آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: ایران

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ بات چیت کے دوسرے دور میں ایرانی وفد کی شرکت کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تہران میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان نے مزید کہا کہ ’امریکہ نے ماضی کے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھا جبکہ جنگ بندی کے نفاذ کے آغاز ہی سے امریکہ نے اس کی خلاف ورزی کی جس نے بارے میں ایران نے پاکستان کو آگاہ کر دیا تھا۔

خلاصہ

  • امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ’ناکہ بندی کی خلاف ورزی‘ پر 900 فٹ طویل ایرانی کارگو جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے قبضے میں لے لیا
  • آبنائے ہرمز میں ایرانی کارگو جہاز پر قبضہ ’مسلح بحری قزاقی‘ اور ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ ہے جس کا جلد جواب دیا جائے گا: ایران
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اُن کی ٹیم پیر کی شام اسلام آباد پہنچے گی
  • اسلام آباد میں مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات، ریڈ زون میں سرکاری و نجی دفاتر اور تعلیمی ادارے بند
  • ’غیر ضروری، حد سے زیادہ مطالبات اور موقف میں بار بار تبدیلی‘: ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کی رپورٹس ’درست نہیں‘
  • شہباز شریف کا مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ: ’پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا‘

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور انڈین حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہے: جنرل سیکریٹری کانگریس جے رام رمیش

    انڈین کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش کی جانب سے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اب انڈیا کو اپنی خارجہ پالیسی اور حکمتِ عملی مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا کہ ’وہ (پاکستان) آج مُمکنہ طور پر امریکہ ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی حکمتِ عملی پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کو ایک نئی شناخت اور نئی حیثیت مل گئی ہے، جو اس تصویر سے بالکل مختلف ہے جسے منموہن سنگھ نے سنہ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔‘

    جے رام رمیش نے مزید لکھا کہ ’فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اشتعال انگیز بیانات، جنھیں پہلگام حملے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، اب صدر ٹرمپ کے پسندیدہ بن گئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ مودی جی کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ انڈیا کو اپنی سفارتی حکمتِ عملی اور طریقہ کار کو مکمل طور پر بدلنے کی ضرورت ہے، جو مودی جی کے بس کی بات نہیں۔‘

  2. امریکہ امن کے لیے سنجیدہ نہیں اور ایران پر الزام تراشی کا ایک کھیل کھیل رہا ہے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ایران نے مذاکرات سے متعلق اپنے 10 نکات جمع کروا دیے تھے، جن پر اسلام آباد میں بات چیت بھی ہوئی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل محفوظ تھی۔‘

    ترجمان کے مطابق امریکہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کسی معاہدے کا حصہ نہیں تھی حالانکہ ایران نے اس بارے میں پاکستانی ثالث کو وضاحت فراہم کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے بحری ناکہ بندی کی اور ایک ایرانی جہاز پر حملہ کیا جو جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین دونوں کی خلاف ورزی ہے۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’امریکہ نے دو مرتبہ مذاکرات کی خلاف ورزی کی، ایران پر حملے کیے، ایرانی شہریوں کو نشانہ بنایا اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے۔‘

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’امریکہ ایران پر الزام تراشی کا ایک کھیل کھیل رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے، جب کہ انھیں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ لیکن ہم امریکیوں سے سچ بولنے کی توقع نہیں کر سکتے وہ ہمیشہ ہم پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ امریکہ مذاکرات اور امن کے لیے بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی وفد تہران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ کی ’منصفانہ اور مناسب‘ پیشکش قبول نہ کی تو وہ اس کے تمام بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دے گا۔

    تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اُس وقت اضافہ ہوا کہ جب امریکی فوجیوں نے خلیج فارس میں ایک ایرانی پرچم بردار بحری جہاز پر حملہ کیا اور اسے تحویل میں لے لیا۔

  3. بریکنگ, امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: ایران

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ہے کہ اُن کا مُلک امریکہ کے ساتھ پاکستان میں بات چیت کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔‘

    تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے ماضی کے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایسی روش کبھی مثبت نتائج نہیں دے سکتی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جنگ بندی کے نفاذ کے آغاز ہی سے امریکہ نے اس کی خلاف ورزی کی اور ہم نے اس بارے میں پاکستانی ثالث کو آگاہ کر دیا تھا۔‘

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’بحری ناکہ بندی نافذ کر کے امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، ہم پچھلے مذاکرات کے دوران امریکہ کے حملوں کو نہیں بھلا سکتے۔‘

    انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہم اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھیں گے، اگر امریکہ اور اسرائیل نئی جارحیت شروع کرنا چاہتے ہیں تو ہماری مسلح افواج اس کے لیے تیار ہے اور وہ اس کا مناسب جواب دیں گی۔‘

  4. وہ لمحہ کہ جب ہیلی کاپٹر پر سوار امریکی فوجی ایرانی کارگو جہاز پر اُترے

    امریکی ادارے سینٹ کام کی جانب سے اب سے کُچھ دیر قبل ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ہے کہ جس میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے امریکی فوجیوں کو ایرانی کارگو جہاز پر اُترتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ شب خلیجِ عمان میں ایران کے پرچم بردار کارگو جہاز ’توسکا‘ کے امریکی فورسز کی جانب سے تحویل میں لیے جانے کے بارے میں خبریں سامنے آئی تھیں۔

    اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ’امریکی میرینز اتوار کے روز یو ایس ایس ٹرپولی حملہ آور جہاز سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے روانہ ہوئے اور رسی کے ذریعے توسکا پر اترے۔‘

    سامنے آنے والی تفصیلات میں جن میں ہیلی کاپٹر میں سوار میرینز کی ویڈیو بھی شامل ہے بتایا گیا ہے کہ یو ایس ایس سپروئنس نے توسکا کے انجن کو ’غیر فعال‘ کر دیا، کیونکہ جہاز نے امریکی فورسز کی جانب سے چھ گھنٹے تک دی جانے والی بار بار کی وارننگز پر عمل نہیں کیا۔‘

  5. اسلام آباد میں امن مذاکرات کی تیاری، مگر کیا ایران شرکت کرے گا؟

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آج پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہونے والے ہیں۔

    شہر کے سرینا ہوٹل، جہاں 11 اپریل کو بھی ناکام امن مذاکرات ہوئے تھے، میں موجود مہمانوں کو آج کے اجلاس کی تیاری کے سلسلے میں ہوٹل خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ پولیس نے غیر ملکی وفود کی آمد کے باعث اہم سڑکیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے ’نمائندے‘ پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے، جن کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وفد میں شامل ہوں گے۔

    تاہم ایران نے تاحال باضابطہ طور پر ان مذاکرات میں شرکت کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، جب تک ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی برقرار ہے، ایرانی حکام مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو جائے گی۔ اس دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایرانی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا جائے گا۔

  6. ایران امریکہ سے مذاکرات جاری رکھنے پر تیار، مگر ہر قیمت پر نہیں: ابراہیم عزیزی کی الجزیرہ سے گفتگو

    ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم اس نے اپنی ’سرخ لکیریں‘ طے کر رکھی ہیں جن کا احترام لازم ہوگا۔

    ابراہیم عزیزی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ’کسی بھی قیمت پر مذاکرات‘ کیے جائیں یا دوسرے فریق کے ہر طرزِ عمل کو قبول کر لیا جائے۔ ان کے مطابق ایران کی کچھ سرخ لکیریں ہیں جنھیں لازماً مدنظر رکھنا ہوگا۔

    اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایرانی وفد بھیجنے سے متعلق سوال پر ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ تہران کو مثبت اشارے ملتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کبھی اصولِ مذاکرات سے خوف نہیں کھایا۔ ممکن ہے آج یا کل مزید جائزے کے بعد ہم اسے ممکن سمجھیں، بشرطیکہ امریکی مذاکراتی ٹیم اور ایران کو ملنے والے پیغامات مثبت ہوں۔‘

    ایک اور بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے تمام اقدامات قومی مفاد اور سلامتی کے اصولوں کے تحت ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ایران قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے‘ اور ملک کے مفادات و سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

    انھوں نے مذاکرات کو میدانِ جنگ کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم موجودہ مذاکرات کو میدانِ جنگ ہی کا تسلسل سمجھتے ہیں، اور ہمیں اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر اس سے میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو دوام ملتا ہے، تو مذاکرات کا میدان بھی ہمارے لیے ایک موقع ہے۔ لیکن اگر امریکہ اسے اپنی دھونس پر مبنی حکمتِ عملی کے تحت حد سے زیادہ مطالبات کا میدان بنانا چاہے، تو پھر نہیں۔‘

    اس سے قبل بی بی سی نیوز کی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور لیز ڈوسیٹ کو ابراہیم عزیزی نے کہا تھا ’ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول چھوڑنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوگا۔‘

    تہران میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر نے کہا کہ ’یہ ہمارا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا اختیار ایران طے کرے گا، بشمول اس بات کے کہ کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔‘

    ان کے مطابق یہ اختیار اب قانون کی شکل اختیار کرنے والا ہے۔

  7. بریکنگ, ایران نے امریکی بحری جہازوں کو ڈرونز کی مدد سے نشانہ بنایا ہے: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے خلیجِ عمان میں امریکی بحریہ کے جہازوں پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ کارروائی ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کی امریکی میرینز کے حملے اور اسے تحویل میں لیے جانے کے جواب میں کی گئی ہے۔

    بظاہر ہونے والے ان ڈرون حملوں سے کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

    اس سے قبل ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے امریکی بحریہ کی کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکی بحریہ کی اس ’مسلح بحری قزاقی‘ کا جواب دیں گے۔

  8. چھ گھنٹے کے انتباہ کے بعد امریکی میرینز نے ایرانی پرچم بردار جہاز پر دھاوا بولا: سینٹ کام

    ایران کے پرچم بردار کارگو جہاز توسکا کے امریکی فورسز کی جانب سے تحویل میں لیے جانے کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’امریکی میرینز اتوار کے روز یو ایس ایس ٹرپولی حملہ آور جہاز سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے روانہ ہوئے اور رسی کے ذریعے توسکا پر اترے۔‘

    سامنے آنے والی تفصیلات میں جن میں ہیلی کاپٹر میں سوار میرینز کی ویڈیو بھی شامل ہے بتایا گیا ہے کہ یو ایس ایس سپروئنس نے توسکا کے انجن کو ’غیر فعال‘ کر دیا، کیونکہ جہاز نے امریکی فورسز کی جانب سے چھ گھنٹے تک دی جانے والی بار بار کی وارننگز پر عمل نہیں کیا۔‘

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اسی واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہماری بحریہ نے ان کے انجن روم کو ناکارہ کر کے انھیں وہیں روک دیا۔‘

    ایران کے اعلیٰ عسکری ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کی جانب سے اس کارروائی کا جواب دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس واقعے کی پہلی اطلاع صدر ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دی تھی۔

  9. ٹرمپ کے ایرانی جہاز ضبط کیے جانے کے دعوے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک کر تحویل میں لیے جانے کے بیان کے بعد سوموار کی صبح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

    یہ پیش رفت ایران کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان کے بعد سامنے آئی کے جس میں ایران نے سنیچر کے روز یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کر رہا ہے اور جو بھی جہاز اس کے قریب آئے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت میں چار اعشاریہ سات چار فیصد اضافے کے بعد 94 اعشاریہ چھ چھ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ پانچ اعشایہ چھ فیصد اضافے کے ساتھ 88 اعشاریہ پانچ پانچ ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد جب تہران نے آبنائے ہرمز میں مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں تو اس کے بعد سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ وہ آبی راستہ جس سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔

  10. کوئی بھی ایران کی تیل برآمدات کو محدود کر کے دوسروں کے لیے اسے آسان نہیں بنا سکتا: محمد رضا عارف

    ایران کے نائب صدر اول محمد رضا عارف کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی ایران کی تیل برآمدات کو محدود کر کے دوسروں کے لیے اسے مفت یا آسان بنانے کی توقع نہیں رکھ سکتا۔‘

    ایرانی نائب صدر اول نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’انتخاب واضح ہے، یا تو سب کے لیے تیل کی منڈیوں تک آزادانہ طور پر رسائی یا پھر سب کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

    انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’عالمی ایندھن کی قیمتوں میں استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اقتصادی اور عسکری دباؤ کا پائیدار اور یقینی خاتمہ ہو۔‘

  11. بچے پھلوں کی اقسام سے پہلے طیاروں کی پہچان سیکھنے پر مجبور: یونیسیف

    بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسیف نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کے بچوں کی حالتِ زار کا جائزہ پیش کیا گیا ہے، وہ بچے کہ جو مسلسل جنگوں کے باعث شدید متاثر ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ایک ماہ کے دوران 340 سے زائد بچے ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

    بچوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے یونیسیف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں 216 اموات اور 1767 زخمی شامل ہیں، لبنان میں 124 بچے ہلاک اور 413 زخمی ہوئے، اسرائیل میں چار بچے ہلاک اور 862 زخمی ہوئے، جبکہ کویت میں ایک بچہ ہلاک ہوا۔ بحرین میں چار بچے زخمی اور اردن میں ایک بچہ زخمی ہوا۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 12 لاکھ سے زائد بچے بمباری اور جبری انخلا کے احکامات کے باعث اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جس سے کئی محلے اور قصبے خالی ہو گئے ہیں۔

    ’بچے جو پھلوں کی اقسام سے پہلے طیاروں کی پہچان سیکھتے ہیں‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں ان بچوں یا ان کے والدین کے بیانات شامل ہیں جنھوں نے جنگ کے دوران ادارے سے بات کی۔

  12. ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوگا: پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر ابراہیم عزیزی, بی بی سی نیوز کی نامہ نگار برائے عالمی اُمور لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    ’کبھی نہیں۔‘ ایک سینئر ایرانی رکنِ پارلیمان کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

    تہران میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر ابراہیم عزیزی کہتے ہیں کہ ’یہ ہمارا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا اختیار ایران طے کرے گا، بشمول اس بات کے کہ کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔‘

    ان کے مطابق یہ اختیار اب قانون کی شکل اختیار کرنے والا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کر رہے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 110 کی بنیاد پر ہے، جس میں ماحولیات، بحری سلامتی اور قومی سلامتی جیسے امور شامل ہیں اور مسلح افواج اس قانون پر عمل درآمد کریں گی۔‘ عزیزی اس وقت قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    جیسے جیسے اس اہم آبی راستے کی ممکنہ بندش سے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے معاشی مسائل پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ کوئی ایسا بحران نہیں جو ایک دن میں حل ہو جائے۔

    جنگ نے تہران کو وہ چیز فراہم کر دی ہے جسے وہ ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال بھی کر رہا ہے اور اس پر نظر بھی رکھے ہوئے ہے۔ عزیزی کے مطابق کہ آبنائے ہرمز انتہائی سٹریٹجک مسئلہ اور معاملہ ہے جسے ایران نے اس تنازع کے دوران ایک مؤثر دباؤ کے ذریعے میں تبدیل کر لیا ہے یعنی یہ ’دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے اثاثوں میں سے ایک‘ ہے۔

    عزیزی اُن ایرانی سینئر فیصلہ سازوں کی سوچ کی بھی عکاسی کرتے ہیں جو اس جنگ کے نتیجے میں ابھرنے والے نئے نظام میں نمایاں ہو رہے ہیں، ایک ایسا نظام جو تیزی سے عسکری رنگ اختیار کر چکا ہے اور جس پر سخت گیر حلقوں، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ اسرائیلی حملوں میں اعلیٰ سطحی شخصیات کی ہلاکتوں کے بعد بڑھ گیا ہے۔

    تہران اب اپنی اس صلاحیت کو کہ وہ اہم بحری آمدورفت، خصوصاً تیل اور گیس لے جانے والے اہم ٹینکروں کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ ایران نہ صرف موجودہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو ایک دباؤ کے ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے بلکہ طویل المدتی اثر و رسوخ کے طور پر بھی۔

    تہران یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو محمد اسلامی وضاحت کرتے ہیں کہ ’جنگ کے بعد ایران کی پہلی ترجیح دشمن کو حملے سے باز رکھنے کی قوت کی بحالی ہے اور آبنائے ہرمز ایران کے بنیادی سٹریٹجک ہتھیاروں میں شامل ہے۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’تہران اس بات پر بات چیت کے لیے تیار ہے کہ دیگر ممالک ایران کے آبنائے ہرمز کے نئے فریم ورک سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہی رہے گا۔‘

    لیکن یہ وہ مستقبل ہے جسے ایران کے بعض پڑوسی پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں، جو پانچ ہفتوں کی جنگ کے دوران اپنے ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں پر شدید برہم ہیں۔ یہ جنگ اس وقت ایک نازک اور عارضی جنگ بندی کے تحت رکی ہوئی ہے۔

  13. امریکہ کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز پر قبضہ ’مسلح بحری قزاقی‘ اور ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ ہے جس کا جواب دیا جائے گا: ایران

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج میں امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران ایران کے پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک لیا گیا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’توسکا‘ نامی جہاز نے رکنے کی وارننگ پر عمل نہیں کیا جس کے بعد امریکی بحریہ نے اسے تحویل میں لے لیا۔

    ایران نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’مسلح بحری ڈکیتی‘ ہے اور اس کا جواب جلد دیا جائے گا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے بحری جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے بعد اس واقعے کی ویڈیو جاری کی جس میں ایک بحری جہاز کو ایرانی کارگو شپ کو روکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جاری کردہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کارگو جہاز کو پیغامات بھیجنے کے بعد اس کی سمت میں فائرنگ کی جا رہی ہے۔

    ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بحری جہاز پر فائرنگ اور اسے تحویل میں لینا ’جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی‘ ہے اور اس اقدام کا جواب جلد دیا جائے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکہ نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی کی بلکہ سمندری راہزنی کا ارتکاب بھی کیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی فورسز نے بحیرہ عمان میں ایران کے ایک تجارتی جہاز پر فائرنگ کی، اس کے نیویگیشن سسٹم کو ناکارہ بنایا اور اپنے مسلح میرینز کو جہاز پر اتار کر اسے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔‘

    ایران کی مسلح افواج نے اس کارروائی کو ’مسلح بحری ڈکیتی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔

  14. ’یہ ضروری نہیں کہ ایران مذاکرات میں شرکت نہ کرے‘

    ایرانی سرکاری میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تہران کے پاس فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    سرکاری ٹی وی نیوز چینل نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ ’نام نہاد بحری ناکہ بندی کا جاری رہنا، جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امریکہ کی دھمکی آمیز زبان‘ مذاکرات میں پیش رفت کو سست کر رہی ہے۔

    یہی دعویٰ آج دیگر ایرانی میڈیا اداروں کی رپورٹس میں بھی کیا جاتا رہا۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ ایران مذاکرات میں شرکت نہ کرے۔

    اب تک کسی نامزد ایرانی عہدیدار نے یہ تصدیق یا تردید نہیں کی کہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل ہوگا یا نہیں، حالانکہ ٹرمپ کے اس اعلان ل کو اب کئی گھنٹے گزر چکے ہیں جب انھوں نے ایک امریکی وفد ’جلد پاکستان پہنچنے‘ کا اعلان کیا تھا۔

  15. ایران کو مزید کارروائی کی دھمکی کے ساتھ ’سفارت کاری‘ کا تاثر دینا قول و فعل میں تضاد ہے: رضا امیر مقدم

    پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے امریکہ یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کی ’سفارتکاری‘ پر تنقید کی ہے۔

    سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ ’آپ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے رہیں، ناکہ بندیوں کو مزید سخت کریں، ایران کو مزید کارروائیوں کی دھمکیاں دیں، غیر لچکدار مطالبات پر قائم رہیں اور پھر بھی یہ تاثر دیں کہ آپ ’سفارت کاری‘ کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ یہ طرزِ عمل قول و فعل میں تضاد کے مترادف ہے۔

    ان کے مطابق ’جب تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، کشیدگی بڑھتی رہے گی۔‘

  16. امریکی صدر کا ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز روک کر تحویل میں لینے کا دعویٰ

    امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم والے ایک کارگو جہاز کو روک کر اسے تحویل میں لے لیا ہے۔

    صدر کے بیان کے مطابق امریکی اہلکاروں نے جہاز کو وارننگ دی، پھر انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے روک دیا اور بعد میں اس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

    تاہم اس بیان پر ایران کی جانب سے تاحال رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والی ایرانی کارگو جہاز امریکی میرینز کی مکمل تحویل میں ہے۔

    ان کے مطابق توسکا نامی یہ جہاز خلیجِ عمان میں روکا گیا اور اسے انتباہ جاری کیا گیا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی عملے نے وارننگ پر توجہ نہیں دی لہٰذا ہماری نیوی کے جہاز نے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے وہیں روک دیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ جہاز امریکی محکمۂ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے ’کیونکہ اس کا پہلے بھی غیر قانونی سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے اور اب جہاز میں موجود اشیا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران نے تاحال اس واقعے کی تصدیق نہیں کی۔

  17. آبنائے ہرمز سے دو کروز جہاز گزر گئے: ٹریول کمپنی ٹوئی کا دعویٰ

    ٹریول کمپنی ٹوئی نے اپنے دو کروز جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر جانے کی تصدیق کی ہے۔

    اتوار کو اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک تازہ بیان میں کمپنی نے کہا کہ ’مائن شف فور اور مائن شف فائیو نے آبنائے ہرمز کو کامیابی سے عبور کر لیا ہے تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ سفر کب مکمل ہوا۔

    یہ واضح نہیں کہ اس دوران جہازوں پر مسافر موجود تھے یا نہیں۔ کمپنی کے مطابق دونوں جہاز اب بحیرۂ روم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ گزرگاہ متعلقہ حکام کی منظوری اور ہم آہنگی کے بعد مکمل کنٹرول اور سکیورٹی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے طے کی گئی۔‘

    ٹوئی نے اپنے کیپٹنز اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امھوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور احتیاط کے ساتھ محفوظ سفر ممکن بنایا۔

    جہازوں کے مقام شیئر کرنے پر انحصار کرنے والی میرین ٹریفک ٹریکر ویب سائٹس نے آج آبنائے ہرمز میں بہت کم نقل و حرکت دکھائی ہے جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ آبی راستہ بدستور بند ہے۔

  18. ایران کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جو نہ صرف چیلنجز سے بھرپور ہے بلکہ اہم نتائج کا حامل بھی ہے۔ ہم امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کی بڑی آمریت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے بہت اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا اور کسی بھی لمحے نئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔‘

  19. شہباز شریف کا مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ،’ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے اتوار کے روز ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا کہ ’پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘

    وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق تقریباً پینتالیس منٹ جاری رہنے والی اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے پر صدر پزشکیان اور ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

    اعلامیے کے مطابق صدر پزشکیان نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا امن کی کوششوں میں پاکستان کے مضبوط عزم پر شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید مستحکم ہوں گے۔

    یاد رہے کہ اس اعلامیے میں پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات کے متوقع دوسرے دور سے متعلق تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی ٹیم ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کل شام یعنی پیر کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ جائے گی۔

    دوسری جانب کچھ دیر قبل ایران کے سرکاری میڈیا ارنا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مزاکرات کے دوسرے دور سے متعلق خبریں درست نہیں۔‘

    اتوار کے روز وزیر اعظم ہاؤں کی جانب سے علامیے میں بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ یہ روابط خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کے عمل کے حق میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم نے اس ہفتے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی تعمیری بات چیت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

  20. گذشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ خبر درست نہیں‘ تاہم ایجنسی نے اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے یا فرد کا حوالہ نہیں دیا۔ ارنا کے مطابق امریکہ نے ’غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات‘ کیے ہیں، اپنے مؤقف کو بار بار تبدیل کیا ہے۔
    • امریکی ریاست لوویزیانا کے شہر شریوپورٹ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں آٹھ بچے ہلاک ہو گئے ہیں جن کی عمریں ایک سے 14 برس کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ پولیس کا شبہ ہے کہ یہ واقعہ ’گھریلو ناچاقی‘ کی وجہ سے پیش آیا۔ حکام کے مطابق ایک مسلح شخص نے 10 لوگوں پر فائرنگ کی تاہم پولیس نے فرار ہوتے حملہ آور کا پیچھا کیا اور اسے ہلاک کر ڈالا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ اخبار کو بتایا ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ معاہدے پر دستخط کے لیے خود بھی اسلام آباد جا سکتے ہیں۔