انڈین حکومت کی سوشل میڈیا پر کنٹرول سخت کرنے کی کوشش: انفلوئنسرز اور پوڈکاسٹرز بھی نئے قوانین کی زد میں

،تصویر کا ذریعہSandeep Singh
- مصنف, چیریلان مولان اور امنگ پوددار
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
انڈین حکومت نے آن لائن خبروں سے وابستہ آوازوں کے ایک وسیع دائرے کو اپنے ریگولیٹری فریم ورک میں شامل کرنے کے لیے تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔
ان تجاویز کی زد میں فیس بک، یوٹیوب اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر موجود انفلوئنسرز اور پوڈ کاسٹرز بھی آنے والے ہیں۔
گذشتہ ہفتے، وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انڈیا کے آئی ٹی قواعد میں ترامیم تجویز کی ہیں جو ڈیجیٹل میڈیا کے مواد کو منظم کرتے ہیں۔
ان ترامیم میں وہ ’صارفین جو ناشر نہیں ہیں‘ بھی شامل ہیں جو ’خبروں اور حالاتِ حاضرہ‘ سے متعلق مواد شیئر کرتے ہیں، اور انھیں بھی اُس ضابطۂ اخلاق کے تحت لایا جائے گا جو اس وقت رجسٹرڈ نیوز پبلشرز پر نافذ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے حکومت کو عام صارفین کی جانب سے شیئر کی جانے والی خبروں سے متعلق پوسٹس پر زیادہ کنٹرول مل سکتا ہے، جن میں آزاد صحافی اور پوڈ کاسٹرز بھی شامل ہیں۔
حکومت نے تجویز دی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ’سیف ہاربر‘ کے تحفظ، یعنی صارفین کے پوسٹ کیے گئے مواد پر قانونی ذمہ داری سے استثنیٰ، کو برقرار رکھنے کے لیے حکومتی احکامات اور ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔
ان مجوزہ ترامیم نے ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں اور آزاد نیوز کریئیٹرز کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریاست کی جانب سے مسلط کی جانے والی سنسرشپ کے تقریباً مکمل نفاذ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ وہ یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان قواعد کا غلط استعمال کرتے ہوئے ناقدین کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اختلاف رائے کو دبایا جا سکتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم موجودہ آئی ٹی قواعد کو مضبوط بنانے اور فیک نیوز، نفرت انگیز تقاریر اور ڈیپ فیکس پر قابو پانے کے لیے ہیں، اور اس سلسلے میں 14 اپریل تک عوام سے رائے طلب کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ناقدین حکومت کی نیت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
آکاش بنرجی، جو 60 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز کے ساتھ یوٹیوب چینل ’دی دیش بھکت‘ چلاتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ قواعد خوف کا ماحول پیدا کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے تخلیق کار از خود سنسرشپ کی طرف مائل ہو جائیں گے۔
وہ کہتے ہیں: ’دلچسپ بات یہ ہے کہ آن لائن مواد، نفرت انگیز تقاریر اور جعلی خبروں سے متعلق بے شمار قوانین کے باوجود، ملک میں ان میں کوئی کمی نظر نہیں آتی ہے۔ دوسری جانب، حکومت پر تنقید کرنے والی پوسٹس، چاہے وہ مزاحیہ اور طنزیہ ہی کیوں نہ ہوں، تیزی سے بلاک یا ہٹائی جا سکتی ہیں۔‘
حکام اس قسم کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انٹرنیٹ کے متعلق حقوق کے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ نئے قواعد حکومت کی جانب سے اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
لیکن گذشتہ ماہ، ایکس نے تقریباً ایک درجن اکاؤنٹس بلاک کر دیے، جن میں سے کئی حکومت پر طنزیہ پوسٹس کے لیے مشہور تھے۔ یہ کارروائی انڈیا کے آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69 (اے) کے تحت جاری کردہ احکامات پر عمل کرتے ہوئے کی گئی۔
کمار نین کے ایکس پلیٹ فارم پر تقریباً 2 لاکھ 42 ہزار فالوورز ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اکاؤنٹ بلاک کیے جانے سے قبل نہ کوئی اطلاع دی گئی اور نہ ہی کوئی وضاحت فراہم کی گئی۔
نین کا کہنا ہے کہ عدالت کے حکم پر اس ہفتے ان کا اکاؤنٹ بحال کر دیا گیا، تاہم 10 پوسٹس تاحال انڈیا میں بلاک ہیں، جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایک پینل کے جائزے کی منتظر ہیں۔ بی بی سی نے وہ پوسٹس دیکھی ہیں، جن میں سے سب میں یا تو وزیر اعظم نریندر مودی کا مذاق اُڑایا گیا ہے یا پھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر تنقید کی گئی ہے۔
کمار نین کہتے ہیں: ’کوئی بھی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ پوسٹس قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ محض مزاحیہ پوسٹس ہیں، تو حکومت انھیں ہٹانا کیوں چاہتی ہے؟‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’عدالت میں حکم کو چیلنج کرنے کے بعد ان کی شناخت عوام کے سامنے آ گئی ہے، جس سے ان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔‘
’میں سوشل میڈیا کے ذریعے فراہم کردہ شناخت کو چھپانے کا آپشن کھو چکا ہوں، جو اگرچہ دو دھاری تلوار ہے، مگر وہی وسل بلوورز اور ناقدین کو دھمکیوں اور ہراسانی سے بچاتی ہے۔‘
نین نے اپنی شناخت ظاہر ہونے کے بعد اپنا گھر بھی تبدیل کر لیا ہے۔
بی بی سی نے اس معاملے پر متعلقہ وزارت کو سوالات کی ایک فہرست ارسال کی ہے۔
دریں اثنا، امریکی حکومت کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2021 کے بعد سے امریکی سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسے مواد اور صارف اکاؤنٹس ہٹانے کی درخواستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو بظاہر سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔
ڈیجیٹل حقوق کے کارکن نِکھل پاہوا کا کہنا ہے کہ آئی ٹی قواعد میں مجوزہ ترامیم دراصل حکومت کے ’وسیع پیمانے پر سنسرشپ کے ڈھانچے‘ کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین روز نامہ دی ٹائمز آف انڈیا میں شائع ایک مضمون میں، جو انھوں نے انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے بانی اپار گپتا کے ساتھ مل کر لکھا ہے، پاہوا نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ سنہ 2021 میں متعارف کرائی گئی ترامیم کے ذریعے آن لائن مواد پر حکومتی کنٹرول بڑھایا گیا ہے اور صارفین کے حقوق کو کمزور کیا گیا ہے۔
سنہ 2021 کی ایک ترمیم کے تحت ڈیجیٹل نیوز اداروں کو حکومتی نگرانی میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ سنہ 2025 میں کی گئی ترامیم سے وفاقی وزارتِ داخلہ کے ’سہیوگ پورٹل‘ کو مزید مضبوط کیا گیا۔ سہیوگ پورٹل ایک مرکزی پلیٹ فارم ہے جو متعدد ایجنسیوں کو محدود شفافیت اور کم حفاظتی اقدامات کے ساتھ سوشل میڈیا کمپنیوں کو مواد ہٹانے کے لیے نوٹس جاری کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ خبر والے مواد اب صرف نیوز ادارے ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی شیئر کرتے ہیں اس لیے اسے منظم کرنے کے لیے ایک ’مشترکہ فریم ورک‘ کی ضرورت ہے۔
یہ پورٹل مواد ہٹانے کے لیے ایک متوازی نظام کے طور پر کام کرتا ہے، جو آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69 (اے) کے تحت وفاقی حکومت کو حاصل بلاکنگ کے اختیارات سے الگ ہے۔
سنہ 2026 کے آغاز میں آئی ٹی قواعد میں ایک اور ترمیم کی گئی، جس کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے حکومتی بلاکنگ احکامات پر عمل کرنے کی مہلت 36 گھنٹوں سے کم کر کے صرف تین گھنٹے کر دی گئی، جس سے قانونی نظرِ ثانی کے امکانات شدید طور پر محدود ہو گئے۔
پاہوا لکھتے ہیں: ’انڈیا میں اپنی مارکیٹ برقرار رکھنے کے خواہشمند پلیٹ فارمز فوری طور پر عمل کرتے ہیں۔ جن شہریوں کی آواز دبائی جاتی ہے انھیں نہ کوئی اطلاع ملتی ہے نہ سماعت، نہ وجہ بتائي جاتی ہے اور نہ ہی حکومت یا پلیٹ فارمز کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے، کیونکہ قانونی نظام ریگولیشن کی جانب سے دکھائی جانے والی تیزی کا مقابلہ نہیں کر پا رہا۔‘
وزات الیکٹرانک اینڈ انفارمیشن کے سیکریٹری ایس کرشنن نے آئی ٹی قواعد اور حالیہ مجوزہ ترامیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات قانون اور آئین کے مطابق ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے مواد کے لیے ایک ’مشترکہ پالیسی یا مشترکہ فریم ورک‘ ضروری ہے، کیونکہ اب یہ مواد صرف نیوز پبلشرز تک محدود نہیں رہا بلکہ عام شہری بھی اسے شیئر کرتے ہیں۔
سندیپ سِنگھ کے ایکس اکاؤنٹ پر ایک لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔ ان کا اکاؤنٹ مارچ میں بلاک کیے گئے اکاؤنٹس میں شامل تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اس وقت تنقیدی پوسٹس کرنا شروع کیا جب انھیں لگا کہ مین سٹریم میڈیا بی جے پی کے حق میں ’جانبدار‘ ہے۔
یہ مضمون تحریر کیے جانے تک سندیپ سنگھ کا اکاؤنٹ انڈیا میں بلاک ہی رہا۔
سندیپ سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’میں سچ کے ساتھ کھڑا ہوں، اور میرے اکاؤنٹس یا پوسٹس بلاک کرنے سے مجھے اقتدار کے سامنے سچ بولنے سے نہیں روکا جا سکتا۔‘
جبکہ نین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے پاس عدالت جانے کے وسائل موجود ہیں، لیکن ہر شخص اپنے مواد کی بحالی کے لیے اتنی جدوجہد کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
وہ کہتے ہیں: ’کسی بھی جمہوریت میں لوگوں کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ مناسب حدود کے اندر رہتے ہوئے، بغیر خوف کے اپنی بات کہہ سکیں۔ انڈیا ایک جمہوریت ہے، تو پھر ایسا کرنا اتنا مشکل کیوں ہو گیا ہے؟‘


























