’غیرمعمولی دھمکی‘ اور جزوی فتح جس کے لیے ٹرمپ نے بھاری قیمت ادا کی

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, انتھونی زرچر
    • عہدہ, شمالی امریکہ نامہ نگار
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

آخرکار دانش مندی حاوی رہی۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر لکھا کہ انھوں نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ ایک مستقبل امن معاہدہ ہو سکے تو اگرچہ یہ ان کی جانب سے ایران پر تباہ کن حملوں کے لیے دی جانے والی ڈیڈ لائن کا آخری منٹ نہیں تھا لیکن کافی قریب تھا۔

لیکن یاد رہے کہ اس کا انحصار ایران کی جانب سے بھی حملوں کو روکنے اور آبنائے ہرمز سے مال بردار بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر ہے اور ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔ اس اعلان کے ساتھ ٹرمپ نے اپنا فوری مقصد تو حاصل کر لیا ہے لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس سمندری گزرگاہ پر اب بھی اس کی اجارہ داری رہے گی۔

آئندہ دو ہفتوں کے دوران امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت ہو گی اور ایک مستقل حل تلاش کرنے کے لیے وقت ملے گا۔ یہ آسان نہیں ہو گا لیکن چند گھنٹوں میں ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے کم ہوئی اور امریکی سٹاک مارکیٹ میں بھی بہتری آئی۔

اس وقت یہ خوش گمانی ضرور ہے کہ شاید بدترین وقت گزر چکا ہے۔ چند دن قبل یہ ناممکن دکھائی دے رہا تھا جب منگل کے دن ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ’ایرانی تہذیب مر جائے گی اور کبھی واپس نہیں آئے گی۔‘

یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا امریکی صدر کی جانب سے اتنی غیرمعمولی دھمکی نے ہی ایران کو مجبور کیا کہ وہ ایک ایسی جنگ بندی پر آمادہ ہو جسے وہ پہلے رد کر چکے تھے۔ اتنا ضرور واضح ہے کہ ٹرمپ کا اشتعال انگیز اعلان، جس سے دو دن قبل ہی وہ سوشل میڈیا پر گالیوں سے بھری ایک اور دھمکی دے چکے تھے، اس سے پہلے دور جدید میں کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے نہیں سنی گئی۔

اور اگر دو ہفتوں کی جنگ بندی سے مستقل طور پر امن قائم نہ بھی ہوا، ایران جنگ اور ٹرمپ کی بیان بازی کی وجہ سے باقی دنیا میں امریکہ کے بارے میں رائے بدل چکی ہے۔

ایک ایسا ملک جو خود کو دنیا میں استحکام کی ضمانت قرار دیتا تھا اب بین الاقوامی آرڈر کی بنیاد کو ہلا رہا ہے۔ ایک ایسا صدر جو ملکی سیاست میں روایات کو توڑنے پر یقین رکھتا ہے، عالمی سٹیج پر بھی وہی کر رہا ہے۔

امریکی اپوزیشن ڈیموکریٹس نے منگل کے دن ٹرمپ کے الفاظ کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ہٹانے تک کا مطالبہ کیا۔ ایک کانگریس رکن نے لکھا کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ’صدر سربراہی کے قابل نہیں رہے۔‘

اور اگرچہ خود ٹرمپ کی رپبلکن جماعت کے زیادہ تر افراد ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، صدر کو وہ حمایت حاصل نہیں رہی جو پہلے تھی۔ جیورجیا ریاست کے رپبلکن کانگریس رکن آسٹن سکاٹ نے ایک پوری تہذیب کو مارنے کی دھمکی پر تنقید کی اور بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔‘

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

وسکانسن سینیٹر ران جانسن، جو ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں، نے کہا کہ ’اگر ٹرمپ بمباری کرتے ہیں تو یہ ایک بڑی غلطی ہو گی۔‘

سینیٹر لیزا مرکاوسکی نے کہا کہ ’ٹرمپ کی دھمکی کو ایران سے مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی سمجھ کر معاف نہیں کیا جا سکتا۔‘

تاہم وائٹ ہاوس کہہ سکتا ہے کہ یہ حکمت عملی کارگر رہی۔

جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’امریکہ نے اپنے تمام جنگی مقاصد حاصل کر لیے۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایران کی عسکری طاقت کو کافی نقصان پہنچا ہے اور اگرچہ ایران میں وہی حکومت برسراقتدار ہے، زیادہ تر اعلیٰ رہنما ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم اس وقت امریکہ کے بہت سے مقاصد پر ابہام موجود ہے۔ ایران کی افزودہ یورینیئم کے بارے میں سوال موجود ہیں۔ ایران کو یمن کے حوثی باغیوں سمیت دیگر عسکری گروہوں پر کنٹرول حاصل ہے۔

اور اگر ایران آبنائے ہرمز کو بنا کسی قسم کی ادائیگی کے کھول دیتا ہے، تب بھی اس اہم گزرگاہ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کافی واضح ہو چکی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اپنی دفاعی کارروائیاں روک رہا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے ایران کی جانب سے دیے جانے والے دس نکات کا جنرل فریم ورک قبول کیا ہے۔

ان نکات میں خطے سے امریکی فوج کا انخلا، ایران پر عائد معاشی پابندیاں ختم کرنے، جنگ کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے اور آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو تسلیم کرنے سمیت دیگر نکات بھی شامل ہیں۔ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ٹرمپ ان شرائط کو مانیں گے اور اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران مذاکرات کتنے مشکل ہوں گے۔

لیکن اس لمحے میں یہ ٹرمپ کے لیے ایک جزوی سیاسی فتح ضرور ہے۔ انھوں نے ایک ڈرامائی دھمکی دے کر مطلوبہ نتیجہ حاصل کیا۔ لیکن جنگ بندی مستقل حل نہیں ہے۔ امریکی صدر کے الفاظ، ان کے عمل اور ایران جنگ کے دور رس نتائج کیا ہوں گے، اس کا تجزیہ ابھی باقی ہے۔