آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈین بحریہ کا ملازم گرل فرینڈ کو قتل کرکے لاش کے ٹکڑے فریج میں چھپانے کے الزام میں گرفتار
نوٹ: اس کہانی میں کچھ تفصیلات پریشان کن ہوسکتی ہیں۔
انڈیا کی وسطی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع وشاکاپٹنم میں قتل کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد ایک 29 سالہ خاتون مونیکا کی لاش کے ٹکڑے ریفریجریٹر سے ملے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ مونیکا جس مرد سے ڈیٹنگ ایک ایپ پر ملی تھیں انھوں نے انھیں قتل کر کے لاش کے ٹکڑے فریج میں چھپا دیے تھے۔
پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے میں ایسٹرن نیول کمانڈ میں ٹیکنیشن کے طور پر کام کرنے والے 35 سالہ رویندر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
گاجوواکا تھانے کے سرکل انسپیکٹر (سی آئی) پارتھاسارتھی نے بی بی سی کو بتایا کہ قتل کے بعد جسم کے کچھ اعضا فریج میں چھپائے گئے تھے، جبکہ باقی حصے کو ایک بیگ میں پیک کرکے جلا دیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ: 'جب اس (رویندر) کی بیوی بچے کی ولادت کے لیے اپنے آبائی شہر وجے نگرم گئی تھی تو اس نے اپنی گرل فرینڈ کو گھر بلایا اور یہ گھناؤنا جرم کیا۔'
پولیس کے مطابق اس کی بیوی گذشتہ آٹھ ماہ سے اپنے میکے میں ہی تھی۔
بی بی سی نے رویندر کے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیٹنگ ایپ پر ملاقات
انسپیکٹر پارتھا سارتھی نے بی بی سی کو ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم کی طرف سے فراہم کردہ معلومات سے آگاہ کیا۔
پولیس نے کہا: 'تفتیش کے دوران رویندر نے پولیس کو بتایا کہ اس کی مونیکا سے تین سال قبل ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ملاقات ہوئی تھی۔ مونیکا وشاکاپٹنم کے ایک پرائیویٹ بینک میں کام کرتی تھیں۔'
پولیس کے مطابق رویندر کی شادی تقریباً دو سال قبل ہوئی تھی۔ اس کی بیوی بچے کی پیدائش کے لیے اپنے آبائی گاؤں گئی ہوئی تھی۔
پولیس نے بتایا: 'اس دوران رویندر مونیکا سے اپنے کے گھر پر ملنے گا۔ اتوار کی صبح (29 مارچ، 2026)، رویندر نے مونیکا کو اپنے فلیٹ پر مدعو کیا۔ ملزم نے کہا کہ اس کی مونیکا سے گھر میں لڑائی ہوگئی۔'
پارتھا سارتھی کہتے ہیں کہ: 'رویندر نے انھیں بتایا کہ خاتون اسے پیسوں کے لیے ہراساں کر رہی تھی اور ان کی بیوی کو سب کچھ بتانے کی دھمکی دے رہی تھی۔'
جب پولیس نے گھر کی تلاشی لی
سی آئی پارتھا سارتھی نے کہا: 'ہمیں اتوار کی شام ایک کال موصول ہوئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ رویندر نامی بحریہ کے ملازم نے ایل وی نگر میں کسی کا قتل کیا ہے اور خودکشی کی کوشش کی ہے۔ اطلاع ملتے ہی ہم فوراً پتے پر پہنچے تو گھر کو مقفل پایا۔ ہم نے کھڑکیوں اور وینٹی لیٹرز سے اندر دیکھنے کی کوشش کی، لیکن کچھ نظر نہیں آیا۔ اس لیے ہم نے پڑوسیوں کو بلایا۔'
انھوں نے مزید کہا: 'گھر کے مالک کو بلایا گیا، ہم نے رویندر کے بھائی کو بھی بلایا۔ ان کی مدد سے ہم گھر میں داخل ہوئے، پورا گھر بے داغ صاف تھا، لیکن سپرے پینٹ کی بو آ رہی تھی، کچھ بھی مشکوک نہیں ملا۔ جب ہم نے فریج کھولا تو ہمیں ایک دھڑ ملا جس کا سر کٹا ہوا تھا۔ مزید تلاش کرنے پر ہمیں ایک سوٹ کیس ملا جس میں جسم کے کچھ حصے تھے۔'
پارتھا سارتھی نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم نے فوری طور پر رویندر کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اسی وقت ہمیں اس کے والدین کا فون آیا۔ ان کی مدد سے ہم نے رویندر کو تھانے بلایا اور اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ قتل کے بعد وہ سر کو آدی وی ورم کے دھراپالم لے گیا اور اسے جلا دیا۔ وہاں ہماری ٹیمیں تفتیش کر رہی ہیں۔'
پولیس نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران ملزم رویندر نے پولیس کو بتایا کہ اس نے قتل سے ایک دن پہلے چاقو خریدا تھا۔
'ہم خوفزدہ ہو کر بھاگ گئے'
رویندر کی منزل پر ایک اور فلیٹ کے مالک رام کرشنا نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کے پہنچنے کے بعد وہاں کیا ہوا۔
رام کرشنا کہتے ہیں کہ: 'اتوار کی رات تقریباً 8 بجے، کچھ لوگ ہمارے ساتھ والے فلیٹ کی کھڑکی سے جھانک رہے تھے۔ جب ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے، تو انھوں نے کہا کہ انھیں اطلاع ملی ہے کہ وہاں کوئی جرم ہوا ہے۔۔۔ وہ پولیس تھی، انھوں نے رویندر کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔
'پولیس کے داخل ہونے کے بعد ہم نے راحت کی سانس لی کیونکہ سب کچھ واضح تھا اور کوئی مشتبہ حالات نہیں تھے۔ تاہم، تھوڑی دیر بعد فریج اور ایک سوٹ کیس سے ایک دھڑ اور جسم کے کچھ اعضاء ملے۔ انھیں دیکھ کر ہم خوف کے مارے وہاں سے بھاگ گئے۔ یہ خوف ابھی بھی کم نہیں ہوا۔'
'وہ وہاں ایک سال سے رہ رہا تھا'
فلیٹ کے مالک سری رام مورتی نے وضاحت کی کہ ٹھیک ایک سال قبل 29 مارچ 2025 کو انھوں نے رویندر کو مکان کرایے پر دیا تھا اور قتل کی خبر نے انھیں پورے ایک سال بعد اسی گھر میں واپس آنے پر مجبور کیا۔
سری رام مورتی نے کہا: 'وہ گھر کرایے پر لینے آیا تھا۔ اس نے اپنا شناختی کارڈ دکھایا۔ پتا چلا کہ وہ بحریہ میں ملازم ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کا آبائی شہر راجام ہے۔ میں بھی بی ایس ایف کا ایک ریٹائرڈ ملازم ہوں۔ میں نے فوری طور پر اسے مکان کرایہ پر دے دیا۔ وہ ہر ماہ کرایہ ادا کرتا رہا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی ہے جو اپنے میکے گئی ہوئی ہے، پھر یہ سب ہوا۔'
'اسے سخت سزا ملنی چاہیے'
بی بی سی نے مونیکا کے والد وینوگوپال راؤ سے بات کی۔
وینوگوپال راؤ نے کہا: 'اس نے ہماری بیٹی کو قتل کرنے کے ارادے سے گھر بلایا۔ اس کے لیے اس نے پہلے ہی ایک چاقو اور سپرے خرید لیا تھا۔ میری بیٹی کبھی واپس نہیں آئے گی۔ کم از کم اسے اس کے جرم کی سخت سزا ملنی چاہیے۔ اس سے کم از کم میری بیٹی کی روح کو سکون ملے گا۔'
گاجوواکا پولیس انسپکٹر پارتھا سارتھی نے کہا کہ مونیکا کے اہل خانہ سے مزید معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔