آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے سرفراز ہیڈ کوچ مقرر: پاکستان کے 16 رُکنی سکواڈ میں چار نئے چہرے کون سے ہیں؟
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے 16 رُکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹیم میں فاسٹ بولر محمد عباس کی واپسی ہوئی ہے جبکہ چار نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
سنیچر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں بنگلہ دیش میں کھیلی جانے والی دو ٹیسٹ میچز کے لیے ٹیم کا اعلان کیا گیا۔
پی سی بی نے دورے کے لیے سابق کپتان سرفراز احمد کو ہیڈ کوچ جبکہ عمر گل کو بولنگ کوچ مقرر کیا ہے۔ اسد شفیق ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہوں گے۔
کپتان شان مسعود کے علاوہ اوپنر امام الحق، بابر اعظم، سعود شکیل، محمد رضوان، محمد عباس، حسن علی، خرم شہزاد، ساجد خان، نعمان علی، غازی غوری، اذان اویس، سلمان علی آغا، شاہین شاہ آفریدی، عبداللہ فضل اور عماد بٹ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
غازی غوری، اذان اویس، عبداللہ فضل اور عماد بٹ کو پہلی مرتبہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ غازی غوری کو بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں شامل کیا گیا جس پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی تھی۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ
پاکستان کی ٹیم ٹیسٹ سیریز کے لیے دو مئی کو بنگلہ دیش پہنچے گی۔ سیریز کا پہلا میچ آٹھ سے 12 مئی کے دوران شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ سیٹیڈیم ڈھاکہ میں کھیلا جائے گا۔
دوسرا میچ سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم سلہٹ میں ہو گا۔ دونوں میچز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہیں۔
پی سی بی کے مطابق دورے کی تیاریوں کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ 27 اپریل کو کراچی میں شروع ہو گا جو دو مئی کو ختم ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نئے سائیکل کا آغاز گذشتہ برس جون میں ہوا تھا اور یہ جون 2027 تک جاری رہے گا۔
چار نئے کھلاڑی کون ہیں؟
پاکستان کرکٹ بورڈ نے جن چار نئے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا ہے، ان میں بولنگ آل راؤنڈر عماد بٹ بھی شامل ہیں۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ عماد بٹ 64 فرسٹ کلاس، 97 لسٹ اے اور 94 ٹی 20 میچز کھیل چکے ہیں جس میں اُن کی وکٹوں کی تعداد بالترتیب 205، 120 اور 104 ہے۔
وہ پاکستان ٹیلی ویژن اور لاہور وائٹس کی بھی نمائندگی کر چکے ہیں۔ پی ایس ایل میں وہ راولپنڈی، ملتان سلطانز، پشاور زلمی اور اسلام آباد کی ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں۔
رواں برس پاکستان کے لیے ون ڈے ڈیبیو کرنے والے محمد غازی غوری سنہ 2003 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے علاوہ سٹیٹ بینک، اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی ریجن انڈر 16 کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
وہ وکٹ کیپر اور دائیں ہاتھ کے بلے باز ہیں۔
کرک انفو کے مطابق ان کے فرسٹ کلاس میں 1692 رنز ہیں۔
کراچی میں پیدا ہونے والے 23 سالہ عبداللہ فضل 25 فرسٹ کلاس اور 14 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں اُن کی چار سنچریاں اور 10 نصف سنچریاں ہیں۔
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے21 سالہ اذان اویس نے 33 فرسٹ کلاس میچز میں 10 سنچریوں اور نو نصف سنچریوں کی بدولت 2673 رنز بنا رکھے ہیں۔
’سرفراز پاکستان کرکٹ کو بدل سکتے ہیں‘
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اعلان اور کچھ کھلاڑیوں کے انتخاب پر سوشل میڈیا پر تنقید بھی جاری ہے جبکہ بعض صارفین سرفراز احمد کو ہیڈ کوچ بنانے پر بھی اپنی آرا دے رہے ہیں۔
فیض نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ سرفراز احمد کو اگر مناسب وقت دیا جائے تو وہ پاکستان کرکٹ کو بدل سکتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ سرفراز احمد سٹریٹ سمارٹ اور جارحانہ ہیں اور سب اُن کا احترام کرتے ہیں۔
رانا عمران نامی صارف اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پی سی بی بغیر کسی کوچنگ کے تجربے کے مصباح، وہاب ریاض، حفیظ کو بھی کوچ اور ڈائریکٹر بنا چکا ہے، لیکن اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں نکلے۔ پی سی بی بار بار ایک ہی غلطی کر رہا ہے۔
محمد اعزاز نامی صارف نے لکھا کہ کیا ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ غازی غوری ہی مستقبل میں پاکستان ٹیم کے وکٹ کیپر ہوں گے اور کیا اب روحیل نذیر اور دیگر کی کہانی ختم ہو گئی ہے جنھیں ہم پہلے ٹیم کے ساتھ رکھتے رہے ہیں۔
کچھ صارفین 36 سالہ محمد عباس اور 30 سالہ عماد بٹ کو ٹیم میں شامل کرنے پر بھی سوال اُٹھا رہے ہیں۔
شہریار نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ محمد عباس کو 2026 میں دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جبکہ عماد بٹ کو بھی بہت دیر سے موقع دیا گیا ہے۔
ارباز نامی صارف نے لکھا کہ عبداللہ فضل اے ٹیم کے ساتھ کوئی میچ کھیلے بغیر سیدھا ٹیسٹ کرکٹ میں آ گئے ہیں۔ عماد بٹ اچانک سے ٹیم میں آ گئے۔ حسن علی کس بنیاد پر منتخب ہوئے جبکہ ساجد خان کو بھی دوسرے سپنر کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔
بسمہ نامی صارف نے لکھا کہ ہم ہر سیریز میں 10 ڈیبیو کروا دیتے ہیں، ’ہر سیریز میں کوچز کو تبدیل کرتے ہیں، ان کھلاڑیوں کی حمایت نہیں ہوتی جو اس کے مستحق ہوتے ہیں اور پی ایس ایل کی پرفارمنس آپ کو ٹیسٹ سائیڈ میں لے جاتی ہے۔ یہ بہت عجیب ہے۔‘
خیال رہے کہ سرفراز احمد نے رواں برس بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا، تاہم وہ پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے ساتھ بطور مینٹور وابستہ تھے یعنی وہ نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔