آبنائے باب المندب: 36 کلومیٹر چوڑے مگر مصروف ترین تجارتی راستے کی ممکنہ بندش دنیا کو کیسے متاثر کرے گی؟
،تصویر کا ذریعہGallo Images via Getty
ایران کی جانب سے بحیرہ احمر کے ایک اہم تجارتی راستے کو بند کرنے سے متعلق دھمکیوں نے عالمی تجارت میں مزید رکاوٹوں کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر چکا ہے، جس کے باعث بحری ٹریفک شدید متاثر ہے، اور اب ایران آبنائے ’باب المندب‘ کو متاثر کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ باب المندب، خلیج عدن کو بحیرہ احمر اور پھر نہر سویز سے جوڑتی ہے۔
ایران واضح کر چکا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی زمینی کارروائی کی گئی تو وہ جنگ میں ’دیگر محاذ‘ کھول سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ایرانی فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’آبنائے باب المندب دنیا کی سٹریٹجک آبناؤں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، اور ایران کے پاس اس حوالے سے ایک مکمل اور قابلِ اعتبار خطرہ پیدا کرنے کی خواہش اور صلاحیت دونوں موجود ہیں۔‘
ایران ماضی قریب میں بھی دھمکی دے چکا ہے کہ اگر امریکہ اس کے خارگ جزیرے پر حملہ کرتا ہے، تو وہ آبنائے باب المندب کو متاثر کرے گا۔
دوسری جانب دو روز قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران کا تیل ’حاصل‘ کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
آبنائے باب المندب کتنی اہم ہے؟
آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔
115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔
بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔
مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔
سعودی عرب نے باب المندب کو یَنبُع بندرگاہ سے سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
ریاض اپنی مشرقی آئل فیلڈز سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل وہاں ایک پائپ لائن کے ذریعے بھیجتا ہے۔
خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔
حوثیوں کا کردار
،تصویر کا ذریعہHouthi Military Media via Reuters
آبنائے باب المندب پر کسی بھی ممکنہ حملے کا امکان زیادہ تر حوثی باغیوں کی جانب سے ہو گا، جو یمن میں ایران کا حمایت یافتہ سیاسی و عسکری گروہ ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ایک حوثی رہنما نے کہا کہ وہ ’عسکری طور پر تیار‘ ہے تاکہ تہران کی حمایت میں آبنائے باب المندب کو نشانہ بنا سکیں۔
یاد رہے کہ 28 مارچ کو حوثیوں نے اسرائیل پر حملہ کیا، جو ایران کے ساتھ امریکہ، اسرائیل جنگ میں اُن کی جانب سے کیا جانے والا پہلا حملہ تھا۔ اسرائیل نے بتایا تھا کہ انھوں نے یمن سے آنے والے دو میزائل مار گرائے ہیں۔
حوثی گروہ یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل پر قابض ہے اور اس نے غزہ جنگ کے دوران آبنائے باب المندب کو نشانہ بھی بنایا تھا۔
اس نوعیت کی کارروائیوں میں حوثیوں نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے 100 سے زیادہ تجارتی جہازوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو جہاز ڈوبے جبکہ چار سیلرز ہلاک ہوئے۔
نومبر 2023 میں حوثی باغیوں نے ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں جاپان آپریٹڈ اور برطانوی ملکیت والے کارگو جہاز ’گلیکسی لیڈر‘ کو ہائی جیک کر لیا تھا۔
اگرچہ اس موقع پر حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ صرف اسرائیل سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن ان حملوں کو وسیع پیمانے پر بلاامتیاز قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں دنیا کی کئی بڑی شپنگ اور آئل کمپنیوں کا اس علاقے سے گزرنا معطل کر دیا۔
یہ حملے بالآخر اُس وقت کم ہو گئے جب امریکہ نے دعویٰ کیا کہ حوثی پیچھے ہٹ گئے ہیں، جبکہ حوثیوں نے جوابی دعویٰ کیا کہ اصل میں امریکہ ہی پیچھے ہٹا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ایران جنگ کے تناظر میں اس نوعیت کے حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار برائے بین الاقوامی اُمور لز ڈوسیٹ کہتی ہیں کہ ’ہمیشہ امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ اگر ایران جنگ طول پکڑتی ہے تو یمن کے حوثی اس میں شامل ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حوثی، جو شمال مغربی یمن میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، نے اب تک اپنا سب سے طاقتور ہتھیار استعمال نہیں کیا یعنی باب المندب میں ٹریفک کو متاثر کرنے کی صلاحیت۔‘
26 فروری کو امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن کی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن نے ایک نوٹس میں کہا تھا کہ ’اگرچہ حوثی دہشت گرد گروہ نے اکتوبر 2025 میں اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے تجارتی جہازوں پر حملہ نہیں کیا، لیکن وہ اب بھی اس خطے میں امریکی اثاثوں، بشمول تجارتی جہازوں، کے لیے خطرہ ہیں۔‘
عالمی جہاز رانی کی صنعت دباؤ میں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
باب المندب کا مطلب عربی میں ’آنسوؤں کا دروازہ‘ یا ’غم کا دروازہ‘ ہے۔
یہ نام اُن خطرات کی عکاسی کرتا ہے، جیسا کہ سمندر کے تیز دھارے، غیر متوقع ہوائیں، قزاقی کے خطرات اور علاقائی تنازعات۔
سنہ 2008 سے سنہ 2012 کے درمیان آبنائے باب المندب اور اس کے اردگرد کے پانیوں میں قزاقی کے متعدد واقعات پیش آئے۔ زیادہ تر صومالی گروہوں کی جانب سے کیے گئے ان حملوں کے دوران تجارتی جہازوں کے عملے کو اغوا کر کے تاوان طلب کیا گیا۔ ان واقعات نے عالمی برادری اور شپنگ کمپنیوں کو اس خطے میں سکیورٹی بڑھانے پر مجبور کیا تھا۔
آج اس راستے کی بندش توانائی کے بازار کے بحران کو مزید سنگین بنا دے گی، جو پہلے ہی آبنائے ہرمز کی صورتحال سے انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔
خلیج میں شپنگ کی راہ میں رکاوٹ نے برینٹ خام تیل کی قیمت کو بہت بڑھا دیا ہے۔
یاد رہے کہ یکم اپریل کو برینٹ خام تیل کی مئی کے مہینے میں فراہمی کے لیے مارچ میں ہونے والے سودوں میں ریکارڈ 64 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ 1990 کی خلیجی جنگ کے بعد ہونے والا سب سے زیادہ ماہانہ اضافہ ہے۔
عالمی تجارت، جو عام صارفین کی مصنوعات سے لے کر زرعی اجناس تک وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے، بھی اس کے اثرات محسوس کر رہی ہے۔ ایک اور اہم بحری راستے میں خلل اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ تنازع کے معاشی اثرات کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے