آٹھ خواتین کے قتل کا اعتراف کرنے والا سیریئل کلر: ’اس کے چہرے پر ذرا برابر بھی ندامت نظر نہیں آئی‘

Rex Heuermann alongside attorney in court

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, میڈلین ہالپرٹ
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

بدھ کے روز سفوک کاؤنٹی کی ایک عدالت میں دہائیوں پر محیط ایک ہولناک سلسلے کا اختتام ہو گیا، جب چھ فٹ چار انچ قد کا ایک شخص، سیاہ سوٹ اور نیلی ٹائی پہنے، جج کے سامنے کھڑا ہوا اور آٹھ خواتین کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔

جس ریکس ہیورمین جب جج ٹموتھی مازیئی کے سامنے بیان دے رہے تھے تو ان کے چہرے پر کوئی تاثرات نہ تھے۔ سپاٹ چہرے کے ساتھ انھوں نے تصدیق کی کہ ہر خاتون کو انھوں نے ایک ہی طریقے باندھا اور گلا گھونٹ کر قتل کیا، پھر ان کی لاشیں لانگ آئی لینڈ کے سنسان ساحلی علاقوں میں پھینک دیں۔

جرم کے متعلق جج کے ہر سوال کے جواب میں انھوں نے زیادہ تر صرف ’ہاں‘ میں جواب دیا اور عدالت میں موجود مقتولین کے اہل خانہ کی طرف دیکھنے سے گریز کیا۔

ان خواتین کے خاندان ایک دہائی سے زائد عرصے سے انصاف کے منتظر تھے، کیونکہ ان قتلوں کی تفتیش میں برسوں لگے اور یہ واقعات لانگ آئی لینڈ کے بہت سے رہائشیوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنے رہے۔

ہیورمین کی ہائی سکول کی ہم جماعت سینڈرا سائمن نے بی بی سی کو بتایا: ’لوگ اس بارے میں بات کرتے رہتے تھے، یہ کوئی ممنوع موضوع نہیں تھا۔ ہر کسی کے پاس اپنی ایک رائے تھی۔‘

یہ تمام قیاس آرائیاں سنہ 2023 میں ختم ہو گئیں، جب پولیس نے ہیورمین کو گرفتار کر لیا۔ وہ شادی شدہ تھے، دو بچوں کے باپ تھے اور لانگ آئی لینڈ کے پر سکون مضافاتی علاقے میساپیکوا پارک میں رہتے تھے۔ یہاں کے ایک خستہ حال گھر میں انھوں نے اپنا بچپن گزارا تھا۔

62 سال ماہر تعمیرات کو سفوک کاؤنٹی پولیس نے مڈ ٹاؤن مین ہیٹن میں ان کے دفتر سے گرفتار کیا۔ ایک پیزا باکس سے حاصل کیے گئے ڈی این اے شواہد کی بنیاد پر ان قتلوں کا الزام ہیورمین پر لگا دیا گیا۔

ابتدائی طور پر ہیورمین پر سات خواتین کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم بدھ کے روز انھوں نے 1996 میں ہونے والے ایک قتل کا بھی اعتراف کر لیا۔ اگرچہ ان کا شکار بننے والی خواتین برسوں تک لاپتا رہیں، تاہم جب سنہ 2010 میں تفتیش کاروں کو گلگو کے ساحل پر ایک چوتھائی میل کے فاصلے کے اندر اندر چار لاشوں کی باقیات ملیں، تب جا کر یہ معاملہ سامنے آیا۔

ہیورمین شروع میں خود کو بے قصور قرار دیتے رہے لیکن بعد میں انھوں نے میلیسا بارتھیلمی (عمر 24 سال)، میگن واٹرمن (عمر 22 سال)، ایمبر کوسٹیلو (عمر 27 سال)، مورین برینارڈ بارنز (عمر 25 سال)، جیسیکا ٹیلر (عمر 20 سال)، ویلری میک (عمر 24 سال)، سینڈرا کوسٹیلا (عمر 28 سال) اور کیرن ورگیٹا (عمر 34 سال) کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔

Rex Heuermann home in Massapequa Park
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہیورمین کے ہاتھوں قتل کی گئی تمام خواتین کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اپنی موت کے وقت وہ جسم فروشی کا کام کر رہی تھیں۔ ہیورمین نے ان میں سے بعض سے رابطہ کریگ لسٹ پر شائع ہونے والے ان کے اشتہارات کے ذریعے کیا تھا۔

بدھ کو عدالت میں پیشی کے دوران ہیورمین نے قتل کے واقعات کے بارے میں کوئی خاص نئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ انھوں نے محض یہ تصدیق کی کہ وہ متاثرہ خواتین کو پیسے کا لالچ دے کر اپنے پاس بلاتے تھے، پھر انھیں قتل کر کے لاشوں کے ٹکڑے کرتے اور ان کی باقیات ساحل پر چھوڑ دیتے تھے۔

جب جج نے ان سے پوچھا کہ انھوں نے قتل کیسے کیے تو انھوں نے ’گلا گھونٹ کر‘ کے علاوہ کوئی اور لفظ استعمال نہیں کیا۔ جبکہ نئے الزامات پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے انھوں نے صرف خود کو ’قصوروار‘ کہا۔

سماعت کے بعد متاثرین کے اہلِ خانہ کے وکیل جان رے نے کہا کہ ’اس آدمی کے چہرے پر ذرا برابر بھی ندامت نظر نہیں آئی۔ وہ مکمل طور پر بے رحم دکھائی دے رہا تھا۔‘

عدالت نے انھیں ایک سے زیادہ عمر قید کی سزائیں سنائیں، جن کا باضابطہ اعلان 17 جون کو کیا جائے گا۔

مختصر سماعت کے دوران ہیورمین کی سابق اہلیہ آسا ایلروپ کمرۂ عدالت کے پچھلے حصے میں بیٹھی رہیں۔ وہ سیاہ لباس میں ملبوس تھیں اور ان کے چہرے پر کسی قسم کے تاثرات نہیں تھے۔ ان کے ساتھ ان کی اور ہیورمین کی بیٹی بھی موجود تھیں، جو ہاتھ میں ٹشو تھامے ہوئے تھیں۔

عدالت کے باہر آسا ایلروپ نے کہا کہ ان کی تمام تر توجہ متاثرین کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہے اور انھوں نے ان کے نقصان کو ’ناقابلِ تلافی‘ قرار دیا۔

’آپ کسی کو حقیقت میں نہیں جانتے‘

لانگ آئی لینڈ کے چھوٹے سے قصبے ماسیپیکوا پارک میں تقریباً 18 ہزار افراد آباد ہیں۔ سڑکوں کے اطراف امریکی پرچم لہرا رہے ہیں اور اچھی طرح سنبھالے گئے درجنوں گھروں کے سامنے گاڑیاں اور بعض گھروں کے ڈرائیو ویز میں کشتیاں کھڑی ہیں۔

علاقے کے بہت سے رہائشیوں کے لیے ایک مکان ہمیشہ نمایاں رہا۔ سرخ اور سبز کھڑکیوں والا وہ خستہ حال گھر جو کے گھر سے صرف ایک بلاک کے فاصلے پر واقع ہے۔ جو 1995 میں اپنی اُس وقت کی اہلیہ کے ساتھ اس علاقے میں آ کر آباد ہوئے تھے۔

انھوں نے، رازداری کے باعث اپنا پورا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کہا کہ ’یہ گھر پورے علاقے سے مختلف لگتا تھا لیکن اس کے بارے میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ اس پر زیادہ غور ہی نہیں کرتے۔‘

ہیورمین کا بچپن کا گھر اب میڈیا اور حقیقی جرائم میں دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

ہیورمین کی متوقع اعترافِ جرم کی سماعت سے ایک روز قبل شام کے وقت ایک بار پھر اس گھر کے باہر صحافیوں کا ہجوم جمع ہو گیا، جب ان کی سابق اہلیہ آسا ایلروپ اور ان کے بچے اپنے وکیل کے ہمراہ رپورٹرز سے بات کر رہے تھے۔ وہ ایک متاثرہ فرد کے رشتہ دار کی جانب سے دائر کیے گئے غلط موت کے مقدمے پر ردعمل دے رہے تھے۔

ہیورمین کی گرفتاری کے بعد ان کی اہلیہ اور دونوں بچے اسی گھر میں مقیم رہے، حتیٰ کہ سامنے کے برآمدے میں باربی کیو بھی کرتے رہے، حالانکہ سامنے کے لان میں تماشائی موجود ہوتے تھے۔

تاہم جیسے جیسے ہیورمین کی اعترافِ جرم کی سماعت قریب آتی گئی، باقی شہر اس معاملے سے آگے بڑھنے کا خواہاں دکھائی دیا۔

رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کبھی کبھار خبروں میں ذکر کے سوا وہ اب اس سلسلہ وار قاتل کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتے جو کبھی ان کے درمیان رہتا تھا۔

جو نے کہا کہ ’اب یہ سرخیاں نہیں رہیں۔ امریکی معاشرے میں چیزوں کو جلد بھول جانے کی عادت ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں یہاں اپنے پڑوسیوں کو جانتا ہوں، لیکن سچ کہوں تو آپ درحقیقت کسی کو نہیں جانتے۔‘

Sandra Symon and Tim Omara
،تصویر کا کیپشنسینڈرا سائمن نے بتایا کہ وہ ہیورمین کے ساتھ ہائی سکول میں پڑھتی تھیں اور ان کے مطابق وہ ایک ’تنہا مزاج‘ شخص تھے

برسوں کی خاموشی

بدھ کے روز ہیورمین کی جانب سے اعترافِ جرم نے اگرچہ متاثرہ خواتین کے اہلِ خانہ اور دوستوں کو کچھ حد تک سکون فراہم کیا، تاہم بہت سوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم کہیں پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔

پولیس نے ان ہلاکتوں کی ایک دہائی سے زائد عرصے تک تفتیش کی، اور ان کے پاس ایک ایسی اطلاع موجود تھی جس پر عمل کیے جانے کے بعد چند ہی ہفتوں میں قاتل تک پہنچا جا سکا۔

متاثرین کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے مطلوبہ سنجیدگی نہیں دکھائی، کیونکہ قتل ہونے والی خواتین جنسی کارکن تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افسران بار بار ان خواتین کو ’سیکس ورکر‘ قرار دیتے رہے۔

لانگ آئی لینڈ کے بعض رہائشیوں نے بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انصاف ملنے میں اتنی تاخیر دیکھ کر وہ دنگ رہ گئے۔

پڑوسی قصبے کی رہائشی ایلن میونوز، جو ہیورمین کی سماعت میں موجود تھیں، نے کہا کہ ’وہ کمتر نہیں تھیں، اس لیے کہ وہ وہی کر رہی تھیں جو انھیں زندہ رہنے کے لیے کرنا پڑا۔‘

Ellen Munoz (right), Peggy Gould (centre) and Debra Timms outside court

سفوک کاؤنٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ابتدا میں اس تفتیش میں وفاقی تفتیش کاروں کو شامل نہیں کیا تھا، جبکہ اس کیس کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی قیادت کو الگ الگ اسکینڈلز کا بھی سامنا رہا۔

اس کیس کی نگرانی کرنے والے سابق پولیس چیف جیمز برک کو سنہ 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں انھیں انصاف میں رکاوٹ ڈالنے سمیت متعدد الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔

یہ مقدمہ سفوک کے ڈسٹرکٹ اٹارنی تھامس سپوٹا کے زوال کا باعث بھی بنا، جو 2002 سے 2017 تک اس عہدے پر فائز رہے اور گلگو بیچ قتل کیس کی قیادت بھی کر رہے تھے۔

سنہ 2022 میں، نئی قیادت کے تحت سفوک کاؤنٹی پولیس نے ان ہلاکتوں کی تفتیش کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی، جس میں وفاقی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شامل کیا گیا۔ اس تازہ کوشش کے نتیجے میں پولیس صرف چھ ہفتوں کے اندر ہیورمین تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔

پولیس نے ایک مشتبہ شخص کی تفصیل پر کارروائی کی جو سنہ 2010 میں ایک متاثرہ خاتون ایمبر کوستیلو کے روم میٹ نے فراہم کی تھی۔ یہ تفصیل اس وقت دی گئی تھی جب ایمبر کو ایک گاہک کے ساتھ ناخوشگوار تجربہ پیش آیا تھا۔

روم میٹ ڈیو شالر نے اس گاہک کو ایک بڑے جسامت والے شخص کے طور پر بیان کیا تھا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ’اوگر‘ (دیوقامت درندے) سے مشابہ لگتا تھا اور شیورلیٹ ایوالانچ گاڑی چلاتا تھا، جو ایک منفرد ماڈل ہے۔

یہ اطلاع بعد ازاں تفتیش کاروں کے لیے ہیورمین تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوئی۔ اس کے بعد پولیس نے ان برنر فونز کا جائزہ لیا جن کے ذریعے متاثرین سے رابطہ کیا جاتا تھا، موبائل فون ٹاورز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا اور مقتولین کے جسموں سے ملنے والے بالوں کا ڈی این اے اس پیزا سے ملایا جو ہیورمین نے کھا کر پھینکا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہیورمین کے تہہ خانے سے مزید شواہد بھی ملے، جن میں ان کے کمپیوٹر پر تیار کی گئی ایسی تحریری رہنما دستاویزات شامل تھیں جن میں قتل کرنے کے طریقے درج تھے۔

لانگ آئی لینڈ کا معمہ

Gilgo Beach brush
،تصویر کا کیپشنتفتیش کاروں نے لانگ آئی لینڈ کی اوشن پارک وے کے ساتھ واقع ویران ساحلوں کے کناروں پر پھیلی جھاڑیوں میں 11 افراد کی باقیات برآمد کیں

ہیورمین کی جانب سے قتل کا اعتراف کیے جانے کے باوجود متاثرین کے اہلِ خانہ اور عوام کے لیے اب بھی کئی سوالات جواب طلب ہیں۔

چار خواتین کی لاشیں اس وقت دریافت ہوئیں جب حکام ایک اور خاتون شینن گلبرٹ کی تلاش کر رہے تھے، جنھوں نے مئی 2010 میں ایک رات دیر گئے پولیس کو فون کر کے چیختے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ لوگ‘ انھیں قتل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بدھ کو عدالت میں ایلین کولیٹی ایڈورڈز اپنے والد کی نمائندگی میں موجود تھیں۔ ان کے والد نے اُس رات شینن گلبرٹ کو اوک بیچ میں اپنے گھر کے اندر آنے دیا تھا، جب وہ لاپتہ ہونے سے قبل ان کے دروازے پر دستک دے کر مدد مانگ رہی تھیں۔

انھوں نے پولیس کو فون کرنے کی کوشش کی، مگر گلبرٹ وہاں سے بھاگ گئی تھیں۔

ایلین کولیٹی ایڈورڈز نے کہا کہ ’انھیں اس بات کی امید تھی کہ وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی ہوں گی اور کہیں چھپی ہوں گی۔‘

ان کے والد کی وفات ہیورمین کی گرفتاری سے قبل ہو چکی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہیورمین نے شینن گلبرٹ کو قتل کیا۔ ان کے مطابق امکان یہی ہے کہ گلبرٹ کی موت دلدلی علاقے میں ڈوبنے یا کسی اور خطرناک صورتحال کے باعث ایک حادثے کے طور پر ہوئی۔

دوسری جانب والیری مک کے بیٹے ٹوریس نے ہیورمین اور اس کے خاندان کے خلاف غلط موت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کا مقصد وہ رقوم حاصل کرنا ہے جو یہ خاندان اُس ڈاکیومنٹری کے ذریعے کما رہا ہے جس میں وہ شامل ہیں۔

ٹوریس کے وکیل رے نے اس بات کی نشان دہی کی کہ گرفتاری کے بعد، طلاق کے عمل کے باوجود، آسا ایلروپ نے اپنے شوہر کو ’اپنا ہیرو‘ کہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ہیورمین کے خاندان کا ان جرائم میں کوئی کردار تھا۔

منگل کے روز ماسیپیکوا پارک میں ان کے گھر کے باہر، آسا ایلروپ کے وکیل نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ خاندان کا ان جرائم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

تاہم بعض مقامی رہائشی یہ سوال اب بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا لانگ آئی لینڈ کی زمین اب بھی مزید راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔

گرمیوں میں، سائمن اُن کشتی مالکان میں شامل ہوتی ہیں جو ہر اتوار کو ہیملک کوو کا رخ کرتے ہیں، جو ایک مقبول لنگر انداز مقام ہے اور اس جگہ کے قریب ہی واقع ہے جہاں ہیورمین مبینہ طور پر اپنے متاثرین کی باقیات پھینکا کرتا تھا۔

بعض اوقات لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ شاید دوربین نکال کر یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں قریبی دلدل میں مزید لاشیں تو نہیں چھپی ہوئی ہیں۔

سائمن کا کہنا ہے کہ وہ وہاں ملنے والی خواتین کے بارے میں اکثر سوچتی رہتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’آپ ان کے بارے میں سوچے بغیر کیسے رہ سکتے ہیں؟ یہ ایک ہولناک اور خوفناک واقعہ تھا۔‘