شام میں ترکی کی بمباری، ’کرد ملیشیا علاقہ خالی کرے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ترکی نے شام کے شمال میں کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کرد ملیشیا اس علاقے کو چھوڑ دے۔

دوسری جانب ترکی کی جانب سے شام کے شمالی علاقے پر بمباری کے بعد امریکہ نے ترکی سے کہا ہے کہ بمباری روک دے اور اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑائی پر توجہ دے۔

اس سے قبل ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے فوجی شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند تنظیم کے خلاف زمینی کارروائی میں حصہ لیں۔

ترکی کی جانب سے جن علاقوں پر بمباری کی گئی ہے ان میں منغ فضائی اڈہ بھی شامل ہے جس پر کرد ملیشیا نے شامی باغیوں کو شکست دے کر قبضہ کر لیا تھا۔

’ترکی اور سعودی عرب ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہو رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’ترکی اور سعودی عرب ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہو رہے ہیں‘

ترکی کے ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے متنبہ کیا کہ اگر کرد ملیشیا فضائی اڈے سے نہیں نکلی تو ترکی مزید کارروائی کرے گا۔

منغ فضائی اڈہ اعزاز نامی قصبے میں واقع ہے جو ترکی کی سرحد کے قریب ہے۔

اس سے قبل ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو کے مطابق یہ ممکن ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے فوجی شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند تنظیم کے خلاف زمینی کارروائی میں حصہ لیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے بتایا ہے کہ سعودی عرب دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں کے لیے ترکی کے ایک اڈے پر اپنے جنگی جہاز تعینات کر رہا ہے۔

ترکی اور سعودی عرب شام میں باغیوں کے حمایتی ہیں جنھیں حال ہی میں شامی فوج نے روس کی فضائی مدد سے کئی علاقوں میں شکست دی ہے۔

سعودی عرب اس سے پہلے شام میں فوج بھیجنے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب اس سے پہلے شام میں فوج بھیجنے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے

روس اس سے پہلے خبردار کر چکا ہے کہ شام میں کسی بیرونی ملک کی زمینی مداخلت کے نتیجے میں جنگ عظیم بھی شروع ہو سکتی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ترکی وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے بعد اخبار ینئی سفک اور ہیبر ترک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر دولتِ اسلامیہ کے خلاف حکمت عملی ہے تو پھر سعودی عرب اور ترکی زمینی آپریشن کر سکتے ہیں۔

کچھ کا کہنا ہے کہ ترکی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے میں ہچکچا رہا ہے لیکن یہ ترکی ہی ہے کہ جو ٹھوس تجاویز دے رہا ہے۔

شامی فوج نے حالیہ مہینوں میں باغیوں سے کئی علاقے واپس لیے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشامی فوج نے حالیہ مہینوں میں باغیوں سے کئی علاقے واپس لیے ہیں

ترکی کے وزیرِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب حالیہ مہینوں میں ترکی کا زیادہ قریبی ساتھی بن رہا ہے اور وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے ترکی کے انجیلک اڈے جنگی جہاز بھی بھیج رہا ہے۔

وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو کے مطابق سعودی حکام فوجی اڈے کا معائنہ بھی آئے تھے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ کتنے جنگی جہاز یہاں تعینات کیے جائیں گے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ سعودی عرب کتنے جہاز تعینات کرے گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنابھی یہ واضح نہیں کہ سعودی عرب کتنے جہاز تعینات کرے گا

’انھوں نے( سعودی عرب) نے کہا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو ہم فوجی بھی بھیج سکتے ہیں، سعودی عرب شام میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں بھرپور عظم کا مظاہرہ کر رہا ہے۔‘

ایک سوال کہ کیا سعودی عرب اپنے فوجی شام میں داخل کرنے کے لیے ترکی کر سرحد پر بھیج سکتا ہے؟

اس پر ترکی وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے کہا ’یہ ایک خواہش ہو سکتی ہے لیکن اس کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، سعودی عرب جہاز بھیج رہا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ اگر زمینی آپریشن کا وقت آتا ہے تو وہ فوجی بھی بھیج سکتے ہیں۔‘

ترکی کے وزیر خارجہ کا بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی شامی صدر بشارالاسد نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہہ سرکاری افواج بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تمام شام کو واپس لینے کی کوشش کریں گی لیکن علاقائی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے اس مسئلے کا حل زیادہ وقت لے گا اور اس میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔

شامی صدر کے مطابق انھیں یقین کہ سعودی عرب اور ترکی زمینی مداخلت کر سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشامی صدر کے مطابق انھیں یقین کہ سعودی عرب اور ترکی زمینی مداخلت کر سکتے ہیں

شامی صدر کے مطابق انھیں یقین ہے کہ باغی فورسز کی حمایت کرنے والے سعودی عرب اور ترکی شام میں فوجی مداخلت کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر سعودی عرب کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نےکہا تھا کہ شام میں شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے فضائی کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائیاں بھی ضروری ہیں۔ان کا ملک ایسی کسی بھی کارروائی کے لیے اپنی افواج فراہم کرے گا۔

اس پر ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف محمد علی جعفری نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے پاس نہ تو ہمت ہے اور نہ صلاحیت کہ وہ شام میں اپنی فوج بھیج سکے کیونکہ اس کی فوج ’روایتی قسم‘ کی ہے۔