آبنائے ملاکا: عالمی تجارت کے لیے ہرمز سے بھی زیادہ اہم آبی گزر گاہ کے حوالے سے جنم لیتے خدشات

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنآبنائے ملاکا کی ماہر عزیفہ اسٹرینا کے مطابق آبنائے ملاکا عالمی معیشت کی مرکزی شہ رگوں میں سے ایک ہے
    • مصنف, لوئیس بروچو
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی کے دوران عالمی تجارت کے لیے ایک اور نہایت اہم راستہ عالمی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا میں واقع آبنائے ملاکا ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ انڈونیشیا کے حکام نے تصدیق کی کہ امریکہ نے پیر کے روز طے پانے والے دفاعی معاہدے کے بعد انڈونیشا کی فضائی حدود میں پروازوں کے لیے فوجی سطح پر اجازت درکار ہونے کی تجویز پیش کی ہے۔

انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدام کے جیوپولیٹیکل اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

لیکن آبنائے ملاکا ہے کیا اور یہ اتنی اہم کیوں ہے؟

،تصویر کا کیپشنسنگاپور کے قریب سب سے تنگ مقام پر آبنائے ملاکا کی چوڑائی صرف تقریباً 2.8 کلومیٹر ہے

عالمی اہمیت

امریکہ کی یونیورسٹی آف الینوائے اربانا‑شیمپین میں پی ایچ ڈی کی طالبہ اور خطے کی ماہر عزیفہ سٹرینا نے آبنائے ملاکا میں بحری واقعات پر مقالہ لکھا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’آبنائے ملاکا اس لیے نہایت اہم ہے کیونکہ یہ بحرِ ہند کو بحرالکاہل سے ملانے والا سب سے مختصر اور مؤثر سمندری راستہ ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور مشرقی ایشیا کے درمیان تجارت کے لیے ناگزیر بن جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ راستہ براہِ راست بحیرۂ جنوبی چین سے جڑتا ہے، جس کے ذریعے دنیا کی تقریباً ایک تہائی تجارت گزرتی ہے۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آبنائے ملاکا کا سب سے تنگ حصہ، سنگاپور کے قریب فلپس چینل کے مقام پر، صرف تقریباً 2.8 کلومیٹر چوڑا ہے۔

امریکی توانائی معلوماتی ادارے (ای آئی اے) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 کی پہلی ششماہی میں روزانہ دو کروڑ 32 لاکھ بیرل تیل آبنائے ملاکا سے گزرا، جو سمندری راستوں سے ہونے والی عالمی تیل تجارت کا تقریباً 29 فیصد بنتا ہے۔ اسی عرصے کے دوران یہ آبی گزرگاہ روزانہ تقریباً 26 کروڑ مکعب میٹر مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا ذریعہ بھی بنی۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں پائیدار مال برداری اور لاجسٹکس کے لیکچرر گوکچے بالچی کا کہنا ہے کہ یہ آبی راستہ ’الیکٹرانکس، صارف اشیا، صنعتی مصنوعات، مشینری اور گاڑیوں‘ کی ترسیل کے لیے بھی ایک بڑا راستہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’دنیا کی گاڑیوں کی تجارت کا تقریباً 25 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ خشک بلک کارگو، جیسے اناج اور سویابین، بھی آبنائے ملاکا سے منتقل کیے جاتے ہیں۔‘

گوکچے بالچی مزید کہتے ہیں کہ ’جب آپ جغرافیہ، توانائی پر انحصار، اشیا کے حجم اور ان کی اقسام کو یکجا دیکھتے ہیں تو آبنائے ملاکا آبنائے ہرمز سے مختلف نظر آتی ہے۔ ہرمز بھی عالمی تجارت کے لیے اہم ہے، لیکن آبنائے ملاکا کی طرح بڑا ٹرانس شپمنٹ مرکز نہیں۔ آبنائے ملاکا کا کردار صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ یہ کہیں زیادہ وسیع اقسام کی اشیا کا احاطہ کرتا ہے۔‘

عزیفہ سٹرینا مزید کہتی ہیں کہ ’یہ کہنا بجا ہوگا کہ آبنائے ملاکا عالمی معیشت کی مرکزی شہ رگوں میں سے ایک ہے۔‘

یہاں قزاقی بھی ایک مسلسل تشویش بنی ہوئی ہے۔ سنگاپور میں قائم ری کیپ انفارمیشن شیئرنگ سینٹر کے مطابق، سنہ 2025 میں آبنائے ملاکا اور سنگاپور میں سمندری ڈکیتی کے 108 واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2007 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔

یہ آبی گزرگاہ قدرتی خطرات، مثلاً سونامی اور آتش فشانی سرگرمیوں، سے بھی دوچار رہتی ہے۔ مثال کے طور پر، دسمبر 2004 کے سونامی نے اس کے جنوبی دہانے کے قریب ساحلی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔

یہ کیوں اہم ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانڈونیشیا کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد امریکا کی فضائی حدود میں پروازوں کی تجویز پر اب بھی غور کیا جا رہا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ملاکا کی اہمیت صرف اس کے معاشی وزن تک محدود نہیں، بلکہ اس کی بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل حساسیت بھی اس کو اہم بناتی ہے۔

گوکچے بالچی کہتے ہیں کہ ’خطے میں سمندری بالادستی پر چین، امریکہ یا انڈیا کے درمیان کشیدگی میں کسی بھی قسم کا اضافہ آبنائے ملاکا سے گزرنے والے راستے کو شدید طور پر متاثر کر سکتا ہے۔‘

عزیفہ سٹرینا کا کہنا ہے کہ حتیٰ کہ انڈونیشیا کی فضائی حدود میں امریکی فوجی رسائی کے امکانات بھی طویل المدتی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

’میں اسے ڈھانچہ جاتی اعتبار سے ممکنہ طور پر عدم استحکام پیدا کرنے والا اقدام سمجھتی ہوں، چاہے فوری طور پر تجارت متاثر نہ بھی ہو۔‘

ان کی تحقیق کے مطابق آبنائے ملاکا میں موجودہ سکیورٹی نظام بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت کو سنبھالنے کے لیے تشکیل نہیں دیا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ نظام غیر روایتی خطرات، جیسے قزاقی، سمگلنگ اور بحری جرائم سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے، نہ کہ عالمی طاقتوں کے مقابلے کے لیے۔‘

’لہٰذا جب امریکہ جیسی بڑی طاقت اپنی عملی موجودگی میں اضافہ کرتی ہے تو اس سے ایک ایسا سکیورٹی پہلو جنم لیتا ہے جسے موجودہ نظام سنبھالنے کے لیے تیار نہیں۔‘

تاہم قلیل مدت میں، ان کے مطابق، کسی بڑی خلل کی توقع نہیں۔

ان کے مطابق ’میں اب بھی یہ نہیں سمجھتیں کہ تجارتی جہاز رانی متاثر ہوگی، کیونکہ تجارت کو جاری رکھنے کے محرکات بے حد مضبوط ہیں۔‘

ان کے بقول اصل خطرہ مستقبل میں پوشیدہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ’تشویش طویل المدتی کشیدگی کے راستے سے متعلق ہے۔ اگر چین اس عمل کو آبنائے ملاکا جیسے اہم سمندری راستے کے قریب امریکی نگرانی یا سٹریٹجک پوزیشننگ کے طور پر دیکھتا ہے، تو وہ ردِعمل دے سکتا ہے، ضروری نہیں کہ تجارت روک کر، بلکہ اپنی موجودگی یا اثر و رسوخ بڑھا کر‘ بھی ایسا کر سکتا ہے۔

’یہی وہ مقام ہے جہاں خطرہ ہے۔ سکیورٹی ماحول بتدریج تعاون اور قانون نافذ کرنے والے ڈھانچے سے نکل کر مسابقت اور عسکری نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔‘

وہ خبردار کرتی ہیں کہ براہِ راست تنازع کے بغیر بھی اس تبدیلی کے ٹھوس اثرات ہو سکتے ہیں۔

’عالمی تجارت کے لیے اثرات بالواسطہ مگر حقیقی ہوں گے، انشورنس پریمیم میں اضافہ، خطرے کے تاثر میں اضافہ اور اس راستے پر عدم استحکام، جس پر عالمی معیشت انتہائی حد تک انحصار کرتی ہے۔‘

وہ انڈونیشیا کے کردار کو محدود انداز میں دیکھنے سے بھی خبردار کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اسے یوں نہیں دیکھنا چاہیے کہ انڈونیشیا کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہو رہا ہے۔‘

’انڈونیشیا بظاہر توازن کی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے، امریکہ کے ساتھ تعاون میں اضافہ، چین کے ساتھ مضبوط معاشی تعلقات کی بحالی، اور روس سمیت دیگر شراکت داروں سے روابط۔‘

’بڑی تصویر اتحاد سازی نہیں، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ بڑی طاقتوں کا مقابلہ اب اس مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جسے تاریخی طور پر عالمی تجارت کے لیے ایک مشترکہ، فعال گزرگاہ کے طور پر منظم کیا جاتا رہا ہے۔‘

ملاکا کی غیریقینی صورتحال

سنہ 2003 میں چین کے اُس وقت کے صدر ہو جنتاؤ نے ’ملاکا مخمصہ‘ کی اصطلاح کی وضاحت کی جس سے مراد آبنائے ملاکا پر چین کے شدید انحصار کو بیان کرنا تھا۔

امریکی توانائی معلوماتی ادارے (ای آئی اے) اور سی ایس آئی ایس چائنا پاور پراجیکٹ کے اعداد و شمار کے مطابق چین کی تیل کی درآمدات کا لگ بھگ تین چوتھائی حصہ اور مالیت کے اعتبار سے اس کی سمندری تجارت کا تقریباً 60 فیصد، آبنائے ملاکا اور اس سے متصل بحیرۂ جنوبی چین کے راستے ہوتا ہے۔

لیکن مسئلہ صرف چین تک محدود نہیں۔

گوکچے بالچی کے مطابق جاپان اور جنوبی کوریا بھی توانائی کے لیے اس آبنائے ملاکا پر سخت انحصار کرتے ہیں اور ان کے تیل کی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ سنگاپور کے لیے بھی نہایت اہم ہے، جہاں دنیا کی دوسری مصروف ترین کنٹینر بندرگاہ واقع ہے اور جو جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کا ایک بڑا عالمی مرکز بھی ہے۔

عزیفہ سٹرینا کے مطابق، چین کے لیے قلیل مدت میں آبنائے ملاکا پر انحصار کم کرنا کوئی حقیقت پسندانہ آپشن نہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کم از کم فوری طور پر چین کے پاس ایسا کوئی عملی راستہ نہیں کہ وہ اس انحصار کو بامعنی طور پر کم کر سکے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ متبادل راستے، چاہے وہ پائپ لائنز ہوں یا دیگر راہداری منصوبے، کسی حد تک مدد تو کر سکتے ہیں، لیکن بڑے پیمانے پر ملاکا کی جگہ نہیں لے سکتے۔

گوکچے بالچی بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دو سب سے قابلِ عمل متبادل راستے، آبنائے سندا اور آبنائے لومبوک، بھی انڈونیشین سمندری حدود میں واقع ہیں۔

پاپوا نیو گنی کے قریب واقع آبنائے ٹوریس کے بارے میں وہ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ ’کم گہرائی اور حساس آبی راستہ ہے جہاں مرجانی چٹانیں ہیں، اور بڑے تجارتی جہاز اس میں باآسانی سفر نہیں کر سکتے۔‘

گوکچے بالچی کے مطابق جنوبی آسٹریلیا کے گرد سفر کرنے کا مطلب ’انتہائی زیادہ لاگت اور وقت‘ دینا ہوگا۔

ان تمام پابندیوں کے تناظر میں، عزیفہ اسٹرینا کا کہنا ہے کہ چین کی حکمتِ عملی غالباً اپنی کمزوری ختم کرنے کے بجائے اسے منظم کرنے پر مرکوز رہے گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ مخمصہ دراصل انحصار کم کرنے کا نہیں، بلکہ اس انحصار کو منظم کرنے کا سوال ہے۔‘

وہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں ’اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ چین صرف متبادل ذرائع پر نہیں بلکہ پورے خطے میں، خاص طور پر بحیرۂ جنوبی چین اور اہم سمندری راستوں کے ساتھ، اپنا اثر و رسوخ اور موجودگی بڑھانے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔‘