لیوک ہارڈنگ کی گارڈین کے لیے رپورٹ تھی کہ 10 دسمبر سنہ 2000 کو معزول پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف نے فوجی حکومت کی جانب سے رہائی کے بعد جلاوطنی میں سعودی عرب میں نئی زندگی کا آغاز کیا۔
جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے اچانک ان کی عمر قید کی سزا معاف کرنے کا اعلان کیا۔ وہ 14 ماہ سے جیل میں تھے اور اغوا، ہائی جیکنگ اور بدعنوانی کے مقدمات میں سزا یافتہ تھے۔
’وہ دوپہر کو سعودی شاہی خاندان کے نجی طیارے میں جدہ پہنچے، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ کلثوم، تین بچے اور بزرگ والدین سمیت خاندان کے 18 افراد بھی تھے۔‘
پاکستانی حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کو سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا ہے، اور یہ فیصلہ ملک اور عوام کے بہترین مفاد میں کیا گیا ہے۔
17 جولائی 2009 کو پاکستان کی سپریم کورٹ نےسابق وزیرِ اعظم کی اغوا کے مقدمے میں سزا کو کالعدم قرار دے دیا، جس سے ان کے دوبارہ اقتدار کے لیے انتخاب لڑنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ختم ہو گئی۔



























