’مثبت اشارے اور جامع حل کی تلاش‘: چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سات روزہ مذاکرات میں کیا ہوا؟

@SpoxCHN_LinJian

،تصویر کا ذریعہ@SpoxCHN_LinJian

    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سات روز سے چین میں جاری مذاکرات میں مثبت اشارے ملے ہیں اور اس بارے میں چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کے خاتمے کے لیے جامع حل تلاش کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔

پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے چین نے ثالثی کی ہے اور ان مذاکرات کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مذاکرات اس سے پہلے بھی ہو چکے ہیں لیکن اس مرتبہ کی کوششوں اور اس میں ہونے والے مذاکرات کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔

کیا ان مذاکرات سے کوئی قابل عمل نتائج حاصل کیے جا سکیں گے اور یہ مذاکرات کیا دونوں ممالک کے درمیان حالات معمول پر لانے کا باعث بنیں گے؟

پاک افغان مذاکرات: چین نے کیا کہا ہے؟

@SpoxCHN_LinJian

،تصویر کا ذریعہ@SpoxCHN_LinJian

یہ مذاکرات گزشتہ سات روز سے چین کے علاقے اورمچی میں جاری تھے اور اس میں پاکستان اور افغانستان کے وفود شریک تھے۔ چین کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ ’افغانستان اور پاکستان گذشتہ سال اکتوبر میں شروع ہونے والی کشیدگی کا جامع حل تلاش کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔‘

وزارت کے ترجمان ماؤننگ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’دونوں ممالک نے چین میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران کوئی بھی ایسا اقدام نہ کرنے کا عہد کیا ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہو یا پیچیدہ ہو۔‘ ترجمان نے مزید کہا کہ ’چین دونوں ممالک کے ساتھ جاری تعلقات کو برقرار رکھے گا اور بات چیت کو جاری رکھنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرے گا۔‘

ترجمان نے کہا ہے کہ ’اس اجلاس میں چین، پاکستان اور افغانستان کے وفود شریک تھے اور فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خطے کی پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔‘

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے مکالمہ اور مشاورت ہی مؤثر راستہ ہے، جبکہ چین نے دہشت گردی کو دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔ تینوں ممالک نے ’اورمچی مذاکرات‘ کو اگلے مرحلے میں جاری رکھنے اور اس سلسلے میں رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کا نرم گرم موقف؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان مذاکرات کے بارے میں اب تک پاکستان کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے بلکہ اب تک خاموشی ہے۔ چند روز پہلے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ان مذاکرات کے بارے میں کہا تھا کہ چین کی ثالثی میں یہ مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تھی۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حسن خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ان مذاکرات میں سینیئر سطح کے اراکین شریک نہیں تھے لیکن گزشتہ روز چین کے افغانستان میں سفیر نے افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی ہے اور اس میں دونوں جانب سے اچھی توقعات کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستان کے وزیر خارجہ کی بھی چین کے سفیر سے ملاقات ہوئی ہے۔‘

پاکستان میں گزشتہ روز یعنی منگل کے دن کور کمانڈ کانفرنس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’افغانستان میں جاری آپریشن غضب للحق افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے مکمل خاتمے تک اسی رفتار سے جاری رہے گا۔‘

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے پاکستان کا بظاہر ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ مسلح شدت پسند تنظیوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور یہ کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

افغانستان کا موقف: ’مذاکرات مثبت رہے‘

اس بارے میں افغانستان کی جانب سے منگل کے روز ایک بیان سامنے آیا جس میں افغان وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’چین میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات مثبت رہے اور ان میں پیش رفت ہوئی ہے۔‘

افغان وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ ’اب تک ہونے والی بات چیت مثبت رہی ہے اور اُمید ہے کہ معمولی نوعیت کے اختلافات مذاکرات کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔‘

اس بارے میں افغانستان کے قطر میں سیاسی دفتر کے رہنما سہیل شاہین نے بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال پر کہا ہے کہ ان کے پاس ان مذاکرات کے بارے میں ’زیادہ تفصیل نہیں ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ مذاکرات مثبت رہے ہیں۔‘

افغان سینیر صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی اب تک افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی مذاکراتی عمل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی جانب سے افغانستان میں شدید بمباری کے بعد یہ مذاکرات پہلے کی کاوشوں سے زیادہ مثبت انداز میں ہوئے ہیں اور اس کی ایک وجہ دونوں جانب سے شامل وفود کا ایک دوسرے کے ساتھ رویہ اس مرتبہ زیادہ مثبت اور بہتر رہا ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر میں حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب پاکستان میں شدت پسندوں کے مسلسل حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملے کیے تھے۔ اس کے چند دنوں بعد افغانستان نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں متعدد مقامات پر حملے کیے تھے۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ سرحد ہر قسم کی تجارت کے لیے بند کر دی گئی جس پر افغانستان نے بھی پاکستان کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں ختم کر دی تھیں اور پاکستانی اشیاء کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ مذاکرات کتنے قابل عمل ہوں گے؟

اگرچہ ان مذاکرات کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی ایسا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں ان موضوعات کا ذکر ہو جس پر دونوں ممالک نے بات چیت کی ہو تاہم اس بارے میں ذرائع سے معلومات سامنے آتی رہی ہیں۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان نے ان مذاکرات میں اپنا اپنا موقف بیان کیا ہے اور یہاں یہ بات اہم ہے کہ دونوں ممالک سات دن تک مذاکرات کرتے رہے ہیں جس میں دونوں ممالک نے کھل کر بات چیت کی ہے۔‘

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بظاہر پاکستان کا ایک بڑا مطالبہ ہے جو پاکستانی حکام ہر موقع پر دہراتے رہے ہیں کہ افغانستان میں ایسی تنظیمیں اور گروہ ہیں جو پاکستان میں مسلح کارروائیوں میں ملوث ہیں اور افغانستان ان کے خلاف کارروائیاں نہیں کر رہا جس وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔

پاکستان کی جانب سے سب سے اہم مطالبہ یہ رہا ہے کہ افغانستان میں قائم طالبان حکومت ’تحریک طالبان پاکستان‘ کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے، اس کے نیٹ ورک اور محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرے اور اس حوالے سے قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔

اس کے علاوہ پاکستان نے جنگ بندی، سرحد پار حملوں کی روک تھام پر بھی زور دیا ہے۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری جانب افغانستان نے پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ’اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی اور مسئلہ پاکستان کے اندرونی حالات سے جڑا ہوا ہے۔‘ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ’پاکستان اپنے اندرونی حالات بہتر کرے اور یہ گروہ یا تنظیمیں پاکستان کے اندر موجود ہیں۔‘

حسن خان کا کہنا ہے کہ ان مطالبات پر عمل درآمد دیکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو آئندہ مذاکرات زیادہ سینیئر سطح کے وفود کے ساتھ ہوں گے۔‘

رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ مسلح شدت پسند تنظیمیں جن میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان، حافظ گل بہادر گروپ اور اتحاد المجاہدین پاکستان اور اس کے علاوہ جماعت الاحرار جن کی کارروائیاں پاکستان میں ہو رہی ہیں، اب افغانستان کو دیکھنا ہوگا کہ وہ ان کے خلاف کیا کارروائیاں کرتا ہے۔‘

’ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ان تنظیموں کے حملوں میں کتنی کمی واقع ہوتی ہے اور اگر یہ حملے کم ہوتے ہیں یا رک جاتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان ان مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں۔‘

ان تنظیمیوں میں القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں بھی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ القاعدہ کی کارروائیاں اب نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن داعش ایک ایسی تنظیم ہے جس پر افغانستان کو بھی اعتراض ہے اور افغان حکام یہ کہتے آئے ہیں کہ داعش پاکستان میں بھی موجود ہے اور افغانستان نے مبینہ طور پر داعش کے خلاف بڑی کارروائیاں بھی کی ہیں۔

رفعت اللہ اورکزئی کہتے ہیں کہ ’گزشتہ چند روز سے طالبان کی کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔ عام طور پر جیسے طالبان کی جانب سے حملوں کی ذمہ داری لی جاتی ہے اب وہ بہت کم ہو چکے ہیں اور بعض اوقات ایسے واقعات کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں جن میں کوئی نقصان نہیں ہوتا اور صرف حملہ کیا جاتا ہے۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کی جانب سے کچھ عرصہ پہلے بھی افغانستان سے کہا گیا تھا کہ ان تنظیموں کو غیر مسلح کیا جائے۔ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں کہ افغان حکام نے ان تنظیموں سے وابستہ لوگوں کو افغانستان کے ان دور دراز علاقوں میں منتقل کر دیا تھا جو پاکستان کی سرحد سے دور تھے۔

افغانستان کی جانب سے بھی ان مذاکرات میں ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے سرحد کی بندش پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

افغانستان کا موقف ہے کہ ’اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالات میں اگر کوئی مشکل پیدا ہوتی ہے تو اس میں سرحد کو بند نہیں کیا جانا چاہیے۔‘ ان کا موقف یہ بھی رہا ہے کہ ’تجارت کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔‘

رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ ’افغان حکام یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تجارت کے تمام راستے کھلے رہنے چاہییں ان میں طورخم، خرلاچی، غلام خان، انگور اڈا اور چمن شامل ہیں۔‘

سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کا اپنا اپنا موقف ہے اور یہ مذاکرات کتنے پائیدار ہوں گے اس بارے میں فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک لمبی جنگ نہیں لڑ سکتے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ ’ہر بات کا انحصار ٹی ٹی پی پر ہے کہ اگر یہ تنظیم حملے کرتی ہے تو حالات میں بہتری کی امید نہیں ہے لیکن پاکستان اور افغانستان کے رویوں میں نرمی آئی ہے اور ایک وقت کے بعد یہ حالات بہتر ہوں گے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی ماضی کی کوششیں ناکام کیوں ہوئیں؟

ISPR

،تصویر کا ذریعہISPR

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔ بلکہ اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد پہلے قطر، پھر ترکی اور سعودی عرب نے بھی کوششیں کی تھیں لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔

چین اس سے پہلے بھی کوششیں کر چکا ہے۔ یہ مذاکرات دو یا تین دن تک جاری رہنے کے بعد بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار افتخار فردوس اور طاہر خان گذشتہ برس ترکی اور خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان شروع کیے گئے مذاکراتی عمل کی ناکامی کو پاکستان کی جانب سے تحریری ضمانت کے مطالبے اور طالبان کی جانب سے اس سے انکار کو گردانتے ہیں۔

طاہر خان کے مطابق ’پاکستان کا اصرار تھا کہ طالبان تحریری ضمانت دیں کہ افغانستان کی سرزمین سے کوئی دہشتگردی کا واقعہ نہیں ہو گا اور اگر ہوا تو پاکستان اس پر کارروائی کرے گا۔‘

’مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان حکومت اپنے ملک کے اندر سے پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے گروہوں کو پکڑے، انھیں غیر مسلح کرے اور انھیں پاکستان کے حوالے کرے۔‘

’دوسری جانب افغان طالبان کا کہنا تھا کہ آپ ان (گروہوں) سے مذاکرات کریں۔ ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، لکی مروت، بنوں کی سکیورٹی کی ذمہ داری ہماری نہیں آپ کی ہے، ہم کابل کی گارنٹی نہیں لے سکتے تو پشاور کی کیسے دیں۔‘

افتخار فردوس کہتے ہیں کہ ’طالبان کے نقطہ نظر سے مشترکہ بارڈر میکانزم بنانے کا مطلب ڈیورنڈ لائن کو تسلیم شدہ سرحد کے طور پر قبول کرنا ہو گا۔‘

’افغان طالبان نہ صرف علاقے کے جغرافیہ کو تاریخی پس منظر میں دیکھتے ہیں بلکہ وہ پاکستانی طالبان کو تحفظ فراہم کرنا اپنا نظریاتی فرض سمجھتے ہیں۔‘

طاہر خان کہتے ہیں کہ ’اُورمچی میں ہونے والے مذاکرات دونوں ملکوں کے درمیان امن قائم کرنے کی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی تو ہے لیکن چین کی ثالثی میں ہونے والا مذاکراتی عمل پچھلی کوششوں سے مختلف ہے۔‘