لیڈی ڈیانا: موت کے 25 سال بعد ’لوگوں کی شہزادی‘ کی زندگی تصاویر میں

ایک وقت تھا جب برطانیہ کی شہزادی لیڈی ڈیانا وہ خاتون تھیں جن کی دنیا میں سب سے زیادہ تصاویر بنائی گئیں تھیں۔

ان کی موت کے 25 سال بعد ہم نے ان کی زندگی کیمرے کے لینز کے ذریعے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس تحریر میں ان کی سب سے منفرد تصاویر کو شامل کیا گیا ہے۔

ڈیانا فرانسس سپنسر یکم جولائی 1961 کو انگلینڈ کی کاؤنٹی نورفک میں سنڈرنگھم کے قریب پارک ہاؤس میں پیدا ہوئیں۔

وہ التھورپ میں اس وقت کے وائی کاؤنٹ اور وائی کاؤنٹس کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔

سنہ 1969 میں ان کے والدین کے بیچ طلاق کے بعد وہ نارتھمپٹن شائر اور سکاٹ لینڈ میں ان کے گھروں کے درمیان اکثر سفر کیا کرتی تھیں۔

لیڈی ڈیانا نے نورفک میں ریڈلزورتھ ہال نامی سکول سے تعلیمی سفر کا آغاز کیا۔ پھر انھیں 1974 میں کینٹ کے ویسٹ ہیتھ نامی بورڈنگ سکول میں ڈال دیا گیا۔

انھوں نے 1977 میں ویسٹ ہیتھ چھوڑا اور سوئٹزر لینڈ میں ایک فنشنگ سکول سے تعلیم حاصل کی جو کہ انھوں نے 1978 میں ایسٹر کے بعد چھوڑ دیا۔

تعلیم کے بعد انھوں نے لندن میں بطور نینی، کُک اور پھر ینگ انگلینڈ کنڈرگارڈن نامی سکول میں اسسٹنٹ کام کیا۔ اس دوران یہ افواہیں پھیلنے لگیں کہ وہ پرنس آف ویلز کی ایک خاص دوست ہیں جن کے درمیان تعلقات سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ وہی وقت تھا جب پریس اور ٹی وی نے ہر روز ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا، چاہے وہ کہیں واک کر رہی ہوں یا کام پر ہوں۔ اب کے لیے کام کرنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔

24 فروری 1981 کو شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا نے بکنگھم پیلس میں اپنی منگنی کا اعلان کیا۔ اس وقت اس پر 30 ہزار پاؤنڈز کی لاگت آئی جو آج کے کرنسی ریٹ کے مطابق 36 ہزار ڈالر بنتے ہیں۔ ان کی انگوٹھی پر نیلم کے پتھر کے گرد 14 قیمتی ہیرے لگے ہوئے تھے۔

اس کے بعد سے یہ انگوٹھی کافی مشہور ہوئی ہے۔ اب اسے ڈچز آف کیمبرج کیتھرین پہنتی ہیں۔

29 جولائی 1981 کو لیڈی ڈیانا اور شہزادہ چارلس کی شادی ہوئی جسے ’صدی کی سب سے بڑی شادی‘ کہا گیا۔ یہ تقریب ٹی وی پر نشر کی گئی اور دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں نے اسے دیکھا۔

ڈیانا کی عمر بس 20 سال تھی۔ وہ اس تقریب کے دوران صرف ایک بار پریشانی میں آئیں جب ان سے اپنے شوہر کا نام صحیح تربیت کے ساتھ نہیں پکارا جا رہا تھا۔ وہ اپنے والد ایرل سپنسر کا ہاتھ پکڑ کر سٹیچ پر پہنچی تھیں۔

ان کے کپڑے ڈیوڈ اور الیزبیتھ ایمانویل نے ڈیزائن کیے تھے اور لباس کی پیچھے سے لمبائی 25 فٹ یا 10 میٹر تھی۔

بکنگھم پیلس سے قریب چھ لاکھ لوگ کیتھیڈرل تک گئے تاکہ جوڑے کی ایک جھلک دیکھ سکیں۔ نئے شادی شدہ جوڑے نے پیلس کی بالکونی سے ہاتھ ہلایا اور اس موقع پر ان کے ساتھ ملکہ الزبتھ دوم بھی موجود تھیں۔

ڈیانا کو ہمیشہ سے ایک بڑے خاندان کی خواہش تھی۔ شادی کے ایک سال بعد 21 جون 1982 کو ان کے گھر شہزادہ ولیم کی پیدائش ہوئی جو شہزادہ چارلس کے بعد تخت کے لیے دوسرے نمبر پر ہیں۔

شاہی خاندان کا حصہ ہونے کے باوجود وہ چاہتی تھیں کہ اپنے بچوں کی جہاں تک ممکن ہو عام حالات میں پرورش کریں۔ ولیم پہلے مرد وارث تھے جو نرسری گئے۔

سنہ 1984 میں 15 ستمبر کو ولیم کے بھائی کی پیدائی ہوئی۔ ان کا نام ہنری رکھا گیا مگر انھیں شہزادہ ہیری کے نام سے جانا جاتا ہے۔

نجی اساتذہ کے بجائے ان لڑکوں کو دوسرے عام بچوں کی طرح سکول بھیجا گیا۔ وہ بطور ماں اپنے دونوں بیٹوں سے بہت محبت کرتی تھیں۔

شہزادہ ہیری کا کہنا ہے کہ ڈیانا ’سب سے شرارتی والدین میں سے ایک تھیں‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ سچ ہے کہ انھوں نے ہمیں بہت پیار دیا۔‘

امریکہ کے پہلے سرکاری دورے پر شہزادی ڈیانا نے وائٹ ہاؤس میں اداکار جان ٹریوولٹا کے ساتھ ڈانس کیا۔

ڈیانا کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔ وہ فیشن کی علامت بھی بن گئیں اور ان کے کپڑے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے تھے۔

کسی سرکاری تقریب میں شرکت کے موقع پر ان کی امدادی سرگرمیوں کو سراہا جاتا اور دنیا بھر میں اس کی سرخیاں بنتیں۔

انھوں نے امداد جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور معروف شخصیات کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو عام بنا دیا۔ انھوں نے اپنی کئی تقاریر میں امتیازی سلوک کے خاتمے پر زور دیا۔

ایڈز کے مریضوں سے محض ہاتھ ملانے جیسے معمولی کام کر کے انھوں نے ثابت کیا کہ عوامی سطح پر روابط قائم کرنا کوئی خطرناک بات نہیں۔

ویلز کے شہزادے اور شہزادی نے ایک ساتھ کئی غیر ملکی دورے کیے تھے۔ تاہم 1980 کی دہائی کے اواخر میں یہ سب کو معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی زندگیاں الگ ہیں۔

1992 میں انڈیا کے سرکاری دورے کے موقع پر ڈیانا ’محبت کی علامت‘ سمجھے جانے والے تاج محل کے سامنے تنہا بیٹھی تھیں۔

لوگوں میں تاثر عام ہوگیا تھا کہ وہ ایک جوڑا ضرور ہیں مگر درحقیقت وہ بہت الگ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اپنی زندگی کے دوران ڈیانا نے مدر ٹریزا کے ساتھ اپنی گہری دوستی قائم رکھی۔ وہ ایک معروف رومن کیتھلک نن تھیں جنھیں بعد میں سینٹ کا درجہ دیا گیا تھا۔

مدر ٹریزا کو اپنی امدادی سرگرمیوں کی بنا پر امن کے لیے نوبیل انعام دیا گیا۔ انھوں نے اپنی زندگی دوسروں کی مدد کے لیے وقف کر دی تھی۔

ایک دوسرے کے ساتھ چھ دن گزارنے کے بعد اس جوڑے نے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

علیحدگی کے کئی سال بعد ڈیانا اور چارلس کے درمیان 28 اگست 1996 کو باقاعدہ طلاق ہوئی۔

اگلے سال جون میں ڈیانا نے ان 79 کپڑوں کو نیلام کر دیا جو انھوں نے دنیا بھر کے میگزینز کے لیے پہنی تھیں۔

اس نیلامی میں امدادی کاموں کے لیے 45 لاکھ ڈالر جمع ہوئے۔ یہ ان کی اپنے ماضی سے الگ ہونے کی بھی علامت تھی۔

جنوری 1997 میں شہزادی ڈیانا نے عالمی سطح پر سرخیاں بنائیں جب انھوں نے ہتھیاروں پر پابندی کا مطالبہ کیا۔

بارودی سرنگوں کے خلاف مہم کے لیے قائم مائنز ایڈوائزری گروپ (ایم اے جی) کے شریک بانی لو مگراتھ ڈیانا کے ساتھ کام کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیانا کی حمایت عالمی سطح پر ایسی ڈائواسز پر پابندی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئی۔

31 اگست 1997 کو ارب پتی کاروباری شخصیت محمد الفاید کے بیٹے دودی الفاید کے ساتھ ریٹز پیرس میں رات کے کھانے کے بعد یہ جوڑا ایک لیموزین میں ریستوران سے نکلا تھا۔

کچھ فوٹوگرافر موٹر بائیکس پر ان کا پیچھا کر رہے تھے تاکہ شہزادی کے نئے دوست کی تصاویر بنا سکیں۔

اسی دوران شہزادی ڈیانا کی کار کو ایک انڈرپاس پر حادثہ پیش آیا۔

ویسٹ منسٹر ایبے میں جب ان کی میت کو لے جایا جا رہا تھا تو لاکھوں لوگوں کی قطار اس کے ساتھ چل رہی تھی۔ انھیں نارتھمپٹن شائر میں سپنسر خاندان کے آبائی گھر لے جایا جا رہا تھا۔

ان کی میت کے پیچھے شہزادہ چارلس اور 12 سالہ شہزادہ ہیری بھی چل رہے تھے۔

موت کے 25 سال بعد انھیں آج بھی ’لوگوں کی شہزادی‘ کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔