’مجھے بغیر آستین والا لباس پہننے کی وجہ سے وزیر کو ایوارڈ دینے سے روکا گيا‘: انڈین طالبہ کا دعویٰ

    • مصنف, قیصر اندرابی
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں یوتھ اور سپورٹس کی وزارت کے ایک پروگرام کے دوران ایک طالبہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔

19 سالہ سارہ شرما، جو دہلی یونیورسٹی کے دولت رام کالج کی طالبہ ہیں، کا کہنا ہے کہ انھیں ایک تقریب میں مرکزی وزیر منسُکھ مندھاویا کو ایوارڈ دینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا تاہم آخری وقت پر انھیں سٹیج پر جانے سے روک دیا گیا۔

سارہ شرما کا دعویٰ ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بغیر آستین والا لباس پہن رکھا تھا۔

یہ تقریب ’ناری شکتی: وکسِت بھارت کی آواز‘ کے عنوان سے 12 اپریل کو دہلی کے شری رام کالج آف کامرس میں منعقد ہوئی تھی، جس کا اہتمام یوتھ اور سپورٹس کی وزارت کے تحت ہوا تھا۔

سارہ شرما نے اس واقعے کے بعد انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایک خاتون اہلکار نے انھیں بتایا کہ وہ سٹیج پر نہیں جا سکتیں کیونکہ انھوں نے بغیر آستین والا لباس پہن رکھا ہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے سارہ نے کہا کہ ’مجھے وزیر کو اعزاز دینا تھا۔ جب میں وقفے کے بعد واپس آئی تو ایک خاتون اہلکار نے کہا کہ میں اس لباس میں سٹیج پر نہیں جا سکتی۔‘

ان کے مطابق اس بات پر انھیں خاصی حیرت ہوئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’جس خاتون نے انھیں روکا تھا انھوں نے ایک اور خاتون اہلکار کو بلایا اور کہا کہ دیکھیں، یہ کیسے کرے گی۔ وہاں موجود دیگر خواتین نے بھی کہا کہ میرے لباس میں مسئلہ ہے۔‘

سارہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ 2026 ہے، آپ کیا بات کر رہی ہیں؟‘

انھوں نے مزید بتایا کہ جب انھوں نے سوال اٹھایا تو انھیں کہا گیا کہ ’وزیر ہماری عمر کے نہیں، آپ اس طرح ان کے سامنے کیسے جا سکتی ہیں؟‘

بی بی سی نے اس معاملے پر متعلقہ وزارت سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اسی طرح دہلی یونیورسٹی سے وابستہ متعلقہ کالجوں کے حکام سے بھی رابطہ کیا گیا مگر ان کی جانب سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

’اگر واقعی ایسا کچھ ہوتا تو میں اس کے خلاف کھڑی ہوتی‘

سارہ کے مطابق انھیں کہا گیا کہ وہ اعزاز دینے کی ذمہ داری کسی اور طالبہ کو دے دیں حالانکہ انھیں تقریب میں تین ذمہ داریاں دی گئی تھیں، جن میں تقریر اور ایک قرارداد پیش کرنا بھی شامل تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے باقی دونوں کام کیے لیکن صرف اعزاز دینے سے روکا گیا۔ مجھے اس کی وجہ غلط لگی، خاص طور پر ایک عورت ہونے کے ناطے۔‘

ان کی پوسٹ کے بعد کچھ دیگر طالبات نے سارہ کے موقف سے اختلاف کیا۔

ایک طالبہ وبھا چھابرا نے دعوی کیا کہ وہ اس تقریب میں موجود تھیں۔ انھوں نے سارہ کی انسٹاگرام پوسٹ پر لکھا کہ ’سٹیج پر جانے کے حوالے سے طالبات کے درمیان بات چیت ہوئی تھی اور سارہ نے خود رضامندی ظاہر کی تھی کہ کوئی اور سٹوڈنٹ یہ ذمہ داری سنبھال لے۔‘

اسی طرح دشا گوئل نامی ایک اور سٹوڈنٹ نے بھی دعویٰ کیا کہ منتظمین نے لباس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ان کے مطابق سٹوڈنٹ کے درمیان کردار تبدیل کرنے پر بات ہوئی مگر آخر میں سارہ نے خود اعزاز دینے کی ذمہ داری چھوڑنے پر اتفاق کیا۔

دشا گوئل نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’اگر واقعی ایسا کچھ ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کے خلاف کھڑی ہوتی۔‘

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ خواتین کے حقوق سے متعلق ایک تقریب میں لباس پر اعتراض اٹھانا سوالات کو جنم دیتا ہے جبکہ دیگر افراد کے مطابق معاملہ حقیقت میں مختلف بھی ہو سکتا ہے۔

’شاید مجھے دوبارہ مدعو نہ کیا جائے‘

سارہ شرما کہتی ہیں کہ ’یہ کون طے کرتا ہے کہ کون سا لباس مناسب ہے اور کیا نہیں؟‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر عوامی سطح پر مختلف لباس کو سراہا جا سکتا ہے تو پھر میرے لباس پر سوال کیوں اٹھایا گیا؟‘

’میرا صرف یہ سوال ہے کہ جب عوامی پلیٹ فارمز پر وزیرِ اعظم نریندر مودی مختلف طرز کے لباس کو سراہتے ہیں، تو پھر میرے لباس پر اعتراض کیوں کیا گیا۔‘

سارہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ ان پر ’وِکٹم کارڈ‘ کھیلنے کا الزام لگا رہے ہیں تاہم وہ خود کو متاثرہ نہیں سمجھتیں۔

’میرے والدین میرا ساتھ دے رہے ہیں اور اب تک میرے کالج نے بھی مجھے اپنی بات کہنے سے روکا نہیں۔‘

ان کے مطابق یہ دوسرا موقع تھا جب انھوں نے کسی وزارت کے پروگرام میں حصہ لیا اور اس سے قبل انھیں کبھی لباس کے حوالے سے کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

بی بی سی کے اس سوال پر کہ آیا وہ آئندہ بھی ایسے سرکاری پروگرامز میں شرکت کریں گی، سارہ نے کہا کہ اگر انھیں مدعو کیا گیا تو وہ ضرور جائیں گی تاہم ان کا خیال ہے کہ اس معاملے پر آواز اٹھانے کے بعد شاید انھیں دوبارہ مدعو نہ کیا جائے۔