محبت کی شادی کے لیے اپنے پولیس اہلکار باپ کو مبینہ طور پر قتل کرنے والی لیڈی کانسٹیبل شوہر سمیت گرفتار
- مصنف, بھاگیشری راؤت
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
تقریباً تین برس پہلے انڈیا ریاست مہاراشٹر کے علاقے چندرپور میں جینت بلاور نامی ایک پولیس کانسٹیبل کی موت ہوئی تھی جس کے بعد ان کی بیٹی آریا کو ان کی جگہ پر ملازمت پر رکھ لیا گیا تھا۔
لیکن پھر اچانک اس کہانی میں ایک موڑ آیا اور دعویٰ کیا گیا کہ جینت کی موت کا معمہ حل کرلیا گیا ہے اور ان کی 22 سالہ بیٹی آریا کو اس مقدمے کا مرکزی ملزم پکارا جانے لگا۔
آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ہیڈ کانسٹیبل جینت کی موت کیسے ہوئی تھی اور ان کی بیٹی کو ان کی موت کا ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جا رہا ہے؟
تین برس قبل کیا ہوا تھا؟
اپریل 2023 میں ہیڈ کانسٹیبل جینت اپنے دفتر میں کام کر رہے تھے کہ اچانک ان کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ انھیں فوراً ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہاں انھیں مردہ قرار دے دیا گیا۔
چندرپور کے سب ڈویژنل پولیس آفیسر (ایس ڈی پی او) پرمود چوغلے کے مطابق جینت کی موت کی وجہ اس وقت واضح نہیں تھی اس لیے اس وقت اسے ایک حادثاتی موت قرار دیا گیا تھا۔
پھر سنہ 2025 میں جینت کی بیٹی آریا کو ان کی جگہ پولیس میں ملازمت دی گئی اور رمنانگر تھانے میں انھیں تعینات کر دیا گیا۔
لیکن جینت کی موت کے تین برس بعد ایک ایسا انکشاف ہوا جس کے سبب آریا پر ان کے والد کے قتل کا الزام عائد کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آریا اشیش شیدمکے نامی ایک شخص کی محبت میں گرفتار ہو گئی تھیں، جو کہ چندرپور تھانے میں ہی بطور کانسٹیبل تعینات تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اششیش ٹریننگ کے بعد اپنی کچھ غلطیوں کے سبب ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
جینت کو اپنی بیٹی اور اشیش کے درمیان تعلق پسند نہیں تھا اور وہ ان دونوں کی شادی کے خلاف تھے اور پولیس کے مطابق اسی لیے ان دونوں نے مل کر ہیڈ کانسٹیبل کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ آریا نے اشیش کے ذریعے زہر منگوایا تھا اور اسے اس کے لیے پانچ ہزار روپے بھی دیے تھے۔
پولیس کے مطابق اپریل 2023 میں ایک صبح آریا نے ملک شیک میں زہر ملا کر اپنے والد کو اس وقت دیا جب وہ دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جینت نے وہ ملک شیک پیا اور دفتر پہنچنے کے ایک گھنٹے بعد ان کی موت واقع ہو گئی۔ اس وقت آریا کی والدہ گھر میں موجود نہیں تھیں اور بالکل بے خبر تھیں کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے۔
ایس ڈی پی او پرمود چوغلے نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ آریا نے اپنے والد کو مارنے کے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق آریا نے انھیں بتایا کہ ان کے والد بہت زیادہ شراب پیتے تھے اور انھیں جب ان کی بیٹی اور اشیش کے تعلقات کے بارے میں معلوم ہوا تو انھوں نے اپنی بیٹی پر تشدد بھی کیا۔
آریا کے خلاف ثبوت کیسے منظرِ عام پر آئے؟
پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ دنوں قبل اشیش نے انھیں ایک خط دیا جس میں لکھا تھا کہ آریا نے اپنے والد کو مارا ہے اور اس کے کچھ ثبوت بھی تھے، جس سے پولیس کو یہ کیس سلجھانے میں مدد ملی۔
جینت کی موت کے بعد آریا نے اشیش سے شادی کرلی تھی۔
تاہم کچھ غلطیوں کے سبب اشیش کو پولیس کی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جس کے سبب ان کا اور آریا کا رشتہ خراب ہونے لگا۔
بطور کانسٹیبل اپنی ٹریننگ پوری ہونے کے بعد آریا نے اشیش کے گھر کے بجائے اپنی والدہ کے ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا اور اپنے شوہر کو نظر انداز کر رہی تھیں۔
پولیس کے مطابق اشیش اس بات پر آریا سے ناراض ہوئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ثبوت فراہم کیے، جس میں ایک فون کی ریکارڈنگ بھی شامل تھی۔
پولیس نے آریا کے خلاف مقدمہ درج کیا اور ان سے تفتیش کی۔
پولیس کے مطابق آریا نے قبول کر لیا کہ انھوں نے اپنے والد کو مارا تھا، جس میں اشیش نے ان کی مدد کی تھی۔
پولیس نے آریا، اشیش اور انھیں زہر فراہم کرنے والے شخص چیتنیا گدام کو گرفتار کر لیا ہے اور انھیں جوڈیشل کسٹڈی میں لے لیا گیا ہے۔
بی بی سی مراٹھی نے ملزمان کے خاندانوں اور وکلا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے