دنیا کی سب سے معمر پی ایچ ڈی طالبہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جرمنی کی 102 برس کی خاتون منگل کو پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والی دنیا کی سب سے معمر خاتون بن جائیں گی۔ نازیوں نے 80 سال پہلے انھیں امتحانات میں نہیں بیٹھنے دیا تھا۔
انگیبورگ نے 1937 میں اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کی اور خناق کی بیماری پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا۔ خناق اس وقت جرمنی میں ایک بڑا سنگین مسئلہ تھا۔
لیکن نازیوں کے جبر کے وجہ سے انھیں تقریباً آٹھ دہائیاں اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری کا انتظار کرنا پڑا۔
ان کی ماں ایک یہودی پیانو نواز تھیں۔
اس لیے اڈولف ہٹلر کے یہود دشمن نسلی قوانین کے تحت انگیبورگ کو آخری زبانی امتحان میں نہیں بیٹھنے دیا گیا۔ ان کے پاس یونیورسٹی آف ہیمبرگ کی طرف سے لکھا ہوا خط ہے جس میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اگر اس دور کے قوانین انھیں آخری امتحان میں بیٹھنے دیتے تو انھیں ان کی ڈگری مل جاتی۔
اب یونیورسٹی نے اپنی غلطی درست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہیمبرگ یونیورسٹی کے شعبۂ طب کے تین پروفیسر گذشتہ ماہ مشرقی برلن میں انگیبورگ کے گھر گئے اور جنگ سے پہلے کے جرمنی کے متعلق ان کی تحقیق پر ان سے امتحان لیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
وہ تینوں ان کے کام سے متاثر ہوئے اور اب منگل کو ہیمبرگ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر ایک تقریب منعقد کر رہا ہے جس میں انھیں آخر کار پی ایچ ڈی کی ڈگری مل جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ اصولوں کی بات ہے۔ میں اپنے مقالے کا دفاع صرف اپنے لیے نہیں چاہتی تھی۔ بہرحال 102 کی عمر میں یہ میرے لیے آسان نہیں تھا۔ میں نے یہ متاثرین کے لیے کیا ہے۔‘
گذشتہ ماہ کے امتحان کے لیے انگیبورگ نے اپنے دوستوں سے مدد لی کہ وہ آن لائن ڈھونڈ کر انھیں بتائیں کہ خناق کے شعبے میں گذشتہ 80 سال میں کیا ترقی ہوئی ہے۔
انھوں نے اخبار ڈیر ٹیجسپیگل کو بتایا کہ ’یونیورسٹی اس ناانصافی کا ازالہ کرنا چاہتی تھی۔ انھوں نے میرے متعلق کافی صبر کا بھی مظاہرہ کیا۔ اور اس کے لیے میں ان کی شکر گزار ہوں۔‘
1938 میں جرمنی یہودیوں کے لیے ایک خطرناک جگہ بن گیا تھا جس کی وجہ سے انگیبورگ امریکہ چلی گئیں جہاں انھوں نے ڈاکٹری کا امتحان پاس کیا۔
کچھ سالوں میں ان کی ملاقات ایک بائیوکیمسٹ سیمول متجا رپوپورٹ سے ہوئی جو کہ خود بھی یہودی تھے اور ویانا سے بھاگ کر آئے تھے۔ بعد میں دونوں نے شادی کر لی۔
1950 میں انگیبورگ ایک مرتبہ پھر مشکل میں پڑ گئیں۔ میکارتھی کے کمیونسٹ مخالف مقدمات کا مطلب تھا کہ انگیبورگ اور ان کے شوہر کو ایک مرتبہ پھر اپنے بائیں بازو کے خیالات کی وجہ سے پکڑے جانے کا خطرہ تھا۔ سو وہ امریکہ سے واپس جرمنی آ گئے۔
اس مرتبہ انگیبورگ رپوپورٹ نے مشرقی برلن کا رخ کیا اور بچوں کے ڈاکٹر کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔
آخر کار وہ پیڈیاٹرکس پروفیسر بن گئیں، جن کے پاس نیونیٹل میڈیسن میں یورپ کی پہلی چیئر تھی۔
انھیں مشرقی برلن میں بچوں کی اموات میں ڈرامائی طور پر کمی لانے کی خدمات کے صلے میں قومی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
لیکن ان کے سبھی کامیابیوں میں 102 سال کی عمر میں اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری واپس حاصل کرنا سرِ فہرست نظر آتا ہے۔





















