’وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنا غیر آئینی ہے، اس لیے بھول جائیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اور انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے نو منتخب سربراہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کرنا غیر آئینی اقدام ہے اس لیے وزیراعظم ایسا نہیں کریں گے۔
آج اسلام آباد میں مسلم لیگ کی ایک سالہ معاشی کارگردگی سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنا غیر آئینی اقدام ہے اس لیے یہ تو بھول جائیں کہ ایسا ہوگا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ سب کا ملک ہے اور انتخابات کو ہم جتنا شفاف بنا سکیں، ہمیں بنانا چاہیے اور یہ تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ دو ہزاز تیرہ کے انتحابات کو نہ صرف بین الاقوامی تنظمیوں نے بلکہ خود پاکستانی میڈیا نے اب تک کے شفاف ترین انتحابات قرار دیا تھا۔‘
دوسری جانب پاکستان کی انتخابی اصلاحات سے متعلق خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا آج پہلا اجلاس ہوا جس میں متفقہ طور پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ 33 رکنی کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کو پارلیمان میں قومی اسمبلی کے سپیکر کی سربراہی میں ہوا۔
کمیٹی کی ملاقات کا مقصد چیئرمین کا انتخاب کرنے کے علاوہ وہ طریقہ کار وضح کرنا تھا جس کے تحت کمیٹی کام کرے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے خلاف چودہ اگست کو لانگ مارچ کے پس منظر میں آج انتخابی اصلاحات کمیٹی کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سلسلے میں آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے کمیٹی کے نو منتخب چیئرمین نے کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ انتخابی اصلاحات متعاراف کرائی جائیں تو اس کا اصل فورم پارلیمان ہے۔ اور اگر وہ پرامن لانگ مارچ کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں۔ انتخابی اصلاحات سے متعلق سب سے زیادہ آواز میں نے سینیٹ میں اٹھائی اور اب کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین شامل ہیں، اس لیے سب مل کر تجاویز دیں کہ کیسے مستبقل کے انتحابات شفاف بنائے جائیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان 33 اراکین پارلیمان میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔ کمیٹی کا مقصد 2013 کے انتخابات کی خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے جبکہ مستقبل میں صاف اور شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
اس سلسلے میں کمیٹی اپنی تجاویز اگلے تین ماہ میں جمع کرائے گی۔
قومی اسمبلی نے سپیکر کو یہ اختیار دیا کہ وہ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں شامل سیاسی جماعتوں سے مشورہ کرنے کے بعد انتخابی اصلاحات سے متعلق کمیٹی کے اراکین کو منتخب کریں جس کے بعد کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی۔





















