آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کی تیاری، تہران کی شرط اور پاکستان کا پسِ پردہ کردار
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ 21 گھنٹے کی طویل بات چیت کے اختتام پر امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے کہا تھا کہ ’اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری اور ایرانی سفارتکاروں کی براہ راست بات چیت ممکن ہوئی ہے۔‘
لیکن پھر جے ڈی وینس نے وہ ’بری خبر‘ دی جس پر انھوں نے اپنا اسلام آباد کا دورہ ختم کیا۔
’ہمارا ایرانیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو پایا۔۔۔انھوں نے ہماری پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔۔۔ہم بغیر ڈیل کے واپس جا رہے ہیں۔‘
رواں ماہ کی 11 تاریخ کو شروع ہو کر 12 کی صبح ختم ہونے والے اسلام آباد مذاکرات کے بعد امریکی اور ایرانی وفود نے اسلام آباد میں ’مذاکرات کی فضا‘ کو حوصلہ افزا تو قرار دیا لیکن مذاکرات کی ناکامی کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا۔
جے ڈی وینس کے مطابق ایران جوہری افزودگی کو لمبے عرصے تک ترک کرنے کی امریکی شرط سے متفق نہیں تھا جبکہ تہران نے کہا کہ ’امریکی وفد نے غیرمعقول یا نا مناسب مطالبات سامنے رکھے۔‘
تہران نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ دونوں فریقین کسی معاہدے کے قریب تھے جب ’امریکی وفد نے اس عمل کو سبوتاژ کیا۔‘
جے ڈی وینس کی اسلام آباد میں الوداعی بریفنگ کے ’بری خبر‘ والے حصے کو لے کر ایک عمومی تاثر یہ سامنے آیا کہ شاید دونوں کا مذاکرات کی میز پر دوبارہ واپس آنا مشکل ہوگا۔
تاہم امریکہ ایران مذاکرات کے میزبان پاکستان نے جے ڈی وینس کے ’اچھی خبر‘ والے حصے پر توجہ مرکوز کی اور پاکستانی حکام کے بیانات نے فوری طور پر اس کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی وزرا نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس بیانے کی حوصلہ افزائی کرنا شروع کہ ’مذاکرات اگر کامیاب نہیں ہوئے تو ناکام بھی نہیں ہوئے۔‘
پھر واشنگٹن اور تہران دونوں کی طرف سے ایک ممکنہ دوسرے راؤنڈ کے حوالے سے مثبت اشارے ملتے ہی پاکستان کی اعلیٰ قیادت خود حرکت میں آئی۔
پہلے دور کے بعد اب تک کیا اہم پیش رفت ہوئیں؟
پہلے پہل پاکستان کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ ایرانی حکام نے اس کی تصدیق کی۔ اس کے بعد پاکستانی فوجی اور سویلین قیادت لگ بھگ ایک ہی وقت میں ایران اور مشرق وسطیٰ کے دوروں پر روانہ ہوئی۔
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا جہاز گزشتہ ہفتے بدھ کے روز تہران میں اترا۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اسی روز سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دوروں پر روانہ ہو گئے۔
ادھر امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود یہ بتاتے سنائی دیے کہ پاکستان کی مدد سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہونے کے امکانات ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکہ ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان ہی کا انتخاب کرے گا۔
پاکستانی قیادت کا ایران اور مشرق وسطیٰ میں قیام جاری تھا کہ اس کے دوران خطے میں جنگ سے جڑی اہم پیش رفت سامنے آئی۔
لبنان اور آبنائے ہرمز
اسرائیل اور لبنان براہ راست مذاکرات کے دوران دس روزہ جنگ بندی پر راضی ہو گئے۔
’لبنان میں جنگ بندی‘ ایران اور امریکہ مذاکرات کے پہلے دور کے شروع ہونے سے پہلے ایران کی طرف سے دو دیرینہ مطالبات میں سے ایک کے طور پر سامنے آیا تھا۔
پھر جمعے کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر پیغام میں اعلان کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز ہر قسم کے جہازوں کے لیے کھول دی ہے۔ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ خیال رہے کہ پاکستان آرمی چیف اس وقت ایران ہی میں موجود تھے۔
اس وقت تک ان کی ایرانی وزیر خارجہ عراقچی اور مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں ہو چکی تھیں اور وہ پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کر چکے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ’ایران کا شکریہ‘ ادا کیا۔ انھوں نے ایک الگ پیغام میں پاکستان، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ’وہ بہت بہترین کام کر رہے ہیں۔‘
کیا پس پردہ اس پیش رفت کے پیچھے پاکستان کا کردار تھا؟
تجزیہ نگار اور سنگاپور کے ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں سینئر ایسوسی ایٹ فیلو عبدالباسط نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ان دونوں معاملات پر پات چیت کا آغاز تو پہلے ہو چکا تھا تاہم ان کو حاصل کرنے کی طرف تحریک پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران میں موجودگی اور وہاں ان کی سرگرمی کی وجہ سے ملی۔‘
’آبنائے ہرمز کے کھولنے کے اعلان نے بنیادی طور پر مزاکرات کے دوسرے دور کے لیے راہ ہموار کی۔ یہ پہلے سے پائپ لائن میں تھے لیکن پاکستانی آرمی چیف کے دورہ ایران نے ان معاملات کو مزید تیز کیا۔‘
تجزیہ نگار عبدالباسط سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے آرمی چیف کے دورہ ایران کا کچھ نہ کچھ نتیجہ ضرور نکلے گا۔ ’چاہے وہ مستقبل کے لیے ایک فریم ورک کی صورت میں سامنے آئے یا پھر امریکہ اور ایران کے درمیان تمام معاملات ایک ہی بار حل ہو جائیں، اس کا کچھ نتیجہ ضرور ہو گا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات کے دوسرے دور کے نتیجے میں ان کی ایران کے ساتھ ڈیل ہو جاتی ہے تو ’ہو سکتا ہے کہ میں اسلام آباد جاؤں۔۔۔دستخط کرنے کے لیے۔‘
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ان کے لگ بھگ تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں اور اب ان کے درمیان ڈیل نہ ہونے کی زیادہ تر وجوہات ختم ہو گئی ہیں۔ تاہم ایران نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ایران میں سخت موقف رکھنے والے حلقے نے ان بیانات کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے منگل کی صبح بیان دیا ہے کہ ’ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو قبول نہیں کرتا۔‘
ایکس پر اپنی پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’ٹرمپ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ناکہ بندی کے ذریعے مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا اپنی اشتعال انگیزی کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو قبول نہیں کرتے اور پچھلے دو ہفتے میں ہم نے میدان جنگ میں نئے پتے لانے کی تیاری کی ہے۔‘
’اگر آپ کا جہاز آگے بڑھا تو نشانہ بنائیں گے‘
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے ایران کے پریس ٹی وی سے ایک حالیہ گفتگو کے دوران بتایا کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ان کے مذاکرات کے دوران انھوں نے امریکی وفد کو یہ واضح طور پر بتا دیا تھا کہ مائنز تباہ کرنے والے امریکی جہاز کی آبنائے ہرمز کے قریب موجودگی کو وہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں۔
’ہم نے انھیں بتایا کہ اگر آپ کا مائن سویپر جہاز ذرا سا بھی آگے بڑھا تو ہم ضرور اس کو نشانہ بنائیں گے۔‘
قالیباف نے پریس ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بعد امریکی وفد نے 15 منٹ کا وقت مانگا کہ وہ جہاز کو پیچھے ہٹنے کے احکامات دلوا رہے ہیں۔
’اور پھر ایسا ہی ہوا۔‘
قالیباف نے پریس ٹی وی پر گفتگو کے دوران بتایا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان موجود عدم اعتماد ختم نہیں ہوا تاہم دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اس دور میں دو بنیادی نکات پر ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان اختلافات ہوئے وہ ’آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کے جوہری توانائی کے عزائم کو لے کر ہوئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز کے لیے یہ طے کیا گیا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی اس معاہدے کا حصہ ہو گی۔
آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور امریکہ کا ایرانی ٹینکر پر قبضہ
ایران کے وزیر خارجہ کے آبنائے ہرمز کھولنے کے بیان کے چند ہی منٹ بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے جواب میں ایران کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم ٹرمپ کے ایک ذیلی بیان نے حالات کا رخ ایک مرتبہ پھر موڑ دیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ایرانی پورٹس کی بندش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ صد فیصد معاملات طے نہیں پا جاتے۔
اس پر سنیچر کے روز ہی ایران کی بحریہ نے اعلان کیا کہ انھوں نے آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر بند کر دی ہے ’کیونکہ امریکہ کی طرف سے معاہدے کا پاس نہ کرتے ہوئے ایران پورٹس کی ناکہ بندی جاری ہے۔‘
دوسرے ہی روز صدر ٹرمپ نے ایک اعلان میں بتایا کہ امریکی نیوی نے آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکی ناکہ بندی کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی پرچم والے ٹینکر نشانہ بنانے کے بعد قبضے میں لے لیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ’اس ٹینکر کو رکنے کا کافی موقع دیا گیا تاہم اس نے ان وارننگز پر دھیان نہیں دیا جس کے بعد امریکی میرینز نے اس ٹینکر کے انجن والے کمرے کو متعدد بار نشانہ بنا کر اسے اسی مقام پر روک دیا اور بعد میں اس پر سوار ہو کر اسے قبضے میں لے لیا ہے۔‘
ایران نے کہا ہے وہ اس امریکی کارروائی کا جواب دے گا۔ ساتھ ہی ایران کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جب تک امریکی کی طرف سے اس کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی وہ مذاکرات کے دوسرے دور میں حصہ نہیں لے گا۔
کیا یہ کارروائیاں مذاکرات کی کوشش سبوتاژ کر سکتی ہیں؟
تجزیہ نگار عبدالباسط سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے خیال میں امریکہ اور ایران دونوں میں اب دوبارہ جنگ شروع کرنے کی طرف مائل نظر نہیں آتے۔
’دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکانات 99 فیصد ختم ہو چکے ہیں۔ دونوں اطراف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی طلب بالکل نظر نہیں آتی۔‘
ان کے خیال میں اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے ایک اور دور کی میزبانی کرنے جا رہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان اس مرتبہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جائے گا۔ ’یہ معاہدہ ایک مکمل ڈیل بھی ہو سکتی ہے اور ایک ایم او یو بھی ہو سکتا ہے۔‘
آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کچھ عوام کے سامنے ایران کے حوالے سے کہہ رہے ہیں، اس پر ایران کے تحفظات ہوتے ہیں۔‘
’اور دوسرا یہ کہ ایران چاہتا ہے کہ وہ یہ ظاہر نہ کرے کہ وہ جنگ بندی اور اس کے حوالے سے کسی ڈیل کے لیے بے تاب ہے۔‘
’وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ نہیں بلکہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے بے تاب ہے اور کوشش کر رہا ہے۔‘
تجزیہ نگار عبدالباسط کے خیال میں ’یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا گیا اور اس کے بعد ایران میں سخت گیر حلقے کی طرف مزید سخت بیانیہ اپنایا گیا ہے۔‘
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ان معاملات کا حل اتنا مشکل نہیں ہے اور یہ ایران اور امریکہ کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتے۔
شہباز شریف مشرق وسطیٰ میں کس مشن پر تھے؟
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف مشرق وسطیٰ کے دورے پر پہلے سعودی عرب، وہاں سے قطر اور آخر میں ترکی میں اناطالیہ پہنچ چکے تھے۔ ان دوروں میں انھوں نے ان تین ممالک کی اعلی قیادت سے ملاقات کی۔
شہباز شریف نے ترکیہ میں ایک ڈپلومیسی فورم کے دوران خطے کے کئی دیگر سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔
تجزیہ نگار عبدالباسط کہتے ہیں کہ ’شہباز شریف کے ان دوروں کے دو مقاصد نظر آتے ہیں۔ ایک تو وہ چاہتے ہیں کہ جب ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ اسلام آباد میں طے پا رہا ہو اس وقت ان ممالک کی نمائندگی وہاں موجود ہو۔‘
’شہباز شریف چاہیں گے اس عمل کے جتنے ریجنل شراکت دار ہوں اتنا اچھا ہے کیونکہ جب یہ تمام شراکت دار اس کی ذمہ داری لیں گے تو کل کو اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو اکیلا پاکستان ہی مشکل میں نہیں ہوگا۔‘
عبدالباسط سمجھتے ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم کے ان ممالک کے اس موقعے پر دورے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں ایک نیا اتحاد سامنے آ رہا ہے۔ جنگ کے بعد خطے میں امریکی اتحاد کے خدوخال بدلیں گے اور ان میں پاکستان کے کردار میں اضافہ ہو گا۔‘