امریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات سے سخت گیر ایرانی ناخوش کیوں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    • مصنف, کسرہ ناجی
    • عہدہ, نمائندہ خصوصی، بی بی سی فارسی
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

صرف چند دن پہلے کی بات ہے کہ ایران میں سخت گیر موقف رکھنے والے حکام نے ایرانی دارالحکومت کے ایک مصروف ترین چوراہے پر ایک بڑا بینر آویزاں کیا جس پر لکھا تھا کہ ’آبنائے ہرمز بند رہے گی۔‘

اس کا مقصد ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی طرف سے جاری ایک حکم نامے کی جانب اشارہ تھا۔ یاد رہے کہ گذشتہ ماہ نئے رہبرِ اعلیٰ نامزد کیے جانے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای اب تک منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔

تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ ایران کی جانب سے دو ہفتے کی جنگ بندی اور پاکستان کی درخواست کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر رضامندی کے بعد اس بینر کو ہٹانا پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے ایران کا اصرار تھا کہ وہ عارضی جنگ بندی پر راضی نہیں ہوگا اور یہ کہ وہ تہران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔

اس تمام پیشرفت سے سخت گیر موقف رکھنے والے افراد بظاہر خوش دکھائی نہیں دیتے۔ ایران کی آبنائے ہرمز کو بند رکھنے اور خلیجی ممالک کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی صلاحیت سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی تھی۔

ان کا ماننا ہے ایران کو جنگ جاری رکھنی چاہیے تھی کیونکہ اس میں تہران کو امریکہ اور اسرائیل پر برتری حاصل تھی۔

تہران سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب جنگ بندی کے اعلان کے بعد انھوں نے امریکی اور اسرائیلی جھنڈے نذر آتش کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

پاسدارانِ انقلاب کے زیر کنٹرول بسیج ملیشیا کے ایک گروپ نے اس فیصلے کی مخالفت میں راتوں رات وزارت خارجہ کی جانب مارچ بھی کیا۔

چند گھنٹوں بعد سخت گیر اخبار کیہان کے ایڈیٹر نے لکھا کہ جنگ بندی پر رضامندی ’دشمن کے لیے ایک تحفہ‘ ہے، جس سے اسے تازہ دم ہو کر جنگ دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے آرمی چیف کی درخواست کو قبول کرنے کا فیصلہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا ہے جو کہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے ماتحت ملک کا سب سے اعلیٰ فیصلہ ساز ادارہ ہے۔ اس ادارے کے سربراہ اعتدال پسند صدر مسعود پزشکیان ہیں۔

سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اعلان کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے بدلے میں آبنائے ہرمز سے دو ہفتوں کے لیے جہازوں کی محفوظ آمدورفت ممکن ہو گی جبکہ اس دوران واشنگٹن اور تہران مذاکرات کریں گے۔

خبروں کے مطابق رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین نے اپنے قریبی اتحادی ایران کو پاکستان کی درخواست پر راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وقتی راحت؟

اس 40 روزہ جنگ کے دوران ایران کو بہت زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ 3,000 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے کہیں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور تباہی کی دھمکی دی تھی۔

حتیٰ کہ سخت گیر موقف رکھنے والے لوگوں کے سامنے بھی یہ بات واضح ہوتی جا رہی تھی کہ اس سے قبل کہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو مزید تباہ ہوں، کوئی راستہ تلاش کرنا ہو گا۔

جنگ بندی کے اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی سخت گیر چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجی نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ایران اپنی بالادستی برقرار رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے۔

بظاہر وہ ملک کے سابق اعتدال پسند وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی بات دہرا رہے تھے جو انھوں نے چند روز قبل امریکی جریدے فارن افیئرز کے لیے ایک مضمون میں کہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے جنگ بندی معاہدے کو ایران کی فتح کے طور پر پیش کرتے ہوئے حکومت کے حامیوں سے متحد رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کریں گے جبکہ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات بھی ایک طرح سے ایران کے سخت گیر موقف سے انحراف ہے۔

اس جنگ کے آغاز میں اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر پابندی لگائی ہوئی تھی۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس براہ راست مذاکرات کی منظوری آیت اللہ خامنہ کے بیٹے اور نئے رہبرِ اعلیٰ نے نے دی ہے۔

جنگ بندی تو ہو گئی ہے لیکن اب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان دیرپا امن کا قیام کوسوں دور ہے۔

مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں جنگ ایک بار پھر شروع ہو سکتی ہے۔

ایران میں جنگ کا حامی ٹولہ شاید اس کی امید لگائے بیٹھا ہو تاکہ اس کے نتیجے میں انھیں اس حکومت کو فارغ کرنے کا موقع مل جائے جسے وہ ناکارہ سمجھتے ہیں۔

لیکن دوسروں کے لیے، جنگ بندی ان کے ارد گرد ہونے والی اموات اور تباہی سے راحت کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔