وہ شخص جو چاند پر پلاٹ بیچ کر کروڑپتی بن گیا
- مصنف, ایلیشیا ہرنینڈز
- عہدہ, بی بی سی منڈو
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
سوچیے، آپ کی ابھی ابھی طلاق ہوئی ہے، آپ کے پاس پیسے نہیں، اور آپ کے ذہن میں آتا ہے کہ کاش میرے پاس کوئی جائیداد ہوتی جسے کرائے پر دے کر میں کچھ پیسے ہی کما لیتا۔ اور ایسے میں آپ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہیں اور آپ کے دماغ میں ایک آئیڈیا آتا ہے: ’میں چاند بیچ دوں گا!‘
بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی؟ لیکن یہی وہ آئیڈیا تھا جس نے 1980 میں امریکی شہری ڈینس ہوپ کی زندگی بدل دی اور وہ چاند پر پلاٹ بیچ کر کروڑ پتی بن گئے۔
آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ یہ سب کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے۔
’ایسی زمین جس کا کوئی مالک نہیں تھا‘
یہ خیال آنے کے بعد ڈینس نے معلومات اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا۔
کئی سال قبل خبر رساں ادارے وائس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ وہ لائبریری گئے اور انھوں نے 1967 کی آؤٹر سپیس ٹریٹی نکالی۔
اقوامِ متحدہ کی اس دستاویز میں کیا لکھا ہے؟
اس بین الاقوامی معاہدے کے مطابق خلا تمام انسانیت کی مشترکہ ملکیت ہے، ’مجموعی انسانی ورثہ‘۔ اور کسی بھی ملک کو اجازت نہیں کہ وہ اس پر علاقائی خودمختاری کا دعویٰ کرے۔
اس معاہدے کے آرٹیکل 2 میں خاص طور پر لکھا ہے کہ چاند اور فلکی نظام میں موجود دیگر سیاروں اور ستاروں پر قبضہ کر کے یا کسی بھی دوسری طریقے سے ملکیت کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈینس ہوپ نے اس کی تشریح کچھ یوں کی کہ اگر یہ سب کا ہے تو یہ کسی کا نہیں۔ کوئی ملک دعویٰ نہیں کر سکتا تو کیا کوئی فردِ واحد بھی اس پر دعویٰ نہیں کرسکتا؟
انھوں نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ’یہ ایسی زمین تھی جس کا کوئی مالک نہیں تھا۔‘
،تصویر کا ذریعہJuan BARRETO / AFP via Getty Images
لیکن اصل سوال یہ تھا کہ اس پر حق کیسے جمایا جائے؟
اس کے لیے ایک بار پھر، ہوپ نے ایک قانونی خلا یا یوں کہیے کہ اقوامِ متحدہ کی ’خاموشی‘ کا فائدہ اٹھایا۔
انھوں نے اقوامِ متحدہ کو ایک نوٹس بھیجا جس میں چاند، شمسی نظام میں شامل آٹھوں سیاروں اور ان کے چاندوں پر ملکیت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
اس نوٹس میں انھوں نے واضح طور پر بتایا کہ وہ ان املاک کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے بیچنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی لکھا کہ اگر اقوامِ متحدہ کو اس پر کوئی قانونی اعتراض ہے تو انھیں اس سے آگاہ کیا جائے۔
لیکن کسی نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا۔
چاند پر پلاٹ کی جگہ کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟
اس کے بعد سے ڈینس صرف چاند پر ہی نہیں بلکہ مریخ، زہرہ اور عطارد پر بھی ’پلاٹ‘ بیچتے آ رہے ہیں۔
ان سے زمیں خریدنے والوں میں ہالی وڈ کے ستارے، سابق امریکی صدور بشمول رونالڈ ریگن اور جمی کارٹر کے علاوہ ہلٹن اور میریٹ جیسی بڑی ہوٹل چینز بھی شامل ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش کے پاس بھی چاند پر ایک پلاٹ موجود ہے۔
ڈینس ہوپ نے 2007 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ روزانہ اوسطاً 1500 پراپرٹیز فروخت کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ چاند پر کسی بھی پلاٹ کی جگہ کا انتخاب کرنے کے لیے آنکھیں بند کر کے چاند کے نقشے پر انگلی رکھ دیتے ہیں۔
’یہ کوئی سائنسی طریقہ تو نہیں لیکن اس میں مزہ آتا ہے۔‘
اور بظاہر یہ جتنا مزے کا کام ہے اتنا ہی منافع بخش بھی۔ اس کاروبار سے ڈینس اب تک تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کما چکے ہیں۔ ان کے مطابق 1995 کے بعد سے یہی ان کا واحد پیشہ ہے۔
،تصویر کا ذریعہVALENTINA PETROVA/AFP via Getty Images
وائس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کم سے کم ایک ایکڑ زمین خریدی جا سکتی ہے۔ ڈینس کے مطابق سب سے بڑی پراپرٹی جو کوئی شخص خرید سکتا ہے وہ ’براعظم کے سائز‘ کا پلاٹ ہے۔ یہ 53 لاکھ 32 ہزار 740 ایکڑ پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی قیمت ایک کروڑ 33 لاکھ 31 ہزار ڈالر ہے۔
’ہم نے اب تک سب سے بڑا پلاٹ نہیں بیچا، لیکن ہم 1800 اور 2000 ایکڑ کے کئی پلاٹ بیچ چکے ہیں۔ دنیا کی 1800 بڑی کمپنیاں ہم سے مخصوص مقاصد کے لیے زمین خرید چکی ہیں، جن میں ہلٹن اور میریٹ کی چینز بھی شامل ہیں۔‘
’گیلیکٹک گورنمنٹ‘
آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب کام کرے گا یا پھر چاند پر زمینیں خریدنے والوں کو کیسے یقین دلایا جائے کہ ایک دن ان کی ’جائیداد‘ ان سے چھین نہیں لی جائے گی۔
ڈینس ہوپ اور دیگر ’مالکان‘ کا بھی یہی سوال تھا اور انھوں نے اس کا ایک حل نکالا۔
ڈینس نے بتایا کہ ان سب نے مل کر ایک جمہوری ملک قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جسے وہ ’گیلیکٹک گورنمنٹ‘ کہتے ہیں۔
’ہمیں آئین بنانے میں تین سال لگے، اور مارچ 2004 میں جب ہمارے پاس 37 لاکھ پراپرٹی مالکان تھے تو اسے آن لائن شائع کر دیا گیا۔ اس کے حق میں ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد ووٹ پڑے۔ اس طرح ہم اب ایک خودمختار قوم ہیں جس کا ایک باقاعدہ منظور شدہ آئین بھی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت دنیا کے 30 ممالک سے ہمارے سفارتی تعلقات ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ممالک ہمیں تسلیم کریں، کیونکہ ہماری خواہش ہے کہ ہم انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے رکن بنیں۔‘
بی بی سی ان کے دعوؤں کی آزادانہ طور تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
جب چلی کے ایک شہری نے ایک ڈالر میں چاند خریدا
ڈینس انسان کے چاند پر قدم رکھنے کے بارے میں سوچنے سے بھی بہت پہلے سے فلکی نظام میں سیاروں کی ملکیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
1936 میں ڈین لنزے نے نہ صرف چاند بلکہ تمام خلا میں موجود تمام چیزوں کی ملکیت کا دعویٰ کیا تھا اور انھیں اس وقت ان کی خرید کے لیے پیشکشیں موصول ہوئیں۔
ایسا ہی ایک دعویٰ ہینارو گاہاردو ویرے نے بھی کیا تھا۔
چلی میں پیدا ہونے والے اس وکیل نے دعویٰ کیا کہ 25 ستمبر 1954 کو انھوں نے نوٹری سے تصدیق شدہ دستاویز کے ذریعے چاند کی ملکیت حاصل کی اور اس دستاویز میں انھوں نے خود کو ’چاند کا مالک‘ قرار دیا تھا۔
یہ دستاویز وسطی چلی کے زرعی شہر تَلقا میں ایک نوٹری کے دستخط سے جاری ہوئی، جو اب سانتیاگو کے جوڈیشل آرکائیو میں محفوظ ہے۔
،تصویر کا ذریعہArchivo Judicial de Chile/BBC
تاہم ہینارو گاہاردو ویرے کا چاند کو حاصل کرنے کی یہ کوشش بظاہر ایک مذاق ہی تھی۔
جیسا کہ انھوں نے 1969 میں امریکی اخبار ایوننگ انڈی پینڈنٹ کو بتایا کہ وہ چاند اس لیے ’خریدنا‘ چاہتے تھے تاکہ وہ مقامی سوشل کلب ’تالکا‘ کے رکن بن سکیں۔
ان کے مطابق کلب کے قواعد کے تحت رکنیت کے لیے کسی نہ کسی جائیداد کی ملکیت ثابت کرنا ضروری تھا۔
وسائل نہ ہونے اور شہر کے معزز طبقے میں شامل ہونے کی خواہش میں انھوں نے چاند خریدنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق اس کی قیمت محض ایک ڈالر تھی۔
’ریئل اسٹیٹ کا کاروبار‘
ڈینس ہوپ اپنا ’ریئل اسٹیٹ‘ کا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق کم از کم قانونی طور پر تو چاند کسی کی ملکیت نہیں۔
1967 کا بین الاقوامی معاہدہ یہ بھی کہتا ہے کہ خلا کی کھوج و استعمال تمام ممالک کے مشترکہ مفاد کے لیے ہونا چاہیے۔
تو کیا کوئی فرد خود کو چاند کا مالک قرار دے سکتا ہے؟
یونیورسٹی آف پینسلوینیا کی پروفیسر اور بین الاقوامی قانون کی ماہر کلیئر فنکل سٹائن نے 2019 میں امریکی نشریاتی ادارے این پی آر سے وابستہ ایک ویب سائٹ کو بتایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔
تاہم جب معاملہ خلا میں تجارتی سرگرمیوں جیسے کہ وسائل کی تلاش کا آتا ہے تو معاملہ اتنا سادہ نہیں رہتا۔
برک بیک کالج لندن کے پروفیسر ایان کرافورڈ نے 2016 میں بی بی سی کو بتایا کہ ’بین الاقوامی قانون نجی کمپنیوں کی خلا میں کان کنی کی سرگرمیوں کے بارے میں واضح نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آؤٹر اسپیس ٹریٹی کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔‘
لیکن جب تک ایسا نہیں خلا کے قانون کے مطابق چاند کسی ایک کی ملکیت نہیں ہوسکتا، یہ کسی کی ملکیت نہیں بلکہ سب کا مشترکہ ہے۔
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے